زندیق قادیانیوں سے ہر طرح کے بائیکاٹمیں کو ئی کو تاہی نہ کی جائے

حضرت مولاناعزیز الرحمن ثانی صاحب دامت برکاتہم مرکزی ناظم شعبہ اطلاعات و  نشریات عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

زندیق شرعاً اس شخص کو کہا جا تا ہے جو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی نبوت کا اقرار کرتا ہو اور شعائر اسلا م کا اظہار کرتاہو مگر کسی کفریہ عقیدہ پر ڈٹا ہو اہو ۔زندیق اور ملحد جو بظاہر اسلام کا کلمہ پڑھتا ہو مگر خبیث عقائدرکھتا ہو اور غلط تاویلات کے ذریعے اسلامی نصوص کو اپنے عقائد خبیثہ پر چسپاںکرتاہو۔اس کی حالت کافر اور مرتد سے بھی بدترہے کہ کافر اور مرتدکی توبہ بالا تفاق قابل قبول ہے مگر بقول علامہ شامی ؒزندیق کا نہ اسلام معتبر ہے نہ کلمہ،نہ اس کی توبہ قابل التفا ہے۔الایہ کہ وہ اپنے تمام عقائد خبیثہ سے برأت کا اعلان کرے ۔

حضرت ملا علی قاری ؒ مرقات جلد۷ صفحہ ۱۰۴ پر زندیق کامعنی بیان کر تے ہیں کہ وہ جو کفر کو چھپاتا ہو اور ایمان کو ظا ہر کر تا ہو ۔ علامہ شامی ؒ فر ماتے ہیں کہ :زندیق ملمع سازی کر کے اپنے کفر کو پیش کرتا ہے فاسد عقید ہ کی ترویج کر تا ہے اور اس کو صحیح صورت میں ظا ہر کر تاہے اور کفرکے چھپانے کا یہی مطلب ہے ۔ ( شامی جلد۳صفحہ۳۲۴)

حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب  ؒ مفتی اعظم پاکستان جواہر الفقہ جلد۱ صفحہ ۲۹میں تحریر فر ماتے ہیں :زندیق کی تعریف میں جو عقائد کفریہ کا دل میں رکھنا ذکر کیا گیا ہے اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ مثل منافق کے اپنا عقیدہ ظاہر نہیں کرتا ۔بلکہ یہ مراد ہے کہ اپنے عقا ئد کفریہ کو ملمع کرکے اسلامی صورت میں ظاہر کرتا ہے ۔

درج بالا عبارات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ زندیق مثل منافق نہیں ۔ زندیق  کافر ہیں مگر اپنے کفر کو اسلام کہتے ہیں۔ خالص کفر لیکن یہ اس کو اسلام کے نام سے پیش کرتے ہیں بلکہ قرآن کریم کی آیات سے، احادیث طیبہ سے، صحابہ ؓ کے ارشادات سے اور بزرگانِ دین کے اقوال سے توڑ موڑ کر اپنے کفر کو اسلام ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو شریعت کی اصطلاح میں زندیق کہا جاتا ہے۔

قادیانیوں کے بارے میں شیخ موسیٰ روحانی البازی رحمۃ اﷲ علیہ اپنی تصنیف التحقیق فی الزندیقمیںتحریرفرماتے ہیں کہ :فرقہ قادیانیہ جو غلام احمد قادیانی کو نبی یا مصلح و مرشد مانتا ہے ، یہ فرقہ زمانہ حال کے زنادقہ کبار میں سے ہے اور کسی اسلامی مملکت میں بحکم شرع اسے رہائش ،اقامت کی اجازت نہیں دی جا سکتی ۔ قادیانی ختم نبوت کے منکر ہیں اور ختم نبوت کا عقیدہ ضروریات دین اسلام میں سے ہے ۔کسی ا سلامی مملکت میں یہ فر قہ جزیہ ادا کرکے بطور ذمی بھی سکونت نہیں کر سکتا کیو نکہ ان میں سے جو لوگ مسلمان تھے اور پھر قادیانی ہو گئے وہ مرتد ہیں ۔ مرتد ذمی نہیں بن سکتا ۔ اسی طرح یہ لوگ مرتد ہو نے کے علاوہ زندیق بھی ہیں لہذا ان میں جو اشخا ص قادیانیت کے مبلغ و داعی ہوں ان کی توبہ قضاء مقبول نہیں ہے اور وہ زندقہ کی وجہ سے واجب القتل ہیں(مگریہ اسلامی حکومت وقت پر فرض ہے کہ شرعی سزا نافذ کر کے ان کے قتل کا حکم دے، عوام کو اس کا اختیار نہیں ) ۔ جیسا کہ ابا حیہ و روافض و قرامطہ و زنادقہ فلاسفہ کی تو بہ مقبول نہیں اور وہ واجب القتل ہیں۔اس سے بڑھ کر اور زندقہ کیا ہو گا کہ وہ اسلام کے اندر ہمارے نبی خاتم الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد کسی کی نبوت کے قائل ہیں ۔اور جو قادیانی پیدائشی قادیانی ہوں یعنی قادیانی خاندان میں پیدا ہوئے اور پھر اسی عقیدہ پر قائم رہتے ہوئے بڑے ہو گئے وہ بھی کسی اسلامی مملکت میں ازروئے شریعت اسلامیہ سکونت و اقامت کے مجاز نہیں ہو سکتے ۔اور وہ جزیہ ادا کر کے ذمی بھی نہیں بن سکتے بلکہ وہ زندیق ہیں۔اگر وہ قادیانیت کے داعی و مبلغ ہوں تو ان کی تو بہ قضاء مقبول نہیں ہو سکتی اور اگر داعی و مبلغ نہ ہوں تو ان کی تو بہ قبول ہو سکتی ہے ۔

بہر حال پیدائشی قادیانی زندیق ہیںاور واجب القتل ہیں(مگریہ اسلامی حکومت وقت پر فرض ہے کہ شرعی سزا نافذ کر کے ان کے قتل کا حکم دے، عوام کو اس کا اختیار نہیں) ، وہ جزیہ ادا کرکے بھی دارالسلام میں اقامت کرنے کے مجاز نہیں۔

            ۱۔کیو نکہ وہ ختم نبوت جو ضروریات اسلام میں سے ہے کے منکر ہیں ۔ در مختار میں ہے واجب القتل ملحدین کے بیان میں  وکذا من علم انہ ینکر فی الباطن بعض الضروریات کحرمۃ الخمر و یظھراعتقادحرمتہ انتہیٰ۔ جب وہ شخص واجب القتل ہے اس الحادو زندقہ کی وجہ سے ببا طن حرمت خمر منکرکامنکر ہو اگرچہ لوگوںکے سامنے حرمت خمر کا اظہارکر تا ہو تو قادیانی جو علی الاعلان ختم نبوت کا انکار کرتے ہیں اور زندقہ کی اشاعت میں کوشش کر تے ہیں بطریق اولیٰ واجب القتل ہیں(مگریہ اسلامی حکومت وقت پر فرض ہے کہ شرعی سزا نافذ کر کے ان کے قتل کا حکم دے، عوام کو اس کا اختیار نہیں) ۔

            ۲۔ان کی زندقہ کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ صرف اپنے آپ کو مسلمان سمجھتے ہیں اور تمام اہل اسلام کو کافر سمجھتے ہیں ۔ لہذا یہ بہت بڑا زندقہ ہے ۔

             ۳۔ نیز وہ قرآ ن وحدیث کے بے شمار نصوص کی تحریف کرتے ہوئے ان سے اپنی گمراہی پر استدلال کرتے ہیں اور تحریف قرآن وسنت سے بڑھ کر اور زندقہ کیا ہو گا ۔ لہذا وہ مثل قرامطہ و با طنیہ ہیں۔

            ۴۔ نیز وہ شعائر اﷲ اور کئی اصول اسلام اور خصائص اسلام کی ہتک و بے حرمتی کر تے ہیں مثلاً وہ غلام احمد کی بیویوں کو امہات المومنین اور اس کے دیکھنے والوں کو صحابہ کہتے ہیں اور اپنی عبادت گاہ کو وہ مسلمانوں کی طرح مسجد کہتے ہیں ۔ حالانکہ یہ امور خصائص اسلام میں سے ہیں اور یہ اسلام سے استہزاء ہے۔ مسجد صرف مسلمانوں کی عبادت گاہوں کانام ہو سکتا ہے ۔ کسی اسلامی مملکت میں کسی کا فر فرقہ کو ازروئے شرع یہ حق حاصل نہیں ہو سکتا کہ وہ مسلمانوںکی طرح اذان دے اور مسلمانوں کی طرح اپنی عبادت گاہ کانام مسجد رکھے اور اپنے الحاد کی اشاعت کے لیے اسلامی نام استعمال کر کے تشبّہ بالمسلمین کرے ،یہ اسلام کی سخت بے حرمتی ہے ۔ اور اس قسم کی بے حرمتی ایک مستقل زندقہ ہے جو موجب قتل ہے(مگریہ سلامی حکومت وقت پر فرض ہے کہ شرعی سزا نافذ کر کے ان کے قتل کا حکم دے، عوام کو اس کا اختیار نہیں)  ۔

            ۵۔جزیہ تو عیسا ئیت ، یہودیت وغیرہ ان ادیان باطلہ کے معتقدین سے لیا جا تا ہے جو قدیم و معروف تھے اور بوقت ظہور اسلام موجود تھے ۔ اور جو اپنے آپ کو اہل اسلام کے بر خلاف ایک فرقہ شمار کر تے تھے اور کرتے ہیں ۔ لیکن جو فرقہ خود اسلام کا مدعی ہو اس سے کس طرح جزیہ لیا جا سکتا ہے ۔ ایسے فر قہ کے بارے میں بعد از تحقیق د واحتمال ہو سکتے ہیں۔اول یہ کہ اگر تحقیق کے بعد ان کا مسلمان ہو نا ثابت ہو ا تو وہ یقینا مسلمان شما ر ہو گا اور اہل اسلام سے جزیہ وصول نہیں کیا جا سکتا ۔ اور اگر تحقیق سے وہ کافر ثا بت ہوا تو وہ مرتد یا زندیق ہو گا اور مرتد و زندیق سے جزیہ نہیں لیا جا سکتا ۔ بلکہ وہ اگر مصّر ہو تو واجب القتل ہے(مگریہ اسلامی حکومت وقت پر فرض ہے کہ شرعی سزا نافذ کر کے ان کے قتل کا حکم دے، عوام کو اس کا اختیار نہیں) ۔قادیانی فرقہ احتمال ثانی کے قبیل میں سے ہے وہ مرتد وزندیق ہیکما مرا لتفصیل من قبل۔ وہ کسی طرح دار اسلام میں اقامت و رہائش کے مجاز نہیں ہیں ۔ قادیانی لوگ اسلام اور شعائر اسلام کی بے حرمتی و بے عزتی و استہزا ء کرتے ہیں اور بے حرمتی کرنے والا زندیق ہے ۔وہ نصوص قطعیہ کی تحریف کرتے ہیں اور یہ زندقہ ہے بلکہ تحریف نصوص اسلام کی بڑی بے حرمتی ہے ۔

مفتی رشید احمد رحمۃ اﷲ علیہ احسن الفتا ویٰ میں لکھتے ہیں :      قادیانی زندیق ہیں جن کا حکم عام مرتد سے بھی زیادہ سخت ہے، مرتد اور اس کا بیٹا اپنے مال کے مالک نہیں ، لہٰذاان کی بیع و شراء ،اجارہ و استجارہ ، ہبہ کا لین دین وغیرہ کوئی تصرف بھی صحیح نہیں ، البتہ پوتے نے جو مال خود کما یا ہو وہ اسمیں تصرف کر سکتا ہے ،مگر زندیق کا پو تا بھی اپنے کمائے ہوئے مال کا مالک نہیں اوراس کے تصرفات نافذ نہیں ، اس لئے قادیانی سے کسی ذریعہ سے بھی کوئی مال لیا تو حلال نہیں ۔تجارت وغیرہ معاملات کے علاوہ بھیقادیانیوں کے ساتھ کسی قسم کاکوئی میل جول رکھنا جائز نہیں ۔ اس میں یہ مفاسد ہیں :

            ۱۔اس میں قادیانیوں کے ساتھ تعاون ہے ۔

            ۲۔اس قسم کے معاملات میں عوام قادیانیوں کو مسلمانوں کا ایک فرقہ سمجھنے لگتے ہیں ۔

            ۳۔اس طرح قادیانیوں کو اپنا جا ل پھیلانے کے مواقع ملتے ہیں ۔

اس لئے قادیانیوں سے لین دین اور دیگر ہر قسم کے معاملات میں قطع تعلق ضروری ہے ۔

قادیانیوں سے تجارت اور دنیاوی معاملات کی حد تک تعلق رکھنے والا شخص سخت مجرم اور فاسق ہے ۔۔۔ قادیانیوں سے تعلقات رکھنے والا آدمی اگرچہ ان کو بُرا سمجھتا ہو قابل ملامت ہے ، ایسے شخص کو سمجھانا دوسرے مسلمانوں پر فرض ہے۔۔۔۔۔۔

حکومت وقت پر فرض ہے کہ ان کے قتل کا حکم دے ، خواہ کو ئی خود زندیق بنا ہو یا باپ دادا سے اس مذہب میں چلاآتا ہو۔ ۔۔۔۔زندیقہ عورت بھی واجب القتل ہے ۔۔۔ ان سے کسی قسم کا کوئی معاملہ جائز نہیں ۔                                                                                                         

(احسن الفتاویٰ جلد اول کتاب الایمان والعقائد)

ان اصولوں کی روشنی میں قادیا نی فردیا جماعت کی حیثیت او ران سے اقتصادی ومعاشی اور معاشرتی وسیاسی مقاطعہ یا مکمل سوشل بائیکاٹ کا شرعی حکم بالکل واضح ہو جاتا ہے اور پاکستان کے تمام مکاتب فکر کے موجودہ جید علماء کرام اور مفتیان عظام کے فتا ویٰ جات بھی اس موضوع پر موجود ہیں جن سے یہ بات ظاہر ہے کہ اس بات میں کسی کو کوئی اختلاف نہیں کہ قادیانیت کو نیست و نابود کرنا حکومت وقت کی ذمہ داری ہے ۔جب تک حکومت وقت کی طرف سے قادیانیوں پر شرعی سزا نافذ نہ کر دی جائے اس وقت تک تمام مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ قادیانیوں خواہ وہ ربوہ کے ہوں یا لاہوری گروہ کا ہرطرح سے معاشرتی اور معاشی طور پربائیکاٹ کریں ۔

 اس سلسلہ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے شعبہ  اطلاعات و نشریات کے ناظم کی حیثیت سے ہم تمام عوام الناس سے اپیل کرتے ہیں کہ جو ذمہ اری شرعیت نے ہم عوام پر فرض کی ہے یعنی قادیانیوں سے ہر طرح کا بائیکاٹ کم از کم اس کو تو پورا کر نے میں کو ئی کو تاہی نہ کی جائے اور علماء کرام سے یہ التماس کر تے ہیں کہ اس بات کو وضاحت سے عوام الناس تک پہنچایا جائے۔

                                                                            حضرت مولاناعزیز الرحمن ثانی صاحب دامت برکاتہم

                                                                              مرکزی ناظم شعبہ اطلاعات و نشریات

                                                                      عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

                                                                              یکم ربیع الاول ۱۴۳۲ھ