قادیانیوں سے مکمل بائیکاٹ پر جماعت اسلامی کامئوقف

            مرزا غلام احمد قادیانی دعوائے نبوت میںجھوٹا ہے ۔ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے اس کے پیروکار بھی دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔غلام احمد قادیانی اپنے آپ کو نبی اور اپنے پیروکاروں کو مسلمان قرار دیتا ہے اور مسلمانوں کو کافر کہتا ہے اور اپنا ایک الگ گروہ گورنمنٹ بر طانیہ کی خدمت کے لیے کھڑا کیا ہے ۔ وہ خود بھی اپنے گروہ کو مسلمانوں سے الگ قرار دیتا ہے اور مسلمان بھی اسے الگ سمجھتے ہیں ۔اس کے وجود پر ایک صدی گزر چکی ۔ پاکستان نے حکومتی اور عوامی سطح پر قادیانیوں کے تمام گروہوں کو ملت اسلامیہ سے خارج اور کافر قرار دیا ہے ۔ ان کے لئے اسلامی اصطلاحات اور شعائر اسلامی کے استعمال کوممنوع قرار دیا ہے ۔ اس کے لئے امتناع قادیانیت کا قانون نافذ العمل ہے ۔لیکن یہ ابلیسی گروہ تبلیس سے کام لیتا ہے ۔ آئین پاکستان اور امتناع قادیانیت قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مسلمانوں کا لبادہ اوڑھ کر مسلمانوں کے اند ر اپنے کفریہ عقائد کی تبلیغ کرتا ہے ، طاغوتی طاقتوں کے لئے جاسوسی کرتا ہے ، مغربی استعمار کے خلاف اسلام منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے لئے خفیہ طور پر سرگرم عمل رہتا ہے ۔اس وقت مسلمان مختلف ممالک میں جس بد امنی اور مصیبت کا شکار ہیں ، اس میں اس قادیانی گروہ کا بڑا حصہ ہے ۔ ایسے گروہ کے لئے شریعت کا پہلا حکم یہ ہے کہ اسے کافر اور زندیق سمجھا جائے ۔ دوسرا حکم یہ ہے کہ اسے اپنی صفوںسے عملاً نکال باہرکیا جائے۔ اس کا سوشل ، معاشرتی اور سیاسی بائیکاٹ کیا جائے ۔ ان کے ساتھ کوئی بھی معاملہ نہ کیا جائے تاکہ یہ مسلمانو ں کی آبادیوں ، شہروں اور دیہات اور بازاروں میں رہائش نہ رکھ سکے آمد و رفت اور خرید و فروخت نہ کر سکے ۔

            قرآن پاک اور احادیث رسول صلی اﷲ علیہ وسلم اس بارے میں واضح اور صریح ہیں ۔ امت مسلمہ کے تمام مکاتب فکر کا متفقہ فتویٰ ہے کہ اس شیطانی گروہ کامکمل بائیکاٹ کیا جائے ۔ہم مفتی ولی حسنؒ اور اس کی تائید میں جاری کردہ فتاویٰ کی تائید کرتے ہیں۔

            مرزا غلام احمد قادیانی انگریز کا خود کاشتہ پودا ہے ۔ مسلمانوں کے دلوں سے جذبہ جہاد کو نکالنے کے لیے اس نے نبوت کا دعویٰ کر دیا۔ پھر اس کی سر پرستی کی ۔ اس کی یہ سر پرستی پہلے دن سے لے کر آج تک قائم ہے بلکہ اب تمام طاغوتی قوتیںاس کی پشت پر ہیں اور اپنے اسلام اور مسلم دشمن منصوبو ں کو اس کے ذریعہ عملی جامہ پہناتی ہیں ۔ الحمدﷲ علمائے امت نے ایک صدی پر محیط تحریک کے ذریعہ اس شیطانی گروہ کو پارلیمنٹ سے غیر مسلم اقلیت قرار دینے میں کامیابی حاصل کر لی ۔ اب آئین پاکستان کی رو سے قادیانی غیر مسلم ہیں اس ان کے لئے اسلامی شعائر کا استعمال ممنوع قرار دے دیا گیا ہے ۔اس فیصلہ سے اس گروہ اور اس کی سر پرست طاقتوں کو بڑا دکھ پہنچا ہے ۔ یہ مسلسل اس کوشش میں ہیں کہ یہ فیصلہ کالعدم قرار دے دیاجائے ۔ دوسری طرف دینی جماعتیں اور علماء امت اس کوشش میں ہیں کہ اس گروہ کو اپنے منطقی انجام تک پہنچا دیا جائے ۔ اس کے لئے پہلے مرحلے میں اس کا سو شل ، معاشرتی ، معاشی اور سیاسی بائیکاٹ ہے ۔ ہمہ پہلو بائیکاٹ کے ذریعہ اسے ملت اسلامیہ کی صفوں سے نکال باہر کر نا ہے ۔اس سے لین دین اور تعلقات کا خاتمہ ہے تاکہ یہ مسلمان آبادیوں ، شہروں اور دیہات میں قیام نہ کر سکے ۔ اسے ملازمتیں نہ دی جائیں ۔ ایسی اقتصادی ناکہ بندی کی جائے کہ یہ یا تو تائب ہو کر دائرہ اسلام میں آجائیں یا پھر اپنے آقائوں کے پاس چلے جائیں اور مسلمان آبادیاں اور ممالک ان سے پاک ہو جائیں ۔

            اس سلسلہ میں حضرت مولانا مفتی ولی حسن رحمۃ اﷲ علیہ اور ان کی تائید میں جاری کردہ فتاویٰ کی تائید کی جاتی ہے ۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ ان فتاویٰ کو عملی جامہ پہنانے کے لئے مسلسل جدوجہد کی جائے ۔