قادیانیوں سے سوالات

حدیث صحیح اور تیرھویں صدی کا لفظ؟

سوال نمبر:23   مرزاقادیانی تحریر کرتا ہے کہ: احادیث صحیحہ پکار پکار کر کہتی ہیں کہ تیرھویں صدی کے بعد ظہور مسیح ہے۔  

(آئینہ کمالات ص340، خزائن ج5 ص340)

            احادیث جمع ہے حدیث کی۔ قادیانی حضرات کسی ایک حدیث صحیح میں ظہور مسیح کے لئے تیرھویں صدی کا لفظ دکھادیں۔ قیامت تک نہیں دکھا سکتے۔ مرزاقادیانی نے صریح کذب بیانی سے کام لیا ہے۔ یہ مرزاقادیانی کا واضح جھوٹ ہے۔ تو کیا مرزاقادیانی کے افتراء علی الرسول میں کوئی شک باقی رہ جاتا ہے؟

قادیانیو! اگر مرزاقادیانی کو افتراء علی الرسول (صلی اللہ علیہ وسلم) سے بچانا ہے تو حدیث صحیح پیش کرو؟ ورنہ مانو کہ مرزاقادیانی جھوٹا تھا۔

کیا سلف کے کلام میں لفظ نزول من السمائ نہیں؟

سوال نمبر:24   مرزاقادیانی نے تحریر کیا کہ: سلف کے کلام میں مسیح کے لئے نزول من السمائ کا لفظ نہیں آیا۔         

(انجام آتھم ص148، خزائن ج11 ص148)

حالانکہ حدیث میں عبداﷲ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ اخی عیسیٰ بن مریم ینزل من السماء    (کنزالعمال ج۱۴ ص۶۱۹، نمبر۳۹۷۲۶)

(فقہ اکبر ص۸) میں حضرت امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کا کلام موجود ہے۔ کیا یہ دو حوالے مرزاقادیانی کے دجل کے لئے شاہد عادل نہیں ہیں؟ تو پھر بتائیں! کہ کیا مرزاقادیانی نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم اور جمیع سلف پر جھوٹ نہیں بولا؟

کیا مرزاقادیانی مفتری اور کذاب ہے؟

سوال نمبر:25   مرزاقادیانی آئینہ کمالات اسلام میں قسم کھا کر کہتا ہے کہ: اﷲتعالیٰ نے مجھے مسیح موعود اور مسیح ابن مریم بنادیا تھا۔                                                                                                                (آئینہ کمالات اسلام ص551، خزائن ج5 ص551)

            لیکن اس کے برعکس ازالہ اوہام میں کہتا ہے کہ میں مسیح موعود نہیں بلکہ مثیل مسیح ہوں اور یہ کہ جو شخص میری طرف مسیح ابن مریم کا دعویٰ منسوب کرے وہ مفتری اور کذاب ہے۔ چنانچہ علمائے ہند کی خدمت میں نیازنامہ کے عنوان سے لکھتا ہے: اے برادران دین وعلمائے شرع متین! آپ صاحبان میری ان معروضات کو متوجہ ہوکر سنیں، کہ اس عاجز نے جو مثیل موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ جس کو کم فہم لوگ مسیح موعود خیال کر بیٹھے ہیں۔ یہ کوئی نیا دعویٰ نہیں جو آج ہی میرے منہ سے سنا گیا ہو۔ بلکہ یہ وہی پرانا الہام ہے جو میں نے خدائے تعالیٰ سے پاکر براہین احمدیہ کے کئی مقامات پر بتصریح درج کردیا تھا۔ جس کے شائع کرنے پر سات سال سے بھی کچھ زیادہ عرصہ گزر گیا ہوگا۔ میں نے یہ دعویٰ ہرگز نہیں کیا کہ میں مسیح بن مریم  ہوں۔ جو شخص یہ الزام میرے پر لگاوے وہ سراسر مفتری اور کذاب ہے۔ بلکہ میری طرف سے عرصہ سات یا آٹھ سال سے برابر یہی شائع ہورہا ہے کہ میں مثیل مسیح ہوں۔                    (ازالہ اوہام ص190، خزائن ج3ص192)

            سوال یہ ہے کہ جب مرزاقادیانی آئینہ کمالات اسلام میں درج عبارت کی رو سے خود کہتا ہے کہ خدا نے مجھے مسیح ابن مریم بنادیا ہے تو ازالہ اوہام کی عبارت کی رو سے خود مفتری اور کذاب ثابت ہوا یا نہیں؟ اور یہ کہ جو لوگ مرزاقادیانی کو مسیح موعود کہتے ہیں۔ مرزاقادیانی کے بقول کم فہم لوگ ہیں یا نہیں؟

پھر مرزاقادیانی پر مسیحیت کا الزام کیوں؟

سوال نمبر:26   مرزاقادیانی (ازالہ اوہام) میں لکھتا ہے: یہ بات پوشیدہ نہیں کہ مسیح ابن مریم کے آنے کی پیش گوئی ایک اوّل درجہ کی پیش گوئی ہے۔ جس کو سب نے بالاتفاق قبول کر لیا ہے اور جس قدر صحاح میں پیش گوئیاں لکھی گئی ہیں۔ کوئی پیش گوئی اس کے ہم پہلو اور ہم وزن ثابت نہیں ہوتی۔ تواتر کا اوّل درجہ اس کو حاصل ہے۔ انجیل بھی اس کی مصدق ہے۔                                                                                                                     (ازالہ اوہام ص557، خزائن ج3ص400)

            مرزاقادیانی کی اس عبارت سے معلوم ہوا کہ حضرت مسیح ابن مریم کے آنے کی پیش گوئی متواتر ہے۔ ادھر مرزاقادیانی کا کہنا یہ ہے کہ: میں نے یہ دعویٰ ہر گز نہیں کیا کہ میں مسیح ابن مریم ہوں، جو شخص یہ الزام میرے پر لگاوے وہ سراسر مفتری اور کذاب ہے۔                                                                                                        (ازالہ اوہام ص190، خزائن ج3ص192)

            پس جو لوگ مرزاقادیانی کو آنحضرتصلی اللہ علیہ وسلم کی متواتر پیش گوئی کا مصداق قرار دیتے ہیں کہ مرزاقادیانی مسیح ہے تو کیا وہ مفتری اور کذاب ہیں یا نہیں؟ نیز خود مرزاقادیانی تواتر، اجماعی عقیدہ، صحاح کی پیش گوئیوں کی خلاف ورزی کر کے مفتری اور کذاب ہوا یا نہیں؟