صدی کا سب سے بڑا جھوٹ

جھوٹ تمام برائیوں کی جڑ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے ہر مذہب میں جھوٹ کو سب سے زیادہ قابلِ نفرت سمجھا جاتا ہے لیکن قادیانیت ایک ایسا مذہب ہے جس کا خمیر ہی جھوٹ سے اٹھا ہے۔ قادیانیت اور جھوٹ لازم و ملزوم بلکہ شیر و شکر ہیں۔ گوئبلز نے کہا تھا: ''اتنا جھوٹ بولو، اتنا جھوٹ بولو کہ اس پر سچ کا گمان ہونے لگے۔'' بالکل یہی فلسفہ قادیانیت نے اپنایا۔ جس طرح مکھیاں پھوڑے پر بیٹھ بیٹھ کر اسے ناسور بنا دیتی ہیں، اسی طرح قادیانیوں نے اپنے مذہب کے بارے میں جھوٹ بول بول کر اسے ناسور بنا دیا ہے۔ بے شمار جھوٹوں میں سے ایک جھوٹ، قادیانی جماعت کا یہ دعویٰ ہے کہ ہر سال لاکھوں بلکہ کروڑوں نئے لوگ قادیانی جماعت میں داخل ہو رہے ہیں۔
قادیانی جماعت اپنی تعداد کے بارے میں ہمیشہ عمداً مبالغہ آرائی سے کام لیتی رہی ہے۔ میرے نزدیک یہ احساس کمتری کی علامت ہے۔ پاکستان یا کسی اور ملک میں جب بھی قومی مردم شماری ہوتی ہے تو قادیانی جماعت کے ارکان فارم پر خود کو قادیانی یا احمدی لکھوانے سے کتراتے ہیں جس سے ان کی اصل تعداد کا تعین مشکل ہوتا ہے۔ مردم شماری کے وقت قادیانی اگر اپنا تعلق جماعت سے ظاہر کریں تو ان کی اصل تعداد باقاعدہ ریکارڈ پر آ جائے جس سے انھیں اپنے قانونی، آئینی اور معاشی حقوق حاصل کرنے میں سہولت ہو۔ اس طرح ان لوگوں کا اعتراض (جو حقیقت پر مبنی ہے) بھی خود بخود ختم ہو جائے گا جو یہ کہتے ہیں کہ قادیانی اپنی عددی حیثیت سے کہیں بڑھ کر پاکستان کے تمام شعبہ جات میں بہت زیادہ سرکاری و غیر سرکاری وسائل اور مناصب پر قابض ہیں جس سے مسلمانوں کی حق تلفی ہوتی ہے۔
1908ء میں مرزا قادیانی کی موت کے وقت برطانیہ کے فارن آفس کے مطابق قادیانیوں کی تعداد 19 ہزار تھی۔ پھر 1921ء کی مردم شماری میں یہ تعداد 30 ہزار ہو گئی اور 1930-31ء کی مردم شماری میں قادیانیوں کی کل تعداد 56 ہزار تھی۔ یہ تعداد قادیانی خلیفہ مرزا محمود نے روزنامہ الفضل قادیان کی اشاعت 5 اگست 1934ء میں تسلیم کی ہے۔ 1954ء میں جسٹس منیر، اپنی انکوائری رپورٹ میں قادیانیوں کی تعداد 2 لاکھ بتاتے ہیں، جبکہ 1981ء کی آخری مردم شماری کے مطابق پاکستان میں قادیانیوں کی تعداد ایک لاکھ تین ہزار ہے۔ قادیانی جماعت کے چوتھے خلیفہ مرزا طاہر احمد کے دور میں قادیانیت میں داخل ہونے والوں کی تعداد کا اعلان اس قدر مبالغہ آمیز ہے کہ خدا کی پناہ! قادیانی جماعت کا دعویٰ ہے کہ:
 1993ء میں 2 لاکھ 4 ہزار 3 سو آٹھ نئے افراد جماعت احمدیہ میں داخل ہوئے۔
 1994ء میں 4 لاکھ 21ہزار 7سو 53 افراد
 1995ء میں 8 لاکھ 47 ہزار 7 سو پچیس افراد
 1996ء میں 16 لاکھ 2 ہزار 7 سو 21 افراد
 1997ء میں 30 لاکھ 4 ہزار 5 سو 85 افراد
 1998ء میں 50 لاکھ 4 ہزار 5 سو 91 افراد
 1999ء میں ایک کروڑ 8 لاکھ 20 ہزار 2 سو 26 افراد
 2000ء میں 4کروڑ 13 لاکھ 8ہزار 9 سو 75 افراد
 2001ء میں 8کروڑ 10 لاکھ 6 ہزار سات سو اکیس افراد
 2002ء میں 2 کروڑ 6 لاکھ 54 ہزار
 2003ء میں (زبردست کم ہو کر) 8 لاکھ 92 ہزار 4 سو تین افراد
 2004ء میں 3 لاکھ 4 ہزار نو سو دس افراد
 2005ء میں 2 لاکھ 9 ہزار 7 سو ننانوے افراد
 2006ء میں 2 لاکھ 93 ہزار 8 سو اکیاسی افراد
 2007ء میں 2 لاکھ 61 ہزار 9 سو انہتر افراد
 جبکہ2008ء میں3 لاکھ54 ہزار6 سو اڑتیس افراد
جماعت احمدیہ میں شامل ہوئے۔
اس طرح گذشتہ سولہ سالوں میں 16 کروڑ 71 لاکھ 93 ہزار 2 سو پانچ (16,71,93,205) نئے افراد جماعت احمدیہ میں داخل ہوئے۔
(روزنامہ الفضل ربوہ 3 اگست 2005ء، 2 اگست 2006، یکم اگست 2007ء،29جولائی2008ء)
قادیانی جماعت کے ذمہ داران اگر جماعت کی تعداد کے حوالے سے اسی طرح غلو سے کام لیتے رہے تو یہ تعداد آئندہ چند سالوں میں شاید دنیا کی اصل تعداد سے بڑھ جائے۔ قادیانی جماعت کا اپنی تعداد کے حوالے سے مبالغہ آرائی سے کام لینے کا مقصد صرف اور صرف اپنے پیروکاروں کو جھوٹی تسلیاں دینا اور سبز باغ دکھانا ہے تاکہ وہ اس خوش فہمی میں مبتلا رہیں کہ قادیانی جماعت روز بروز پھیل رہی ہے جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ میں پورے دعویٰ اور وثوق سے کہتا ہوں کہ قادیانی جماعت ہر سال اپنی تعداد کے حوالہ سے جھوٹ بولتی ہے اور اس سلسلہ میں ان کے پاس کوئی ریکارڈ یا ثبوت نہیں ہے جبکہ جماعت احمدیہ کے پاس ایک ایک قادیانی کا مکمل ریکارڈ موجود ہوتا ہے۔
قادیانی جماعت کا اپنی آبادی میں اضافہ کا اعلان اس عہد کا بدترین جھوٹ ہے۔ سالانہ جلسہ (انگلینڈ) کے موقع پر ہر سال بغیر تحقیق اور غور و فکر کے ستائشی نعروں کی گونج میں کروڑوں کی تعداد کا اعلان پر اعلان کر کے آخر کس کو بیوقوف بنایا جا رہا ہے؟ مبالغے اور جھوٹ کی کوئی حد ہوتی ہے۔ مرزا قادیانی نے بھی لکھا تھا: ''میں نے انگریز کی حمایت اور جہاد کی ممانعت میں اتنا لکھا کہ ان کتابوں سے پچاس الماریاں بھر جائیں۔'' (تریاق القلوب، 28,27 مورخہ روحانی خزائن، ج 15 ص 156,155 از مرزا قادیانی) یا پھر لکھا: ''میرے نشانوں کی تعداد دس لاکھ ہے۔'' (براہین احمدیہ حصہ پنجم ص 72، مندرجہ روحانی خزائن ج 21 ص 72 از مرزا قادیانی) یہ مبالغہ گوئی کی انتہا ہے۔ قادیانی جماعت کے ذمہ داران نے بھی شاید یہی راستہ اختیار کر لیا ہے۔ خود مرزا غلام احمد قادیانی نے کہا تھا۔
 ''جھوٹ بولنا مرتد ہونے سے کم نہیں۔''
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص 20 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 ص 56 از مرزا غلام احمد قادیانی)
 ''غلط بیانی اور بہتان طرازی راست بازوں کا کام نہیں بلکہ نہایت شریر اور بدذات آدمیوں کا کام ہے۔''
(آریہ دھرم ص 13 مندرجہ روحانی خزائن جلد 10 ص 13 از مرزا غلام احمد قادیانی)
 ''جب ایک بات میں کوئی جھوٹا ثابت ہو جائے تو پھر دوسری باتوں میں اس پر اعتبار نہیں رہتا۔''
(چشمہ معرفت ص 222 مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 ص 231 از مرزا غلام احمد قادیانی)
ہر سال سالانہ جلسہ لندن کے موقع پر اپنے اخبارات و جرائد، اپنے ٹی وی چینل یا انٹرنیٹ ویب سائٹ پر ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت قادیانی جماعت میں نئے داخل ہونے والے افراد کی مبالغہ آمیز فرضی تعداد درج کر دینا دراصل حقائق سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہے۔ اس کے لیے ثبوت درکار ہیں کہ کس ملک کے، کس شہر کے، کس علاقہ کے، کون سے لوگ، کس بنا پر احمدیت میں داخل ہوئے ہیں۔ کروڑوں کی تعداد میں شامل ہونے والوں میں سے کسی ایک نے بھی اپنا انٹرویو، حالات، تاثرات یا کوئی پیغام کیوں نہیں دیا؟ آخر کیوں؟ بقول قادیانی جماعت 2001ء میں 8 کروڑ 10 لاکھ 6 ہزار 7 سو اکیس نئے افراد ''احمدیت'' میں داخل ہوئے ہیں۔ اس سال تو قادیانی جماعت کو پوری دنیا میں عظیم الشان جشن منانا چاہیے تھا اور مرزا غلام احمد قادیانی کی ''پیش گوئیوں'' میں سے کوئی پیش گوئی تلاش کر کے اس اہم واقعہ پر چسپاں کرنی چاہیے تھی۔ مشاہدہ یہ ہے کہ قادیانی جماعت میں اگر ایک بھی نیا شخص داخل ہو جائے تو ان کے اخبارات و رسائل، ٹی وی چینل اور ویب سائٹ وغیرہ آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں لیکن یہاں کروڑوں کی تعداد میں نئے داخل ہونے والوں کی کسی کو خبر ہی نہیں۔ مکمل سکوت اور خاموشی ہے۔ آخر کیوں؟ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان سمیت پوری دنیا میں قادیانی جماعت کی بڑھتی ہوئی تعداد کو تقریباً روکا جا چکا ہے۔ قادیانی عقائد کی اصل حقیقت واضح ہو جانے کے بعد پوری دنیا میں قادیانی جماعت کے سرکردہ عہدیداران اور عام قادیانی اپنے اپنے اہل خانہ اور دوستوں سمیت دائرہ اسلام میں داخل ہو رہے ہیں۔ اس سلسلہ میں صرف جرمنی کی مثال کافی ہے جہاں حق کے متلاشی کئی نامی گرامی صاحبان فہم و فراست، قادیانیت کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خیرباد کہہ کر اسلام کی آغوش میں آ گئے ہیں اور اب بھرپور جذبے اور ولولے کے ساتھ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور فتنہ قادیانیت کی سرکوبی کے لیے شب و روز محنت کر رہے ہیں۔ ان خوش نصیبوں میں جناب شیخ راحیل احمد، جناب افتخار احمد، جناب محمد مالک، جناب مظفر احمد مظفر، جناب قریشی انور کریم، جناب منیر احمد شاہ، جناب سید ظہیر شاہ، جناب سید شہزاد عابد، جناب شاہد احمد کمال، جناب وحید احمد وغیرہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ اللہ تعالیٰ انھیں استقامت نصیب فرمائے۔