قادیانی جماعت مرزا قادیانی کی نظر میں
فارسی مقولہ مشہور ہے:''ایں خانہ تمام آفتاب است''! یعنی اس حمام میں سب ہی ننگے ہیں۔ ہر بات کا کوئی نہ کوئی سبب ضرور ہوتا ہے خرابی اور بگاڑ دونوں جانب سے ہوتا ہے۔ قادیانی قیادت اور ان کے پیروکار دونوں بدزبانی و بد عملی، فتنہ و فساد اور بدی و شرارت میں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر ہیں۔ آئیے! ملاحظہ فرمائیں!
بھیڑیوں کی جماعت
(1) ''بعض حضرات جماعت میں داخل ہو کر اور اس عاجز سے بیعت کر کے اور عہد توبہ نصوح کر کے پھر بھی ویسے کج دل ہیں کہ اپنی جماعت کے غریبوں کو بھیڑیوں کی طرح دیکھتے ہیں۔ وہ مارے تکبر کے سیدھے منہ سے السلام علیک نہیں کرسکتے چہ جائیکہ خوش خلقی اور ہمدردی سے پیش آویں اور انہیں سفلہ اور خود غرض اس قدر دیکھتا ہوں کہ وہ ادنیٰ ادنیٰ خود غرضی کی بنا پرلڑتے اور ایک دوسرے سے دست بدامن ہوتے ہیں اور ناکارہ باتوں کی وجہ سے ایک دوسرے پر حملہ ہوتا ہے بلکہ بسااوقات گالیوں تک نوبت پہنچتی ہے اور دلوں میں کینے پیدا کر لیتے ہیں اور کھانے پینے کی قسموں پر نفسانی بحثیں ہوتی ہیں۔'' (شہادت القرآن صفحہ 99 مندرجہ روحانی خزائن جلد6 صفحہ395 از مرزا قادیانی)
درندے، قادیانیوں سے اچھے
(2) ''مگر میں دیکھتا ہوں کہ یہ باتیں ہماری جماعت کے بعض لوگوں میں نہیں بلکہ بعض میں ایسی بے تہذیبی ہے کہ اگر ایک بھائی ضد سے اس کی چارپائی پر بیٹھا ہے تو وہ سختی سے اس کو اٹھانا چاہتا ہے اور اگر نہیں اٹھتا تو چارپائی کو الٹا دیتا ہے اور اس کو نیچے گرادیتا ہے۔ پھر دوسرا بھی فرق نہیں کرتا اور وہ اس کو گندی گالیاں دیتا ہے اور تمام بخارات نکالتا ہے۔ یہ حالات ہیں جو اس مجمع میں مشاہدہ کرتا ہوں۔ تب دل کباب ہوتا اور جلتا ہے اور بے اختیار دل میں یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ اگر میں درندوں میں رہوں تو ان بنی آدم سے اچھا ہے۔ پھر میں کس خوشی کی امید سے لوگوں کو جلسہ کے لیے اکٹھے کروں۔ '' (شہادت القرآن صفحہ2 (آخر) مندرجہ روحانی خزائن جلد6 صفحہ396 از مرزا قادیانی)
کج دل لوگوں کی جماعت
(3) ''میں اس وقت کج دل لوگوں کا ذکر کرتا ہوں اور میں حیران ہوتا ہوں کہ خدایا یہ کیا حال ہے۔ یہ کونسی جماعت ہے جو میرے ساتھ ہے۔ نفسانی لالچوں پر کیوں ان کے دل گرے جاتے ہیں اور کیوں ایک بھائی دوسرے بھائی کو ستاتا اور اس سے بلندی چاہتا ہے۔''(شہادت القرآن صفحہ 99 مندرجہ روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 395 از مرزا قادیانی)
تہذیب اور پرہیزگاری سے عاری جماعت
(4) ''اخی مکرم حضرت مولوی نورالدین صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ بارہا مجھ سے یہ تذکرہ کر چکے ہیں کہ ہماری جماعت کے اکثر لوگوں نے اب تک کوئی خاص اہلیت اور تہذیب اور پاک دلی اور پرہیزگاری اور للہی محبت باہم پیدا نہیں کی۔ سو میں دیکھتا ہوں کہ مولوی صاحب موصوف کا یہ مقولہ بالکل صحیح ہے۔''
(شہادت القرآن صفحہ 99، مندرجہ روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 395 از مرزا قادیانی)
اکیلا کسی جنگل میں ہوتا تو بہتر تھا
(5) ''میں کہتے کہتے ان باتوں کو تھک گیا کہ اگر تمہاری یہی حالتیں ہیں تو پھر تم میں اور غیروں میں فرق ہی کیا ہے لیکن یہ دل کچھ ایسے ہیں کہ توجہ نہیں کرتے اور ان آنکھوں سے مجھے بینائی کی توقع نہیں لیکن خدا اگر چاہے اور میں تو ایسے لوگوں سے دُنیا اور آخرت میں بیزار ہوں۔ اگر میں صرف اکیلا کسی جنگل میں ہوتا تو میرے لیے ایسے لوگوں کی رفاقت سے بہتر تھا جو خدا تعالیٰ کے احکام کو عظمت سے نہیں دیکھتے۔'' (شہادت القرآن صفحہ 101 مندرجہ روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 397 از مرزا قادیانی)
شوق پورا نہیں ہوا
(6) ''میری جان اس شوق سے تڑپ رہی ہے کہ کبھی وہ بھی دن ہو کہ اپنی جماعت میں بکثرت ایسے لوگ دیکھوں جنہوں نے درحقیقت جھوٹ چھوڑ دیا اور ایک سچا عہد اپنے خدا سے کرلیا کہ وہ ہر ایک شر سے اپنے تئیں بچائیں گے اور تکبر سے جو تمام شرارتوں کی جڑ ہے، بالکل دور جا پڑیں گے اور اپنے رب سے ڈرتے رہیں گے۔ مگر ابھی تک بجز خاص چند آدمیوں کے ایسی شکلیں مجھے نظر نہیں آتیں۔'' (مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 364 طبع جدید از مرزا قادیانی)
جلنے والی لکڑیاں
(7) ''اور میں اس جگہ اس بات کا اظہار بھی مناسب سمجھتا ہوں کہ جس قدر لوگ میرے سلسلہ بیعت میں داخل ہیں، وہ سب کے سب ابھی اس بات کے لائق نہیں کہ میں ان کی نسبت کوئی عمدہ رائے ظاہر کرسکوں۔ بلکہ بعض خشک ٹہنیوں کی طرح نظر آتے ہیں۔ جن کو میرا خدا وند جو میرا متولی ہے، مجھ سے کاٹ کر جلنے والی لکڑیوں میں پھینک دے گا۔ بعض ایسے بھی ہیں کہ اول ان میں دلسوزی اور اخلاص بھی تھا مگر اب اُن پر سخت قبض وارد ہے اور اخلاص کی سرگرمی اور مریدانہ محبت کی نورانیت باقی نہیں رہی۔ بلکہ صرف بَلْعَمْ کی طرح مکاریاں باقی رہ گئی ہیں اور بوسیدہ دانت کی طرح اب بجز اس کے کسی کام کے نہیں کہ مُنہ سے اُکھاڑ کر پیروں کے نیچے ڈال دئیے جائیں۔ وہ تھک گئے اور درماندہ ہوگئے۔ اور نابکار دنیا نے اپنے دامِ تزویر کے نیچے انہیں دبا لیا۔ '' (فتح اسلام صفحہ 68 مندرجہ روحانی خزائن جلد3صفحہ 40 از مرزا قادیانی)



کتے
(8) ''وہ مفسد لوگ جو میرے ہاتھ کے نیچے ہاتھ رکھ کر اور یہ کہہ کر کہ ہم نے دین کو دنیا پر مقدم کیا۔ پھر وہ اپنے گھروں میں جاکر ایسے مفاسد میں مشغول ہوجائیں کہ صرف دنیا ہی دنیا ن کے دلوں میں ہوتی ہے۔ نہ ان کی نظر پاک ہے، نہ ان کا دل پاک ہے۔ اور نہ ان کے ہاتھوں سے کوئی نیکی ہوتی ہے اور نہ ان کے پیر کسی نیک کام کے لیے حرکت کرتے ہیں اور وہ اس چوہے کی طرح ہیں جو تاریکی میں ہی پرورش پاتا ہے اور اسی میں رہتا اور اسی میں مرتا ہے۔ وہ آسمان پر ہمارے سلسلہ میں سے کاٹے گئے ہیں۔ وہ عبث کہتے ہیں کہ ہم اس جماعت میں داخل ہیں کیونکہ آسمان پر وہ داخل نہیں سمجھے جاتے۔ جو شخص میری اس وصیت کو نہیں مانتا کہ درحقیقت وہ دین کو دنیا پر مقدم کرے اور درحقیقت ایک پاک انقلاب اس کی ہستی پر آجائے اور درحقیقت وہ پاک دل اور پاک ارادہ ہوجائے اور پلیدی اور حرامکاری کا تمام چولہ اپنے بدن پر سے پھینک دے اور نوع انسان کا ہمدرد اور خدا کا سچا تابعدار ہوجائے اور اپنی تمام خود روی کو الوداع کہہ کر میرے پیچھے ہولے۔ میں اُس شخص کو اُس کتے سے مشابہت دیتا ہوں جو ایسی جگہ سے الگ نہیں ہوتا جہاں مردار پھینکا جاتا ہے اور جہاں سڑے گلے مردوں کی لاشیں ہوتی ہیں۔ کیا میں اس بات کا محتاج ہوں کہ وہ لوگ زبان سے میرے ساتھ ہوں اور اس طرح پر دیکھنے کے لیے ایک جماعت ہو۔''
(تذکرہ الشہادتین صفحہ 78 مندرجہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 78 از مرزا قادیانی)
جب مرزا قادیانی سے اس کی جماعت نے جماعتی چندے کے اصراف کی شکایت کی اور صرف اتنی درخواست کی کہ جناب پیسے اپنے پاس رکھنے کی بجائے ایک کمیٹی کی تشکیل دے دیں تاکہ شفاف طریقے سے پیسوں کا استعمال سکے۔لیکن اس کے جواب میں مرزا قادیانی نے کیا جواب دیا اور اپنی جماعت کی کیاوضاحت کی ملاحظہ ہو
مرے ہوئے کیڑے کی طرح
(9) ''میں ایک مدت سے بیماریوں میں رہا اور اب بھی ان کا بقیہ باقی ہے۔ میں چاہتا تھا کہ اپنے ہاتھ سے جواب لکھوں مگر بباعث بیماری کے لکھ نہ سکا۔ آپ کے پہلے خط کا ماحصل جس قدر مجھ کو یاد ہے، یہ ہے کہ میری نسبت کی جماعت کی طرف سے یہ پیغام پہنچایا تھا کہ روپیہ کے خرچ میں بہت اسراف ہوتا ہے آپ اپنے پاس روپیہ جمع نہ رکھیں اور یہ روپیہ ایک کمیٹی کے سپرد ہو جو حسب ضرورت خرچ کیا کریں اور یہ بھی ذکر تھا کہ اس روپیہ میں سے باغ کے چند خدمتگار بھی روٹیاں کھاتے ہیں اور ایسا ہی اور کئی قسم کے اسراف کی طرف اشارہ تھا جن کو میں سمجھتا ہوں آپ نے اپنی نیک نیتی سے جو کچھ لکھا بہتر لکھا۔ میں ضروری نہیں سمجھتا کہ اس کا رد لکھوں میں آپ کو خدا تعالیٰ کی قسم دیتا ہوں جس کی قسم کو پورا کرنا مومن کا فرض ہے اور اس کی خلاف ورزی معصیت ہے کہ آپ کی تمام جماعت کو اور خصوصاً ایسے صاحبوں کو جن کے دلوں میں یہ اعتراض پیدا ہوا ہے، بہت صفائی اور اور کھول کر سمجھا دیں کہ اس کے بعد ہم کا چندہ بکلی بند کرتے ہیں اور ان پر حرام ہے اور قطعاً حرام ہے اور مثل گوشت خنزیر ہے کہ ہمارے کسی سلسلہ کی مدد کے لئے اپنی تمام زندگی تک ایک حبہ بھی بھیجیں۔ ایسا ہی ہر شخص جو ایسے اعتراض دل میں مخفی رکھتا ہے، اس کو بھی ہم یہی قسم دیتے ہیں۔
یہ کام خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور جس طرح وہ میرے دل میں ڈالتا ہے خواہ وہ کام لوگوں کی نظر میں صحیح ہے یا غیر صحیح، درست ہے یا غلط، میں اسی طرح کرتا ہوں۔ پس جو شخص کچھ مدد دے کہ مجھے اسراف کا طعنہ دیتا ہے وہ میرے پر حملہ کرتا ہے۔ ایسا حملہ قابل برداشت نہیں۔ اصل تو یہ ہے کہ مجھے کسی کی بھی پروا نہیں۔ اگر تمام جماعت کے لوگ متفق ہو کر چندہ بند کردیں یا مجھ سے منحرف ہوجائیں تو وہ جس نے مجھ سے وعدہ کیا ہوا ہے، وہ اور جماعت ان سے بہتر پیدا کردے گا جو صدق اور اخلاص رکھتی ہوگی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ مجھے مخاطب کرکے فرماتا ہے ینصرک اللّٰہ من عندہ۔ ینصرک رجال نوحی الیھم من السمائ۔ یعنی خدا تیری اپنے پاس سے مدد کرے گا۔ تیری وہ مدد کریں گے جن کے دلوں میں ہم آپ وحی کریں گے اور الہام کریں گے۔ پس اس کے بعد میں ایسے لوگوں کو ایک مرے ہوئے کیڑے کی طرح بھی نہیں سمجھتا جن کے دلوں میں بدگمانیاں پیدا ہوتی ہیں اور کیا وجہ ہے کہ انہیں جبکہ میں ایسے خشک دل لوگوں کو چندہ کے لیے مجبور نہیں کرتا جن کا ایمان ہنوز ناتمام ہے۔ مجھے وہ لوگ چندہ دے سکتے ہیں جو اپنے سچے دل سے مجھے خلیفة اللہ سمجھتے ہیں اور میرے تمام کاروبار خواہ ان کو سمجھیں یا نہ سمجھیں، ان پر ایمان لاتے اور ان پر اعتراض کرنا موجب سلبِ ایمان سمجھتے ہیں۔ میں تاجر نہیں کہ کوئی حساب رکھوں، میں کسی کمیٹی کا خزانچی نہیں کہ کسی کو حساب دوں۔'' (ملفوظات جلد چہارم صفحہ 249، 250 ، طبع جدید، از مرزا قادیانی)
لومڑی، سؤر اور سانپ
مرزا قادیانی کا اپنی جماعت کے بارے میں ''ارشاد'' ہے:
(10) ''بن کے رہنے والو تم ہر گز نہیں ہو آدمی کوئی ہے روباہ کوئی خنزیر اور کوئی ہے مار'' (براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 108 روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 138، از مرزا)
مرزا قادیانی کے اس شعر کا مطلب یہ ہے کہ اے قادیان کے رہنے والو! تم ہرگز انسان نہیں ہو۔ تم میں کوئی اپنی منافقت اور مکر و فریب کی وجہ سے لومڑی ہے۔ کوئی بے حیا اور پلید ہونے کی وجہ سے سور ہے اور کوئی اپنی زہرناکیوں کی وجہ سے سانپ ہے۔
ان القابات کے جواب میں قادیانی بھی اپنے ''حضرت صاحب'' کو کہہ سکتے ہیں کہ جناب اگر ہم لومڑی، سور اور سانپ ہیں تو آپ بھی انسان نہیں ہیں کیونکہ مستند ہے آپ کا فرمایا ہوا کہ کرم خاکی ہوں میرے پیارے نہ آدم زاد ہوں ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار
(براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 97 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 127 از مرزا قادیانی)