قادیانیوں سے سوالات

کیا اﷲ کے نبی دنیا کے معلمین کے پاس تعلیم حاصل کرتے ہیں؟

سوال نمبر14:   قرآن وحدیث تو یہ بتلاتے ہیں کہ اﷲ کا نبی اﷲتعالیٰ سے تعلیم پاتا ہے، اور دنیا کو علوم کی خیرات کرتا ہے اور احکامات الٰہیہ امت تک پہنچاتا ہے۔ نبی کے معلم خود اﷲتعالیٰ ہوتے ہیں۔ جیسا کہ قرآن پاک کی بیسیوں آیات اور ذخیرۂ احادیث اس پر شاہد ہے۔ مگر قادیان کا دہقان ایک طرف اپنی کتاب (کتاب البریہ ص۱۸۰، خزائن ج۱۳ ص) میں لکھتا ہے کہ میرے معلم فضل الٰہی، فضل احمد، گل علی، حکیم غلام مرتضیٰ ہیں اور دوسری طرف نبوت کا مدعی بھی ہے۔تو سوال یہ ہے کہ کوئی ایک نبی ایسا مل سکتا ہے جس نے دنیا کے معلمین کے پاس تعلیم حاصل کی ہو؟ اور ان معلمین کے آگے دوزانو بیٹھا ہو؟ یا سرکاری ملازمت یا منشی گیری کی ہو؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو مرزاقادیانی نبی کیسے؟

کیا مراقی نبی بن سکتا ہے؟

سوال نمبر:15   اﷲتعالیٰ کا نبی ہر ایسے عیب اور بیماری سے پاک ہوتا ہے جس سے لوگ متنفر ہوں۔ مگر مرزاقادیانی تو عیبوں اور بیماریوں کا معجون مرکب تھا۔ جس کی تفصیل اس کی کتب میں موجود ہے۔ اگر بالفرض قیامت کے دن اﷲتعالیٰ مرزاقادیانی سے استفسار فرمالیں اور یقینا فرمائیں گے کہ تو نے کس مجبوری سے دعویٰ نبوت کر لیا؟ جبکہ میں نے باب نبوت حضور رحمتہ للعالمینصلی اللہ علیہ وسلم پر مسدود کر دیا تھا۔ آگے مرزاقادیانی جواب دے کہ میری دو مجبوریاں تھیں۔

1       ایک سرکار انگریزی کی غلامی۔                                2       مراق وغیرہ بیماریوں کا تسلط۔

مرزائیو! تم سے ایک سوال تو یہ ہے کہ کیا ان مجبوریوں کے عذر سے مرزاقادیانی سبکدوش ہو جائے گا؟ اگر نہیں اور پکی بات ہے کہ نہیں! تو آپ سے بھی سوال ہوگا کہ تم نے اس دجال کی پیروی کیوں کی؟ جب کہ اس کی یہ مجبوری تھی؟ تو تم کیا جواب دو گے؟ ذرا عقدہ کشائی کر کے ہماری معلومات میں اضافہ کریں؟

کیا مرزاقادیانی کی شہ رگ نہیں کٹی؟

سوال نمبر:16   اکثر مرزائی کہتے ہیں کہ جھوٹے کی اﷲتعالیٰ شہ رگ کاٹ دیتے ہیں۔ اب مرزائیوں سے سوال یہ ہے کہ قرآن وحدیث سے اس کا ثبوت دیں؟ اگر بالفرض مان لیا جائے کہ جھوٹے کی شہ رگ کاٹ دی جاتی ہے تو مرزاقادیانی کا آخری دعویٰ جو (ملفوظات ج10ص127) میں موجود ہے کہ: ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں۔ جس دن چھپ کر آیا پروردگار نے اسی دن ہیضہ کی موت میں مرزاقادیانی کو آنجہانی کر دیا۔ اب مرزائیو! تم بتلاؤ کیا مرزاقادیانی کی شہ رگ نہیں کٹی؟ اگر کٹ گئی تو پھر بتلاؤ! کیا مرزاقادیانی جھوٹا نہیں تھا؟ اگر جھوٹا نہیں تھا تو شہ رگ کیوں کٹی؟

کلمہ گو، اہل قبلہ کا کیا مطلب؟

سوال نمبر:17   قادیانیوں کا دعویٰ ہے کہ ہم کلمہ گو ہیں۔ اہل قبلہ ہیں۔ قبلہ کی طرف ہم اپنا رخ کرتے ہیں۔ لہٰذا مسلمان ہیں۔ تو سوال یہ ہے کہ اہل قبلہ کی شرعاً کیا تعریف ہے؟ نیز یہ بتائیں کہ آدمی ضروریات دین کا انکار کرے، یا متواترات میں تاویل کرے، یا عقیدۂ ختم نبوت کا انکار کرے۔ حیات ونزول مسیحعلیہ السلام کو نہ مانے۔ تب بھی وہ اہل قبلہ میں سے ہے؟ چاہے وہ کلمہ بھی پڑھتا ہو؟ تو کیا اس کے کلمہ کا اعتبار ہوگا؟ جب کہ وہ ضروریات دین کا انکار یا ان میں تاویلات سے کام لیتا ہے؟ نیز یہ بھی بتائیں کہ لاہوری مرزائی تمہارے نزدیک کیوں کافر ہیں؟ کیا وہ اہل قبلہ نہیں؟

مرزاقادیانی مسیح موعود کیسے؟

سوال نمبر:18   مرزاقادیانی (تریاق القلوب ضمیمہ نمبر2ص159، خزائن ج15 ص483) پر لکھتا ہے: اس کے (یعنی مسیح موعود کے) مرنے کے بعد نوع انسان میں علت عقم سرایت کرے گی۔ یعنی پیدا ہونے والے حیوانوں اور وحشیوں سے مشابہت رکھیں گے اور انسانیت حقیقی صفحۂ عالم سے مفقود ہو جائے گی۔ وہ حلال کو حلال نہیں سمجھیں گے اور نہ حرام کو حرام، پس ان پر قیامت قائم ہوگی۔

فرمائیے! مرزاقادیانی کے وجود میں مسیح موعود کی یہ خاص علامت پائی گئی ہے؟ کیا ان کے مرنے کے بعد جتنے انسان پیدا ہوئے وہ سب وحشی ہیں؟ اور انسانیت صفحہ ہستی سے مٹ گئی ہے؟ کیا کوئی بھی حلال کو حلال اور حرام کو حرام سمجھنے والا دنیا میں موجود نہیں؟اگر مرزاقادیانی میں یہ علامت نہیں پائی گئی تو وہ مسیح موعود کیسے ہوئے؟ اور اگر پائی گئی ہے تو دور کے لوگوں کا تو قصہ جانے دیجئے۔ خود قادیانی جماعت کے بارے میں تمہارا کیا فتویٰ ہے؟ کیا یہ بھی وحشیوں کی جماعت ہے؟ کیا ان میں حقیقی انسانیت قطعاً نہیں پائی جاتی؟ اور ان کو حلال وحرام کی کچھ تمیز نہیں؟