قادیانی ڈکشنری

(٢)
تاویلات کے گورکھ دھندے کا دوسرا نام ''قادیانیت'' ہے۔ مرزا قادیانی، اس کے جانشین اور قادیانی مربیان بلاشبہ تاویل کے ہنر میں باکمال بازی گر ہیں۔اس تناظر میں قادیانی ڈکشنری کے چند نمونے ملاحظہ فرمائیے:۔
(1) اعتراف: مرزاقادیانی لکھتا ہے''ایک نئے معنی اپنی طرف سے گھڑ لینا بھی تو الحاد اور تحریف ہے۔ خدا تعالیٰ مسلمانوں کو اس سے بچائے۔''
(ازالہ اوہام صفحہ 745 مندرجہ روحانی خزائن، جلد 3 صفحہ 501، از مرزا قادیانی)
زرد کپڑے سے مراد بیماری
(2) ''احادیث میں ہے کہ مسیح موعود دو زرد رنگ چادروں میں اترے گا۔ ایک چادر بدن کے اوپر کے حصہ میں ہوگی اور دوسری چادر بدن کے نیچے کے حصہ میں۔ سو میں نے کہا کہ یہ اس طرف اشارہ تھا کہ مسیح موعود دو بیماریوں کے ساتھ ظاہر ہوگا کیونکہ تعبیر کے علم میں زرد کپڑے سے مراد بیماری ہے اور وہ دونوں بیماریاں مجھ میں ہیں یعنی ایک سر کی بیماری اور دوسری کثرتِ پیشاب اور دستوں کی بیماری۔'' (تذکرہ الشہادتین صفحہ 46 مندرجہ روحانی خزائن جلد 20 از مرزا قادیانی)
زرد کپڑے سے مراد بیماری
(3) ''دو مرض میرے لاحق حال ہیں۔ ایک بدن کے اوپر کے حصہ میں۔ اور دوسری بدن کے نیچے کے حصہ میں۔ اُوپر کے حصہ میں دورانِ سر ہے اور نیچے کے حصہ میں کثرتِ پیشاب ہے اور دونوں مرضیں اُسی زمانہ سے ہیں جس زمانہ سے میں نے اپنا دعویٰ مامور من اللہ ہونے کا شائع کیا ہے۔ میں نے ان کے لے دعائیں بھی کیں مگر منع میں جواب پایا اور میرے دِل میں القا کیا گیا کہ ابتدا سے مسیح موعود کے لیے یہ نشان مقرر ہے کہ وہ دو زرد چادروں کے ساتھ دو فرشتوں کے کاندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے اُترے گا۔ سو یہ وہی دو زرد چادریں ہیں جو میری جسمانی حالت کے ساتھ شامل کی گئیں۔ انبیاء علیہم السلام کے اتفاق سے زرد چادر کی تعبیر بیماری ہے اور دو زرد چادریں دو بیماریاں ہیں جو دو حصہ بدن پر مشتمل ہیں اور میرے پر بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے یہی کھولا گیا ہے کہ دو زرد چادروں سے مُراد دو بیماریاں ہیں اور ضرور تھا کہ خدا تعالیٰ کا فرمودہ پورا ہوتا۔''
(حقیقة الوحی صفحہ 320، مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 320 از مرزا قادیانی)
قادیانی جماعت کے موجودہ سربراہ سمیت دنیا کا کوئی قادیانی انبیاء علیہم السلام کا اتفاق قرآن مجید سے ثابت کردے کہ زرد چادر کی تعبیر بیماری ہے تو وہ مجھ سے منہ مانگا انعام حاصل کرسکتا ہے۔ بصورتِ دیگر انہیں ماننا پڑے گا کہ مرزا قادیانی جاہل مطلق اور کذاب تھا۔
(4) ''دیکھو میری بیماری کی نسبت بھی آنحضرت ۖ نے پیشگوئی کی تھی جو اسی طرح وقوع میں آئی۔ آپۖ نے فرمایا تھا کہ مسیح آسمان پر سے جب اترے گا تو دو زرد چادریں اس نے پہنی ہوئی ہوں گی تو اسی طرح مجھ کو دو بیماریاں ہیں ایک اوپر کے دھڑ کی اور ایک نیچے کے دھڑ کی یعنی مراق اور کثرت بَول۔''
(ملفوظات جلد پنجم، صفحہ 32،33 طبع جدید از مرزا قادیانی)
مسیح موعود مراق کے عارضے میں مبتلا ہوگا اور اسے شوگر کا مرض لاحق ہوگا کیا یہ مسیح موعود کے اوصاف ہیں یا نقائص؟ فضائل ہیں یا رذائل؟ آخر اپنی بیماریوں پر اتنا بھی کیا اترانا کہ دو زرد چادروں سے مراد دو عوارض لے لیے! خوبیوں کی بجائے مصائب کو نشانیاں قرار دینے میں کیا حکمت ہوسکتی ہے۔
آدم، احمد، موسیٰ، عیسیٰ، دائود، مریم سے مراد مرزا قادیانی
(5) ''یَا اٰدَمُ اسْکُنْ اَنْتَ وَزَوْجُکَ الْجَنَّةَ۔ یَا مَرْیَمُ اسْکُنْ اَنْتَ وَزَوْجُکَ الْجَنَّةَ۔ یَااَحْمَدُ اسْکُنْ اَنْتَ وَزَوْجُکَ الْجَنَّةَ۔ نَفَخْتُ فِیْکَ مِنْ لَّدُنِّیْ رُوْحَ الصِّدْقِ۔
حضرت مسیح موعود ان الہامات کی تشریح فرماتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں۔ ''مریم سے مریم ام عیسیٰ مراد نہیں۔ اور نہ آدم سے آدم ابوالبشر مراد ہے اور نہ احمد سے اس جگہ حضرت خاتم الانبیا ۖ مراد ہیں اور ایسا ہی ان الہامات کے تمام مقامات میں کہ جو موسیٰ اور عیسیٰ اور دائود وغیرہ نام بیان کیے گئے ہیں۔ ان ناموں سے بھی وہ انبیا مراد نہیں ہے بلکہ ہر ایک جگہ یہی عاجز مراد ہے۔ اب جبکہ اس جگہ مریم کے لفظ سے کوئی مونث مراد نہیں بلکہ مذکر مراد ہے تو قاعدہ یہی ہے کہ اس کے لیے صیغہ مذکر ہی لایا جائے یعنی یامریم اسکن کہا جائے اور زوج کے لفظ سے رفقا اور اقربا مراد ہیں، زوج مراد نہیں ہے۔ اور لغت میں یہ لفظ دونوں طور پر اطلاق پاتا ہے اور جنت کا لفظ اس عاجز کے الہامات میں کبھی اس جنت پر بولا جاتا ہے کہ جو آخرت سے تعلق رکھتا ہے۔ اور کبھی دنیا کی خوشی اور فتحیابی اور سرور اور آرام پر بولا جاتا ہے۔'' (مکتوبات احمدیہ جلد اوّل صفحہ 599 طبع جدید، مکتوب بنام میر عباس علی شاہ صاحب) (تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 55، 56 طبع چہارم از مرزا قادیانی)
دجال سے مراد با اقبال قومیں
(6) ''ہمارے نزدیک ممکن ہے کہ دجال سے مراد بااقبال قومیں ہوں اور گدھا ان کا یہی ریل ہو جو مشرق اور مغرب کے ملکوں میں ہزارہا کوسوں تک چلتے دیکھتے ہو۔''
(ازالہ اوہام صفحہ 174 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 174 از مرزا قادیانی)

فرعون اور ہامان سے مراد
(7) ''من عندہ یعصمک اللّٰہ مزعندہ وان لم یعصماک الناس۔ واذیمکوریک الذی کفر۔ اوقدلی یا ھامان۔ لعلی اطلع الٰی الہ موسٰی دانی لاظنہ من الکاذبین تبت دا ابی لھب و تب ماکان لہ ان یدخل فیھا الاخائفا۔ وما اصابک فمن اللّٰہ۔ الفتنة ھھنا فاصبر کما صبرا ولو العزم۔ الا انھا فتنة من اللّٰہلیحب حبا جما۔ حبا من اللّٰہ العزیز الاکرم۔ عطائًا غیر مجذوذ۔ شاتان تُذبحان۔ وکل من علیھا فان۔ ولا تھنوا الا تحزنوا۔ المتعلم ان اللّٰہ علٰی کل شیء قدیر۔ انا فتحنالک فتحامبینا لیغفرلک اللّٰہ ما تقدم من ذنبک وما تاخر۔ الیس اللّٰہ بکاف عبدہ۔ فبراہ اللہ مما قالوا وکان عند اللّٰہ وجیھا۔
ترجمہ: ''یعنی خدا تجھے بچائے گا۔ اگرچہ لوگ نہ بچائیں۔ میں پھر کہتا ہوں کہ خدا تجھے بچائے گا۔ اگرچہ لوگ نہ بچائیں۔ وہ زمانہ یاد کر کہ جب ایک شخص تجھ سے مکر کرے گا اور اپنے رفیق ہامان کو کہے گا کہ فتنہ انگیزی کی آگ بھڑکا۔ اس جگہ فرعون سے مراد شیخ محمد حسین بطالوی ہے اور ہامان سے مراد نو مسلم سعد اللہ ہے اور پھر فرمایا کہ وہ کہے گا کہ میں اس کے خدا کی حقیقت معلوم کرنا چاہتا ہوں اور میں اس کو جھوٹا سمجھتا ہوں یعنی باخدا ہونے کا دعویٰ سراسر کذب ہے کوئی تعلق خدا تعالیٰ سے نہیں۔ اور پھر فرمایا کہ یہ فرعون ہلاک ہوگیا۔ اور دونوں ہاتھ اُس کے ہلاک ہوگئے یعنی یہ شخص ذلیل کیا جائے گا اور ہاتھ جس کسب معاش کا ذریعہ ہیں نکمے ہوجائیں گے۔''
(انجام آتھم ضمیمہ صفحہ 56 مندرجہ روحانی خزائن جلد 11، صفحہ 340 از مرزا قادیانی)
ہندو سے مراد
(8) ''ہندو سے مراد ایسا شخص ہوا کرتا ہے، جو دنیا کے غم وہم میں مبتلا ہو اور چاہے کہ کسی دنیوی ابتلائوں سے نجات ہو۔''
(تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 661 طبع چہارم، از مرزا قادیانی)
موت کے معنی فتح
(9) ''ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں۔ ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں اس کے یہ معنی ہیں کہ قبل از موت مکی فتح نصیب ہوگی۔ جیسا کہ وہاں دشمن کو قہر کے ساتھ مغلوب کیا گیا تھا، اسی طرح یہاں بھی دشمن قہری نشانوں سے مغلوب کیے جائیں گے۔ دوسرے یہ معنی ہیں کہ قبل از موت مدنی فتح نصیب ہوگی۔ ''
(تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 503 طبع چہارم از مرزا قادیانی)
اگر موت سے مراد فتح ہے تو تمام قادیانیوں کو چاہئے کہ نیلا تھوتھا کھا کر مر جائیں تاکہ کامل فتح نصیب ہو جائے ۔
بیوہ سے مراد
(10) ''تخمیناً اٹھارہ برس کے قریب عرصہ گزرا ہے کہ مجھے کسی تقریب سے مولوی محمد حسین بٹالوی ایڈیٹر رسالہ اشاعت السنہ کے مکان پر جانے کا اتفاق ہوا۔ اس نے مجھ سے دریافت کیا کہ آج کل کوئی الہام ہوا ہے؟ میں نے اس کو یہ الہام سنایا جس کو میں کئی دفعہ اپنے مخلصوں کو سنا چکا تھا۔ اور وہ یہ ہے کہ بِکْر وَّ ثَیِّب۔جس کے یہ معنی ان کے آگے اور نیز ہر ایک کے آگے میں نے ظاہر کیے کہ خدا تعالیٰ کا ارادہ ہے کہ وہ دو عورتیں میرے نکاح میں لائے گا۔ ایک بکر ہوگی اور دوسری بیوہ۔ چنانچہ یہ الہام جو بکر کے متعلق تھا پورا ہو گیا اور اس وقت بفضلہ تعالیٰ چار پسراس بیوی سے موجود ہیں اور بیوہ کے الہام کی انتظار ہے۔''
''خاکسار کی رائے میں یہ الہام الٰہی اپنے دونوں پہلوئوں سے حضرت ام المومنین کی ذات میں ہی پورا ہوا ہے جو بکر یعنی کنواری آئیں اور ثیب یعنی بیوہ رہ گئیں۔ واللہ اعلم۔'' (تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 31 طبع چہارم از مرزا قادیانی)
کیا خوب معنی لیا ہے ۔مرزا بتا رہا ہے کہ دو عورتیں نکاح میں آئیں گی ایک آ گئی یعنی کنواری اور ایک کا ''انتظار '' ہے یعنی بیوہ کا لیکن مرزے کا امتی بتا رہا ہے کہ ایک سے ہی دو کا الہام پورا ہو گیا۔کیوں جناب ایسا ہنر ہے کسی کے پاس ؟
دجال کون؟
(11) ''دجال کے معنی بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ جو شخص دھوکہ دینے والا اور گمراہ کرنے والا اور خدا کے کلام کی تحریف کرنے والا ہو، اس کو دجال کہتے ہیں۔''
(حقیقت الوحی صفحہ 456 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 456 از مرزا قادیانی)
کیامرزا قادیانی کی یہ بات خود اس پر ثابت نہیں آتی ؟کیا دھوکہ دہی کی اس سے بڑی اور مثالیں بھی درکار ہیں ؟یہ کیا مذاق ہوا کہ قرآن و حدیث ہوں یا جہاں ضرورت محسوس ہو اپنا الو سیدھا کرنے کے لئے جو جی چاہا معنی کر لیا ۔اور پھر مسلمانوں کو اس بات پر لعن طعن شروع کردینا کہ یہ ہمیں کافر کہتے ہیں،ہم سے بائیکاٹ کی بات کرتے ہیں ۔ جب کوئی گروہ کسی کے دین کی اساس پر حملہ کرے اور اس کی مسلّمات میںمن مانی کرکے غلیظ ترین تحریفات کرے اور پھر اس بات کی توقع کرے کہ اُس دین کے پیروکار اس گروہ کے منہ میں گھی شکر ڈالیں گے ایں خیال محا ل است ۔ کیا یہ سب باتیں بھی قادیانی عوام کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی نہیں ۔