قادیانیوں سے سوالات

مرزاقادیانی بارہ برس تک کفر میں کیوں؟

سوال نمبر:56   مرزاقادیانی تحریر کرتا ہے: ان اﷲ لا یترکنی علیٰ خطاء طرفۃ عین ویعصمنی من کل حین ویحفظنی من سبل الشیطان بے شک اﷲ مجھے غلطی پر لمحہ بھر بھی باقی نہیں رہنے دیتا اور مجھے ہر غلط اور جھوٹ سے محفوظ فرمالیتا ہے۔ نیز شیطانی راستوں سے میری حفاظت فرماتا ہے۔ (نور الحق ص86، خزائن ج8 ص272)اور پھر دوسری جگہ تحریر کرتے ہیں: پھر میں قریباً بارہ برس تک جو ایک زمانۂ دراز ہے۔ بالکل اس سے بے خبر اور غافل رہا کہ خدا نے مجھے شدومد سے براہین میں مسیح موعود قرار دیا ہے اور اس میں حضرت مسیحعلیہ السلام کی آمد ثانی کے اس رسمی عقیدہ پر جما رہا۔ جب بارہ برس گذر گئے تب وہ وقت آگیا کہ میرے پر اصل حقیقت کھول دی گئی۔ ورنہ میرے مخالف بتلا دیں کہ باوجودیکہ براہین احمدیہ میں مسیح موعود بنایا گیا۔ بارہ برس تک یہ دعویٰ کیوں نہ کیا اور کیوں براہین احمدیہ میں خدا کی وحی کے مخالف لکھ دیا۔                                                                                         (اعجاز احمدی ص7، خزائن ج19 ص113،114)

اب قادیانی حضرات فرمائیں کہ  1   مرزاقادیانی کا یہ دعویٰ کہ لمحہ بھر خداتعالیٰ مجھے غلطی پر قائم نہیں رکھتا۔         2       مرزاقادیانی کا یہ اعتراف کہ بارہ برس تک عرصہ دراز رسمی عقیدہ پر جما رہا۔          3       براہین میں خدا کی وحی کے خلاف لکھ دیا۔

کیا قادیانیوں کے ہاں بارہ برس ایک لمحہ سے کم ہے؟ خدا کی وحی کے خلاف بارہ برس چلنے والا شخص اس قابل ہے کہ اسے مذہبی مقتداء مانا جائے اور پھر مرزاقادیانی تحریر کرتا ہے کہ: مجھے اپنی وحی پر مثل قرآن پختہ یقین ہے۔ اگر اس میں ایک دم (لمحہ) بھی شک کروں تو کافر ہو جاؤں۔             (تجلیات الٰہیہ ص۲۰، خزائن ج۲۰ ص۴۱۲)

تو کیا یہ بارہ سال تک کافر بنارہا؟۔ خدا لمحہ بھر غلطی پر نہیں رہنے دیتا تو پھر بارہ سال کفر کی دلدل میں مرزاقادیانی کیوں پھنسا رہا؟۔

کیا سچے پیغمبر کے کئی نام ہوئے؟

سوال نمبر:57   مرزاقادیانی کا الہام ہے   :    1  یا آدم اسکن انت وزوجک الجنۃ            2  یا احمد اسکن انت وزوجک الجنۃ 

(اربعین نمبر2ص7، خزائن ج17ص353)اس کا ترجمہ خود کرتا ہے کہ: اے آدم تو اور تیرے دوست اور تیری بیوی بہشت میں داخل ہو۔ اے احمد تو تیرے دوست اور تیری بیوی بہشت میں داخل ہو۔ (اربعین نمبر۲ ص۱۷، خزائن ج17 ص364)

ان دونوں الہاموں کے ترجمہ میں مرزاقادیانی نے تیرے دوست کا لفظ ترجمہ میں شامل کیا۔ یہ الہام کے کس لفظ کا حصہ ہے؟ نیز کیا مرزاقادیانی کا نام احمد اور آدم تھا؟ کیسے اور کیونکر؟ پھر غلام احمد نام کا کیا بنے گا؟ اور جو بندہ اپنا نام ونسب تبدیل کر دے کیا وہ حلالی رہ سکتا ہے؟ ان سوالات کو مدنظر رکھ کر بتائیں کہ کیا ایسا شخص پر جنت کا الہام اور جنت میں داخل ہوسکتا ہے؟ اگر نہیں تو قادیانی ذریت اس دھوکا سے کیوں نہیں نکلتی؟

مرزاقادیانی کی تحقیق عجیب اور اس کا مبلغ علم

سوال نمبر:58   حکماء کا اس پر اتفاق ہے کہ رحم کے سامنے ایک انڈا جسے ادوم کہتے ہیں موجود ہوتا ہے۔ مخالطت کے وقت ماء الحیات کا کوئی ذرہ جسے سپرم کہتے ہیں۔ اس انڈے سے مل جائے تو وہ ایک دوسرے کو مضبوطی سے گرفت میں لے لیتے ہیں اور سرک کر رحم میں چلے جاتے ہیں۔ پھر رحم کا منہ بند ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد ولادت تک کوئی سپرم اس میں داخل نہیں ہوسکتا۔ لیکن مرزاقادیانی لکھتا ہے: اﷲتعالیٰ فرماتا ہےاولات الاحمال جلہن ان یضعن حملہن یعنی حمل والی عورتوں کی طلاق کی عدت یہ ہے کہ وہ وضع (حمل) تک بعد طلاق کے دوسرا نکاح کرنے سے دستکش رہیں۔ اس میں حکمت یہی ہے کہ اگر حمل میں ہی نکاح ہو جائے تو ممکن ہے کہ دوسرے کا نطفہ ٹھہر جائے۔ اس صورت میں نسب ضائع ہو گی اور یہ پتہ نہیں لگے گا کہ وہ دونوں لڑکے کس کس باپ کے ہیں۔                            (آریہ دھرم ص21، خزائن ج10 ص21)

اس پر سوال یہ ہے کہ مرزاقادیانی نے ایک ایسی بات کہی جو سراسر خلاف عقل اور کذب محض ہے۔ کیا بالفرض حمل کی حالت میں دوسرے کا نطفہ ٹھہر جائے پہلے حمل کے چار ماہ بعد دوسرا حمل ہو جائے۔ دو ماہ کے بعد تیسرا حمل ہو جائے اور پھر ایک ماہ کے بعد چوتھا اور ہر بچہ نو ماہ کے بعد پیدا ہو تو غریب بیوی سارا سال بچے جنتی رہی۔ یہ ہے مرزاقادیانی کے علوم وفنون کا شاہکار۔ چنانچہ لکھتے ہیں۔ میں زمین کی باتیں نہیں کہتا بلکہ وہی کہتا ہوں جو خدا نے میرے منہ میں ڈالا ہے۔(پیغام صلح ص47، خزائن ج23 ص485)

کیا حالت حمل میں حمل ٹھہر جاتا ہے؟ اگر ٹھہر جاتا ہے تو مذکورہ عبارت کی تحقیق کا کیا بنے گا؟ نیز بالفرض حمل ٹھہر جائے تو کیا ضروری ہے؟ ایک حمل ہو تو سابقہ کی وضع ہو جائے؟ ساتھ حمل، ساتھ وضع؟ شاید قادیانی ذریت کو۔ ہو تو ہو کسی اور کو تو اس کا دعویٰ نہیں؟