آیت ''خاتم النبیین ''کاقادیانی ترجمہ
مرزائیوں نے سورئہ احزاب کی آیت 40 ''ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولٰکن رسول اللہ و خاتم النبیین'' میں خاتم النبیینکا ترجمہ کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر سے انبی بنتے ہیں۔
اے مرزائی جماعت اور اس کے مقتدر ارکان! اگر تمہارے دعویٰ میں کوئی صداقت کی بو اور قلوب میں کوئی غیرت ہے تو اپنی ایجاد کردہ تفسیر کا کوئی شاہد پیش کرو، اور اگر ساری جماعت مل کر قرآن کے تیس پاروں میں سے کسی ایک آیت میں، احادیث کے غیر محصور دفتر میں سے کوئی ایک حدیث میں اگرچہ ضعیف ہی ہو، صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ و تابعین رحمة اللہ علیہ کے بے شمار آثار میں سے کسی ایک قول میں یہ دکھلادے کہ خاتم النبیین کے معنی یہ ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر سے انبی بنتے ہیں تو وہ نقد انعام وصول کرسکتے ہیں۔ صلائے عام ہے یاران نکتہ داں کیلئے۔ لیکن بحول اللہ و قوّتہ اعلان ہے کہ اگر مرزا قادیانی اور اس کی ساری امت مل کر ایڑی چوٹی کا زور لگائیں گے تب بھی ان میں سے کوئی ایک چیز پیش نہ کرسکیں گے: ''و لوکان بعضھم لبعض ظھیرا''، بلکہ اگر کوئی دیکھنے والی آنکھیں اور سننے والے کان رکھتا ہے تو قرآن عزیز کی نصوص اور احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی تصریحات اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ و تابعین رحمة اللہ علیہ کے صاف صاف آثار، سلف صالحین رحمة اللہ علیہم اور ائمہ تفسیررحمة اللہ علیہم کے کھلے کھلے بیانات اور لغت عرب اور قواعد عربیت کا واضح فیصلہ سب کے سب اس تحریف کی تردید کرتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ آیت ''خاتم النبیین ''کے وہ معنی جو مرزائی فرقہ نے گھڑے ہیں باطل ہیں۔''
قادیانی ترجمہ کے غلط ہونے کی وجوہات
1: اوّل اس لئے کہ یہ معنی محاورات عرب کے بالکل خلاف ہیں، ورنہ لازم آئے گا کہ خاتم القوم اور آخرالقوم کے بھی یہی معنی ہوں کہ اس کی مہر سے قوم بنتی ہے اور خاتم المہاجرین کے یہ معنی ہوں گے اس کی مہر سے مہاجرین بنتے ہیں۔
2: مرزا قادیانی نے خود اپنی کتاب ازالہ اوہام صفحہ614 روحانی خزائن صفحہ 431 جلد3 پر خاتم النیین کا معنی: ''اور ختم کرنے والا نبیوں کا'' کیا ہے۔
3: مرزا قادیانی نے لفظ خاتم کو جمع کی طرف کئی جگہ مضاف کیا ہے، یہاں صرف ایک مقام کی نشاندہی کی جاتی ہے۔ مرزا نے اپنی کتاب تریاق القلوب صفحہ157، روحانی خزائن صفحہ479 جلد15 پر اپنے متعلق تحریر کیا ہے:''میرے ساتھ ایک لڑکی پیدا ہوئی تھی جس کا نام جنت تھا اور پہلے وہ لڑکی پیٹ میں سے نکلی تھی اور بعد اس کے میں نکلا تھا، اور میرے بعد میرے والدین کے گھر میں اور کوئی لڑکی یا لڑکا نہیں ہوا ،اور میں ان کے لئے خاتم الاولادتھا۔''
اگر خاتم الاولاد کا ترجمہ ہے کہ مرزا قادیانی اپنے ماں باپ کے ہاں آخری ''ولد'' تھا۔ مرزا کے بعد اس کے ماں باپ کے ہاں کوئی لڑکی یا لڑکا، صحیح یا بیمار، چھوٹا یا بڑا، کسی قسم کا کوئی پیدا نہیں ہوا تو خاتم النبیین کا بھی یہی ترجمہ ہوگا کہ رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی قسم کا کوئی ظلی، بروزی، مستقل، غیر مستقل کسی قسم کا کوئی نبی نہیں بنایا جائے گا۔اور اگر خاتم النبیین کا معنی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر سے نبی بنیں گے تو خاتم الاولاد کا بھی یہی ترجمہ مرزائیوں کو کرنا ہوگا کہ مرزا کی مہر سے مرزا کے والدین کے ہاں بچے پیدا ہوں گے۔ اس صورت میں اب مرزاقادیانی ا مہر لگاتا جائے گا اور مرزا کی ماں بچے جنتی چلی جائے گی۔ ہے ہمت تو کریں مرزائی یہ ترجمہ۔
4: پھر قادیانی جماعت کا مؤقف یہ ہے کہ رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر مرزا قادیانی تک کوئی نبی نہیں بنا، خود مرزا نے لکھا ہے:''غرض اس حصہ کثیر وحی الٰہی اور امور غیبیہ میں اس امت میں سے میں ہی ایک فرد مخصوص ہوں اور جس قدر مجھ سے پہلے اولی اور ابدال اور اقطاب اس امت میں سے گزرچکے ہیں، ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا،پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا، اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں۔'' (حقیقة الوحی صفحہ391 روحانی خزائن صفحہ406 جلد 22)
اس عبارت سے یہ ثابت ہوا کہ چودہ سو سال میں صرف مرزا کو ہی نبوت ملی، اور پھر مرزا کے بعد قادیانیوں میں خلافت (نام نہاد) ہے۔ نبوت نہیں، اس لحاظ سے بقول قادیانیوں کے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر سے صرف مرزا ہی نبی بنا، تو گویا حضور صلی اللہ علیہ وسلم ''خاتم النبی'' ہوئے خاتم النبیین نہ ہوئے۔ مرزا محمود نے لکھا ہے:''ایک بروز محمدی جمیع کمالات محمدیہ کے ساتھ آخری زمانہ کے لئے مقدر تھا، سو وہ ظاہرہوگیا۔'' (ضمیمہ نمبر 1حقیقة النبوة صفحہ 268)
5: خاتم النبیین کا معنی اگر نبیوں کی مہر لیا جائے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر سے نبی بننے مراد لئے جائیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم آئندہ کے نبیوں کے لئے خاتم ہوئے، سیدنا آدم علیہ السلام سے لے کر سیدنا عیسیٰ علیہ السلام تک کیلئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین نہ ہوئے، اس اعتبار سے یہ بات قرآنی منش کے صاف خلاف ہے۔
6: مرزا غلام احمد قادیانی نے رحمت دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کی تو نبی بن گئے( یہ ہے خاتم النبیین کا قادیانی معنی)۔ یہ اس لحاظ سے بھی غلط ہے کہ خود مرزا قادیانی لکھتا ہے:''اب میں بموجب آیت کریمہ : ''واما بنعمة ربک فحدث'' اپنی نسبت بیان کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے مجھے اس تیسرے درجہ میں داخل کرکے وہ نعمت بخشی ہے کہ جو میری کوشش سے نہیں بلکہ شکم مادر میں ہی مجھے عطا کی گئی ہے۔ '' (حقیقة الوحی صفحہ67 روحانی خزائن صفحہ 70 جلد22) اس حوالہ میں مرزاقادیانی نے کہہ دیا کہ جناب اتباع سے نہیں بلکہ شکم مادر میں مجھے یہ نعمت ملی۔ تو گویا خاتم النبیین کی مہر سے آج تک کوئی نبی نہیں بنا تو خاتم النبیین کا معنی نبیوں کی مہر کرنے کا کیا فائدہ ہوا؟