قادیانیوں سے سوالات

مرزاقادیانی اپنے دام میں نزول کا معنی اترنا ہے پیدائش نہیں

سوال نمبر:41   مرزاقادیانی لکھتا ہے: مجھ پر ظاہر کیاگیا ہے کہ دمشق کے لفظ سے دراصل وہ مقام مراد ہے۔ جس میں دمشق والی مشہور خاصیت پائی جاتی ہو اور خداتعالیٰ نے مسیح کے اترنے کی جگہ (پیدائش کی نہیں) جو دمشق کو بیان کیا تو یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مسیح سے مراد وہ اصل مسیح نہیں (بلکہ نقلی) جس پر انجیل نازل ہوئی تھی۔                                         (ازالہ اوہام ص66، خزائن ج3 ص135)

اس میں کئی چیزیں توجہ طلب ہیں۔ خداتعالیٰ نے مسیحعلیہ السلام کے اترنے کی جگہ جو دمشق کو بیان کیا، اترنے کی جگہ نہ کہ پیدائش کی، مرزاقادیانی نے خود تسلیم کر لیا۔ مسیح سے مراد وہ اصلی مسیح نہیں تو کیا نقلی مسیح مراد ہے؟ وہ مسیح جس پر انجیل نازل ہوئی تھی۔ مرزامسیحعلیہ السلام کے نزول سے اپنی پیدائش مراد لیتا ہے۔ نزول کا معنی پیدائش تو کیا انجیل بھی پیدا ہوئی تھی؟

کیا مرزاقادیانی قرآن کا معجزہ ہے؟

سوال نمبر:42   مرزاقادیانی نے لکھا ہے: قرآن شریف اگرچہ ایک عظیم الشان معجزہ ہے۔ مگر ایک کامل کے وجود کو چاہتا ہے کہ جو قرآن کے اعجازی جواہر پر مطلع ہو، اور وہ اس تلوار کی طرح ہے جو درحقیقت بے نظیر ہے۔ لیکن اپنا جوہر دکھلانے میں ایک خاص دست وبازو کی محتاج ہے۔ اس پر دلیل شاید یہ آیت ہے کہ لایمسہ  الا المطہرون پس وہ ناپاکوں کے دلوں پر معجزہ کے طور پر اثر نہیں کر سکتا۔ بجز اس کے کہ اس کا اثر دکھلانے والا بھی قوم میں ایک موجود ہو اور وہ وہی ہوگا جس کو یقینی طور پر نبیوں کی طرح خداتعالیٰ کا مکالمہ اور مخاطبہ نصیب ہوگا ہاں قرآن شریف معجزہ ہے۔ مگر وہ اس بات کو چاہتا ہے کہ اس کے ساتھ ایک ایسا شخص ہو جو اس معجزہ کے جوہر ظاہر کرے اور وہ وہی ہوگا جو بذریعہ الٰہی کلام کے پاک کیا جائے گا۔                                          (نزول المسیح ص108تا112، خزائن ج18 ص486تا490)

قادیانیوں سے سوال یہ ہے کہ: وہ وہی ہوگا جس کو یقنی طور پر نبیوں کی طرح خداتعالیٰ کا مکالمہ ومخاطبہ نصیب ہوگا۔ اس کے پیش نظر فرمائیں۔ قرآنی تلوار کے جوہر کے لئے نبیوں کی طرح کا آدمی مکالمہ ومخاطبہ سے سرفراز چودہ سو سال میں کون کون سے ہیں اور پھر مرزاقادیانی کے بعد کون کون؟ اور آئندہ کون کون ہوںگے؟۔ اگر نہیں تو پھر مان لیا جائے کہ سب چرب لسانی اور الفاظ کا گورکھ دھندہ صرف آپ کے ایمان کو ضائع کرنے کا خطرناک جال ہے اور کچھ نہیں؟

کیا مرزاقادیانی نے یہود کی بے گناہی بیان نہیں کی؟اور قرآن مجید کو غلط نہیں کہا؟

سوال نمبر:43  مرزاقادیانی نے لکھا کہ: یہود خود یقینا اعتقاد نہیں رکھتے کہ انہوں نے عیسیٰعلیہ السلام کو قتل کیا ہے۔                   

                                                                                               (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص205 خزائن ج21 ص278)

ہمارا قادیانیوں سے سوال ہے کہ سورۃ نساء آیت نمبر158 میں قرآن مجید نے یہود کا قول یوں نقل کیا ہے۔ انا قتلنا المسیح تحقیق ہم نے ہی عیسیٰعلیہ السلام کو قتل کیا۔ کیا مرزاقادیانی نے ایک ایسا جھوٹ نہیں بولا؟۔ جس سے قرآن مجید کے دعویٰ کی تکذیب لازم آتی ہے؟ اگر قرآن مجید کی تکذیب نہیں کی تو پھر کیا کہہ سکتے ہیں کہ یہود کی صفائی پیش کر کے یہود کی طرح مغضوب، مطرود، ملعون، ذلت زدہ ہوا؟

کیا مرزاقادیانی کی وحی، وحی ربانی ہے یا شیطانی؟

سوال نمبر:44   وحی کے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ وما ارسلنا من رسول الا بلسان قومہ لیبین لہم (ابراہیم:۴) اور کوئی رسول نہیں بھیجا ہم نے مگر بولی بولنے والا اپنی قوم کی تاکہ ان کو سمجھائے۔ اس فرمان الٰہی کے مطابق مرزاقادیانی کو تمام تر وحی پنجابی زبان میں ہونی چاہئے تھی۔ مگر مرزاقادیانی کی وحی:

1انگلش۔          2اردو۔            3عربی۔           4فارسی۔   5سنسکرت۔ 6عبرانی۔         7پنجابی کے فقرات۔

پر مشتمل ہے۔ اب اگر یہ سچ ہے تو مرزاقادیانی کی وحی ربانی نہیں بلکہ شیطانی ہے۔نیز بتائیں! کیا مرزاقادیانی کی یہ ساتوں زبانیں تھیں؟ یا اس کی قوم کی تھیں؟ اگر نہیں تو پھر کہہ دو کہ مرزاقادیانی نے قانون الٰہی کی تکذیب کر کے ایک نہیں کئی جھوٹ اپنے اوپر چسپاں کئے؟

کیا قرآن میں مرزاقادیانی کا نام ابن مریم ہے؟

سوال نمبر:45   مرزاقادیانی تحریر کرتا ہے کہ: اگر قرآن نے میرا نام ابن مریم نہیں رکھا تو میں جھوٹا ہوں۔                  

(تحفۃ الندوہ ص5، خزائن ج19 ص98)

قادیانی حضرات پورے قرآن مجید میں کہیں دکھا سکتے ہیں کہ: ایہا المرزا سمیتک ابن مریم کہیں لکھا ہوا ہو۔ نہیں اور یقینا نہیں تو مرزاقادیانی کے کذاب اور مفتری علیٰ اﷲ ہونے میں کیا کوئی شک باقی رہ جاتا ہے؟