قادیانیوں سے سوالات

کیا انگلش ناخواندہ ملازم؟ اور انگریزی الہامات آئی لو یووغیرہ کیسے؟

سوال نمبر:87   مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ:میں انگریزی خواں نہیں ہوں اور بکلی اس زبان سے ناواقف ہوں۔        

(حقیقت الوحی ص۳۰۴، خزائن ج22ص317)

            اس کے برعکس مرزاقادیانی کا اپنا بیٹا بشیراحمد ایم۔اے لکھتا ہے: سیالکوٹ ملازمت کے زمانہ میں مولانا الٰہی بخش چیف محرر مدارس کی کوشش سے کچہری کے ملازم منشیوں کے لئے ایک مدرسہ قائم ہوا کہ رات کو کچہری کے منشی انگریزی پڑھا کریں۔ ڈاکٹر امیر شاہ صاحب جو اس وقت اسسٹنٹ کمشنر سرجن پنشنر ہیں۔ استاذ مقرر ہوئے۔ مرزاقادیانی نے بھی انگریزی شروع کی اور ایک دو کتابیں انگریزی کی پڑھیں۔ (سیرۃ المہدی ج۱ ص155،روایت نمبر150، حیات النبی ج۱ ص60)

            میں انگریزی خواں نہیں۔ بلکہ اس زبان سے ناواقف ہوں۔ یہ قول مرزاقادیانی کا ہے۔ اس کے گھر کے بھیدی کہتے ہیں کہ انگریزی کی ایک دو کتابیں پڑھیں۔ اب مرزاقادیانی کی راست بازی پر قادیانی سردھنیں۔ الٹ پلٹ بیہودہ احمقانہ انگلش الہام انہیں ایک دو کتابوں کی کرشمہ سازی ہے اور بس؟

            اگر انگلش نہیں پڑھی تو الہام کیسے سمجھ لیتا تھا؟ پھر جن استاذوں کے نام مرزے کی کتابوں میں ہیں۔ یا قادیانی کتب میں ہیں۔ نکال دئیے جائیں؟ تاکہ اسے نبی ماننے والوں کو دھوکا نہ ہو؟

کیا غیرزبانی الہام برحق ہونے کی دلیل؟

سوال نمبر:88   مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ:اور یہ بات بالکل غیرمعقول اور بیہودہ امر ہے کہ انسان کی اصل زبان تو کوئی ہو اور الہام اس کو اور زبان میں ہو۔ جس کو وہ سمجھ نہیں سکتا۔ کیونکہ اس میں تکلیف مالایطاق ہے۔                                                                         

(چشمہ معرفت ص209، خزائن ج23 ص218)

اس کے برعکس خود لکھا کہ: زیادہ تر تعجب کی بات یہ ہے کہ بعض الہامات مجھے ان زبانوں میں بھی ہوتے ہیں۔ جن سے مجھے کچھ بھی واقفیت نہیں۔ جیسے انگریزی یا سنسکرت یا عبرانی وغیرہ۔

                                                                                           (نزول المسیح ص57، خزائن ج18 ص435)

انگریزی، عبرانی، سنسکرت کے الہامات کی توضیح وترجمہ کے لئے مرزاقادیانی اپنے مرید میرعباس علی شاہ سے مدد طلب کرتا تھا۔          

 (مکتوبات احمدیہ ج۱ ص68)

اب مرزاقادیانی کی اس غیرمعقولیت وبیہودگی کے متعلق مریدان مرزا کیا ارشاد فرماتے ہیں؟۔ پھر خود مرزاقادیانی نے غیرزبانوں میں اپنے الہامات کو اپنے منجانب اﷲ ہونے کی دلیل قرار دیا۔   

                                                                 (نزول المسیح ص57، خزائن ج18 ص435)

جو بیہودہ امر ہو وہ منجانب اﷲ ہونے کی دلیل؟ کیا فرمایا مرزاقادیانی نے؟

بوقت دعویٰ پیٹ میں اب اولاد جوان؟

سوال نمبر:89   مرزاقادیانی نے لکھا ہے: جو لوگ میرے دعویٰ کے وقت ابھی پیٹ میں تھے۔ اب ان کی اولاد بھی جوان ہوگئی ہے۔             

 (ضمیمہ براہین احمدیہ ص145، خزائن ج21ص313)

یہ لغو مبالغہ کی بہترین مثال ہے۔ کیونکہ ہر صورت میں تو پیٹ والے افراد کم ازکم چالیس سال کی عمر کے ہونے چاہئیں۔ حالانکہ مرزاقادیانی کا دعویٰ 1880ء سے بھی تسلیم کیا جائے تو ۱۹۰۸ء تک صرف اٹھائیس سال بنتے تھے۔ کیا ابھی پیٹ والے جوان ہوئے نہ کہ ان کی اولاد؟۔ قادیانی بتائیں کہ مرزاقادیانی کے اونٹ کی کون سی کل سیدھی ہے؟۔

 

کیا بکر وثیب والی پیش گوئی پوری ہوئی؟

سوال نمبر:90   مرزاقادیانی لکھتا ہے: خداتعالیٰ کی طرف سے یہی مقدر اور قرار یافتہ ہے کہ وہ لڑکی اس عاجز کے نکاح میں آئے گی۔ خواہ پہلے ہی باکرہ ہونے کی حالت میں آجائے اور یا خداتعالیٰ بیوہ کر کے اس کو میری طرف لے آئے۔                   (مجموعہ اشتہارات ج۱ص219)

            کیا وہ لڑکی مرزاقادیانی کے نکاح میں آئی؟۔ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو پھر یہ کتنی بیہودہ بات ہے کہ کہا جائے کہ وہ پیش گوئی پوری ہوگئی؟