مرزا قادیانی کا ایک خط جس نے اس کا فراڈ کھول دیا


مرزا قادیانی کے ایک مرید میر عباس علی شاہ تھے۔ وہ پہلے حضرت شاہ سلیمان تونسوی کے مرید تھے۔ ان کی وفات کے بعد میر عباس علی شاہ صاحب بدقسمتی سے بغیر تحقیق کیے مرزا قادیانی کے کشفی دعوئوں سے متاثر ہو کر اس کے حلقہ ارادت میں آ گئے۔ یہ وہ دور تھا کہ مرزا قادیانی نے ابھی تک نبوت کا اعلان نہ کیا تھا۔ میر عباس علی شاہ صاحب نے ایسی وفاداری اور تابع فرمانی کا مظاہرہ کیا کہ وہ تمام قادیانیوں سے سبقت لے گئے۔ مکتوبات احمد کی پہلی اور سب سے ضخیم جلد ان خطوط پر مشتمل ہے جو مرزا قادیانی نے میر عباس کو لکھے۔
ایک دفعہ مرزا قادیانی کو میر عباس لدھیانوی کے بارے میں الہام ہوا:
(1) ''سچا ارادت مند۔ اصلھا ثابت و فرعھا فی السمائ۔ یعنی اس کی ارادت ایسی قوی اور کامل ہے کہ جس میں نہ کچھ تزلزل ہے نہ نقصان ہے۔''
                                                                                                       (تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 45 طبع چہارم از مرزا قادیانی)
9 سال تک تاریکی میں بھٹکنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے انھیں ہدایت دی اور وہ دوبارہ دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے۔ ان کے قبول اسلام کی وجوہات کا بڑا سبب ایک اہم خط ہے جو مرزا قادیانی نے میر عباس علی شاہ صاحب کو لکھا اور ان سے اپنے الہامات کے سلسلہ میں راہنمائی اور علمی معاونت طلب کی۔ میر عباس علی شاہ صاحب کے نام مرزا قادیانی کا خط پڑھیے اور قادیانی نبوت کے بارے میں خود فیصلہ کیجیے۔

بسم اﷲ الرحمن الرحیم
(2) ''مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ۔ السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ! بعد ہذا چونکہ اس ہفتہ میں بعض کلمات انگریزی وغیرہ الہام ہوئے ہیں اور اگرچہ بعض ان میں سے ایک ہندو لڑکے سے دریافت کیے ہیں مگر قابل اطمینان نہیں، اور بعض منجانب اللہ بطور ترجمہ الہام ہوا تھا اور بعض کلمات شاید عبرانی ہیں۔ ان سب کی تحقیق تنقیح ضرور ہے تابعدِ تنقیح جیسا کہ مناسب ہو آخیر جزو میں کہ اب تک چھپی نہیں درج کیے جائیں۔ آپ جہاں تک ممکن ہو، بہت جلد دریافت کر کے صاف خط میں جو پڑھا جاوے اطلاع بخشیں۔ اور وہ کلمات یہ ہیں۔ پریشن۔ عمر پراطوس، یاپلاطوس یعنی پراطوس لفظ ہے یا پلاطوس لفظ ہے۔ بباعث سرعت الہام دریافت نہیں ہوا اور عمر عربی لفظ ہے اس جگہ براطوس اور پریشن کے معنی دریافت کرنے ہیں کہ کیا ہیں اور کس زبان کے یہ لفظ ہیں؟ پھر دو لفظ اور ہیں ھوشعنا نعسا معلوم نہیں کس زبان کے ہیں؟ اور انگریزی یہ ہیں اوّل عربی فقرہ ہے یا داؤد عامل بالناس رفقاً و احساناً۔ یومسٹ ڈِڈ وہاٹ آئی ٹولڈیو۔ تم کو وہ کرنا چاہیے جو میں نے فرمایا ہے۔ یہ اردو عبارت بھی الہامی ہے۔ پھر بعد اس کے ایک اور انگریزی الہام ہے اور ترجمہ اُس کا الہامی نہیں۔ بلکہ اس ہندو لڑکے نے بتلایا ہے۔ فقرات کی تقدیم تاخیر کی صحت بھی معلوم نہیں۔ اور بعض الہامات میں فقرات کا تقدم تاخر بھی ہو جاتا ہے۔ اُس کو غور سے دیکھ لینا چاہیے اور وہ الہام یہ ہیں دو آل من شُڈ بی انگری بٹ گاڈ از وِد یُو۔ ہی شل ہلپ یو۔ واڑڈس آف گاڈناٹ کین ایکس چینج۔ ترجمہ: اگر تمام آدمی ناراض ہوں گے۔ لیکن خدا تمھارے ساتھ ہوگا وہ تمہاری مدد کرے گا۔ اللہ کے کلام بدل نہیں سکتے۔ پھر بعد اس کے ایک دو اور الہام انگریزی ہیں، جن میں سے کچھ تو معلوم ہے اور وہ یہ ہے:
آئی شل ہلپ یو۔ مگر بعد اس کے یہ ہے۔ یوہیوٹو گو امرتسر۔ پھر ایک فقرہ ہے، جس کے معنی معلوم نہیں اور وہ یہ ہے: ہی ہل ٹس ان دی ضلع پشاور۔ یہ فقرات ہیں ان کو تنقیح سے لکھیں اور براہ مہربانی جلد تر جواب بھیج دیں تا اگر ممکن ہو تو اخیر جزو میں بعض فقرات بموضع مناسب درج ہو سکیں۔ بخدمت مولوی عبدالقادر صاحب و خواجہ علی صاحب سلام مسنون پہنچے۔''
12 دسمبر 83ء مطابق 11 صفر 1301ھ
                                                                                                        (مکتوبات احمد جلد اوّل صفحہ 583 مکتوب نمبر 36 از مرزا قادیانی)

میر عباس علی شاہ صاحب نے سوچا کہ یہ کیسا نبی ہے جو اپنے امتی سے راہنمائی حاصل کرتا ہے۔پھر اس پر عجیب یہ کہ ہندو لڑکے سے اس الہام کے بارے میں پوچھ رہا ہے جو اﷲ کی طرف منسوب کرتا ہے ۔ اس واقعہ نے ان کی کایا پلٹ دی اور وہ قادیانیت پر تین حروف بھیج کر اسلام کی آغوش میں آ گئے۔