ختم نبوت سے متعلق آیات


سورئہ احزاب کی آیت 40 آیت خاتم النبیین کی تشریح و توضیح پہلے گزر چکی ہے، اب دوسری آیات ملاحظہ ہوں:
1) ''الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا'' (سورہ مائدہ: 3)
ترجمہ: ''آج میں پورا کرچکا تمہارے لئے دین تمہارا' اور پورا کیا تم پر میں نے احسان اپنا' اور پسند کیا میں نے تمہارے واسطے اسلام کو دین۔''
نوٹ: یوں تو ہر نبی اپنے اپنے زمانہ کے مطابق دینی احکام لاتے رہے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے قبل زمانہ کے حالات اور تقاضے تغیرپذیر تھے' اس لئے تمام نبی اپنے بعد آنے والے نبی کی خوشخبری دیتے رہے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نزول وحی کے اختتام سے دین پایۂ تکمیل کو پہنچ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت اور وحی پر ایمان لانا تمام نبیوں کی نبوتوں اور ان کی وحیوں پر ایمان لانے پر مشتمل ہے، اسی لئے اس کے بعد ''واتممت علیکم نعمتی'' فرمایا، علیکم یعنی نعمت نبوت کو میں نے تم پر تمام کردیا، لہٰذا دین کے اکمال اور نعمت نبوت کے اتمام کے بعد نہ تو کوئی نیا نبی آسکتا ہے اور نہ سلسلۂ وحی جاری رہ سکتا ہے۔ اسی وجہ سے ایک یہودی نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا تھا کہ اے امیر المومنین : ''قرآن کی یہ آیت اگر ہم پر نازل ہوتی ہم اس دن کو عید مناتے'' (رواہ البخاری) ،اور حضور علیہ السلام اس آیت کے نازل ہونے کے بعد اکیاسی(81) دن زندہ رہے (معارف صفحہ41 جلد3) اور اس کے نزول کے بعد کوئی حکم حلال و حرام نازل نہیں ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل شدہ کتاب کامل و مکمل ،آخری کتاب ہے
2) ''و ما ارسلنک الا کافة للناس بشیرا ًو نذیراً۔'' ( سورئہ سبا: 28)
ترجمہ: ''ہم نے تم کو تمام دنیا کے انسانوں کے لئے بشیر اور نذیر بناکر بھیجا ہے۔''
3) ''قل یٰایھا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعا۔'' (سورئہ اعراف: 158)
ترجمہ: ''فرمادیجئے کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں۔''
یہ دونوں آیتیں صاف اعلان کررہی ہیں کہ حضور علیہ السلام بغیر استثن تمام انسانوں کی طرف رسول ہوکر تشریف لائے ہیں جیسا کہ خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ''انا رسول من ادرکت حیا و من یولد بعدی۔''ترجمہ: ''میں اس کے لئے بھی اللہ کا رسول ہوں جس کو اس کی زندگی میں پالوں اور اس کے لئے بھی جو میرے بعد پیدا ہو۔'' (کنز العمال جلد11 صفحہ 404 حدیث 31885، خصائص کبریٰ صفحہ 88جلد 2)پس ان آیتوں سے واضح ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں ہوسکتا، قیامت تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی صاحب الزماں رسول ہیں۔ بالفرض اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی مبعوث ہو تو حضور علیہ السلام کا فة الناسکی طرف اللہ تعالیٰ کے صاحب الزماں رسول نہیں ہوسکتے بلکہ براہ راست مستقل طور پر اسی نبی پر اور اس کی وحی پر ایمان لانا اور اس کو اپنی طرف اللہ کا بھیجا ہوا اعتقاد کرنا فرض ہوگا، ورنہ نجات ممکن نہیں اور حضور علیہ السلام کی نبوت اور وحی پر ایمان لانا اس کے ضمن میں داخل ہوگا۔ (معاذ اللہ)
4) ''و ما ارسلنک الا رحمة للعلمین۔'' (سورئہ انبی: 107)
ترجمہ: ''میں نے تم کو تمام جہان والوں کے لئے رحمت بناکر بھیجا ہے۔''
یعنی حضور علیہ السلام پر ایمان لانا تمام جہان والوں کو نجات کے لئے کافی ہے۔ پس اگر بالفرض آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی مبعوث ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو اس پر اور اس کی وحی پر ایمان فرض ہوگا، اور اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان کامل رکھتے ہوئے بھی اس کی نبوت اور اس کی وحی پر ایمان نہ لاوے تو نجات نہ ہوگی اور یہ رحمة للعالمینی کے منافی ہے کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر مستقلاً ایمان لانا کافی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم صاحب الزمان رسول نہیں رہے؟ (معاذ اللہ)
5) ''و الذین یؤمنون بما انزل الیک و ما انزل من قبلک و بالآخرة ھم یوقنون۔اولئک علی ھدی من ربھم و اولئک ھم المفلحون۔''(سورئہ بقرہ: 4،5)
ترجمہ: ''جو ایمان لاتے ہیں، اس وحی پر جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی گئی اور اس وحی پر جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے نازل کی گئی اور یومِ آخرت پر یقین رکھتے ہیں، یہی لوگ خدا کی ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔''
6) ''یٰایھا الذین آمنوا اٰمنوا باللہ و رسولہ و الکتاب الذی نزل علی رسولہ و الکتاب الذی انزل من قبل۔'' (النس: 136)
ترجمہ: ''اے ایمان والو! ایمان لائو اللہ پر اور اس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اور اس کتاب پر جس کو اپنے رسول پر نازل کیا ہے اور ان کتابوں پر جو ان سے پہلے نازل کی گئیں۔''
یہ آیت بڑی وضاحت سے ثابت کررہی ہے کہ ہم کو صرف حضور علیہ السلام کی نبوت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے انبی اور ان کی وحیوں پر ایمان لانے کا حکم ہے۔ اگر بالفرض حضور علیہ السلام کے بعد کوئی بعہدئہ نبوت مشرف کیا جاتا تو ضرور تھا کہ قرآن کریم اس کی نبوت اور وحی پر ایمان لانے کی بھی تاکید فرماتا، معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں بنایا جائے گا۔
7) ''لٰکن الراسخون فی العلم منھم والمؤمنون یؤمنون بما انزل الیک وما انزل من قبلک۔'' (سورئہ نس: 162)
ترجمہ: ''لیکن ان میں سے راسخ فی العلم اور ایمان لانے والے لوگ ایمان لاتے ہیں اس وحی پر جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی اور جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے انبی علیہم السلام پر نازل ہوئی۔''
یہ دونوں آیتیں ختم نبوت پر صاف طور سے اعلان کررہی ہیں بلکہ قرآن شریف میں سینکڑوں جگہ اس قسم کی آیتیں ہیں جن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل شدہ وحی کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے نبیوں کی نبوت اور ان کی وحی پر ایمان رکھنے کے لئے حکم فرمایا گیا لیکن بعد کے نبیوں کا ذکر کہیں نہیں آتا۔ ان دو آیتوں میں صرف حضور علیہ السلام کی وحی اور حضور علیہ السلام سے پہلے انبی علیہم السلام کی وحی پر ایمان لانے کو کافی اور مدار نجات فرمایا گیا ہے۔
8) ''انا نحن نزلنا الذکر و انا لہ لحٰفظون۔'' (سورئہ حجر: 9)
ترجمہ: ''تحقیق ہم نے قرآن کو نازل فرمایا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے۔''
خداوندعالم نے اس آیت میں وعدہ فرمایا ہے کہ ہم خود قرآن کریم کی حفاظت فرمائیں گے یعنی محرفین کی تحریف سے اس کو بچائے رکھیں گے قیامت تک کوئی شخص اس میں ایک حرف اور ایک نقطہ کی بھی کمی زیادتی نہیں کرسکتا ،اور نیز اس کے احکام کو بھی قائم اور برقرار رکھیں گے اس کے بعد کوئی شریعت نہیں جو اس کو منسوخ کردے، غرض قرآن کے الفاظ اور معانی دونوں کی حفاظت کا وعدہ فرمایا گیا ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ حضور علیہ السلام کے بعد کسی قسم کا نبی نہیں ہوسکتا۔
9) ''و اذ اخذ اللہ میثاق النبیین لما اتیتکم من کتاب و حکمة ثم جائکم رسول مصدق لما معکم لتؤمنن بہ و لتنصرنہ۔'' (آل عمران: 81)
ترجمہ: ''جب اللہ تعالیٰ نے سب نبیوں سے عہد لیا کہ جب کبھی میں تم کو کتاب اور نبوت دوں، پھر تمہارے پاس ایک ''وہ رسول'' آجائے جو تمہاری کتابوں اوروحیوں کی تصدیق کرنے والا ہوگا (یعنی اگر تم اس کا زمانہ پائو) تو تم سب ضرور ضرور اس رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا اور ان کی مدد فرض سمجھنا'' ۔
اس سے بکمال وضاحت ظاہر ہے کہ اس رسول صلی اللہ علیہ وسلم مصدق کی بعثت سب نبیوں کے آخر میں ہوگی وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔اس آیت کریمہ میں دو لفظ غور طلب ہیں' ایک تو ''میثاق النبیین'' جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ عہد تمام دیگر انبیأ علیہم السلام سے لیا گیا تھا' دوسرا ''ثم جاء کم''۔ لفظ ''ثم'' تراخی کے لئے آتا ہے یعنی اس کے بعد جو بات مذکور ہے وہ بعد میں ہوگی اور درمیان میں زمانی فاصلہ ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سب سے آخر میں اور کچھ عرصہ کے وقفہ سے ہوگی۔ اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے پہلے کا زمانہ' زمانۂ فترت کہلاتا ہے:'' قد جاء کم رسولنا یبین لکم علی فترة من الرسل۔'' (مائدہ: 19)
10) ''ھو الذی ارسل رسولہ بالھدیٰ و دین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ۔'' (توبہ: 33' صف :9)
ترجمہ: ' 'اور وہ ذات وہ ہے کہ جس نے اپنے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا ہے تاکہ تمام ادیان پر بلند اور غالب کرے۔''
غلبہ اور بلند کرنے کی یہ صورت ہے کہ حضور ہی کی نبوت اور وحی پر مستقل طور پر ایمان لانے اور اس پر عمل کرنے کو فرض کیا ہے اور تمام انبی علیہم السلام کی نبوتوں اور وحیوں پر ایمان لانے کو اس کے تابع کردیا ہے اور یہ جب ہی ہوسکتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سب انبی کرام سے آخر ہو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر ایمان لانا سب نبیوں پر ایمان لانے کو مشتمل ہو۔ بالفرض اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی باعتبار نبوت مبعوث ہو تو اس کی نبوت پر اور اس کی وحی پر ایمان لانا فرض ہوگا جو دین کا اعلیٰ رکن ہوگا تو اس صورت میں تمام ادیان پر غلبہ مقصود نہیں ہوسکتا، بلکہ حضور علیہ السلام کی نبوت پر ایمان لانا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی پر ایمان لانا مغلوب ہوگا کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آپ کی وحی پر ایمان رکھتے ہوئے بھی اگر اس نبی اور اس کی وحی پر ایمان نہ لایا تو نجات نہ ہوگی کافروں میں شمار ہوگا۔ کیونکہ صاحب الزمان رسول یہی ہوگا، حضور علیہ السلام صاحب الزماں رسول نہ رہیں گے۔(معاذاللہ)
تنبیہ: یہ آیتیں بطور اختصار کے ختم نبوت کے ثبوت اور تائید میں پیش کردی گئیں ورنہ قرآن کریم میں سو سے زیادہ آیتیں ختم نبوت پر واضح طور پر دلالت کرنے والی موجود ہیں۔ (مزید تفصیل کیلئے دیکھئے ''ختم نبوت کامل'' از حضرت مولانا مفتی محمد شفیع رحمة اللہ علیہ)