قادیانیوں سے ہمہ جہت بائیکاٹ و مقاطعہ کا معاملہ۔۔حصہ اول

شاہ عالم گورکھپوری نائب ناظم کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت   دار العلوم دیوبند 

مرزا غلام احمد قادیانی نے انگریزوں کے سیاسی مقاصد کی تکمیل کے لئے اسلام مخالف جن خیالات و نظریات کو جنم دیا اسے مذہبی لبادہ میں تبدیل کرکے احمدیت کے نام سے تعبیر کیا اور دنیا والوں سے انگریزوں کی اس کالی سیاست کو دیگر آسمانی مذاہب کی طرح اُسے ایک مذہب منوانا چاہا ۔چونکہ مرزا کے اختراعی خیالات و نظریات ، اسلام کے ٹھوس عقائد میں تخریب کاری اور مسلمانوں سے محاربت اور ایذا رسانی پر مشتمل تھے اس لئے اُن کو عام زبان میں قادیانی فتنہ اور مذہب اسلام کی زبان میں کفر و زندقہ کہا جاتا ہے اور ایسے خیالات و نظریات کے پیروکار ، جو خود کو احمدی کہلوانا چاہتے ہیں اُن کو اسلامی دائرۂ کار میں رہنے والا دنیا کا ہر فرد بشر اپنی عام زبان میں مرزائی ، قادیانی اور مذہبی زبان میں کافر و زندیق کے نام سے یادکرتا ہے ۔

تاریخی شہادتوں سے ثابت یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ قادیانیت اپنے اصل مادّہ و خمیرکے اعتبار سے انگریزوں کی ایک سیاسی تحریک ہے ۔ اِس حقیقت سے انگریز بھی خوب خوب واقف تھے کہ اِس قسم کی تحریک کی زندگی مختصر ہوتی ہے ، اس لئے اُسے لمبی زندگی دینے کی غرض سے بنام احمدیت مرزا قادیانی کے ذریعہ اُس تحریک میں مذہبی بکھیڑوں کے جراثیم پیدا کئے گئے انہی بکھیڑوں میں سے ایک پہلو یہ نکالاگیا کہ اپنے جدید خیالات کے ساتھ نوزائیدہ احمدیت وہی چیز ہے جو اسلام ہے یا اسلام کے علاوہ کسی جدید دائرے کا نام احمدیت ہے ۔ یہ اور اِس جیسے دیگر شاخسانوں میں مسلمانوں کو غافل کرکے شاطر دماغوں نے جلد ایک قدم اور آگے بڑھاکر احمدی اسلام کا پر فریب عنوان تجویز کرلیا اور اِس مرحلہ میں خواہی نہ خواہی اسلام کو احمدیت کا جز و اصلی بناکر اُس کے تحت مذہبی عنوانات و مباحث کا ایک وسیع و عریض میدان مسلمانوں کے سامنے کھڑا کردیا ۔ دجل و تلبیس کی اِس وادی میں اُنھیں اپنی سیاسی تحریک کے لئے مذہبی اصطلاحات و مذہبی زبان ، مذہبی طرز و انداز بھی ہاتھ لگے اور خواہی نہ خواہی قرآن و حدیث کو تختۂ مشق بنانے کا موقع بھی ملا۔ اور پھر کیا تھا ! بتدریج ـمذہبی دنیا میں مسلمانوں کو الجھائے رکھنے کا ایک ایسا منصوبہ بند ماحول تیار کیاگیا کہ احمدیت سے پہلے کی اُس کی اصل حقیقت و حیثیت ہی عموماً لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہوچکی ہے ۔ لوگ یہ بات بھولتے جارہے ہیں کہ آج حقوق انسانیت کے سہارے زندگی کی بھیک مانگنے والا ، کہیں رفاہی خدمات کی خوشنمائیوں میں ملبوس ، کہیں جمہوریت کی آر میں مذہبی پاؤں پسارنے والا ، انگریزوں کا یہ وہی سیاسی عفریت ہے جو کبھی غیر منقسم ہندوستان کو نگلنے کے درپے تھا ۔

            جہاں تک قادیانیت کے کفر زندقہ ہونے کا سوال ہے تو یہ تو خود اُسی کے رگ و ریشے سے ٹپکتی ایک روشن حقیقت ہے ۔ اور یہ بھی اُسی سے واضح ہے کہ قادیانیت جس جدید دائرے کا نام ہے اس میں نجات و فلاح دین و دنیا کی سیاست و ریاست و غیرہ سب کچھ مرزا قادیانی کی ذات سے شروع ہوکر اُسی پر ختم بھی ہوجاتا ہے ۔چنانچہ جن اختراعی خیالات و نظریات کا نام قادیانیت ہے وہ اسلام کے دائرے میں کبھی داخل ہی نہیں رہے کہ اُن کے نکالنے اور نکلنے کی بات کی جائے ۔ اسی لئے مرزا قادیانی نے اپنی تحریک کے پہلے ہی دن سے اپنی مزعومہ تحریک احمدیت کو مسلمانوں کے اسلام سے الگ اور ہمہ جہت الگ کرنے اور قادیانی معاشرے کو روزی روٹی سے لیکر مٹی ، قبرستان تک زندگی کے ہر لمحے میں کلی طور پر الگ تھلگ رکھنے کا فیصلہ واضح سے واضح تر الفاظ ، موٹے سے موٹا عنوان میں لکھا اور سنایا ہے ۔او ر اپنے جنم داتا ، انگریز بہادر کی دور حکومت و حکومتی قوانین کی موجودگی میں ہی اپنے اُن فیصلوں پر خود بھی عمل کیا اور فریقین سے بھی اُس پر عمل کرایا ہے ۔

چنانچہ قادیانیت کے اسلام و کفر کا مسئلہ ہو یا قادیانیوں سے ہمہ جہت بائیکاٹ و مقاطعہ کا معاملہ ہو دونوں میں مسلمانوں کا یہ ہمیشہ موقف رہا ہے کہ قادیانیت اور اسلام دونوں نہ کبھی ایک رہے اور نہ ایک ہوسکتے ہیں ۔ علماء امت نے قادیانیوں کو اسلام سے کبھی خارج کیا نہیں ؛ بلکہ اسلام سے خارج مانا ہے ، یعنی اسلامی دائرے میں کبھی اُن کے داخل نہ رہنے کی تائید کی ہے ۔قادیانیوں کو کافر قرار دیا نہیں ؛ بلکہ اُن کو اسلامی دائرے سے الگ نوزائیدہ قادیانی دائرے میں اُن کے دعوے کے مطابق مان کر اسلام سے اُن کے انکار و فرار کی توثیق کی ہے ۔زندگی کے تمام شعبوں میں مقاطعہ اور بائیکاٹ کا اپنی جانب سے کوئی نیا حکم تجویر کرکے قادیانیوں کو مسلمانوں کے معاشرے سے الگ کیا نہیں ،بلکہ خود اُنہی کے فیصلوں کو تسلیم کرتے ہوئے الگ مانا ہے ۔سوسال سے زائد پرانے اِن مسلّمہ مسائل کے تعلق سے آج بھی اگر کوئی شخص مفتیان کرام سے پوچھے اور وہ دور حاضر کا لحاظ رکھتے ہوئے اپنے انداز میں جواب دیں تو اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ مسئلہ کوئی نیاہے یا پرانے مسئلے پر وہ کوئی نیا حکم صادر کررہے ہیں بلکہ یہی کہا جائے گا کہ انھوں نے قادیانیوں کے کفر و زندقہ کی تائید اور مقاطعہ کی توثیق کی ہے ۔

چونکہ اِن حقائق کو قادیانی تعلیمات و ہدایات ہی کی روشنی میں جاننا مبنی بر انصاف ہوگا،اس لئے تفصیل کے لئے کتابوں کی طرف رجوع کیا جائے تو کھلے لفظوں میں مذکورہ حقائق واضح ہوجاتے ہیں کہ:

            ۱اسلام اور قادیانیت آپس میں دو متضاد دائرے ہیں جن کے درمیان ماضی میں کبھی ایک رہنے کا یا مستقبل میں کبھی ایک ہونے کا تصور بھی گناہ ہے ۔ اگر احمدیت اور اسلام دونوں ایک ہی چیز مانی جائیں تو کسی جھوٹے مدعی نبوت کی مستقل بیعت پر قادیانیوں کی تحریک و دعوت کی ضرورت ہی کیا رہ جاتی ہے اورپھر کس مقصد کے لئے یہ تحریک منظم طور پر کی جاتی ہے ؟ کیا حضورصلی اللہ علیہ وسلم  کی نبوت پر ایمان کافی نہیںکہ مرزا قادیانی کی بیعت بھی کرائی جائے؟۔

            واضح رہے کہ عام بزرگوں کی بیعت پر مرزا قادیانی کی بیعت کو قیاس کرکے مر زائی کسی سادہ لوح کو دھوکہ نہ دیں ، اس لئے کہ مرزاقادیانی، بیعت میں اپنی ذات کو مدار نجات منواتا اور بیعت نہ کرنے والوں کو کافر قرار دیتا ہے ۔جبکہ دنیا کوئی بڑے سے بڑا ولی ؔ نہ اپنی ذات کو نجات کا محور بناتا ہے اورنہ بیعت نہ کرنے والوں کو کافر قرار دیتا ہے ۔

            ۲ اسلامی دائرے سے خروج اور قادیانی دائرے میں دخول کا پہلا اور بنیادی اثر یہ ہوتاہے کہ ایسے شخص اپنے آپ کو مسلمانوں میں سے نہیں بلکہ مسلمانوں سے الگ احمدیت نامی نوزائیدہ دائرے میں شمار کرنے کرانے لگتے ہیں ۔ مرزا کی ذات سے منسلک ہونے پر ابتدائی دور میں ہی جو معاشرہ نظرآتا ہے وہ یہ ہے کہ مسلمان خود کو اب مسلمان نہیں بلکہ احمدی کہے تاکہ پہلے اور بعد کے معاشرے میں واضح فرق نظر آئے ۔ کیا دو معاشروں میں بُعد و تفریق کا ماحول و مزاج ؛قادیانیت بنام احمدیت کے رگ و ریشہ کی وضاحت کے لئے کافی نہیں جو خود اسی کی پیداوار ہے؟۔

            ۳ مرزا قادیانی کی بیعت اور اس کی ذات سے انحراف ایک ایسا ناقابل معافی جرم ہے کہ باضابطہ مقاطعہ اور بائیکاٹ کا سخت سے سخت سزا کا یکطرفہ اقدامی فیصلہ انحراف کرنے والوں پر نافذ کیاجاتا ہے اپنے مخالف کے ساتھ حقوق انسانی کے تحت ایک عمومی رواداری کی بھی یہاں گنجائش نظر نہیں آتی بلکہ مرتد یعنی غیر مسلموں سے بھی بدتر قرار دیا جاتا ہے۔ کیا قادیانی یہ بتانے کی جرأت کریںگے کہ ڈاکٹر عبدالحکیم اور منشی عبد الحق اکائونٹنٹ دونوں مرزا کی ذات سے منحرف ہوکر بجائے اسلام کی طرف واپس ہونے کے نعوذ باﷲ ، عیسائی یا یہودی ہوگئے تھے کہ مرزا قادیانی نے اپنی ذات سے انحراف کو اسلام سے انحراف قرار دیا اور بائیکاٹ کا حکم صادر کردیا !! دیدہ باید !! ان شخصیتوں کا اسلام سے قادیانیت میں دخول ، اس کے بعد پھر اُس سے انحراف ، یہ دونوں جس طرح دو مرحلے ہیں اور آپس میں ایک نہیں ہوسکتے ورنہ مرزا کا جھوٹی نبوت کے زعم میں پیغمبرانہ فیصلہ ہی بے سود و باطل قرار پائے گا ۔ اسی طرح قادیانیت اور اسلام بھی ایک نہیں ہوسکتے ورنہ اس صورت میں مرزا کا فیصلہ خود اسی کے لئے رسوائی کا باعث ہوگا کہ حیثیت کچھ نہیں اور زبان پیغمبرانہ !!!

ساتھ ہی ساتھ ا س سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ مرزا قادیانی نے اپنی تحریک کے بالکل ابتدائی مرحلے میں ہی خود کو مسلمانوں سے دور رکھنے کا فیصلہ کرلیاتھا ۔ نیز اس کی اپنی مزعومہ احمدیت سے منحرف ہونے والوں کے ساتھ بائیکاٹ و مقاطعہ کا جو ماحول و معاشرہ اُس نے تجویز کیا ہے وہی معاشرہ ، اسلام سے منحرف ہوکر قادیانی ہونے والو ں کے ساتھ تجویز کرنا حق و انصاف کا تقاضا ہے ۔ کسی ملک میں اگر حکومتی قوانین مقاطعہ و بائیکاٹ کے خلاف ہیں تو پہلے اس کی زد میں مرزا کی مزعومہ احمدیت آئے گی نہ کہ اسلام ۔ اور ایسی حکومت سے چارہ جوئی کا حق مسلمانوں کو حاصل ہے نہ کہ قادیانیوں کو جو کہ بائیکاٹ میں پہل کرنے والے اور من گھڑت احمدی معاشرے کو مسلم معاشرے سے الگ رکھنے کے دعویدار ہیں۔

قادیانیوں کی تاریخ میں یہ ایک نہیں بلکہ اس طرح کے اور اس سے بھی زیادہ واضح بے شمار فیصلے ملیںگے ۔ ایک دفعہ مرزا قادیانی نے اپنی تمام مسلم قریبی رشتہ داروں کے متعلق یہ فیصلہ صادر کیا کہ چونکہ محمدی بیگم ( مرزا کی مطلوبہ ایک لڑکی) سے نکاح کے مسئلے میں اُن رشتہ داروں نہ بلکہ پہلی بیوی اور دو نوجوان بیٹوں نے بھی مخالفت کی لہٰذا ان کے ساتھ اب ہماری قبریں بھی اکٹھی نہیں ہوسکتیں ( سیرت المہدی ج۱ صفحہ ۲۹ مطبوعہ ربوہ ) مرزا قادیانی کی پہلی بیوی اور اس کے دونوں بیٹے بھی چونکہ مسلمان تھے یعنی مرزا کو باپ تو مانتے تھے اور مطیع وفرمانبردار بھی تھے لیکن اس کی ذات کو اخروی نجات کے لئے مدار نہیں مانتے تھے بلکہ سابقہ زندگی کے گہرے رازدار ہونے کی بنیاد پر ،ابّا حضور کو جھوٹا اور فریبی سمجھتے تھے چنانچہ جدی جائداد سے محروم کرنے کے لئے بیوی کو طلاق دیدی اورپوری زندگی تباہ کرکے آخرِ عمر میں طلاق دی ، بڑے بیٹے مرزا سلطان احمد کو بھی جائداد سے محروم کردیا اور صرف مسلمان ہی ہونے کے قصور میں اپنے نہایت مطیع و فرمانبردار چھوٹے بیٹے فضل احمد کی نماز جنازہ تک نہیں پڑھی ۔ ( اخبار الفضل قادیان ۷؍جولائی ۱۹۴۲ئ) اور یہی فیصلہ مسٹر جناح کے نمازجنازہ کا بائیکاٹ کرتے ہوئے پورے ملک کے سامنے ظفر اﷲ خاں قادیانی نے سنایا کہ مجھے کافر حکومت کا مسلمان وزیر سمجھ لیں یا مسلمان حکومت کا کافر ( احمدی ) وزیر

                                                                                                                                                        ( اخبار، زمیندار لاہو ر ۱۹۵۰ئ)

خلاصہ کلام یہ کہ قادیانیت کے کفر و زندقہ ہونے کے مسئلے میںدریں صورت نہ ہمیں اپنی جانب سے کوئی فتوی صادر کرنے کی ضرورت ہے اور نہ ہی اس کے درمیان قرآن و حدیث کو لانے کی یا مسئلے کے حل کے لئے اسلامی دلائل کی طرف رجوع کرنے کی ضرورت ہے بلکہ خود مرزا قادیانی اور دیگر قادیانی پنڈتوں نے اسلام سے ایک الگ تھلگ ہونے کی اپنی پوزیشن مقرر و متعین پہلے سے کر رکھی ہے بس تسلیم کرنے ،کرانے کی ضرورت ہے ۔ اگر تقاضا اور ضرورت ہے تو ناواقف اور مداہن مسلمانوں کے دل و دماغ میں اس مبنی بر حقیقت فیصلے کو اتارنے کی تو ضرور کوشش کی جائے لیکن یہ خیال رکھ کر کہ مسئلہ کی قدامت متأثر نہ ہو ۔

بائیکاٹ اور مقاطعہ کے مسئلہ میں ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ مرزا قادیانی نے خود اپنے حق میں جو معاشرہ تجویز کیا ہے اسی کو مانااور منوایا جائے کوئی بھی ایسا پہلو اختیار کرنا ہمارے لئے مفید نہیں جس میں بائیکاٹ کی نسبت مسلم علماء حق کی جانب مفہوم ہو ۔مرزا قادیانی کے فیصلے کے مقابلہ میں دورحاضر کے قادیانی پوپوں نے اپنی پوزیشن اگر تبدیل کی ہو یا کوئی جدید فیصلہ کیا ہو تو ظاہر سی بات ہے کہ وہ دفع الوقتی ہے اس کی کوئی حیثیت نہیں ۔