مرزا قادیانی اور اس کے ''فیض یافتہ'' مرید
قادیان کے جھوٹے مدعی نبوت آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی کتاب ''خطبہ الہامیہ'' میں لکھا ہے کہ جو شخص میری جماعت میں داخل ہوا، درحقیقت وہ ''صحابہ'' کی جماعت میں داخل ہوا۔ (خطبہ الہامیہ صفحہ 171 مندرجہ روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 258 از مرزا قادیانی) ظاہر ہے جب کوئی آدمی کسی جماعت کا پیروکار بن جاتا ہے تو وہ اس سے اثر لیتا ہے۔ اردو کی ایک کہاوت ہے کہ گوہ کا کیڑا گوہ ہی میں خوش رہتا ہے۔ یعنی بری صحبت میں رہنے والا اس محفل کا ضرور اثر لیتا ہے اور اس میں خوش رہتا ہے۔جس طرح سونے کا کھوٹا اور کھرا پن کسوٹی پر پرکھنے سے معلوم ہوتا ہے، اس طرح ہم مرزا قادیانی کے نام نہاد ''صحابہ'' کو بھی اخلاقیات کی کسوٹی پر پرکھ کر دیکھ لیتے ہیں کہ وہ کس قماش کے لوگ تھے۔ صفحات کی کمی کے پیش نظر صرف چند حوالے بطور نمونہ مشتے از خروارے پیش خدمت ہیں:۔
نماز میں نامناسب تکلیف
(1) ''قاضی محمد یوسف صاحب پشاوری نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک زمانہ میں حضرت اقدس حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کے ساتھ اس کوٹھڑی میں نمازکے لیے کھڑے ہوا کرتے تھے جو مسجد مبارک میں بجانب مغرب تھی مگر 1907ء میں جب مسجد مبارک وسیع کی گئی تو وہ کوٹھڑی منہدم کردی گئی۔ اس کوٹھڑی کے اندر حضرت صاحب کے کھڑے ہونے کی وجہ اغلباً یہ تھی کہ قاضی یار محمد صاحب حضرت اقدس کو نماز میں تکلیف دیتے تھے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ قاضی یار محمد صاحب بہت مخلص آدمی تھے مگران کے دماغ میں کچھ خلل تھا جس کی وجہ سے ایک زمانہ میں ان کا یہ طریق ہوگیا تھا کہ حضرت صاحب کے جسم کو ٹٹولنے لگ جاتے تھے اور تکلیف اور پریشانی کا باعث ہوتے تھے۔''

(سیرت المہدی، جلد سوم صفحہ265 از مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی)


اللہ کا بچہ
(2) ''اسی طرح میری کتاب اربعین نمبر 4 صفحہ 19 میں بابو الٰہی بخش صاحب کی نسبت یہ الہام ہے یعنی بابو الٰہی بخش چاہتا ہے کہ تیرا حیض دیکھے یا کسی پلیدی اور ناپاکی پر اطلاع پائے مگر خدا تعالیٰ تجھے اپنے انعامات دکھلائے گا جو متواتر ہوں گے اور تجھ میں حیض نہیں بلکہ وہ بچہ ہو گیا ہے۔ ایسا بچہ جو بمنزلہ اطفال اللہ ہے۔''                                                                                                   (تتمہ حقیقت الوحی صفحہ581،مندرجہ روحانی خزائن جلد22صفحہ581 از مرزا قادیانی)
کم بخت بابو الٰہی بخش کو سوجھی بھی تو کیا سوجھی اور دیکھا بھی تو کیا دیکھا! مرزا قادیانی کا حیض و نفاس اور وہ بھی کن دنوں میں جبکہ مرزا قادیانی ایام ماہواری کی مصیبت میں دوچار تھا۔
مرزے کے ایک مرید کی تحریر
اللہ مرد ، مرز اعورت؟

(3) ''حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک موقع پر اپنی حالت یہ ظاہر فرمائی ہے کہ کشف کی حالت آپ پر اس طرح ہوئی کہ گویا آپ عورت ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت کی طاقت کا اظہار فرمایا تھا، سمجھنے والے کے لیے اشارہ کافی ہے۔''

(اسلامی قربانی ٹریکٹ نمبر34، صفحہ 12 از قاضی یار محمد قادیانی مرید مرزا قادیانی)


جسم پر نامناسب ہاتھ پھیرنا
(4) ''ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ قدیم مسجد مبارک میں حضور (مرزا قادیانی) نماز میں ہمیشہ پہلی صف کے دائیں طرف دیوار کے ساتھ کھڑے ہوا کرتے تھے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں سے آج کل موجودہ مسجد مبارک کی دوسری صف شروع ہوتی ہے۔ یعنی بیت الفکر کی کوٹھڑی کے ساتھ ہی مغربی طرف۔ امام اگلے حجرہ میں کھڑا ہوتا تھا۔ پھر ایسا اتفاق ہوا کہ ایک شخص پر جنون کا غلبہ ہوا اور وہ حضرت صاحب کے پاس کھڑا ہونے لگا اور نماز میں آپ کو تکلیف دینے لگا اور اگر کبھی اس کو پچھلی صف میں جگہ ملتی۔ تو ہر سجدہ میں وہ صفیں پھلانگ کر حضور کے پاس آتا اور تکلیف دیتا اور قبل اس کے کہ امام سجدہ سے سر اٹھائے، وہ اپنی جگہ پر واپس چلا جاتا۔ اس تکلیف سے تنگ آکر حضور (مرزا قادیانی) نے امام کے پاس حجرہ میں کھڑا ہونا شروع کردیا مگر وہ بھلامانس حتی المقدور وہاں بھی پہنچ جایا کرتا اور ستایا کرتا تھا مگر پھر بھی وہاں نسبتاً امن تھا۔ اس کے بعد آپ وہیں نماز پڑھتے رہے یہاں تک کہ مسجد کی توسیع ہوگئی۔ یہاں بھی آپ دوسرے مقتدیوں سے آگے امام کے پاس ہی کھڑے ہوتے رہے۔ مسجد اقصیٰ میں جمعہ اور عیدین کے موقع پر آپ صف اول میں عین امام کے پیچھے کھڑے ہوا کرتے تھے۔ وہ معذور شخص جو ویسے مخلص تھا، اپنے خیال میں اظہار محبت کرتا اور جسم پر نامناسب طور پر ہاتھ پھیر کر تبرک حاصل کرتا تھا۔''

(سیرت المہدی، جلد سوم صفحہ268،269 از مرزا بشیر احمد)


جناب افتخار احمد صاحب (جرمنی) اس حوالہ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
'' دوران نماز ایسی حرکتیں جب بار بار ہو رہی ہوں تو یقینا کوئی بھی شخص ایسی بے ہودہ حرکات دیکھ کر اپنی نماز توجہ سے ادا نہیں کرسکتا۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ لوگ نماز پڑھنے کم اور تماشا دیکھنے زیادہ آتے ہوں۔'' ( ہفت روزہ لولاک، ملتان ستمبر 2009ئ)
قادیان اور سجدہ
(5) ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ جب حضرت مسیح موعود نے پسر موعود کی پیشگوئی شائع فرمائی تو آپ کی زندگی میں ہی ایک شخص نور محمد نامی جو پٹیالہ کی ریاست میں کہیر و گائوں کا رہنے والا تھا, پسر موعود ہونے کا مدعی بن بیٹھا اور بعض جاہل طبقہ کے لوگ اس نے اپنے مرید کر لیے۔ سنا ہے یہ لوگ قادیان کی طرف منہ کر کے نماز پڑھا کرتے تھے اور ایک دفعہ ان کا ایک وفد قادیان بھی آیا تھا۔ انھوں نے حضرت صاحب کو سجدہ کیا مگر حضرت صاحب نے سختی سے منع فرمایا۔ وہ لوگ چند روز رہ کر واپس چلے گئے اور پھر نہیں دیکھے گئے۔''                    (سیرت المہدی جلد سوم صفحہ 232 از مرزا بشیر احمد ایم اے)
قبروں کے کپڑے چوری
(6) ''ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ میاں الہ دین فلاسفر اور پھر اس کے بعد مولوی یار محمد صاحب کو ایک زمانہ میں قبروں کے کپڑے اتار لینے کی دھت ہو گئی تھی یہاں تک کہ فلاسفر نے ان کو بیچ کر کچھ روپیہ بھی جمع کر لیا۔ ان لوگوں کا خیال تھا کہ اس طرح ہم بدعت اور شرک کو مٹاتے ہیں۔ حضرت صاحب نے جب یہ سنا تو اس کام کو ناجائز فرمایا، تب یہ لوگ باز آئے اور وہ روپیہ اشاعت اسلام میں دے دیا۔''

(سیرت المہدی جلد سوم صفحہ 264 از مرزا بشیر احمد ایم اے)


ظاہر ہے یہ رقم ''اشاعت اسلام'' کے لیے مرزا قادیانی کی'' خدمت ''میں ہی پیش کی ہو گی۔یہ پیسہ بھی ہڑپ گیا ۔
تھیٹر
(7) ''حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی)کے امرتسر جانے کی خبر سے بعض اور احباب بھی مختلف شہروں سے وہاں آگئے۔ چنانچہ کپور تھلہ سے محمد خاں صاحب اور منشی ظفر احمد صاحب بہت دنوں وہاں ٹھہرے رہے۔ گرمی کا موسم تھا۔ اور منشی صاحب اور میں ہر دو نحیف البدن اور چھوٹے قد کے آدمی ہونے کے سبب ایک ہی چارپائی پر دونوں لیٹ جاتے تھے۔ ایک شب دس بجے کے قریب میں تھیٹر میں چلا گیا، جو مکان کے قریب ہی تھا۔ اور تماشہ ختم ہونے پر دو بجے رات کو واپس آیا۔ صبح منشی ظفر احمد صاحب نے میری عدم موجودگی میں حضرت صاحب کے پاس میری شکایت کی کہ مفتی صاحب رات تھیٹر چلے گئے تھے۔ حضرت صاحب نے فرمایا۔ ایک دفعہ ہم بھی گئے تھے تاکہ معلوم ہو کہ وہاں کیا ہوتا ہے۔ اس کے سوا اورکچھ نہیں فرمایا۔ منشی ظفر احمد صاحب نے خودہی مجھ سے ذکر کیا کہ میں تو حضرت صاحب کے پاس آپ کی شکایت لے کر گیا تھا اورمیرا خیال تھا کہ حضرت صاحب آپ کو بلا کر تنبیہ کریں گے مگر حضور نے تو صرف یہی فرمایا کہ ایک دفعہ ہم بھی گئے تھے۔''                                                                                                                             (ذکر حبیب صفحہ18 ازمفتی محمد صادق قادیانی)
قوت رجولیت اور ہاتھ کا ایک اشارہ
(8) ''ڈاکٹر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ میاں معراج الدین صاحب عمر کے ساتھ ایک نو مسلمہ چوہڑی لاہور سے آئی۔ اس کے نکاح کا ذکر ہوا۔ تو حافظ عظیم بخش صاحب مرحوم پٹیالوی نے عرض کی کہ مجھ سے کردیا جائے۔ حضرت مسیح موعود نے اجازت دے دی اور اور نکاح ہوگیا۔ دوسرے روز اس مسماة نے حافظ صاحب کے ہاں جانے سے انکار کردیا اور خلع کی خواہش مند ہوئی۔ خلیفہ رجب دین صاحب لاہوری نے حضرت صاحب کی خدمت میں مسجد مبارک میں یہ معاملہ پیش کیا۔ آپ نے فرمایا کہ اتنی جلدی نہیں۔ ابھی صبر کرے۔ پھر اگر کسی طرح گزارہ نہ ہو تو خلع ہوسکتا ہے۔ اس پر خلیفہ صاحب نے جو بہت بے تکلف آدمی تھے، حضرت صاحب کے سامنے ہاتھ کی ایک حرکت سے اشارہ کرکے کہا کہ حضور وہ کہتی ہے کہ حافظ صاحب کی یہ حالت ہے۔ (یعنی قوتِ رجولیت بالکل معدوم ہے) اس پر حضرت صاحب نے خلع کی اجازت دے دی۔''


(سیرت المہدی حصہ سوم صفحہ 227 از مرزا بشیر احمد ایم اے)


واہ کیا بات ہے اپنے گروکو با ت سمجھانے کے لیے کیا اچھا طریقہ اپنایا باادب چیلے نے اور پھر عجیب بات ہے نا ''زد جام عشق'' کے ہوتے ہوئے خلع کی اجازت!(کیونکہ مرزاقادیانی خود بھی نا مرد تھا اس لیی بقول مرزا قادیانی اللہ نے اسے نسخہ زد جام عشق بتایا جس کے کھانے سے وہ بھلا چنگا ہو گیا۔لیکن اگر واقعی ایسا کوئی نسخہ ہوتاتو بجائے خلع کے بے چارے مرید کو کھلا دیتا۔ )مرزا قادیانی خود بھی مانتا ہے کہ


قادیان میں بڑے بڑے خبیث، شریر،ناپاک طبع، کذاب اور مفتری رہتے ہیں
(9) '' یعنی اس گائوں میں بھی بڑے بڑے خبیث اور شریر اور ناپاک طبع اور کذاب اور مفتری رہتے ہیں اور وہ اس لائق تھے کہ قہر الٰہی سب کو ہلاک کر دیوے۔''
 

(نزول المسیح صفحہ 18 مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 394 از مرزا قادیانی)


چند نمونے صرف عبرت کے لیے پیش کیے ہیں تاکہ قادیانی یہ فیصلہ کریں کہ جس جماعت کے بڑے ایسے نالائق تھے اس جماعت کی آخرت کیا ہو گی ؟ اللہ ان قادیانیوں کو جو بغیر سمجھے اس فتنے کو اسلام سمجھ بیٹھے ہیں اسلام کی صحیح سمجھ عطا کرے ۔