مرزاقادیانی کی چند دعائیں جو قبول ہوئیں
مرزا غلام احمد قادیانی کی چند دعائیں جو بارگاہ الٰہی میں قبول ہوئیں
-01پہلی دعا:مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے اشتہار مورخہ27 اکتوبر1894ء کے آخر میں لکھا:''اور میں بالآخر دعا کرتا ہوں کہ اے خدائے قادر علیم اگر آتھم کا عذاب مہلک میں گرفتار ہونا اور احمد بیگ کی دختر کلاںکا آخراس عاجز کے نکاح میں آنا یہ پیش گوئیاں تیری طرف سے ہیں تو ان کو ایسے طور سے ظاہر فرما جو خلق اللہ پہ حجت ہو اور کور باطن حاسدوں کا منہ بندہوجائے ۔ اور اگر اے خداوند یہ پیش گوئیاں تیری طرف سے نہیں ہیں تو مجھے نامرادی اور ذلت کے ساتھ ہلاک کر۔ اگر میں تیری نظر میں مردود اور ملعون اور دجال ہی ہوں جیسا کہ مخالفوں نے سمجھا ہے اور تیری وہ رحمت میرے ساتھ نہیں جو بندہ ابراہیم کے ساتھ اور اسحق کے ساتھ اور اسماعیل کے ساتھ اور یعقوب کے ساتھ اور موسی کے ساتھ اور دائود کے ساتھ اور مسیح ابن مریم کے ساتھ اور خیر الانبیاء محمد صلعم کے ساتھ اور اس امت کے اولیاء کرام کے ساتھ تھی تو مجھے فنا کرڈال اور ذلتوں کے ساتھ مجھے ہلاک کردے اور ہمیشہ کی لعنتوں کا نشانہ بنا اور تمام دشمنوں کو خوش کر اور ان کی دعائیں قبول فرما۔

(مجموعہ اشتہارات، جلد2 ،صفحہ115ـ 116)


نتیجہ: قارئین کرام! نہ احمد بیگ کی بڑی لڑکی (محمدی بیگم) مرزا کے نکاح میں نہ آئی اور تقسیم ہند کے بعد تک حیات رہی سلطان محمد کے ہاں اسی محمدی بیگم سے خوب اولاد بھی ہوئی ، اور دعا کا دوسرا مخاطب آتھم بھی مرزا کی مقرر کردہ میعاد کے اندر عذاب مہلک میں گرفتار ہوا،معلوم ہوا کہ یہ پیشگوئیاں اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں تھیں، لہٰذا اس دعا کا نتیجہ کو مرزاقادیانی نے مانگا تھا کہ ''اگر یہ پیش گوئیاں تیری طرف سے نہیں تو مجھے نامرادی اور ذلت کے ساتھ ہلاک کر''بڑی شان و شوکت سے پورا ہوا ۔سو مرزا قادیانی لعنتی موت مرا اور مال گاڑی (جسے مرزا دجال کا گدھا کہا کرتا تھا)پر اس کی لاش قادیان لیجائی گئی جہاں جلدی سے چند لوگوں نے اس کی آخری رسومات ادا کرکے دبا دیا ۔اور اس باکس کو جس میں مرزا قادیانی کو لایا گیا تھا گورنمنٹ کے آرڈر پر جلا دیا گیا کیونکہ مرزا وبائی ہیضے سے مرا تھا ۔ جس سے ثابت ہوا کہ مرزا، اللہ تعالیٰ کی نظر میں واقعی مردود و ملعون اور دجال تھا۔اور اللہ تعالیٰ نے اس کو ہمیشہ کی لعنتوں کا نشانہ بناد یا۔
-02دوسری دعا:''مولوی ثناء اللہ امرتسری کے ساتھ آخری فیصلہ'' نامی اشتہار میںمرزا نے لکھا:
''اور میں خدا سے دعاکرتا ہوں کہ اے میرے مالک بصیر و قدیر جو علیم و خبیر ہے جو میرے دل کے حالات سے واقف ہے اگر یہ دعویٰ مسیح موعود ہونے کا محض میرے نفس کا افتراء ہے اور میں تیری نظر میں مفسد اور کذاب ہوں اور دن رات افتراء کرنا میرا کام ہے تو اے میرے پیارے مالک میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کی زندگی میں مجھے ہلاک کر اور میری موت سے ان کو اور ان کی جماعت کو خوش کردے۔''آمین''                                                                                                     (مجموعہ اشتہارات جلد3،صفحہ 579)
نتیجہ: مرزا کی یہ دعا بھی اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی اور مولانا مرحوم کی زندگی میں مرزا کو ہلاک کردیا۔ جس سے ثابت ہوا کہ مرزا واقعی اللہ تعالیٰ کی نظر میں مفسد اور کذاب تھا۔اور رات دن افتراء کرنا اس کا کام تھا۔
-03تیسری دعا:اسی اشتہار میں مزید لکھتا ہے :''میں تیرے ہی تقدس اور رحمت کا دامن پکڑ کر تیری جناب میں ملتجی ہوں کہ مجھ میں اور ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما اور جو تیری نگاہ میں درحقیقت مفسد اور کذاب ہے اس کو صادق کی زندگی میں ہی دنیا سے اٹھا لے یاکسی اور نہایت سخت آفت میں جو موت کے برابر ہو، مبتلا کر۔ اے میرے پیارے مالک تو ایسا ہی کر۔ آمین ثم آمین۔ ربنا افتح بیننا و بین قومنا بالحق وانت خیر الفاتحین۔ آمین
بالآخر مولوی صاحب سے التماس ہے کہ وہ میرے اس تمام مضمون کو اپنے پرچہ میں چھاپ دیں اور جو چاہیں اس کے نیچے لکھ دیں۔ اب فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔''
''الراقم ۔ عبداللہ الصمد میرزا غلام احمد المسیح الموعود عافاہ اللہ واید۔
مرقوم تاریخ 15 اپریل 1907ء مطابق یکم ربیع الاول 1325ھ روز دو شنبہ۔'' (مجموعہ اشتہارات جلد3،صفحہ 580,579)
نتیجہ: حق تعالیٰ شانہ نے مرزا کی یہ دعا بھی قبول فرمائی ۔ اور اس دعا کے ایک سال دس دن بعد مرزا کو مولانا مرحوم کی زندگی میں اٹھا لیا۔ جس سے ثابت ہوا کہ مرزا، حق تعالیٰ شانہ کی نگاہ میں درحقیقت میں مفسد اور کذاب تھا۔''
ّ-04قارئین کرام! اوپر واقعات کی روشنی پر آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ مولانا ثناء اللہ مرحوم کے بارے میں مرزا کی دعا قبول ہوئی۔مرزا قادیانی نے سوچا کہ چلو پہلے بھی کئی دعائیں اور پیشینگوئیاں کر لی ہیں نہیں پوری ہوئیں ایک اور سہی ۔مگر یہاں اس سے ایک غلطی ہو گئی اب کے اس نے کو ئی میعاد مقرر نہیں کی تھی اور دو طرفہ بات کر بیٹھا ۔ یعنی پہلے کی طرح کہہ دیتا کہ مولانا دو سال کے اندر اندر مرجائیں گے ۔اور جیسے عبداللہ آتھم کی میعاد مقرر کی تھی وہ اس میعاد میں نہ مرا تو کوئی تائویل کرکے جان چھڑا لی اسی طرح محمدی بیگم کے شوہر کے حوالے سے جو مرنے کا کہا وہ بھی اس میعاد میں نہ مرا تو کوئی تائویل کر لی۔مگر یہاں غلطی سے وہ یہ کہہ بیٹھا کہ جھوٹا سچے کی زندگی میں مر جائے گایعنی یا مولانا نہیں یا میں نہیں ۔ مگر یہ غلطی نہیں بلکہ اللہ رب العزت کی طرف سے فیصلہ تھا ۔ اس سلسلہ میں مرزا کی الہامی مہر بھی ملاحظہ فرمائیے! مرزا کے ملفوظات جلد9 صفحہ268 میں مرزا کا یہ ملفوط درج ہے:
فرمایا: ''یہ زمانہ کے عجائبات ہیں۔ رات کو ہم سوتے ہیں تو کوئی خیال نہیں ہوتا کہ اچانک ایک الہام ہوتا ہے اور پھر وہ اپنے وقت پر پورا ہوتا ہے۔ کوئی ہفتہ عشرہ نشان سے خالی نہیں جاتا۔ ثناء اللہ کے متعلق جو لکھا گیا ہے یہ دراصل ہماری طرف سے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ ہی کی طرف سے اس کی بنیاد رکھی گئی ہے ۔ ایک دفعہ ہماری توجہ اس کی طرف ہوئی اور رات کو توجہ اس کی طرف تھی اور رات کو الہام ہوا کہ اجیب دعوة الداع۔صوفیاء کے نزدیک بڑی کرامت استجابت دعا ہی ہے۔ باقی سب اس کی شاخیں ہیں۔


(ملفوظات جلد نمبر9 صفحہ نمبر268)