قادیانیوں سے سوالات

کیا یہ مرزاقادیانی کا قرآن پر بہتان نہیں؟

سوال نمبر:59   مرزاقادیانی نے لکھا: خسف القمر والشمس فی رمضان۰ فبای الاء ربکما تکذبان الاء سے مراد میں ہوں اور پھر میں نے ایک دالان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا کہ اس میں چراغ روشن ہے۔ گویا رات کا وقت ہے اور اسی الہام مندرجہ بالا کو چند آدمی چراغ کے سامنے قرآن شریف کھول کر اس سے یہ دونوں فقرے نقل کر رہے ہیں۔ گویا اسی ترتیب سے قرآن شریف میں وہ موجود ہے اور ان میں سے ایک شخص کو میں نے شناخت کیا کہ میاں نبی بخش رفوگر امرتسری ہے۔                                       (ریویو برمباحثہ چکڑالوی ص4، خزائن ج19ص209حاشیہ)

فرمائیے! مرزاقادیانی کا یہ الہام وکشف صحیح ہے یا غلط؟ اور پھر دیکھئے یہ ملعون قرآن شریف پر افتراء کرتا ہے اور پھر اس پیوند کاری کی روایت کے لئے رفوگر کا انتخاب بھی قابل توجہ ہے؟

کیا مرزاقادیانی مہدی ہے؟

سوال نمبر:60   مرزاقادیانی نے لکھا کہ: خاص کر وہ خلیفہ جس کی نسبت بخاری میں لکھا ہے کہ آسمان سے اس کی نسبت آواز آئے گی کہ ہذا خلیفۃ اﷲ المہدی اب سوچو کہ یہ حدیث کس پایہ اور مرتبہ کی ہے جو ایسی کتاب میں درج ہے جو اصح الکتب بعد کتاب اﷲ ہے۔                                                                                                                                           (شہادت القرآن ص41، خزائن ج6ص337)

دوسری جگہ مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ: اگر مہدی کا آنا مسیح ابن مریم کے زمانہ کے لئے ایک لازم غیرمنفک ہوتا اور مسیح کے سلسلہ ظہور میں داخل ہوتا تو دو بزرگ شیخ اور امام حدیث یعنی حضرت محمد اسماعیل صحیح بخاری اور حضرت امام مسلم صاحب صحیح مسلم اپنے صحیحوں سے اس واقع کو خارج نہ رکھتے۔ لیکن جس حالت میں انہوں نے اس زمانہ کا تمام نقشہ کھینچ کر آگے رکھ دیا اور حصر کے طور پر دعویٰ کر کے بتلادیا کہ فلاں فلاں امر کا اس وقت ظہور ہوگا۔ لیکن امام محمد اسماعیل بخاری نے مہدی کا نام تک بھی تو نہیں لیا۔                

                                                                                                                         (ازالہ اوہام ص518، خزائن ج3 ص378)

اب ہمارا قادیانیوں سے سوال ہے کہ پہلے حوالہ میں مرزاقادیانی بڑے شدومد سے کہتے ہیں کہ مہدی کے متعلق بخاری میں روایت ہے۔ دوسرے حوالہ میں کہتے ہیں کہ مہدی کا بخاری نے نام نہیں لیا۔ دونوں باتیں مرزاقادیانی کی ہیں۔ جو آپس میں متعارض ہیں۔ دونوں سچی نہیں ہوسکتیں۔ اب قادیانی بتائیں کہ مرزاقادیانی کی کون سی بات جھوٹی ہے۔

کیا مرزاقادیانی خودغرض تھا؟

سوال نمبر:61   مرزاقادیانی نے لکھا: میری رائے یہ ہے کہ استخارہ تقویٰ کے بہت قریب ہے۔ کیونکہ وارث مفقود الخبر ہے اور ہمیں یقین نہیں کہ وہ مر چکا ہے یا زندہ ہے۔ پس اس کی جائیداد کو میت کے ترکہ کی طرح تقسیم کرنے میں عجلت روا نہیں۔ پس بہتر یہ ہے کہ اس معاملہ پر بحث ختم کی جائے۔ تاکہ عالم الغیب اور ذوالجلال آپ سے مشورہ کر لوں اور یقینی راہ پالوں۔           (آئینہ کمالات اسلام ص572، خزائن ج5 ص ایضاً)

مرزاقادیانی کی یہ عبارت پکارپکار کر نہیں چیخ وچلّا کر اعلان کر رہی ہے کہ مرزااحمد بیگ نے جب ہبہ نامہ پر دستخطوں کے لئے مرزاقادیانی سے درخواست کی۔ چونکہ ہبہ نامہ غلام حسین مفقود الخبر کی زمین کی بابت تھا۔ اس لئے استخارہ کیا گیا کہ وہ غلام حسین زندہ ہے یا مردہ۔ اگر زندہ ہے تو ہبہ نامہ پر دستخط کر کے اس کی زمین کسی اور کو منتقل کرنا روا نہیں ہے۔ اگر مردہ ہے تو ہبہ نامہ پر دستخط نہ کر کے جائز وارث کو محروم کرنا روا نہیں۔ جب عالم الغیب رب ذوالجلال سے مشورہ کیا تو رب نے جواب دیا کہ محمدی بیگم کے رشتہ کی بابت بات کر۔ اگر رشتہ کر دیں تو ہبہ نامہ پر دستخط کر دو۔ گویا غلام حسین مفقود الخبر مرگیا ہے۔ اگر رشتہ نہ کریں تو ہبہ نامہ پر دستخط نہ کریں۔ گویا غلام حسین مفقود الخبر زندہ ہے۔ ہمارا قادیانیوں سے درد بھرے دکھے دل سے سوال ہے کہ کیا واقعی آپ اس جواب کو خدائی جواب سمجھتے ہیں یا کافر، ناہنجار، مرزاقادیانی کی زناری اور خود غرضی فراڈ ودھوکہ کی انوکھی مثال؟ اب آپ کی مرضی کہ خداتعالیٰ پر غلط جواب کا الزام لگا کر جہنم کا راستہ اختیار کریں یا مرزاقادیانی کے فراڈ پر محمول کر کے مرزاقادیانی کو جہنم روانہ کریں؟

کیا قرآن مجید میں قادیان کا نام ہے؟

سوال نمبر:62   مرزا قادیانی اپنے کشف کا حال بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ قادیان کا نام قرآن مجید میں درج ہے۔

(ازالہ اوہام 77،خزائن ج3ص140)

الحمد سے لے کر والناس تک پورے قرآن مجید میں کہیں قادیان کا نام ہے؟۔ یقینا نہیں تو قادیانی حضرات ارشاد فرمائیں کہ مرزا قادیانی نے صریح کذب بیانی کی یا نہیں؟۔