قادیانیوں سے سوالات

کیا مرزاقادیانی لعنتی اور بدذات تھا؟

سوال نمبر:46   مرزاقادیانی قسم اٹھا کر دھڑلے سے جھوٹ بولتا ہے۔ چنانچہ لکھتا ہے کہ: واﷲ قد کنت اعلم من ایام مدیدۃ اننی جعلت المسیح بن مریم وانی نازل فی منزلہ ولکنی اخفیت وتوقفت فی الاظہار الیٰ عشر سنین   (دیکھئے اس کی کتاب آئینہ کمالات اسلام ص551، خزائن ج5ص 551)   ملاحظہ فرمائیں کہ قسم کھا کر کہہ رہا ہے کہ خدا کی قسم میں جانتا تھا کہ مجھے مسیح بن مریم بنادیا گیا ہے۔ مگر میں اسے چھپاتا رہا۔

جب اس کے برعکس (اعجاز احمدی ص7، خزائن ج19 ص113) میں لکھتا ہے: مجھے بارہ سال تک کوئی پتہ نہ چلا کہ خدا کی وحی مجھے مسیح بن مریم بنارہی ہے۔ بتلائیے! مرزاقادیانی کا یہ حلفیہ بیان درست ہے یا بلاحلف۔ ایک میں ہے کہ مجھے پتہ تھا۔ مگر میں نے ظاہر کرنے میں ۱۰سال تاخیر کر دی۔ دوسری جگہ ہے کہ مجھے پتہ ہی نہ تھا۔ اسی طرح بارہ سال گذر گئے۔ فرمائیے کون سی بات درست ہے؟

یہ تو ثابت ہوگیا کہ مرزاقادیانی نے قسم اٹھا کر غلط بیانی کی ہے۔ اب خود مرزاقادیانی کے بقول ایسی بات کے متعلق نتیجہ بھی سماعت فرمائیے۔ مرزاقادیانی لکھتا ہے کہ:

1       جھوٹی قسم کھانا لعنتی کا کام ہے۔                           

 (نزول المسیح ص237، خزائن ج18ص615، نسیم دعوت ص87، خزائن ج19 ص453)

2       خدا کا نام لے کر جھوٹ بولنا سخت بدذاتی ہے۔           

 (تریاق القلوب ص6، خزائن ج15 ص140، نزول مسیح ص10،11، خزائن ج19ص388،389)

اب اس فتویٰ کی روشنی میں قادیانی لعنتی اور بدذات ثابت ہوئے۔ فرمائیے بدذات اور لعنتی فرد کسی بھی اچھے منصب کا مستحق ہوسکتا ہے؟ کیا اسے مہدی یا مجدد، ملہم یا مسیح وغیرہ تسلیم کیا جاسکتا ہے؟

کیا نبی برائی کو مستحکم کرنے آتا ہے یا مٹانے؟

سوال نمبر:47   مرزاقادیانی جب بڑھاپے میں پہنچ گیا تو اس کا نکاح نصرت جہاں بیگم سے ہوا۔ نصرت جہاں نے بڑھاپے میں مرزاقادیانی سے نکاح کیا وہ قادیانیوں کی ام المؤمنین کہلاتی ہے اور وہ غریب عورت جس کا مرزاقادیانی کے ابتدائی دن سے زندگی کا رشتہ جڑا، وہ صرف پھجے دی ماں رہ گئی۔ یہ معاشرہ میں بڑے جاگیرداروں کی بیماری ہے کہ وہ پہلی عورت کو اہمیت نہیں دیتے۔ دوسری پسند کی شادی کرتے اور اسے بیگم صاحبہ قرار دیتے ہیں۔ معاشرہ کی اس بیماری وعیب کو مرزاقادیانی نے ختم کرنے کی بجائے خود عمل پیرا ہوئے۔ گویا نئے نبی صاحب نے معاشرہ کی بیماری پر اپنی تقلید کی مہر لگادی اور اس عیب وبرائی کو اپنے عمل سے مزید مستحکم کر دیا۔ کیا نبی عیب وبرائی کو مٹانے کے لئے آتے ہیں یا مستحکم کرنے کے لئے؟

کیا قرآن میں ہے کہ جسم عنصری آسمان پر نہیں جاسکتا؟

سوال نمبر:48   مرزاقادیانی نے لکھا ہے: قل سبحان ربی ہل کنت الا بشراً رسولاً یعنی جب کافروں نے آنحضرتصلی اللہ علیہ وسلم  سے آسمان پر چڑھنے کی درخواست کی کہ یہ معجزہ دکھلائیں کہ مع جسم عنصری آسمان پر چڑھ جائیں تو ان کو یہ جواب ملا کہ قل سبحان ربی یعنی ان کو کہہ دے کہ میرا خدا اس بات سے پاک ہے کہ اپنے عہد اور وعدہ کے برخلاف کرے۔ وہ پہلے کہہ چکا ہے کہ کوئی جسم عنصری آسمان پر نہیں جائے گا۔                                                                                                                                            

                                             (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص224، خزائن ج21 ص400)

            اس پر ہمارا قادیانیوں سے سوال یہ ہے کہ قرآن کریم میں یہ بات کس جگہ کس آیت میں ہے کہ کوئی جسم عنصری آسمان پر نہیں جائے گا؟

کیا یہ مرزاقادیانی کی حماقت نہیں؟

سوال نمبر:49   مرزاقادیانی نے تحریر کیا کہ: میرا دعویٰ مسیح موعود کا نہیں۔                                                                                                (ازالہ اوہام ص190، خزائن ج3ص192)

حالانکہ اسی کتاب میں لکھا کہ: اگر یہ عاجز مسیح موعود نہیں تو پھر آپ لوگ مسیح موعود کو آسمان سے اتار کر دیکھائیں۔                                             (ازالہ اوہام ص154، 185، خزائن ج3 ص179،189)

اب ایک کتاب میں دو باتیں ایک دوسرے کے مخالف ومتضاد ہیں۔ کیا قادیانی، مرزا کی حماقت پر اب بھی توجہ نہیں فرمائیں گے؟۔

کیایہ مرزاقادیانی کی نامعقول حرکت نہیں؟

سوال نمبر:50   مرزاقادیانی نے تحریر کیا کہ: سچا خدا وہی خدا ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔                                                         (دافع البلاء ص11، خزائن ج18 ص231)

مرزاقادیانی نے اپنی رسالت سے خداتعالیٰ کی سچائی کو باندھ دیا۔ گویا مرزاقادیانی رسول قادیان نہیں تو خدا بھی سچا نہیں۔ قادیانی بتائیں کہ مرزاقادیانی کا ایسا کرنا ان کے نزدیک معقول امر ہے یا غیرمعقول حرکت۔ اگر غیرمعقول ہے اور یقینا غیرمعقول تو پھر قادیانی اس غیرمعقول اور عقل کے کورے انسان کو نبی مان رہے ہیں؟ کیا نبی کی یہی شان ہے؟