زندیق مرزائی اور اس کی نسل کا حکم
یوں تو کفر کی بہت سی قسمیں ہیں مگر کفر کی یہ قسمیں بالکل ظاہر ہیں۔ مطلق کافر:کافروہ ہے جو ظاہر و باطن سے خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا منکر ہو یا اعلانیہ کفر کا مرتکب ہو۔ اس قسم کے کافر کو مطلق (کھلا) کافر کہتے ہیں۔ اس میں یہودی، عیسائی ، ہندووغیرہ سب داخل ہیں۔ مشرکین مکہ بھی اس قسم میں داخل تھے اور چٹے کافر تھے۔مرتد: وہ ہوتا ہے جو اسلام کو ترک کر کے کوئی اور مذہب اختیار کر لے ۔منافق:وہ ہے جو زبان سے ''لا الہ الا اللہ'' کہتا ہے مگر دل کے اندر کفر چھپاتا ہے۔زند یق:ان منافقوں سے بڑھ کر چوتھی قسم والوں کا جرم ہے کہ وہ کافر ہیں مگر اپنے کفر کو اسلام کہتے ہیں۔ خالص کفر لیکن یہ اس کو اسلام کے نام سے پیش کرتے ہیں بلکہ قرآن کریم کی آیات سے، احادیث طیبہ سے، صحابہ کے ارشادات سے اور بزرگانِ دین کے اقوال سے توڑ موڑ کر اپنے کفر کو اسلام ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو شریعت کی اصطلاح میں ''زندیق'' کہا جاتا ہے۔
ساری دنیا جانتی ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیںا ور یہ مسلمانوں کا وہ عقیدہ ہے جس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں۔ دوسو سے زیادہ احادیث ایسی ہیں جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف عنوانات سے، مختلف طریقوں سے ختم نبوت کا مسئلہ سمجھایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کو نبوت نہیں دی جائے گی۔لیکن قادیانی مرزائی تحریف کرتے ہیں کہ خاتم النبیین کا یہ مطلب نہیں ہے بلکہ یہ مطلب ہے کہ آئندہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مُہر سے نبی بناکریں گے۔اس کے بعد مرزا قادیانی کو نبی بناتے ہیں ۔
ان کے نزدیک غلام احمد قادیانی خود محمد رسول اللہ ہے اور کلمہ طیبہ میں محمد رسول اللہ سے مرزا مراد لیتے ہیں۔ چنانچہ مرزا بشیر احمد(مرزا قادیانی کا بیٹا ) لکھتا ہے۔''مسیح موعود(مرزاقادیانی) خود محمد رسول اللہ ہیں جو اشاعت اسلام کیلئے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے، اس لیے ہم کو کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں۔ ہاں! اگر محمد رسو ل اللہ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی۔'' (کلمہ الفصل صفحہ158)گویا''لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ'' کے معنی ان کے نزدیک ہیں ''لا الہ الا اللہ مرزارسول اللہ'' (نعوذ باللہ) جو دوبارہ قادیان میں آیا ہے۔پھر اس پر یہ کہ جو مرزا قادیانی کو نبی نہ مانے وہ کافر ہے چنانچہ مرزا بشیر احمد(مرزا قادیانی کا بیٹا )لکھتا ہے۔''ہرایک ایسا شخص جو موسیٰ کو تو مانتا ہے مگر عیسیٰ کونہیں مانتا یا عیسیٰ کو مانتا ہے مگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں مانتا ہے اور یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کومانتا ہے پر مسیح موعود (مرزاقادیانی) کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافربلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ (کلمہ الفصل صفحہ110)یہ ہے زندقہ ،کہ نام اسلام کا لیتے ہیں، لیکن اپنے کفریہ عقائد پر قرآن کریم کی آیات کو ڈھالتے ہیں۔ اور اپنے بہت سے کفریہ عقائد کو یہ اسلام کے نام سے پیش کرتے ہیں۔قادیانی مرتد وزندیق ہیں۔پھر بتاتے چلیں کہ مرتد وہ ہوتا ہے جو اسلام کو ترک کر کے کوئی اور مذہب اختیار کر لے ۔اور زندیق وہ ہوتا ہے جو اپنے کفریہ عقائد کو اسلام کا نام دے ، لہذا یہ لوگ اسلام کے باغی ہیں،اور جس طرح کسی ملک کاباغی کسی رو رعایت کا مستحق نہیں ہوتا بلکہ جو لوگ ان لوگوں کے ساتھ میل جول رکھیں وہ بھی قابل گرفت ہوتے ہیں، ٹھیک اسی طرح چونکہ قادیانی بھی زندیق ومرتد ہیں تو اسلامی تعلیمات کی رو سے کسی رو رعایت اور میل ملاپ کے مستحق نہیں۔ دوسرے کافر اپنے کفر کا اعتراف کرتے ہیںاور اپنے آپ کو غیر مسلم اور مسلمانوں سے الگ قرار دیتے ہیں، جبکہ قادیانی اپنے کفریہ عقائد پر ملمع سازی کرکے مسلمانوں کو دھوکا دیتے ہیں۔
مرزائی اپنے دین کانام اسلام رکھتے ہیں۔۔۔۔ اورہمارے دین کا نام کفر رکھتے ہیں۔ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا لایا ہوا دین قادیانیوں کے نزدیک (نعوذ باللہ) کفرہوگیا اور مرزا کا دین ان کے نزدیک اسلام ہے۔ ہم قادیانیوں سے پوچھتے ہیں کہ تم ہمیں جو کافر کہتے ہو، ہم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی کس بات کا انکار کیا ہے؟ کیا مرزا کے آنے سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا دین کفر بن گیا؟ مرزا سے پہلے تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دین اسلام کہلاتا تھا اور اس کے ماننے والے مسلمان کہلاتے ہیں۔ لیکن مرزا آیا اور اس کی سبز قدمی سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دین کفر بن گیا اور اس کے ماننے والے کافرکہلائے۔(العیاذ باللہ)
اس سے بڑھ کر غضب کیا ہوسکتا ہے ؟ مرزا کے دو جرم ہوئے۔ ایک یہ کہ نبوت کا دعویٰ کر کے ایک نیا دین ایجاد کیا اور اس کا نام اسلام رکھا۔ دوسرا جرم یہ کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین کو کفر کہا۔ مرزا کے دین کے ماننے والے مسلمان اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والے ان کے نزدیک کافر۔۔۔۔ آپ بتائیے کہ کیاکسی یہودی نے، کسی عیسائی نے، کسی ہندو سکھ نے، کسی پارسی مجوسی نے اس جرم کا ارتکاب کیاہے؟ اب تو آپ کی سمجھ میںآگیا ہوگا کہ مرزاقادیانی اورمرزائیوں کا کفر کس قدر بدترین ہے۔ اور یہ دنیا بھر کے کافروں سے بدترکافر ہیں۔
یہ زندیق ہیں جو اسلام کو کفر اور کفر کو اسلام کہتے ہیں اورشریعت کے مطابق زندیق واجب القتل ہوتاہے۔یہ دنیا میں شور مچاتے ہیں کہ پاکستان میں ہم پر ظلم ہورہا ہے۔ یہ حکومت پاکستان کی شرافت سے ناجائزفائدہ اٹھا رہے ہیں۔ حکومت نے ان پر کوئی پابندی نہیں لگائی۔ ان کو صرف یہ کہا کہ تم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو کفراور اپنے دین کو اسلام نہ کہو۔ قادیانیوں پر اس سے زیادہ اور کوئی پابندی نہیں لگائی۔ شریعت کے فتویٰ سے تم واجب القتل ہو۔ حکومت پاکستان نے تمہیں رعایت دے رکھی ہے۔ تم پاکستان میں بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہو۔ اس کے باوجود کبھی اقوام متحدہ میں، کبھی یہودیوں اور عیسائیوں میں اور نہ معلوم کن کن لوگوں کی عدالتوں میں تم فریاد کرتے ہو۔ کہ حکومت پاکستان نے ہمارے حقوق غصب کرلیے ہیں۔ حکومتِ پاکستان نے تمہارے کیا حقوق غصب کر لیے؟ ہم نے تمہارا کیا قصور کیا ہے؟ پاکستان کی حکومت نے تمہارا کیا بگاڑا ہے؟ تم سے صرف یہ کہا گیا ہے کہ کلمہ طیبہ ''لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ'' ہمارا ہے۔ ہم کیسے اجازت دے سکتے ہیں؟ کہ تم مرزاکانے کو محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت سے دنیا کے سامنے پیش کرو؟ ہم کیسے اجازت دے سکتے ہیں؟ کہ تم اپنے کفراور زندقہ کو اسلام کے نام سے پھیلائو؟ تم کلمہ پڑھ کر مسلمانوں کو دھوکہ دیتے ہو ۔تمہارے منہ سے ''لا الہ الا اللہ محمدرسول اللہ'' کے منافقانہ الفاظ ادا کرنا ہمارے کلمہ طیبہ کی توہین ہے۔ ہمارے نبی کی توہین ہے، ہمارے اسلام کی توہین ہے، ہم تمہیں اس توہین کی اجازت کس طرح دیں؟لہذٰا یہ زندیق ہیں اور زندیق بھی مرتد کی طرح واجب القتل ہوتا ہے۔ جو حکومت وقت کاکام ہے ۔
مرتد اور اس کی نسل کا حکماب ایک اور مسئلہ سمجھیں ۔ اصول یہ ہے کہ مرتدکو تین دن کی مہلت کے بعد قتل کردیا جاتا ہے لیکن مرتدوں کی ایک جماعت بن جائے، ایک پارٹی بن جائے اور اسلامی حکومت ان پر قابو نہ پاسکے، اس لیے وہ قتل نہ کئے جاسکیں اور رفتہ رفتہ اصل مرتد طبعی طورپر مرکھپ جائیں اور ان مرتدوں کی نسل جاری
ہوجائے۔تو مرتد کی اولاد کو حبس و ضرب کے ساتھ اسلام لانے پر مجبور کیا جائے گا مگر قتل نہیں کیا جائے گا کیونکہ مرتدکی اولاد مرتد نہیں وہ سادہ کافر ہے۔
زندیق مرزائی اور اس کی نسل کا حکملیکن قادیانیوں کی سو نسلیں بھی بدل جائیں تو ان کا حکم زندیق اور مرتد کا رہے گا۔ سادہ کافر کا حکم نہیں ہوگا کیوں؟ اس لیے کہ ان کا جو جرم ہے یعنی کفر کو اسلام اور اسلام کو کفر کہنا، یہ جرم ان کی آئندہ نسلوں میں بھی پایاجاتا ہے۔الغرض قادیانی جتنے بھی ہیں خواہ وہ اسلام چھوڑ کر مرتد ہوئے ہوں، قادیانی زندیق بنے ہوں یا وہ ان کے بقول ''پیدائشی احمدی'' ہوں قادیانیوں کے گھر میں پیدا ہوئے ہوں اور یہ کفر ان کو ورثے میں ملا ہو، ان سب کا ایک ہی حکم ہے یعنی مرتد اور زندیق کا۔۔۔۔کیونکہ ان کا جرم صرف یہ نہیں کہ وہ اسلام کو چھوڑکرکافر بنے ہیں بلکہ ان کا جرم یہ ہے کہ دین اسلام کو کفر کہتے ہیں۔ اور اپنے دین کفر کو اسلام کا نام دیتے ہیں۔ اور یہ جرم ہر قادیانی میں پایا جاتا ہے۔ خواہ وہ اسلام چھوڑ کر قادیانی بنا ہو یا پیدائشی قادیانی ہو اس مسئلہ کو خوب سمجھ لیجئے۔ بہت سے لوگوں کو قادیانیوں کی صحیح حقیقت معلوم نہیں۔
میرا اور آپ کا ہر مسلمان کا فرض کیا ہونا چاہیے؟ قادیانیت نے ہمارا رشتہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کاٹنے کی کوشش کی ہے۔ وہ ہمیں کافر کہتے ہیں۔ حالانکہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو مانتے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دین جس کو ہم مانتے ہیں، وہ تو کفر نہیں ہوسکتا۔ مرزائی ہمیں کافر کہتے ہیںاور وہ ہمارے دین کو کفر کہتے ہیں۔ وہ ہمارا رشتہ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم سے کاٹتے ہیں۔اور ان کا راہنماء مرزا قادیانی اپنی کتاب انوارِ اسلام میں یہ دعویٰ کرتا ہے کہ جو اسے نہیں مانتے وہ سب ناجائز اولاد ہیں۔
اب مسلمانوں کی غیرت کا تقاضا کیا ہونا چاہیے؟ ہماری غیر ت کا اصل تقاضا تو یہ ہے کہ دنیا میں ایک قادیانی بھی زندہ نہ بچے۔ پکڑ پکڑ کر خبیثوں کو ماردیں۔ یہ جذباتی بات نہیںبلکہ حقیقت یہی ہے۔ مرتد اور زندیق کے بارے میں اسلام کا قانون یہی ہے مگر یہ داروگیر حکومت کا کام ہے۔ انفرادی طور پر اس کی اجازت نہیں۔ اس لیے کم از کم اتنا تو ہونا چاہیے کہ ہم قادیانیوں سے مکمل قطع تعلق کریں۔ ان سے بائیکاٹ کرنا فرض اورکسی بھی قسم کا تعلق رکھنا حرام ہے ۔ہمیں چاہیے کہ ہر سطح پر ان کا مقابلہ کریں اور جھوٹے کو اس کی ماں کے گھر تک پہنچا کر آئیں۔الحمد اللہ ہم نے جھوٹے کو اس کی ماں کے گھر تک پہنچا دیا ہے۔ برطانیہ قادیانیوں کی ماں ہے۔ جس نے ان کو جنم دیا۔ اب انکاگرومرزامسرور اپنی ماں کی گود میں بیٹھا ہے اور وہاں سے دنیابھر کے مسلمانوں کو للکار رہا ہے۔ یورپ، امریکہ، افریقہ کے وہ بھولے بھالے مسلمان جو نہ پوری طرح اسلام کو سمجھتے ہیں۔ نہ ان کو قادیانیت کی حقیقت کاعلم ہے۔ وہ قادیانیت کو نہیں جانتے ہیں کہ وہ کیا ہے؟ ان کو اہل علم کے پاس بیٹھنے کابھی موقع نہیں ملتا۔ہمارے ان بھولے بھائیوں کو قادیانی، مرتد بنانے کافیصلہ کرچکے ہیں اور وہ اس کا اعلان کررہے ہیں۔ اس کے لیے اربوں کھربوں کی میزانیے بنارہے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہم ختم نبوت کے کارکنوں(خواہ اس کا تعلق کسی بھی جماعت یا کسی بھی مسلک سے ہے ) نے بھی حضرت ختمی مآب صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا پوری دنیا میں بلندکرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ جس طرح پاکستان میں قادیانیوں کی حقیقت کھل چکی ہے اور وہ مسلمانوں سے کاٹے جا چکے ہیں۔ انشاء اللہ العزیز پوری دنیا میں ، دنیا کے ایک ایک حصے میں قادیانیوں کی قلعی کھل کر رہے گی۔ ایک وقت آئیگا کہ پوری دنیا اس حقیقت کو تسلیم کرے گی کہ مرزائی مسلمان نہیں بلکہ یہ اسلام کے غدار ہیں۔ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے غدار ہیں۔ پوری انسانیت کے غدار ہیں۔۔۔ ۔ انشاء اللہ پوری دنیا میں قادیانیت کے خلاف تحریک چلے گی اور آخری فتح محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں کی ہوگی اور انکی قربانیاں رنگ لائیں اور قادیانی ناسور کو جسدِ ملت سے کاٹ کر الگ کردیاجائیگا۔ انشاء اللہ پوری دنیا میں دیر سویر یہی ہوگا۔ ہر اس مسلمان سے ، جو محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کا خواستگار ہے یہ اپیل ہے کہ وہ ختم نبوت کے جھنڈے کو پورے عالم میں بلند کرنے کے لیے میدان عمل میں آئے اور مرزائیوں سے بائیکاٹ کرنے اور ان سے معاملات کے حرام ہونے کا مسئلہ تمام مسلمانوںتک پہنچائے۔ اورتمام مسلمان قادیانیوں ، مرزائیوں کے بارے میں ایمانی و دینی غیرت کا مظاہرہ کریں۔۔۔۔ ہرمسلمان اس سلسلے میں جو قربانیاں پیش کرسکتا ہے وہ پیش کرے۔