قادیانیوں سے سوالات

کیا دجال قتل ہوگیا؟ اور اسلام کو ترقی مل گئی؟

سوال نمبر:19   مرزاقادیانی مسیح بنے تو انہوں نے اپنے گھر میں دجال بھی گھڑ لیا۔ یعنی پادری، یہاں کئی سوال پیدا ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ پادری تو دنیا میں پہلے سے موجود تھے۔ خود رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے بھی پہلے اور ان کے مشرکانہ عقائد ونظریات بھی پہلے سے چلے آرہے تھے۔ جس پر قرآن کریم گواہ ہے۔ مگر دجال کو تو قتل کرنا تھا، جب کہ مرزاقادیانی کو مرے ہوئے مکمل ایک صدی ہورہی ہے اور ان کا دجال ابھی تک دنیا میں دندناتا پھر رہا ہے۔ مسیح موعود کی یہ علامت مرزاقادیانی پر کیوں صادق نہیں آتی؟

دوسرے دجال کو دنیا میں صرف چالیس دن رہنا تھا۔ جیسا کہ احادیث صحیحہ میں آتا ہے۔ مگر مرزاقادیانی کے خود ساختہ دجال کا چلّہ ابھی تک پورا ہی ہونے میں نہیں آیا۔

 مرزاقادیانی لکھتا ہے: میرا کام جس کے لئے میں اس میدان میں کھڑا ہوں، یہی ہے کہ میں عیسیٰ پرستی کے ستون کو توڑ دوں اور بجائے تثلیث کے توحید پھیلاؤں اور آنحضرتصلی اللہ علیہ وسلم کی جلالت اور عظمت اور شان دنیا پر ظاہر کر دوں۔ پس مجھ سے کروڑ نشان بھی ظاہر ہوں اور یہ علت غائی ظہور میں نہ آئے تو میں جھوٹا ہوں۔ پس دنیا کیوں مجھ سے دشمنی کرتی ہے۔ وہ میرے انجام کو کیوں نہیں دیکھتی۔ (اﷲتعالیٰ اس ذلت اور عبرتناک انجام سے بچائے۔ مرتب) اگر میں نے اسلام کی حمایت میں وہ کام کر دکھایا جو مسیح موعود اور مہدی موعود کو کرنا چاہئے تو پھر میں سچا ہوں اور اگر کچھ نہ ہوا اور میں مرگیا تو پھر سب گواہ رہیں کہ میں جھوٹا ہوں۔                   (اخبار البدر مورخہ 19؍جولائی 1906ء)

            دنیا گواہ ہے کہ مرزاقادیانی کے آنے کے بعد دین اسلام کو ترقی نہیں ہوئی۔ بلکہ ان کی کفریات کی وجہ سے تنزّل ہی ہوا ہے۔ حقیقت تو ہے کہ آج تک خود ان کی اپنی جماعت خارج از اسلام ہے۔ کیا قادیانی صاحبان سب دنیا کے ساتھ مرزاقادیانی کے جھوٹا ہونے کی گواہی نہیں دیں گے؟

مرزاقادیانی کے مسیح بننے کا امر مخفی کیوں؟

سوال نمبر:20   مرزاقادیانی نے لکھا ہے: مگر وہ باتیں جو مدار ایمان ہیں اور جن کے قبول کرنے اور جاننے سے ایک شخص مسلمان کہلا سکتا ہے۔ وہ ہر زمانہ میں برابر شائع ہوتی رہی۔                                                           (کرامات الصادقین ص20، خزائن ج7 ص62)

اب مرزاقادیانی کی یہ تحریر کہ: ان اﷲ قادر علی ان یجعل عیسیٰ واحدا من امۃ فبیہ وکان ہذا وعدا مفعولا۰ یا اخوان ہذا ھوالامر الذی اخفاہ اﷲ من اعین القرون الاولیٰ اﷲتعالیٰ اس پر قادر ہیں کہ اس امت محمدیہ سے ایک عیسیٰ بنائیں۔ یہ اﷲتعالیٰ کا پکا وعدہ تھا اور اس امر کو اسلام کے قرون اولیٰ سے مخفی کر دیا تھا۔ (آئینہ کمالات ص426، خزائن ج5 ص426)   اگر اس امت کے فرد کو مسیح بنانا تھا اور یہ قادیانیت کے ایمان کا بنیادی پتھر ہے تو اسے مخفی کیوں رکھا گیا؟

کیا عیسیٰعلیہ السلام فوت ہوگئے؟

سوال نمبر:21   قادیانی اگر کہیں کہ مسیحعلیہ السلام فوت ہوگئے تو ان سے سوال کریں کہ کب؟ وہ کہیں گے کہ دو ہزار سال قبل تو آپ انہیں کہیں کہ 1884ء میں تو وہ زندہ تھے۔ حوالہ یہ ہے۔ مرزاقادیانی نے (براہین احمدیہ حصہ چہارم ص۴۹۹، خزائن ج۱ ص۵۹۳) پر لکھا ہے کہ: جب حضرت مسیحعلیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا۔ معلوم ہوا کہ عیسیٰعلیہ السلام زندہ ہیں۔ دونوں باتوں میں سے کون سی سچی اور کون سی جھوٹی ہے؟

مرزاقادیانی کہتا ہے کہ حضرت عیسیٰعلیہ السلام زندہ ہیں۔قادیانیو! تم کہتے ہو فوت ہوگئے۔ بتاؤ! مرزاقادیانی کی بات سچی ہے یا تمہاری؟ اگر مرزاقادیانی کی بات سچی ہے تو تم جھوٹے؟ اگر تمہاری بات سچی ہے تو مرزاقادیانی جھوٹا؟ تصفیہ مطلوب ہے؟

حدیث صحیح اور مسیح موعود؟

سوال نمبر:22   مرزاقادیانی تحریر کرتا ہے کہ: احادیث صحیحہ میں آیا تھا کہ وہ مسیح موعود صدی کے سر پر آئے گا اور وہ چودھویں صدی کا مجدد ہوگا۔                                                                                         (براہین احمدیہ حصہ پنجم ص88، خزائن ج21ص359)

احادیث کا لفظ جمع ہے۔ جمع قلت ایک سے دس تک اور جمع کثرت دس سے اوپر کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ احادیث صحیحہ نہیں بلکہ صرف ایک صحیح حدیث میں چودھویں صدی کا لفظ قادیانی دکھا دیں؟ کیا کوئی قادیانی صرف ایک حدیث دکھا سکتا ہے؟ اگر نہیں دکھا سکتا تو سوال یہ ہے کہ کیا کہہ سکتے ہیں کہ لفظ احادیث جمع قلت اور جمع قلت ہے کا اطلاق تین سے دس تک، تو مرزاقادیانی نے اپنی اس عبارت میں دس جھوٹ بولے؟ اگر نہیں تو احادیث صحیحہ امت مسلمہ کے سامنے لاؤ؟