مرزا قادیانی ایک ڈرپوک اور بزدل شخص
خفقان زدہ قادیان کا جھوٹا مدعی نبوت و رسالت مرزا غلام احمد قادیانی انتہائی بزدل، کمزور دل اور ڈرپوک شخصیت کا مالک تھا۔ مگر اُسے شیخ چلی کی طرح بہادر بننے کا بہت شوق تھا۔ مراق اور مالیخولیا کے بخارات جب اس کے دماغ کو چڑھتے تو وہ خبطِ عظمت میں مبتلا ہو جاتا اور اسے جو بھی نام یا خطاب یاد آ جاتا، اسے الہام کا جامہ پہنا کر اپنے اوپر فٹ کر لیتا۔ ایسے ہی ناموں میں اس کا ایک نام ''امین الملک جے سنگھ بہادر'' بھی ہے۔مرزا قادیانی اپنے بہادر ہونے کے سلسلہ میں لکھتا ہے:
(1) ''اور ہم ایسے نہیں ہیں کہ کوئی موت ہمیں خدا کی راہ سے ہٹا دے اور اگرچہ خدا کی راہ میں ہم مجروح ہو جائیں یا ذبح کیے جائیں۔''
 

(براہین احمدیہ حصہ پنجم (ضمیمہ) صفحہ 153 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 321 از مرزا قادیانی)


(2) ''ہم خدا کے مرسلین اور مامورین کبھی بزدل نہیں ہوا کرتے، بلکہ سچے مومن بھی بزدل نہیں ہوتے۔ بزدلی ایمان کی کمزوری کی نشانی ہے۔''

(ملفوظات جلد چہارم صفحہ 286 طبع جدید از مرزا قادیانی)


مرزا قادیانی کا ایک شعر ہے:
(3) جو خدا کا ہے اسے للکارنا اچھا نہیں         ہاتھ شیروں پر نہ ڈال اے روبہ زار و نزار

(براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 101 روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 131، از مرزا قادیانی)


(4) مرزا قادیانی کہتا ہے: ''اور میرے ساتھ تو خدا تعالیٰ کے پاسبان ہیں کہ وہ میری میرے دشمنوں سے حفاظت کرتے ہیں۔''

(خطبہ الہامیہ صفحہ 64 مندرجہ روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 110، 111 از مرزا قادیانی)


(5) مرزا قادیانی نے مزید کہا:''براہینِ احمدیہ میں میری نسبت خدا تعالیٰ کی یہ پیش گوئی ہے کہ قتل وغیرہ کے منصوبوں سے میں بچایا جائوں گا۔''

(حقیقة الوحی صفحہ 234 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 234 از مرزا قادیانی)


(6) مرزا قادیانی کا بیٹا مرزا بشیر احمد لکھتا ہے: ''اور خدا کی طرف سے آپ کو ایک رعب عطا ہوا تھا جس کے سامنے دلیر سے دلیر دشمن بھی کانپنے لگ جاتا تھا اور آپ ایک معجز نما حسن و احسان سے آراستہ کیے گئے تھے۔''

(سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ 138 از مرزا بشیر احمد ایم اے)


مذکورہ بالا حوالوں سے پتہ چلتا ہے کہ:
(1) مرزا قادیانی سکھوں کی طرح بہادر تھا۔ (2) مرزا قادیانی کو دنیا کی کوئی طاقت کسی کام سے ہٹا نہیں سکتی تھی خواہ وہ مجروح ہوتا یا ذبح کیا جاتا۔(3) مرزا قادیانی بزدل نہیں تھا کیونکہ بزدلی ایمان کی کمزوری کی نشانی ہے۔ (4) مرزا قادیانی شیر تھا اور شیر کو للکارنا اچھا نہیں۔
(5) مرزا قادیانی سے اللہ تعالیٰ کا یہ بھی وعدہ تھا کہ وہ قتل وغیرہ کے منصوبوں سے بچایا جائے گا۔ (6) خدا کے پاسباں مرزا قادیانی کی حفاظت کرتے تھے۔(7) بقول مرزا بشیر احمد، مرزا قادیانی کو خدا کی طرف سے ایسا رعب عطا ہوا تھا کہ بڑے سے بڑے دشمن بھی اس کے سامنے کانپنے لگ جاتے تھے۔
آئیے اب دیکھتے ہیں کہ مرزا قادیانی واقعی بہادر، دلیر اور نڈر تھا؟ کیا اسے اپنے الہامات پر پورا یقین تھا؟ اور کیا وہ جو کہتا تھا، اس پر پورا بھی اترتا تھا؟
ایک طرف مرزا قادیانی یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ شیر ہے اور شیر کو للکارنا اچھا نہیں۔اور دوسری طرف
حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑوی اوران کے ساتھ آنے والے پٹھا نوں کا ڈر
مرزا نے حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑوی کو مناظرے کا چیلنج دیا تو پیر صاحب نے اس کو مرزا کی تمام شرائط پر قبول کر لیا۔ لیکن جب مرزا قادیانی کو پتہ چلا کہ جناب پیر صاحب مناظرہ کے لیے لاہور تشریف لا رہے ہیں تو اس کے ہاتھ پائوں پھول گئے اور مقررہ تاریخ کو وہ اس مناظرہ میں نہ آیا اور پیٹھ دکھا کر بھاگ گیا۔ بعد میں اس نے مندرجہ ذیل عذر کیا:
(07) ''اور میں بہرحال لاہور پہنچ جاتا مگر میں نے سنا ہے کہ اکثر پشاور کے جاہل سرحدی پیر صاحب کے ساتھ ہیں۔ اور ایسا ہی لاہور کے اکثر سفلہ اور کمینہ طبع لوگ گلی کوچوں میں مستوںکی طرح گالیاں دیتے پھرتے ہیں اور نیز مخالف مولوی بڑے جوشوں سے وعظ کر رہے ہیں کہ یہ شخص واجب القتل ہے۔ تو اس صورت میں لاہور میں جانا بغیر کسی احسن انتظام کے کس طرح مناسب ہے۔''

(مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 461 طبع جدید از مرزا قادیانی)


ایک طرف مرزا قادیانی یہ ڈھنڈورا پیٹتا ہے کہ بزدلی ایمان کی کمزوری کی نشانی ہے اور دوسری طرف
مسلمانوں کو بزدلی اختیار کرنے کا مشورہ
قادیانی اکثر پروپیگنڈا کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے عیسائیت کے غلط عقائد کا جواب دیا اور اس طرح اسے کسرِ صلیب کا اعزاز حاصل ہوا۔ لیجیے دیکھتے ہیں کہ مرزا قادیانی عیسائیت کے غلط عقائد کے خلاف کام کرنے والوں کو کیا مشورہ دیتا ہے:
(08) ''یہ بھی تو سوچو کہ پادری صاحبوں کا مذہب ایک شاہی مذہب ہے۔ لہٰذا ہمارے ادب کا یہ تقاضا ہونا چاہیے کہ ہم اپنی مذہبی آزادی کو ایک طفیلی آزادی تصور کریں، اور اس طرح پر ایک حد تک پادری صاحبوں کے احسان کے بھی قائل رہیں۔ گورنمنٹ اگر ان کو باز پرس کرے تو ہم کس قدر باز پرس کے لائق ٹھہریں گے۔ اگر سبز درخت(یعنی عیسائیت :از مئولف) کاٹے جائیں تو پھر خشک (یعنی اسلام:از مئولف) کی کیا بنیاد ہے۔ کیا ایسی صورت میں ہمارے ہاتھ میں قلم رہ سکے گی؟ سو ہوشیار ہو کر طفیلی آزادی کو غنیمت سمجھو اور اس محسن گورنمنٹ کو دعائیں دو جس نے تمام رعایا کو ایک ہی نظر سے دیکھا۔''

(البلاغ صفحہ 24 مندرجہ روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 392 از مرزا قادیانی)


ایک طرف تو یہ دعویٰ ہے کہ بقول مرزا بشیر احمد، مرزا کو خدا کی طرف سے رعب عطا ہوا تھا کہ بڑے دشمن بھی اس کے سامنے کانپنے لگ جاتے تھے۔اور مرزے کا اپنا حال یہ تھا
زلزلہ سے پہلے میں خود ڈر گیا
(09) ''اور جس آنے والے زلزلہ سے میں نے دوسروں کو ڈرایا، ان سے پہلے میں آپ ڈرا اور اب تک قریباً ایک ماہ سے میرے خیمے باغ میں لگے ہوئے ہیں۔ میں واپس قادیان میں نہیں گیا۔''                                                     (مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 649 طبع جدید از مرزا قادیانی)
ایک طرف تو یہ دعوی ٰ ہے کہ مرزا قادیانی کو دنیا کی کوئی طاقت کسی کام سے ہٹا نہیں سکتی تھی خواہ وہ مجروح ہوتا یا ذبح کیا جاتااور دوسری طرف
انگریز ڈپٹی کمشنر کی عدالت میں
(10) جو پنجاب اور ہندوستان اور دوسرے ممالک میں رہتے ہیں اور نیز دوسروں کے لیے اعلان جو کہ ایک مقدمہ زیر دفعہ 107 ضابطہ فوجداری مجھ پر اور مولوی ابو سعید محمد حسین بٹالوی ایڈیٹر اشاعت السنہ پر عدالت جے۔ ایم ڈوئی صاحب ڈپٹی کمشنر ضلع گورداسپور میں دائر تھا۔ بتاریخ 24 فروری 1899ء بروز جمعہ اس طرح پر اس کا فیصلہ ہوا کہ فریقین سے اس مضمون کے نوٹسوں پر دستخط کرائے گئے کہ آئندہ کوئی فریق اپنے کسی مخالف کی نسبت موت وغیرہ دل آزار مضمون کی پیشگوئی نہ کرے۔ کوئی کسی کو کافر اور دجال اور مفتری اور کذاب نہ کہے۔ کوئی کسی کو مباہلہ کے لیے نہ بلاوے۔''                                                                         (مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 299 طبع جدید از مرزا قادیانی)
آئندہ پیش گوئی سے میری توبہ
(11) ''اور ہم تو ایک عرصہ گزر گیا کہ اپنے طور پر یہ عہد شائع بھی کر چکے کہ آئندہ کسی مخالف کے حق میں موت وغیرہ کی پیشگوئی نہیں کریں گے۔''                                                                                            (مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 300 طبع جدید از مرزا قادیانی)
ایک طرف تو بقول مرزا قادیانی اس سے اللہ تعالیٰ کا یہ بھی وعدہ تھا کہ وہ قتل وغیرہ کے منصوبوں سے بچایا جائے گا۔اور دوسری طرف
حج نہ کرنے کی وجہ قتل ہو جانے کا ڈر
ایک موقع پر مرزا قادیانی پر اعتراض ہوا کہ اگر آپ مسیح موعود ہیں تو آپ حج کے لئے کیوں نہیں جاتے؟ تو اس نے جواب میں کہا کہ مجھے اپنی جان کا خطرہ ہے۔ ایسا نہ ہو کہ موقع پر لوگ مجھے قتل کردیں۔ لہٰذا جان بچانی فرض ہے۔ پھر ایک عجیب چال چلی اور مزید کہا:
(12) ''تمام مسلمان علماء اوّل ایک اقرار نامہ لکھ دیں کہ اگر ہم حج کر آویں تو وہ سب کے سب ہمارے ہاتھ پر توبہ کر کے ہماری جماعت میں داخل ہو جائیں گے اور ہمارے مرید ہو جائیں گے۔ اگر وہ ایسا لکھ دیں اور اقرار حلفی کریں تو ہم حج کر آتے ہیں۔''

(ملفوظات جلد 5 صفحہ 248، طبع جدید، از مرزا قادیانی)


ایک طرف تو یہ دعویٰ ہے کہ خدا کے پاسباں مرزا قادیانی کی حفاظت کرتے تھے دوسری طرف
مخالفین کے ڈر سے پولیس کا پہرہ
(13) ''حضرت والدہ صاحبہ نے مجھ سے بیان کیا کہ جب حضرت صاحب شروع دعویٰ مسیحیت میں دہلی تشریف لے گئے تھے اور مولوی نذیر حسین کے ساتھ مباحثہ کی تجویز ہوئی تھی، اس وقت شہر میں مخالفت کا سخت شور تھا۔ چنانچہ حضرت صاحب نے افسران پولیس کے ساتھ انتظام کر کے ایک پولیسمین کو اپنی طرف سے تنخواہ دینی کر کے مکان کی ڈیوڑھی پر پہرہ کے لیے مقرر کرا لیا تھا۔ یہ پولیسمین پنجابی تھا۔ اس کے علاوہ ویسے بھی مردانہ میں کافی احمدی حضرت صاحب کے ساتھ ٹھہرے ہوئے تھے۔''

(سیرت المہدی جلد 2 صفحہ 64 از مرزا بشیر احمد ایم اے)

کتا محافظ
(14) ''ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود نے اپنے گھر کی حفاظت کے لیے ایک دفعہ ایک گدی کتا بھی رکھا تھا۔ وہ دروازے پر بندھا رہتا تھا اور اس کا نام شیرو تھا۔ اس کی نگرانی بچے کرتے تھے یا میاں قدرت اللہ خان صاحب مرحوم کرتے تھے جو گھر کے دربان تھے۔''                                                                                                 (سیرت المہدی جلد 3صفحہ 298 از مرزا بشیر احمد)

قارئین کرام سے پرُزور درخواست ہے کہ وہ مرزا قادیانی کی بہادری کے سلسلہ میں اس کا تحریر کردہ کتابچہ ''ستارہ قیصرہ'' کا ضرور مطالعہ فرمائیں۔ ستارہ قیصرہ ایک خط ہے جو مرزا قادیانی نے ملکہ وکٹوریہ (والیۂ برطانیہ) کو لکھا۔ مرزا قادیانی نے اس خط میں ملکہ وکٹوریہ کی مبالغہ آمیز خوشامد کر کے اس کی شان میں زمین و آسمان کے قلابے ملائے ہیں۔ اس خط کا ایک ایک لفظ قادیانیت کی ذلت و رسوائی پر خدائی مہر ہے۔ اس خط کو پڑھنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی ایک اعلیٰ درجے کا جھولی چک اور میراثی تھا۔ اگر وہ اس تملق بھرے کتابچے کا نام ''ستارہ قیصرہ'' کی بجائے ''بھاگ لگے رہن!'' رکھ لیتا تو زیادہ بہتر تھا۔