مرزا قادیانی کی بیماریاں
انبیائے کرام انسانوں میں اللہ تعالیٰ کا بہترین انتخاب ہوتے ہیں۔ انھیں نبوت و رسالت ایسے عظیم ترین منصب سے سرفراز اور ممتاز کیا جاتا ہے۔ انھیں جہاں دیگر اعلیٰ ترین اوصافِ حمیدہ سے نوازا جاتا ہے، وہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ انبیائے کرام کی صحت نہایت قابل رشک ہوتی ہے۔ اس کے برعکس نبوت کا جھوٹا دعویدار آنجہانی مرزا قادیانی پوری زندگی جسمانی اور دماغی بیماریوں کا شکار رہا۔ وہ بیمار نہیں بلکہ ''بیماری'' تھا۔ سستی نامردی سے لے کر مراق تک ہر بیماری اسے ''جاناں'' سمجھ کر چمٹی ہوئی تھی۔ مرزا قادیانی چلتا پھرتا بیماریوںکا ہسپتال تھا۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ آنجہانی مرزا قادیانی کو کون کون سی پیچیدہ بیماریاں لاحق تھیں:

(1)مائی اوپیا ''ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت صاحب کی آنکھوں میں مائی اوپیا تھا ، اسی وجہ سے پہلی رات کا چاند نہ دیکھ سکتے تھے۔''                                                                                      (سیرت المہدی، جلد سوم صفحہ119 از مرزا بشیر احمد)
(2)چشم نیم باز ''مولوی شیر علی صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت صاحب مع چند خدام کے فوٹو کھنچوانے لگے تو فوٹو گرافر آپ سے عرض کرتا تھا کہ حضور ذرا آنکھیں کھول کر رکھیں ورنہ تصویر اچھی نہیں آئے گی اور آپ نے اس کے کہنے پر ایک دفعہ تکلف کے ساتھ آنکھوں کو کچھ زیادہ کھولا بھی مگر وہ پھر اسی طرح نیم بند ہوگئیں۔''  

                                                                                                      (سیرت المہدی، جلد دوم صفحہ77 از مرزا بشیر احمد ایم اے)


(3)مخبوط الحواس''ایک دفعہ کوئی شخص آپ کے لیے گرگابی لے آیا آپ نے پہن لی مگر اس کے اُلٹے سیدھے پائوں کا آپ کو پتہ نہیں لگتا تھا، کئی دفعہ الٹی پہن لیتے تھے اور پھر تکلیف ہوتی تھی۔ بعض دفعہ آپ کا الٹا پائوں پڑ جاتا تو تنگ ہو کر فرماتے ان کی کوئی چیز بھی اچھی نہیں ہے۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ میں نے آپ کی سہولت کے واسطے اُلٹے سیدھے پائوں کی شناخت کے لیے نشان لگا دیے تھے مگر باوجود اس کے آپ اُلٹا سیدھا پہن لیتے تھے اس لیے آپ نے اسے اتار دیا۔''
                                                                                                                                (سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 67 از مرزا قادیانی)
(4)ذیابیطس، سو سو دفعہ پیشاب ''مجھے اس وقت ایک اپنا سرگذشت قصہ یاد آتا ہے اور وہ یہ کہ مجھے کئی سال سے ذیابیطس کی بیماری ہے۔ پندرہ بیس مرتبہ روز پیشاب آتا ہے۔ اور بعض وقت سو سو دفعہ ایک ایک دن میں پیشاب آیا ہے اور بوجہ اس کے کہ پیشاب میں شکر ہے، کبھی کبھی خارش کا عارضہ بھی ہو جاتا ہے اور کثرت پیشاب سے بہت ضعف تک نوبت پہنچتی ہے۔ ایک دفعہ مجھے ایک دوست نے یہ صلاح دی کہ ذیابیطس کے لیے افیون مفید ہوتی ہے۔ پس علاج کی غرض سے مضائقہ نہیں کہ افیون شروع کر دی جائے۔ میں نے جواب دیا کہ یہ آپ نے بڑی مہربانی کی کہ ہمدردی فرمائی لیکن اگر میں ذیابیطس کے لیے افیون کھانے کی عادت کر لوں تو میں ڈرتا ہوں کہ لوگ ٹھٹھا کر کے یہ نہ کہیں کہ پہلا مسیح تو شرابی تھا، اور دوسرا افیونی۔''

(نسیمِ دعوت صفحہ 74، 75 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 434، 435 از مرزا قادیانی)


(5)حالتِ مردمی کالعدم ''میرا دل اور دماغ سخت کمزور تھا اور میں بہت سے امراض کا نشانہ رہ چکا تھا اور دو مرضیں یعنی ذیابیطس اور درد سر مع دورانِ سر، قدیم سےمیرے شامل حال تھیں جنکے ساتھ بعض اوقات تشنجِ قلب بھی تھا۔ اس لیے میری حالتِ مردمی کالعدم تھی۔''

(تریاق القلوب صفحہ75خزائن جلد 15 صفحہ 203 از مرزا قادیانی)

(6)سردرد، کمی خواب، تشنجِ دل، ذیابیطس، کثرت پیشاب ''میں ایک دائم المرض آدمی ہوں۔۔۔۔ سو ایک چادر میرے اوپر کے حصہ میں ہے کہ ہمیشہ سردرد اور دوران سر اور کمی خواب اور تشنج دل کی بیماری دورہ کے ساتھ آتی ہے اور دوسری چادر جو میرے نیچے کے حصہ بدن میں ہے، وہ بیماری ذیابیطس ہے کہ ایک مدت سے دامنگیرہے ، اور بسا اوقات سو سو دفعہ رات کو یا دن کو پیشاب آتا ہے، اور اس قدرکثرت پیشاب سے جس قدر عوارض ضعف وغیرہ ہوتے ہیں، وہ سب میرے شامل حال رہتے ہیں۔''                                                                                (ضمیمہ اربعین نمبر4 صفحہ4 مندرجہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 470، 471از مرزا قادیانی)
(7)سردرد، کثرتِ پیشاب و دست ''مجھے دو مرض دامن گیر ہیں۔ ایک جسم کے اوپر کے حصہ میں کہ سردرد اور دورانِ سر اور دورانِ خون کم ہو کر ہاتھ پیر سرد ہو جانا، نبض کم ہو جانا، دوسرے جسم کے نیچے کے حصہ میں کہ پیشاب کثرت سے آنا اور اکثر دست آتے رہنا۔ ''

 (نسیم دعوت صفحہ 75 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 435 از مرزا قادیانی)


(8)دورے ''بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ اوائل میں ایک دفعہ حضرت مسیح موعود کو سخت دورہ پڑا۔ کسی نے مرزا سلطان احمد اور مرزا فضل احمد کو بھی اطلاع دے دی اور وہ دونوں آ گئے۔ پھر ان کے سامنے بھی حضرت صاحب کو دورہ پڑا۔ والدہ صاحبہ فرماتی ہیں۔ اس وقت میں نے دیکھا کہ مرزا سلطان احمد تو آپ کی چارپائی کے پاس خاموشی کے ساتھ بیٹھے رہے۔ مگر مرزا فضل احمد کے چہرہ پر ایک رنگ آتا تھا اور ایک جاتا تھا اور وہ کبھی اِدھر بھاگتا تھا اور کبھی اُدھر۔ کبھی اپنی پگڑی اتار کر حضرت صاحب کی ٹانگوں کو باندھتاتھا اور کبھی پائوں دبانے لگ جاتا تھا اور گھبراہٹ میں اس کے ہاتھ کانپتے تھے۔''

(سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 28 از مرزا بشیر احمد ایم اے)

(9)مرگی ''مجھے دو بیماریاں مدت دراز سے تھیں۔ ایک شدید دردِ سر جس سے میں نہایت بیتاب ہو جاتا تھا اور ہولناک عوارض پیدا ہو جاتے تھے اور یہ مرض قریباً پچیس برس تک دامنگیر رہی اور اس کے ساتھ دورانِ سر بھی لاحق ہو گیا اور طبیبوں نے لکھا کہ ان عوارض کا آخر نتیجہ مرگی ہوتی ہے۔ چنانچہ میرے بڑے بھائی مرزا غلام قادر قریباً دو ماہ تک اسی مرض میں مبتلا ہو کر آخر مرض صرع میں مبتلا ہو گئے اور اسی سے ان کا انتقال ہو گیا۔''

(حقیقتہ الوحی صفحہ 363 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 376 از مرزا قادیانی)


(10)سِل''بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ ایک دفعہ تمھارے دادا کی زندگی میں حضرت صاحب کو سِل ہو گئی اور چھ ماہ تک بیمار رہے اور بڑی نازک حالت ہو گئی، حتیٰ کہ زندگی سے ناامیدی ہو گئی۔ ۔۔۔۔۔''                                                                             

 (سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 55، 56 از مرزا قادیانی)


(11)قولنج زحیری''ایک مرتبہ میں قولنج زحیری سے سخت بیمار ہوا اور سولہ دن پاخانہ کی راہ سے خون آتا رہا اور سخت درد تھا جو بیان سے باہر ہے۔''
                                                                                (حقیقتہ الوحی صفحہ 234 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 246 از مرزا قادیانی)
(12)خارش''ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود کو غالباً 1892ء میں ایک دفعہ خارش کی تکلیف بھی ہوئی تھی۔ اس واقعہ کے بہت عرصہ بعدایک دفعہ ہنس کر فرمانے لگے کہ خارش والے کو کھجانے سے اتنا لطف آتا ہے کہ بعض لوگوں نے لکھا ہے کہ ہر بیماری کا اجر انسان کو آخرت میں ملے گا، سوائے خارش کے۔ کیونکہ خارش کابیمار دنیا میں ہی اس سے لذت حاصل کر لیتا ہے۔ ''             (سیرت المہدی جلد سوم صفحہ 53 از مرزا بشیر احمد ایم اے)
(13)لکنت''قاضی محمد یوسف صاحب پشاوری نے مجھ سے بذریعہ خط بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی زبان میں کسی قدر لکنت تھی اور آپ پر نالے کو پنالہ فرمایا کرتے تھے۔''                                                                                   

 (سیرت المہدی، جلد دوم صفحہ25 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی)

(14)دانتوں کو کیڑا ''دندانِ مبارک آپ کے آخر عمر میں کچھ خراب ہوگئے تھے، یعنی کیڑا بعض ڈاڑھوں کو لگ گیا تھا جس سے کبھی کبھی تکلیف ہوجاتی تھی۔ چنانچہ ایک دفعہ ایک ڈاڑھ کا سرا ایسا نوکدارہوگیا تھا کہ اس سے زبان میں زخم پڑ گیا تو ریتی کے ساتھ اس کو گھسوا کر برابر بھی کرایا تھا۔ مگر کبھی کوئی دانت نکلوایا نہیں۔''                                      

                                                                      (سیرت المہدی، جلد دوم صفحہ125 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی)


(15)پھٹی ہوئی ایڑھیاں''پیر کی ایڑیاں آپ کی بعض دفعہ گرمیوں کے موسم میں پھٹ جایا کرتی تھیں۔''

                                                                                                  (سیرت المہدی، جلد دوم صفحہ125 از مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی)

(16)بال سفید''فرمایا کرتے تھے کہ ہمارے بال تیس سال کی عمر میں سفید ہونے شروع ہوئے تھے (البتہ دل آخری وقت تک سیاہ رہا۔ ناقل) اور پھر جلد جلد سب سفیدہوگئے۔''                                                                                                                                               

 (ذکر حبیب صفحہ38 از مفتی محمد صادق قادیانی)


(17)لاغر بازو ''بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم اے کہ ایک دفعہ والد صاحب اپنے چوبارے کی کھڑکی سے گر گئے اور دائیں بازو پر چوٹ آئی۔ چنانچہ آخر عمر تک وہ ہاتھ کمزور رہا۔ ۔۔ اس ہاتھ سے آپ لقمہ تو منہ تک لے جا سکتے تھے مگر پانی کا برتن وغیرہ منہ تک نہیں اُٹھا سکتے تھے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ نماز میں بھی آپ کو دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ کے سہارے سے سنبھالنا پڑتا تھا۔''    

                                                                                                       (سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 216، 217 از مرزا بشیر احمد ایم اے)

(18)حافظہ خراب ''میرا حافظہ بہت خراب ہے۔ اگر کئی دفعہ کسی کی ملاقات ہو، تب بھی بھول جاتا ہوں۔ یاددہانی عمدہ طریقہ ہے۔ حافظہ کی یہ ابتری ہے کہ بیان نہیں کر سکتا۔''                                                                             (مکتوبات احمد جلد دوم صفحہ 483 (طبع جدید) از مرزا قادیانی)
(19)سرعت انزال ''ایک مرض مجھے نہایت خوفناک تھی کہ صحبت کے وقت لیٹنے کی حالت میں نعوظ بکلی جاتا رہتا تھا۔ شاید قلت حرارت غریزی اس کا موجب تھی۔ وہ عارضہ بالکل جاتا رہا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ دوا حرارت غریزی کو بھی مفید ہے اور منی کو بھی غلیظ کرتی ہے۔''                                                      

  (مکتوبات احمد جلد دوم صفحہ 20 (طبع جدید) از مرزا قادیانی)

(20)ہسٹریا کے دورے''بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود کو پہلی دفعہ دورانِ سر اور ہسٹریا کا دورہ بشیر اول (ہمارا ایک بڑا بھائی ہوتا تھا جو 1888ء میں فوت ہو گیا تھا) کی وفات کے چند دن بعد ہوا تھا۔ رات کو سوتے ہوئے آپ کو اتھو آیا اور پھر اس کے بعد طبیعت خراب ہو گئی۔ مگر یہ دورہ خفیف تھا۔ پھر اس کے کچھ عرصہ بعد ۔۔۔۔۔۔۔ پھر اس کے بعد کچھ تو دوروں کی ایسی سختی نہیں رہی اور کچھ طبیعت عادی ہو گئی۔ خاکسار نے پوچھا اس سے پہلے تو سر کی کوئی تکلیف نہیں تھی؟ والدہ صاحبہ نے فرمایا پہلے معمولی سر درد کے دورے ہوا کرتے تھے۔ ۔۔۔۔''(سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 16، 17 از مرزا بشیر احمد ایم اے)
(21)ہسٹریا اور مراق ''ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے کئی دفعہ حضرت مسیح موعود سے سنا ہے کہ مجھے ہسٹریا ہے۔ بعض اوقات آپ مراق بھی فرمایا کرتے تھے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔'' (سیرت المہدی جلد دوم صفحہ 55 از مرزا بشیر احمد ایم اے)
جبکہ قادیانی رسالے کے مطابق''ایک مدعی الہام کے متعلق اگر یہ ثابت ہو جائے کہ اس کو ہسٹریا یا مالیخولیا یا مرگی کا مرض تھا تو اس کے دعویٰ کی تردید کے لیے کسی اور ضرب کی ضرورت نہیں رہتی کیونکہ یہ ایک ایسی چوٹ ہے جو اس کی صداقت کی عمارت کو بیخ و بن سے اکھاڑ دیتی ہے۔'' (ریویو آف ریلیجنز قادیاں اگست 1926ء مضمون شاہنواز قادیانی)
(22) مرزا قادیانی خود ما نتا ہے کہ ''انبیا خبیث امراض سے محفوظ رکھے جاتے ہیں۔''                                

(ملفوظات جلد اوّل صفحہ 397 طبع جدید از مرزا قادیانی)


مگرکیونکہ نبوت کا جھوٹادعویدار تھا اس لیے اﷲ کی طرف سے بیماریاں اسے اس طرح چمٹیں جیسے کوڑے کے ڈھیرپر مکھیاں چمٹ جاتی ہیں ۔ خود ہی مان گیا کہ
(23) ''اس عاجز کی عمر اس وقت پچاس برس سے کچھ زیادہ ہے اور ضعیف اور دائم المرض اور طرح طرح کے مرض میں مبتلا ہے۔''
                                                                                       (سراج منیر صفحہ 15 مندرجہ روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 17 از مرزا قادیانی)


مندرجہ بالا حالات کے حامل شخص کے بارے میں فیصلہ کرنا ذرا مشکل نہیں رہ جا تا جبکہ اس کا اپنا اقرار بھی سامنے آگیا ہو کہ یہ شخص جھوٹا تھا ۔مگر قادیانی مربیوں کی عقل کا کیا کریں کہ وہ ان بیماریوں کو بھی مرزا قادیانی کی صداقت کا نشان بتاتے ہیں ۔یہ قرآن پاک کی آیت مبارکہ ''ختم اللّٰہ علی قلوبہم'' کی زندہ مثال ہے ۔ اللہ ہر مسلمان کے ایمان کی اس فتنے سے حفاظت فرمائے اور وہ قادیانی جو حق کے متلاشی ہیں ان کے لیے حق کی را ہ پر آنا آسان فرمائے۔آمین