قادیانیوں سے سوالات

مرزاقادیانی کی مسیحیت کی علامات اور احادیث؟

سوال نمبر:30   مرزاقادیانی کا مسیح موعود ہونا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کے مطابق ہے یا خلاف؟ اگر مطابق ہے تو برائے مہربانی وہ احادیث جن میں مرزاقادیانی کی علامات بیان فرمائی گئیں ہیں۔ مع حوالہ کتب تحریر فرمائیں؟

اگر کوئی ایک حدیث بھی ایسی نہیں جس میں مرزاقادیانی کی مسیحیت کی علامات بیان نہیں ہوئیں اور یقینا نہیں ہوئیں۔ تو کیا کہہ سکتے ہیں کہ مرزاقادیانی نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی معصوم ہستی پر جھوٹ بولا؟ اور مستحق جہنم ہوا؟

کیا قادیانیوں کے نزدیک مرزا قادیانی بڑا جھوٹا ہے؟یا    پچاس برس تک جھوٹ بولنے والامسیح بن سکتا ہے؟

سوال نمبر:31   مرزا غلام احمد قادیانی نے (براہین احمدیہ حصہ چہارم) میں (سورۂ صف:۱۰) کے حوالہ سے لکھا کہ حضرت عیسیٰعلیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے۔ چنانچہ لکھتا ہے: ھوالذی ارسل رسولہ بالہدی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیش گوئی ہے اور جس غلبۂ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے۔ وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا اور جب حضرت مسیحعلیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا۔                                                                           (براہین احمدیہ حصہ چہارم حاشیہ درحاشیہ ص498،499، خزائن ج1ص593)

مرزا قادیانی کی عبارت غور سے پڑھ کر صرف اتنا بتائیے! کہ مرزا قادیانی نے قرآن کریم کے حوالہ سے جو لکھا، کہ عیسیٰعلیہ السلام اس دنیا میں دوبارہ تشریف لائیں گے۔ یہ سچ تھا یا جھوٹ؟ صحیح تھا یا غلط؟

ایک اہم نکتہ                    مرزا قادیانی 1891ء تک کہتا رہا، کہ حضرت عیسیٰعلیہ السلام دوبارہ آئیں گے۔ اس کے بعد یہ کہنا شروع کیا کہ وہ مرگئے ہیں۔ دوبارہ نہیں آئیں گے۔ مسلمان اور قادیانی دونوں فریق اس بات پر متفق ہیں کہ ان دونوں متضاد خبروں میں ایک سچی تھی اور دوسری جھوٹی۔ قادیانی کہتے ہیں کہ پہلی جھوٹی تھی اور دوسری سچی۔ مسلمان کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی کی پہلی خبر کہ عیسیٰعلیہ السلام دوبارہ آئیں گے سچی تھی، اور بعد والی خبر وفات کی جھوٹی تھی۔ خلاصہ یہ ہوا کہ ایک خبر سچی اور ایک جھوٹی اور یہ طے شدہ امر ہے کہ: جھوٹی خبر دینے والا شخص جھوٹا کہلاتا ہے۔ لہٰذا دونوں فریق اس پر متفق ہوئے کہ مرزا قادیانی جھوٹا تھا۔

ایک اور قابل غورنکتہ                                   یہ تو آپ نے ابھی دیکھا کہ دونوں فریق مرزا قادیانی کے جھوٹا ہونے پر متفق ہیں۔ آئیے! اب یہ دیکھیں کہ دونوں میں کون سا فریق مرزا قادیانی کو بڑا جھوٹا مانتا ہے۔مسلمان کہتے ہیں کہ ابتداء سے 1891ء تک مرزا قادیانی اپنی زندگی کے پچاس برس تک سچ بولتا رہا۔آخری سترہ سالوں میں وفات مسیح کا عقیدہ ایجاد کرکے اس نے جھوٹ بولنا شروع کیا۔ اس کے برعکس قادیانیوں کا کہنا یہ ہے کہ مرزا قادیانی اپنی زندگی کے پچاس برس تک جھوٹ بکتا رہا۔ اس لئے کہ قادیانیوں کے نزدیک پہلے والی خبر جھوٹ تھی اور آخری سترہ سال میں اس نے سچ بولا۔

خلاصہ یہ کہ مسلمانوں کے نزدیک مرزا قادیانی کے سچ کا زمانہ پچاس سال، اور جھوٹ کا زمانہ صرف آخری سترہ سال، اور قادیانیوں کے نزدیک مرزا قادیانی کے جھوٹ کا زمانہ پچاس سال، اور اس کے سچ کا زمانہ صرف سترہ سال ہے۔ بتائیے! دونوں میں سے کس فریق کے نزدیک مرزا قادیانی بڑا جھوٹا نکلا؟ قادیانی اس نکتہ پر ضرور غور کریں۔

ایک اور لائق توجہ نکتہ      مسلمان کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی پچاس سال تک سچ کہتا رہا، کہ عیسیٰعلیہ السلام دوبارہ آئیں گے۔ لیکن پھر شیطان نے اس کو بہکادیا اور شیطان کے بہکانے سے یہ کہنے لگا کہ عیسیٰعلیہ السلام دوبارہ نہیں آئیں گے۔ بلکہ میں خود مسیح موعود بن گیا ہوںاور قادیانی کہتے ہیں گو وہ پچاس سال تک جھوٹ بکتا رہا کہ عیسیٰعلیہ السلام آئیں گے۔ لیکن پھر اس پچاس سال کے جھوٹے کو اﷲ تعالیٰ نے (نعوذباﷲ) مسیح موعود بنادیا۔ کیا کسی کی عقل میں یہ بات آسکتی ہے کہ پچاس سال تک جھوٹ بولنے والا مسیح موعود بن جائے؟۔

ایک اور دلچسپ نکتہ                    اوپر معلوم ہوچکا ہے کہ مسلمان اور قادیانی دونوں فریق اس پر متفق ہیں کہ مرزا قادیانی جھوٹا تھا۔ ادھر مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ وہ مسیح موعود ہے۔ ظاہر ہے کہ جھوٹا آدمی جب مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کرے گا تو وہ مسیح کذاب کہلائے گا۔ لہٰذا دونوں فریق اس پر بھی متفق ہوئے کہ مرزا قادیانی مسیح کذاب تھا۔