قادیانیوں سے سوالات

کیا وفات مسیح کا بھید صرف مرزا قادیانی پر کھلا؟

سوال نمبر:32   مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ: وفات مسیح کا بھید صرف مجھ پر کھولا گیا ہے۔                (اتمام الحجہ ص3،خزائن ج8ص275)

مرزا قادیانی نے:

1       اپنی پہلی تصنیف براہین احمدیہ میں قرآن مجید سے استدلال کیا کہ عیسیٰعلیہ السلام دوبارہ آسمان سے تشریف لائیں گے۔

2       ازالہ اوہام میں کہا کہ عیسیٰعلیہ السلام کی وفات پر قرآن کی تیس آیات دلیل ہیں۔ اور یہ کہ وفات مسیح پر اجماع صحابہؓ ہے۔

3       اب اس کتاب اتمام الحجتہ میں کہا کہ وفات مسیح کا بھید صرف مجھ پر کھولا گیا۔

اس بات پر دو سوال وارد ہوتے ہیں۔ اگر عیسیٰعلیہ السلام قرآن مجید کی رو سے زندہ تھے تو پھر تیس آیات وفات مسیح پر دلیل کیسے؟۔ ان دو باتوں میں سے ایک صحیح ایک غلط؟۔ اگر وفات مسیح پر اجماع تھا تو پھر بھید کیا؟۔ دونوں باتوں میں سے ایک صحیح ایک غلط۔ اور اگر تینوں اقوال کو سامنے رکھا جائے تو اس کی تثلیث کو کون حل کرے؟۔

کیا مسیح، حضرت عیسیٰعلیہ السلامنہیں مرزا قادیانی ہے؟

سوال نمبر:33   مرزا غلام احمد قادیانی نے براہین احمدیہ میں لکھا تھا کہ (سورۂ صف:۱۰) حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حق میں پیش گوئی ہے اور یہ کہ اﷲ تعالیٰ نے اس پیش گوئی میں ابتداء ہی سے مجھے بھی شریک کررکھا ہے۔اس کے برعکس اعجاز احمدی میں لکھتا ہے کہ براہین احمدیہ میں: مجھے بتلایا گیا تھا کہ تیری خبر قرآن وحدیث میں موجود ہے۔ اور تو ہی اس آیت کا مصداق ہے کہ:ھوالذی ارسل رسولہ بالہدی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ (صف:۱۰)                                                                         (اعجاز احمدی ص17، خزائن ج19ص113)

مرزا قادیانی کے یہ دونوں بیان آپس میں ٹکراتے ہیں۔ کیونکہ براہین میں کہتا ہے کہ اس پیش گوئی کا مصداق عیسیٰعلیہ السلام ہیں۔ لیکن اﷲتعالیٰ نے مجھے بھی اس میں شریک کررکھا ہے اور اعجاز احمدی میں کہتا کہ عیسیٰعلیہ السلام کا اس پیش گوئی میں کوئی حصہ نہیں۔ بلکہ میں (مرزا قادیانی) ہی اس کا مصداق ہوں، اور لطف یہ کہ دونوں جگہ اپنے الہام کا حوالہ دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ان دونوں میں سے کون سی بات سچی اور کون سی جھوٹی؟ اور کون سا الہام صحیح ہے اور کون سا غلط؟ اگر پہلا الہام صحیح ہے تو مرزا قادیانی مسیح نہیں حضرت عیسیٰعلیہ السلام ہیں۔ اگر دوسرا الہام صحیح ہے تو حضرت عیسیٰعلیہ السلام مسیح نہیں بلکہ مرزا قادیانی ہے۔

سوال یہ ہے کہ دونوں آیتوں میں سے کونسی صحیح اور کونسی غلط ہے؟۔ نیز دونوں میں سے کونسی شخصیت صحیح اور کونسی غلط؟۔ پھر غلط ہونے کی وجوہ کیا ہیں؟۔ قادیانیو! مرزا قادیانی کا پیش کردہ معمہ حل کرکے اپنے اوپر اور امت مسلمہ کے وجود پر رحم کرو۔

کیا مسیح موعود اور علماء کا تصادم آیت یا حدیث میں ہے؟

سوال نمبر:34   مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ: ضرور تھا کہ قرآن شریف اور احادیث کی وہ پیش گوئیاں پوری ہوتیں جن میں لکھا تھا کہ مسیح موعود جب ظاہر ہوگا تو اسلامی علماء کے ہاتھ سے دکھ اٹھائے گا۔ وہ اس کو کافر قرار دیں گے اور اس کے قتل کے ایسے فتویٰ دئیے جائیں گے۔                                                                                                                (اربعین نمبر3ص17، خزائن ج17ص404)

قرآن مجید میں ایسی پیش گوئی کہاں ہے؟۔ قرآن واحادیث پر مرزا کا صریح الزام اور جھوٹ ہے۔ احادیث پر مطلع ہونا ہر کسی کے بس میں نہیں۔ قرآن مجید تو مسلمانوں کے ہر فرد کی دسترس میں ہے۔ سینکڑوں بار اس کی تلاوت کا شرف حاصل ہوا۔ ایک لفظ مسیح وعلماء کے تصادم کے متعلق قرآن مجید میں موجود نہیں۔ کیا قادیانی ایسی قرآنی آیت کی نشاندہی کرکے مرزا قادیانی کے دامن کو کذب کی آلودگی سے بچاسکتے ہیں؟۔اگر نہیں تو پھر صحیح مسیح کو مان کر داخل اسلام ہوجائو۔

مرزا قادیانی حقیقی مسیح کیسے؟

سوال نمبر:35   قادیانیوں کے نزدیک مرزا غلام احمد قادیانی کی وہی حیثیت ہے جو مسلمانوں کے نزدیک حقیقی مسیح ابن مریمعلیہ السلام کی۔ گویا کہ مسلمانوں کے نزدیک جس مسیح ابن مریمعلیہ السلام نے دوبارہ تشریف لانا ہے۔ وہ قادیانیوں کے نزدیک مرزا قادیانی کی شکل میں آگیا ہے۔ بقول قادیانی جماعت کے کہ مرزا قادیانی حقیقی مسیح کی جگہ پر آگیا ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ سرکار دوعالمصلی اللہ علیہ وسلم نے حقیقی مسیح کے متعلق ارشاد فرمایا ہے کہ وہ بعد نزول کے ۴۵سال دنیا میں گزاریں گے۔ جبکہ مرزا قادیانی نے 1891ء میں مسیح ہونے کا دعویٰ کیا اور 1908ء میں جہنم واصل ہوگیا تو یوں مرزا قادیانی کے دعویٰ مسیحیت کی مدت کل تقریباً سترہ یا ساڑھے سترہ سال بنتی ہے تو پھر مرزا غلام احمد قادیانی مسیح کیسے ہوا؟۔