ہندئوں کو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین پر کس نے اُبھارا؟
اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ جھوٹے خدائوں کو بھی گالی نہ دو مبادا یہ کہ وہ تمہارے سچے خدا کو گالی دیں۔مرزا قادیانی کو انگریز نے نہ صرف امت مسلمہ میں فساد ڈالنے اور جاسوسی کرنے کا کام سونپا بلکہ اسی شخص کے ذریعہ سے ہندو مسلم فساد برپا کر نے کاکام بھی لیا ۔ ایک عرصہ تک مرزا قادیانی اور اس کی جماعت کو ہندوستان میں مسلمانوں کا ہی ایک فرقہ سمجھا جاتا رہا ۔اس دوران مرزا قادیان نے مسلمان بن کر ہندئوں کے مذہبی عقائد کو خوب برا بھلا کہا،ان پرفحش شعر لکھے جس میں ان کے ایک مذہبیحکم نیوگ کو بنیاد بنا کران کی عورتوں کو بازاری عورتیں کہا اور مردوں کو دلال ثابت کیا اور یہ سب مسلمانوں اور اسلام کے ذمہ ڈال دیا ۔مرزا قادیانی کی تحریریں ملاحظہ کیجئے
(1)نیوگ، روز کی مشق: ''واضح ہو کہ آریہ سماج کے اصولوں میں سے نہایت قبیح اور قابلِ شرم نیوگ کا مسئلہ ہے، جس کو پنڈت دیانند صاحب نے بڑی جرأت کے ساتھ اپنی کتاب ستیارتھ پرکاش میں درج کیا ہے اور وید کی قابل فخر تعلیم اس کو ٹھہرایا ہے۔ اور اگر وہ اس مسئلہ کو صرف بیوہ عورتوں تک محدود رکھتے، تب بھی ہمیں کچھ غرض نہیں تھی کہ ہم اس میں کلام کرتے مگر انھوں نے تو اس اصول، انسانی فطرت کے دشمن کو، انتہا تک پہنچا دیا، اور حیا اور شرم کے جامہ سے بالکل علیحدہ ہو کر یہ بھی لکھ دیا کہ ایک عورت جو خاوند زندہ رکھتی ہے اور وہ کسی بدنی عارضہ کی وجہ سے اولاد نرینہ پیدا نہیں کر سکتا۔ مثلاً لڑکیاں ہی پیدا ہوتی ہیں، یا بباعث رقتِ منی کے اولاد ہی نہیں ہوتی، یا وہ شخص گو جماع پر قادر ہے، مگر بانجھ عورتوں کی طرح ہے، یا کسی اور سبب سے اولاد نرینہ ہونے میں توقف ہو گئی ہے، تو ان تمام صورتوں میں اس کو چاہیے کہ اپنی عورت کو کسی دوسرے سے ہم بستر کراوے۔ اور اس طرح پر وہ غیر کے نطفہ سے گیارہ بچے حاصل کر سکتا ہے گویا قریباً بیس برس تک اس کی عورت دوسرے سے ہم بستر ہوتی رہے گی۔ جیسا کہ ہم نے مفصل کتاب کے حوالہ سے یہ تمام ذکر اپنے رسالہ آریہ دھرم میں کر دیا ہے اور حیا مانع ہے کہ ہم اس جگہ وہ تمام تفصیلیں لکھیں۔ غرض اسی عمل کا نام نیوگ ہے۔
مجھے ٹھیک ٹھیک معلوم نہیں کہ نیوگ میں یعنی اپنی بیوی کو دوسرے سے ہم بستر کروا کر صرف گیارہ بچوں تک لینے کا حکم ہے یا زیادہ۔ مدت ہوئی کہ میں نے ستیارتھ پرکاش میں پڑھا تو تھا مگر حافظہ اچھا نہیں، یاد نہیں رہا۔ آریہ صاحبان خود مطلع فرمائیں۔ کیونکہ بوجہ روز کی مشق کرانے کے ان کو خوب یاد ہوگا۔ (حاشیہ)

(نسیم دعوت صفحہ 78 تا 80 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 438 تا 440 بمعہ حاشیہ از مرزا قادیانی)

ملاحظہ کیجئے ہندئوں کی عورتوں کے بارے میں مرزا قادیانی کی ایک نظم


(2)             ''چپکے چپکے حرام کروانا آریوں کا اصول بھاری ہے
                  زن بیگانہ پر یہ شیدا ہیں جس کو دیکھو وہی شکاری ہے
                غیر مردوں سے مانگنا نطفہ سخت خبث اور نابکاری ہے
                 غیر کے ساتھ جو کہ سوتی ہے وہ نہ بیوی زن بزاری ہے
                نام اولاد کے حصول کا ہے ساری شہوت کی بے قراری ہے
                بیٹا بیٹا پکارتی ہے غلط یار کی اس کو آہ و زاری ہے
                دس سے کروا چکی زنا لیکن پاک دامن ابھی بچاری ہے
                گھر میں لاتے ہیں اس کے یاروں کو ایسی جورو کی پاسداری ہے
                اس کے یاروں کو دیکھنے کے لیے سرِ بازار ان کی باری ہے
                ہے قوی مرد کی تلاش انہیں خوب جورد کی حق گذاری ہے''

(آریہ دھرم صفحہ 75، 76 مندرجہ روحانی خزائن جلد10صفحہ 75، 76 از مرزا قادیانی)


(3)
پر میشر کی جگہ: ''پر میشر ناف سے دس انگلی نیچے ہے (سمجھنے والے سمجھ لیں)۔''

(چشمہ معرفت صفحہ 106 مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 114 از مرزا قادیانی)


پرمیشر ہندوئوں کے خدا کو کہتے ہیں۔ مرزا قادیانی نے ہندوئوں کے خدا کو اپنی ناف سے دس انگل نیچے قرار دے کر انہیں بہت بڑی گالی دی۔ اس کے رد عمل میں ہندوئوں نے نہ صرف اپنے جلوسوں میں اسلام اور حضرت محمد مصطفی ۖ کی توہین کی بلکہ مسلمانوں کی دل آزاری پر مبنی ''ستیارتھ پرکاش'' نامی رسوائے زمانہ کتاب بھی لکھی جس کے پہلے ایڈیشن میں صرف 13ابواب تھے جبکہ مرزا قادیانی کی طرف سے ہندوئوں کی مذہبی شخصیات کو گالیاں دینے کے بعد چودھویں باب کا اضافہ کیا گیا جس میں انہوں نے حضور نبی کریم ۖ کو ناقابل بیان گالیاں دیں۔ پھر ایک عرصہ بعد بدنام ترین کتاب ''رنگیلا رسول'' بھی لکھی گئی جس سے برعظیم کے مسلمانوں میں کہرام برپا ہوگیا۔ اس کی تمام تر ذمہ داری مرزا قادیانی اور اس کی ذریت پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے اپنی تحریروں کے ذریعے ہندوئوں کو اشتعال دلایا۔