قادیانیوں سے بائیکاٹ نہ کرنے کا نتیجہ (حصہ اول)
 

(واقعات و مشاہدات کے آئینے میں )


اسلام کے خلاف بہت سے فتنے پیدا ہوئے جن میں سب سے خطرناک فتنہ قادیانیت ہے۔ قادیانی؍ مرزائی دن رات مسلمانوں کا ایمان لوٹنے کے لئے باقاعدہ منصوبہ بندی اور نظم کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ پوری دنیا میں دھوکہ دہی ، دجل و فریب سے کام لے کر مسلمانوں کو مرتد بنا رہے ہیں۔ ان کی ارتدادی سرگرمیاں اس خطے کے علاوہ یورپ ، امریکہ ، کینیڈا، افریقہ تک پھیلی ہوئی ہیں۔
مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر کا متفقہ فیصلہ ہے کہ قادیانیوں ؍ مرزائیوں سے مکمل بائیکاٹ کیا جائے۔ مگر افسوس !مسلمان اس فیصلے کی خلاف ورزی کر کے قادیانیوں ؍ مرزائیوں سے رابطے اور تعلقات استوار کر لیتے ہیں اور بہت سے سادہ لوح مسلمان ان کے پھیلائے ہوئے ارتدادی جال میں پھنس کر اپنا ایمان کھو بیٹھتے ہیں۔
یہ ہماری سستی ہے کہ اکثر مساجد ، مدارس ، دینی رسائل اور دینی اجتماعات میں مسلمانوں کو قرآن و حدیث کے واضح دلائل سے عقیدہ ختم نبوت اور رد قادیانیت کے موضوعات پر آگاہ نہیں کیا جاتا، جس وجہ سے دینی حلقوں کے لوگ بھی قادیانیوں کے ہاتھوں ان کا شکار ہو جاتے ہیں۔
قادیانیوں ؍ مرزائیوں کی لاہوری جماعت کے مرکزی دفتر احمد بلاک گارڈن ٹاؤن لاہور کے تبلیغی شعبہ میں ملازمت کرنے والا جوان ارشد فیصل آباد کے مصروف دینی مدرسہ کا طالب رہا ہے مگر قادیانی ہو گیا۔
محمد جمیل اس وقت قادیانیوں کے لندن کے مرکزی دفتر میں مربی کی تربیت لے رہا ہے۔ یہ پہلے مسلمان تھا اور دو بڑی دینی جماعتوں میں شامل رہا اور بھر پور حصہ لیتا رہا ہے۔
ملک کی معروف تنظیم کے سربراہ کا دیوانہ ایک نوجوان جو لاہور میں ان کے باڈی گارڈ کی حیثیت سے خدمات سر انجام دیتا رہا ہے صرف قادیانیوں سے تعلقات کی وجہ سے قادیانی ہو گیا۔
یہاں یہ بات بھی یاد رکھنی ضروری ہے کہ قانونی طور پر کوئی قادیانی کسی مسلمان کو تبلیغ نہیں کر سکتا۔ ایسے قادیانی کے خلاف آپ قانون کو حرکت میں لا سکتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود مسلمانوں کی سرد مِہری اور غفلت کی وجہ سے قادیانی ہر سطح اور ہر علاقے میں جہنم کا ایندھن تلاش کر رہے ہیں۔ جبکہ کوئی مسلمان اپنے سے سینئر یا جُونیئر کسی قادیانی کو دعوت اسلام دیتا ہے تو اس کا جینا مشکل ہو جاتا ہے ،چنانچہ
بیگم کوٹ کے شبیر حسین جو لاہور شیخوپورہ روڈ پر فرانس کی ایک میڈیسن کمپنی میں ملازم ہیں ان کا افسر قادیانی ہے۔ شبیر نے اسے دعوت اسلام دی تو فوراً اسے فیکٹری کی طرف سے نوٹس ملا کہ تم ملازمت کرنا چاہتے ہو یا تبلیغ۔ اس واقعے کو بھی مد نظر رکھیں اور ذیل میں دیے گئے واقعے بھی پڑھیں۔ قادیانیوں کی ارتدادی سرگرمیوں کے چند محاذیہ ہیں:
اسلام کا لبادہ اوڑھ کر تبلیغ :
قادیانی بیرون ممالک میں مسلمانوں کے روپ میں جا کر لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں ۔
افریقی ممالک میں قادیانیوں نے مسلمانوں کو اس دلیل سے دھوکہ دیا کہ ربوہ قرآن میں حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کے جائے پیدائش کے لئے استعمال ہوا ہے اور ہم ربوہ سے آئے ہیں، مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام کی دعوت لے کر۔ دیکھو پاکستان کے نقشے پر ربوہ شہر موجود ہے اور اسی سے کئی لا علم مسلمانوں کو فریب سے قادیانی بنا لیا۔
مغربی افریقہ میں مالی کے نامور مذہبی راہنما شیخ عمر کانتے کا بیان وہاں کے احوال سمجھنے کے لئے کافی ہے ۔شیخ عمر کانتے فرماتے ہیں: ہمیں یہی باور کروایا گیا کہ دین محمدی اور دین احمدی (قادیانیت ) ایک ہی ہے۔ قادیانی تنظیم کے لوگوں نے یہاں آ کر ہم کو دھوکہ دیا کہ ہم مسلمان ہیں اور احمدی نام تعارف کے لئے ہے۔ ہم سڑکیں بنائیں گے، گھر بنائیں گے ، تمام سہولتیں دیں گے ۔ اس وجہ سے لوگوں نے قبول کیا کہ ایمان بھی محفوظ اور سہولتیں بھی مل رہی ہیں۔ اب ہم پر واضح ہوا ہے کہ عقیدہ ختم نبوت اسلام کا بنیادی اور اہم عقیدہ ہے ۔اور مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا، اپنے آپ کو رسالت کے منصب پر فائز کیا، اس کے پیرو کاراس کو نبی اور پیغمبر کی حیثیت سے جانتے اور تسلیم کرتے ہیں۔
قادیانیت کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں اور دین احمدی کا نام ایک کھلا دھوکہ ہے میں نے قادیانیت سے توبہ کی اور میری غلط فہمی دور ہو ئی۔ میں اپنے چالیس ہزار پیروکاروں کے ہمراہ قادیانیت سے تائب ہوتا ہوں اب اس علاقے میں قادیانیت کی تبلیغ کی اجازت نہ ہو گی۔ کسی قادیانی کو یہ جرأت نہ ہو گی کہ وہ لوگوں کو گمراہ کر سکے۔ اب حکومت مالی نے قادیانیوں کی طرف سے دی گئی رجسٹریشن کی درخواست کو نہ صرف مسترد کر دیا بلکہ آئندہ ان کی تبلیغی سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی ۔اور وہ چار افراد جو اپنے آپ کو مرزا طاہر کا نمائندہ کہتے تھے ان کی گرفتاری کے احکامات جاری کر دئیے ہیں۔ اس طرح عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی کوششوں سے وہ چالیس ہزار افراد جو لا علمی کی بناء پر قادیانیت کی گمراہی میں چلے گئے الحمد للہ دوبارہ زندہ اسلام میں داخل ہو گئے ہیں اور انہوں نے دین اسلام کے واضح ہونے کے بعد تمام مفادات کو قربان کر کے دین اسلام کو ترجیح دی ۔
اداروں اور فیکٹریوں میں طریقہ واردات :
قادیانی اپنے اداروں ، فیکٹریوں میں غریب مسلمانوں کو ملازمت دے کر تبلیغ کرتے ہیں اور ان میں سے کچھ لوگوں کا ایمان لوٹ لیا جاتا ہے۔ شیزان فیکٹری ، شاہنواز لیمیٹڈ ، تاج شوگر ملز، پاکستان چپ بورڈ لمیٹڈ جہلم ، OCS ، ذائقہ گھی اور اکثر قادیانی اداروں کے ملازمین ان کے دجل و فریب میں آ کر مراعات اور رہائش کی لالچ میں گمراہ ہو جاتے ہیں ۔
لاہور میں الفضل روم کولر ٹاؤن شپ والے مسلمان مزدوروں اور کاریگروں کو اپنے ادارے میں ڈبل تنخواہ دے کر ملازم رکھتے ہیں۔ کچھ ماہ کے بعد جب ان ملازمین کے گھریلو اخراجات ڈبل تنخواہ کے حساب سے ایڈجسٹ ہو جاتے ہیں تو ان کو فتنہ قادیانیت کی دعوت شروع کر دی جاتی ہے ۔جو لوگ دعوت قبول نہیں کرتے انہیں نوکری سے نکال دیا جاتا ہے اور اسے نئی نوکری اس تنخواہ کے مطابق کہیں اور مل نہیں سکتی۔ اس ادارے میں ہر سال 5 سے 8 خاندان قادیانی ہوجاتے ہیں۔
یونیورسل سٹیبلائزر،عابدمارکیٹ (لاہور ) والوں نے اپنے پڑوسی نوجوان کو قادیانی کر لیا مگر شادا ب کالونی کے نوجوان نے مرکز سراجیہ سے رابطہ کیا اور کوششوں سے الحمد للہ نوجوان دوبارہ مسلمان ہو گیا۔
آصف بلاک اقبال ٹاؤن میں کچھ عرصہ پہلے 5،7گھر قادیانیوں کے تھے۔ اب وہاں 40 کے قریب قادیانیوں کے گھر آباد ہو چکے ہیں ، اور ارد گرد کے مسلمانوں کے لئے انتہائی خطرناک ہیں۔ اس بلاک میں ایک مشہور حکیم صاحب نے بتایا کہ ہمارے یہاں کا ایک مسلمان نوجوان ویزے کے لالچ میں قادیانی ہو کر باہر جانا چاہ رہا تھا، مگر میں نے اسے مشورہ دیا کہ وہ بیعت فارم بھر کر باہر چلا جائے مگر دل سے مسلمان ہی رہے اور وہ نوجوان ایسا کر کے باہر چلا گیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ گویا حکیم صاحب نے اپنے ہاتھوں سے اس کا ایمان ضائع کر دیا۔
رشتوں کے جھانسے میں قادیانیت کی تبلیغ:
فرید احمد پراچہ سابق ایم این اے کے بھائی طارق پراچہ صاحب کی تین جوان بیٹیاں اور ایک جوان بیٹا ہے۔ ان کی بیوی ظاہراً ساری زندگی مسلمان بن کر ان کے ساتھ رہی۔ جب تمام بچے کالج جانے لگے تو ایک دن اس نے بتایا کہ وہ حقیقت میں قادیانی تھی اور اس نے سب بچوں کو قادیانی بنا دیا ہے اور طارق پراچہ صاحب کو بھی دعوت دی کہ آپ قادیانی ہو جائیں۔ طارق پراچہ صاحب نے قادیانیت پر لعنت بھیجی اور بیوی بچوں کو چھوڑ کر ان سے علیحدہ رہ رہے ہیں۔ (ماشاء اللہ ، ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں استقامت بخشے۔ آمین!)
Yاسٹیٹ بینک لاہور کے سینئیر آفیسر نے اپنی بیٹی کی شادی کی ، بچے ہونے کے بعد لڑکے نے انکشاف کیا کہ وہ قادیانی ہے۔
Y چناب بلاک اقبال ٹاؤن لاہور کے مشہور عالم دین کے پاس ایک بچی کی شادی کے سلسلے میں ان کے احباب تشریف لائے اور بتایا کہ یہ لڑکی قادیانیت سے تائب ہونے والے ایک نوجوان سے شادی کرنا چاہتی ہے۔ مگر ہم اس وقت اس کی شادی نہیں کریں گے جب تک آپ اس لڑکے کی تحقیق کر کے ہمیں کلیئرنس نہ دیں کہ یہ لڑکا مسلمان ہے۔ حضرت مولانا صاحب نے لڑکے سے بھرپور تحقیق کی ، لڑکا ختم نبوت اور حیات عیسیٰ علیہ اسلام کے عقیدہ کا اقرار کرتا اور مرزا قادیانی کو جھوٹا، مکار، دغا باز قرار دیتا رہا۔ مگر شادی ہونے اور بچے ہونے کے بعد اس لڑکے نے بتایا کہ وہ قادیانی ہے ، وہ مسلمان ہوا ہی نہیں تھا۔
منور سنز کالج روڈ ٹاؤن شپ، لاہور میں الیکٹرونکس کی دکان ہے۔ اس کے مالک کا باپ مرزا قادیانی کے ہاتھ پر قادیانی ہوا تھا۔ اس شخص نے مسلمان عورت سے مسلمان بن کر شادی کی جو اب تک اس کے ساتھ رہ رہی ہے اور مرزا قادیانی کو جھوٹا مانتی ہے۔ اس شخص کے دو لڑکوں شاہد اور ساجد نے دھوکہ دہی سے مسلمان بن کر مسلمان گھرانوں میں شادیاں کر لیں ،پھر جب بچے ہو گئے تو ایک نیا انداز اختیار کیا۔ اپنی بیویوں کو بتایا کہ ہم قادیانیت سے متأثر ہیں اس کو قبول کرنا چاہتے ہیں ۔ آپ بھی تحقیق کر لیں۔ اور پھر مربیوں کو بلا کر ان خواتین کی نشستیں شروع کروا دیں اور ان کو قادیانی کرنے کی کوششیں تیز کر دیں۔ مرکز سراجیہ کی مخلصانہ مساعی سے ان خواتین نے ان قادیانی نوجوانوں سے علیحدگی اختیار کر لی ۔ ( اللہ انہیں بہتر صلہ دے۔اور استقامت کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین)
یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور کے ایک نوجوان عثمان کا تعلق ڈسکہ کے قریب ایک گاؤں سے ہے۔ وہاں قادیانیوں کا ایک سنٹر ہے۔ وہاں کے مربی اور عملہ کے عثمان کے باپ اور دادا سے تعلقات تھے اور اس کا انجام یہ ہوا کہ وہ دونوں قادیانی ہو گئے۔ دادا تو مرتد ہو کر اسی حالت میں مر چکا ہے مگر باپ نے عثمان کوبھی قادیانی کرنے کی کوشش کی۔ عثمان ،الحمد للہ مضبوط ایمان والا مسلمان ہے اور باپ کو دوبارہ مسلمان کرنے کے لیے کوشاں ہے مگر اس کا باپ قادیانیوں سے تعلقات چھوڑنے پر آمادہ نہیں اور جو بھی دلائل اسے دیے جاتے ہیں وہ سننے کے لئے تیار نہیں ۔اور کہتا ہے کہ ان مربیوں سے بات کرو یہ مطمئن ہو جائیں گے تو میں بھی مطمئن ہو جاؤںگا۔
ہسپتالوں وغیرہ میں قادیانیوں کا مکروہ دھندہ :
قادیانی اپنی فری ڈسپنسریوں، کلینک اور ہسپتال میں علاج معالجہ کے چکر میں بہت سے مسلمانوں کو مرتد کر لیتے ہیں۔ بلال فری ہومیو پیتھک کلینک گڑھی شاہو ، لاہورکے ملازم ڈاکٹر نذر حسین کے بھائی کو اسی ادارے کے مالکان نے قادیانی کیا ۔اور ڈاکٹر نذر حسین کے مزاحمت کرنے پر اُسے ملازمت سے نکال دیا۔
خون دینے کے بہانے قادیانی نوجوان مریض کے گھر والوں سے رابطہ بڑھاتے ہیں اور محبت اور ہمدردی کے جذبات پیدا کرتے ہیں ۔ پھر مریض کے گھر آنا جانا شروع ہو جاتا ہے۔ اور اس خاندان کے قریب ہو کر مسیحا کا روپ دھار کر قادیانیت کی تبلیغ شروع کر تے ہیں۔
جاری ہے