مرزا قادیانی کے الہام ایک غیر معقول اور بے ہودہ امر

وحی خواہ کسی زبان کی بھی ہو، کوئی انسان اس کی مثال و نظیر پیش نہیں کر سکتا کیونکہ وہ خدا کا کلام ہوتا ہے۔مگر مرزا قادیانی کو ہر زبان یعنی اردو، عربی، فارسی، انگریزی اور پنجابی کی وحیاںآتی رہیں ۔ صاحب ذوق حضرات انھیں پڑھ کر سنجیدگی سے غور فرمائیں کہ کیا یہ خدائی کلام ہو سکتا ہے؟ کیا زبان کے اعتبار سے مرزا قادیانی کی کسی وحی میں بھی فصاحت و بلاغت یا ادبیت کی شان پائی جاتی ہے؟ کیا یہ اس درجہ کا بھی کلام کہلایا جا سکتا ہے، جو ایک عام عالم یا ادیب پیش کرتا ہے؟
حضرت موسیٰ علیہ السلام ملک کنعان سے تعلق رکھتے تھے، اس لیے ان پر توریت عبرانی زبان میں نازل ہوئی۔ حضرت دائود علیہ السلام کے ملک کی زبان سُریانی تھی، اس لیے زبور سُریانی زبان میں نازل ہوئی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ملک کی زبان یونانی تھی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے انجیل کو یونانی زبان میں نازل فرمایا اور حضور خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وسلم عرب میں مبعوث فرمائے گئے، اس لیے قرآن مجید کو عربی زبان میں نازل فرمایا گیا۔ ایک نبی کا فرض منصبی ہی یہ ہے کہ جو وحی بھی من جانب اللہ نازل ہو، اس کا معنی و مفہوم لوگوں کو بتائے جیسا کہ قرآن میں واضح ارشاد باری تعالیٰ ہے:
q وما ارسلنا من رسول الا بلسان قومہ لیبین لھم فیضل اللّٰہ من یشاء ویھدی من یشاء وھو العزیز الحکیمo (ابراہیم:4)
ترجمہ: اور ہم نے کسی رسول کو نہیں بھیجا مگر اپنی قوم کی زبان کے ساتھ تاکہ وہ ان کے لیے (پیغام حق) خوب واضح کر سکے، پھر اللہ جسے چاہتا ہے، گمراہ ٹھہرا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت بخشتا ہے، اور وہ غالب حکمت والا ہے۔مرزا قادیانی اس حقیقت کی تائید میں لکھتا ہے۔
غیر معقول اور بے ہودہ امر
(1) ''یہ بالکل غیر معقول اور بیہودہ امر ہے کہ انسان کی اصل زبان تو کوئی ہو اور الہام اس کو کسی اور زبان میں ہو جس کو وہ سمجھ بھی نہیں سکتا کیونکہ اس میں تکلیف مالا یطاق ہے اور ایسے الہام سے فائدہ کیا ہوا جو انسانی سمجھ سے بالاتر ہے۔''

 (چشمۂ معرفت صفحہ 209 مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 218 از مرزا قادیانی)

جبکہ اس کے برعکس مرزا قادیانی خود اعتراف کرتا ہے:
تعجب کی بات
(2) ''مگر اس سے زیادہ تر تعجب کی یہ بات ہے کہ بعض الہامات مجھے ان زبانوں میں بھی ہوتے ہیں جن سے مجھے کچھ بھی واقفیت نہیں جیسے انگریزی یا سنسکرت یا عبرانیوغیرہ۔''                             (نزول المسیح صفحہ 57 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 435 از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی کے الہامات اس کے اپنے بقول غیر معقولیت اور بے ہو دگی سے بھرے ہوئے تھے آئیے نمونے کے طور پر کچھ ملاحظہ فر مائیے۔
انگریزی الہامات
(3)
1. You must do what I told you.
2. Though all men should be angry but God is with you. He shall help you. Words of God cannot exchange.
3. I shall help you.
4. You have to go Amritsar.
5. He halts in the Zilla Peshawar.
                                                                                                (تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 92 طبع چہارم از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی کے خدا کو اتنا بھی معلوم نہیں کہ ضلع کی انگریزی Zilla نہیں بلکہ District ہوتی ہے۔
(4)
1- I love you. I am with you. Yes I am happy.
2- Life of pain. I shall help you. I can, what I
3- will do. We can, what we will do. God is coming by
4- His army. He is with you to kill enemy. The days
5- shall come when God shall help you. Glory be to the Lord.
6- God maker of earth and heaven.
                                                                                      (حقیقة الوحی صفحہ304 مندرجہ روحانی خزائن جلد22صفحہ316 از مرزا قادیانی)
فارسی الہامات
شیخ سعدی شیرازی (1184ء تا 1292ئ) شہرہ آفاق فارسی ادیب، شاعر، صوفی اور مصنف گلستان و بوستان ہیں۔ ان کا ایک مشہور شعر ہے:
مکن تکیہ بر عمر ناپائدار مباش ایمن از بازیٔ روزگار
مرزا قادیانی نے اس شعر کو اپنے الہامات میں شامل کر لیا۔
(5) 17 مئی 1908ء ''مکن تکیہ بر عمر ناپائیدار''
                                                                                                (تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 640 طبع چہارم از مرزا قادیانی)
(6) 26 اپریل 1908ء ''مباش ایمن از بازیٔ روزگار''
                                                                                                (تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 638 طبع چہارم از مرزا قادیانی)
عبرانی الہام
(7) ''پھر بعد اس کے فرمایا ھوشعنا نعسا۔ یہ دونوں فقرے شاید عبرانی ہیں اور ان کے معنی ابھی تک اس عاجز پر نہیں کھلے۔''
                                                                            (براہین احمدیہ صفحہ 557 مندرجہ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 664 از مرزا قادیانی)
عربی الہامات
(8) وقالوا لولا نزل علی رجل من قریتین عظیم۔ وقالوا انی لک ھذا ان ھذا لمکر مکرتموہ فی المدینة۔ قل ان کنتم تحبون اللّٰہ فاتبعونی یحببکم اللّٰہ۔ عسی ربکم ان یرحمکم۔ وما ارسلنک الا رحمة للعالمین۔ الیس اللّٰہ بکاف عبدہ۔ انت منی بمنزلة توحیدی و تفریدی۔ فحان ان تعان و تعرف بین الناس۔ انت منی بمنزلة عرشی۔ انت منی بمنزلة ولدی۔ انت منی بمنزلة لا یعلمھا الخلق۔ انا انزلناہ قریبا من القادیان۔ وبالحق انزلناہ و بالحق نزل۔ صدق اللّٰہ ورسولہ۔ وکان امر اللّٰہ مفعولا۔ الحمد للّٰہ الذی جعلک المسیح ابن مریم۔
                                                                                    (تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات طبع چہارم صفحہ 547، 548، 549 از مرزا قادیانی)
خلائی مخلوق کی زبان میں الہام
(9) ''پریشن، عمر براطوس، یا پلاطوس۔''
                                                                                                       (تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 91 طبع چہارم از مرزا قادیانی)
مرزا اپنے خداکے بارے میں کہتا ہے ۔
ربنا عاج
(10) ''ربنا عاج'' ''ہمارا رب عاجی ہے۔'' (اس کے معنی ابھی تک معلوم نہیں ہوئے)

                                                                                (براہین احمدیہ، صفحہ 556 مندرجہ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 663 از مرزا قادیانی)

یہ عجیب بات ہے کہ مرزا قادیانی جن زبانوں کے سمجھنے سے بالکل عاری اور نابلد ہے، اسے انہی زبانوں میں بار بار الہامات ہوتے ہیں۔ اس سے مرزا قادیانی اور اس کے عاجی خدا کی جہالت اور بے علمی ثابت ہوتی ہے۔ کیونکہ اگر مرزا قادیانیجس کو خدابنائے بیٹھا تھا کو معلوم ہوتا کہ مرزا قادیانی عبرانی، انگریزی اور عربی زبان سے بالکل ناواقف اور عاری ہے تو وہ کبھی ایسے الہام یا وحی نازل نہ کرتا۔
بقول مرزا قادیانی ''یہ بالکل غیر معقول اور بیہودہ امر ہے کہ انسان کی اصل زبان تو کوئی ہو اور الہام اس کو کسی اور زبان میں ہو ''۔ اب آپ خود فیصلہ کریں کہ کیا یہ غیر معقول اور بے ہودہ امر نہیں ہے کہ مرزا قادیانی کی اصل زبان تو کوئی اور ہو اور اسے الہام کسی اور زبان میں ہو جس کو وہ خود بھی نہیں سمجھ سکتا۔نہ معلوم قادیانیوں کی عقل میں یہ سب کچھ دیکھ کر بھی یہ بات کیوں نہیں آتی کہ وہ جس راستہ کو کامیابی سمجھے بیٹھے ہیں وہ دنیا و آخرت کا خسارہ ہے۔ اﷲ امت مسلمہ کو اس فتنہ سے محفوظ فرمائے ۔