مرزا قادیانی اور شاعری
ارشاد خداوندی ہے:''وَمَا عَلَّمْنَاہُ الشِّعْرَ وَمَا یَنْبَغِی لَہُ (یٰسن: 69) (ترجمہ): اور نہیں سکھایا ہم نے اپنے نبی کو شعر اور نہ یہ ان کے شایانِ شان ہے۔
مرزا قادیانی کی ادبی لیاقت بالکل زیرو تھی۔ شعر و نثر میں مخالفین کو موٹی موٹی گالیاں دینا اس کی ''سلطان القلمی'' کا نمونہ تھی۔ قواعد، عروض اور محاورات کا کچھ خیال نہ تھا۔ اس کی کوئی نظم کسی بھی معمولی شاعر کے سامنے رکھی جائے تو ادبیت کے لحاظ سے بالکل شاخ بے برگ نظر آتی ہے۔ اس نے شاعری کے میدان میں ایسے ایسے گل کھلائے ہیں کہ ان کی موجودگی میں اس کے پیروکار ہمیشہ شرمندہ نظر آئیں گے۔ مرزا قادیانی نے شاعری کا وہ ستیاناس کیا کہ علم عروض کے ماتھے پر کلنگ کا ٹیکہ ہیں۔
یہ بات مسلمہ اصول میں شامل ہے کہ نبی شاعر نہیں ہوتا لیکن مرزا قادیانی نبوت کا دعویٰ کرنے کے باوجود شاعر تھا۔ اس کی شاعری ''فحش ادب'' کا ایک ادنیٰ نمونہ ہے اور یہ سب کچھ اس کے خبث باطن کا کرشمہ ہے۔ مرزا قادیانی ایک آوارہ مزاج اور بدقماش شاعر تھا جو اپنی پوری ناپاکیوں کے ساتھ خیر کے نام پر شر پھیلاتا رہا۔ اس کی شاعری ہر قادیانی گھرانے میں موجود ہے ۔ ایسے ماحول میں پرورش پانے والے قادیانی لڑکے اور لڑکیاں پاکیزگی اور ناپاکی میں کیا فرق کر سکتے ہیں۔ بصیرت سے محروم یہ نسل، جہالت کی تاریکی میں ''قادیانی کارنامے'' سرانجام دے کر خوشی سے پھولے نہیں سماتی۔مرزا قادیانی ''شاعر اور شاعری'' کے بارے میں لکھتا ہے:
(1) ''کوئی شاعر اس بات کا ذمہ دار نہیں ہو سکتا اور نہ کبھی ہوا کہ اس کا کلام ہر ایک قسم کے کذب اور ہزل اور غیر ضروری باتوں سے پاک اور ضروری اور لابدی امور پر احاطہ رکھتا ہے۔ پھر جبکہ شاعروں کی فضول باتوں کو وہ مراتب حاصل نہیں ہیں کہ جو خدائے تعالیٰ کے پاک کلام کو حاصل ہیں اور نہ اس بارے میں شاعر کچھ دم مارتے ہیں اور نہ ذمہ وار بنتے ہیں، بلکہ اپنے عجز کے آپ ہی اقراری ہیں تو کلام الٰہی کے مقابلہ پر ان کا ناچیز کلام پیش کرنا کیسی سفاہت اور نادانی ہے۔ شاعر تو اگر مر بھی جاویں تو صداقت اور راستی و ضرورتِ حقہ کا اپنے کلام میں التزام نہ کر سکیں۔ وہ تو بغیر فضول گوئی کے بول ہی نہیں سکتے اور ان کی ساری کل فضول اور جھوٹ پر ہی چلتی ہے۔ اگر جھوٹ نہیں یا فضول گوئی نہیں تو پھر شعر بھی نہیں۔ اگر تم ان کا فقرہ فقرہ تلاش کرو کہ کس قدر حقائق دقائق ان میں جمع ہیں۔ کس قدر راستی اور صداقت کا التزام ہے۔ کس قدر حق اور حکمت پر قیام ہے۔ کس ضرورتِ حقہ سے وہ باتیں ان کے منہ سے نکلی ہیں اور کیا کیا اسرار بیمثل و مانند ان میں لپٹے ہوئے ہیں تو تمھیں معلوم ہو کہ ان تمام خوبیوں میں سے کوئی بھی خوبی ان کی مردہ عبارات میں پائی نہیں جاتی۔ ان کا تو یہ حال ہوتا ہے کہ جس طرف قافیہ ردیف ملتا نظر آیا، اسی طرف جھک گئے اور جو مضمون دل کو اچھا لگا وہی جھک ماری۔ نہ حق اور حکمت کی پابندی ہے اور نہ فضول گوئی سے پرہیز ہے اور نہ یہ خیال ہے کہ اس کلام کے بولنے کے لیے کونسی سخت ضرورت درپیش ہے اور اس کے ترک کرنے میں کونسا سخت نقصان عائد حال ہے۔ ناحق بے فائدہ فقرہ سے فقرہ ملاتے ہیں۔ سر کی جگہ پائوں، پائوں کی جگہ سر لگاتے ہیں۔ سراب کی طرح چمک تو بہت ہے پر حقیقت دیکھو تو خاک بھی نہیں۔ شعبدہ باز کی طرح صرف کھیل ہی کھیل، اصلیت دیکھو تو کچھ بھی نہیں۔ نادار، ناطاقت اور ناتوان اور گئے گزرے ہیں۔ آنکھیں اندھی اور اس پر عشوہ گری ان کی نسبت نہایت ہی نرمی کیجئے تو یہ کہیے کہ وہ سب ضعیف اور ہیچ ہونے کی وجہ سے عنکبوت کی طرح ہیں اور ان کے اشعار بیتِ عنکبوت ہیں۔ ان کی نسبت خداوند کریم نے خوب فرمایا ہے وَالشُّعَرَآئُ یَتَّبِعُھُمُ الْغَاونَo اَلَمْ تَرَ اَنَّھُمْ فِیْ کُلِّ وَادٍ یَّھِیْمُوْنo وَاَنَّھُمْ یَقُوْلُوْنَ مَا لَا یَفْعَلُوْنَ۔''ترجمہ: رہے شعراء تو ان کے پیچھے بہکے ہوئے لوگ چلا کرتے ہیں۔ کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ وہ ہر وادی میں بھٹکتے ہیں اور ایسی باتیں کہتے ہیں جو کرتے نہیں ہیں۔ (الشعرائ:224، 226)

(براہین احمدیہ ج 1 ص 467 تا 469 مندرجہ روحانی خزائن ج 1 ص 467 تا 469 از مرزا قادیانی)


(2) ان ساری باتوں کے برعکس مرزا قادیانی کی عشقیہ شاعری ملاحظہ فرمائیں:
''خاکسار عرض کرتا ہے کہ مرزا سلطان احمد صاحب سے مجھے حضرت مسیح موعود کی ایک شعروں کی کاپی ملی ہے جو بہت پرانی معلوم ہوتی ہے۔ غالباً نوجوانی کا کلام ہے۔ حضرت صاحب کے اپنے خط میں ہے جسے میں پہچانتا ہوں۔ بعض بعض شعر بطور نمونہ درج ذیل ہیں
 

عشق کا روگ ہے کیا پوچھتے ہو اس کی دوا         ایسے بیمار کا مرنا ہی دوا ہوتا ہے
کچھ مزا پایا مرے دل! ابھی کچھ پائو گے                 تم بھی کہتے تھے کہ اُلفت میں مزا ہوتا ہے
 


ہائے کیوں ہجر کے الم میں پڑے                 مفت بیٹھے بٹھائے غم میں پڑے
اس کے جانے سے صبر دل سے                 گیا ہوش بھی ورطۂ عدم میں پڑے
سبب کوئی خداوندا بنا دے                          کسی صورت سے وہ صورت دکھا دے
کرم فرما کے آ او میرے جانی                     بہت روئے ہیں اب ہم کو ہنسا دے
کبھی نکلے گا آخر تنگ ہو کر                     دلا اک بار شور و غل مچا دے
 


نہ سر کی ہوش ہے تم کو نہ پا کی         سمجھ ایسی ہوئی قدرت خدا کی
مرے بت اب سے پردہ میں رہو تم         کہ کافر ہو گئی خلقت خدا کی
نہیں منظور تھی گر تم کو اُلفت تو         یہ مجھ کو بھی جتلایا تو ہوتا
مری دلسوزیوں سے بے خبر ہو            مرا کچھ بھید بھی پایا تو ہوتا
دل اپنا اس کو دوں یا ہوش یا جاں             کوئی اک حکم فرمایا تو ہوتا
 


اس کاپی میں کئی شعر ناقص ہیں۔ یعنی بعض جگہ مصرع اول موجود ہے۔ مگر دوسرا نہیں ہے اور بعض جگہ دوسرا ہے مگر پہلا ندارد۔ بعض اشعار نظرثانی کے لیے بھی چھوڑے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔ اور کئی جگہ فرخ تخلص استعمال کیا ہے۔''

(سیرت المہدی ج اوّل ص 232 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی)


(3) مرزا قادیانی کی مخرب اخلاق اور حیاسوز شاعری کا نمونہ ملاحظہ فرمائیں۔
ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے حضرت مسیح موعود کو کئی دفعہ یہ شعر پڑھتے سنا ہے اور فرمایا کرتے تھے کہ زبان کے لحاظ سے یہ بڑا فصیح و بلیغ شعر ہے
یا تو ہم پھرتے تھے ان میں یا ہوا بہ انقلاب پھرتے ہیں

 آنکھوں کے آگے کوچہ ہائے لکھنؤ

 (سیرت المہدی جلد سوئم ص 253 از مرزا بشیر احمد ایم اے)

قادیانی ترانہ


(5)         ''چپکے چپکے حرام کروانا آریوں کا اصول بھاری ہے
                        زن بیگانہ پر یہ شیدا ہیں جس کو دیکھو وہی شکاری ہے
            غیر مردوں سے مانگنا نطفہ سخت خبث اور نابکاری ہے
                        غیر کے ساتھ جو کہ سوتی ہے وہ نہ بیوی زن بزاری ہے
             نام اولاد کے حصول کا ہے ساری شہوت کی بے قراری ہے
                        بیٹا بیٹا پکارتی ہے غلط یار کی اس کو آہ و زاری ہے
            دس سے کروا چکی زنا لیکن پاک دامن ابھی بچاری ہے
                        گھر میں لاتے ہیں اس کے یاروں کو ایسی جورو کی پاسداری ہے
            اس کے یاروں کو دیکھنے کے لیے سرِ بازار ان کی باری ہے
                        ہے قوی مرد کی تلاش انہیں خوب جورد کی حق گذاری ہے''

(آریہ دھرم صفحہ 75، 76 مندرجہ روحانی خزائن جلد10صفحہ 75، 76 از مرزا قادیانی)


(6) نسلیں ہیں میری بے شمار
میں کبھی آدم کبھی موسیٰ کبھی یعقوب ہوں         نیز ابراہیم ہوں نسلیں ہیں میری بے شمار

                                                                                                                                                    (درثمین ص 131 از مرزا قادیانی)
اس شعر میں ''نسلیں ہیں میری بے شمار'' سے مراد مرزا قادیانی کہہ رہا ہے کہ میری اتنی نسلیں ہیں جنھیں شمار نہیں کیا جا سکتا۔ یہ دعویٰ مرزا قادیانی کے علاوہ شائد کسی نے نہ کیا ہو۔ قادیانیوں سے سوال ہے کہ براہ کرم وہ مرزا قادیانی کی چند نسلیں ضرور بتا دیں۔
 

(7)''کرم خاکی ہوں مرے پیارے نہ آدم زاد ہوں

                        ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار''

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص 97 روحانی خزائن ج 21 ص 127 از مرزا)


ہوں بشر کی جائے نفرت
اس شعر میں مرزا قادیانی کہتا ہے کہ میں خاک کا کیڑا ہوں اور میں کسی انسان کی اولاد نہیں ہوں۔ البتہ میں بشر کی نفرت اور شرم والی جگہ ہوں۔ یاد رہے کہ ہر انسان کی جائے نفرت آگے ہوتی ہے یا پیچھے۔ میں یہ فیصلہ قادیانیوں پر چھوڑتا ہوں کہ وہ بتائیں کہ مرزا قادیانی کیا تھا؟ قادیانی اس شعر پر اعتراض کے جواب میں کہتے ہیں کہ اس شعر میں مرزا قادیانی نے نہایت عاجزی و انکساری کا اظہار کیا ہے۔ قادیانیوں سے پوچھنا چاہیے کہ یہ کونسی عاجزی اور انکساری ہے کہ ایک آدمی آدم زادہ ہونے سے انکار کر دے اور یہ اعلان کرتا پھرے کہ میں بشر کی جائے نفرت اور عار والی جگہ ہوں۔ یہ عجیب بات ہے کہ ایک جگہ تو مرزا قادیانی خود کو آدمیت سے خارج کر دے اور دوسری جگہ اپنے آپ کو نبیوں سے افضل قرار دے۔ قادیانیوں کو چاہیے کہ وہ اپنے نبی مرزا قادیانی کی سنت پر عمل کرتے ہوئے اپنے گھروں کے باہر دروازوں پر موٹے حروف سے مرزا قادیانی کا مذکورہ بالا شعر لکھوائیں تاکہ اس کی انکساری اور عاجزی عام ہو جائے۔ ہے کوئی قادیانی جو جرأت کرے۔ جبکہ مرزا قادیانی کا کہنا ہے:
(8)''یہ کلام جو میں سناتا ہوں، یہ قطعی اور یقینی طور پر خدا کا کلام ہے جیسا کہ قرآن اور توریت خدا کا کلام ہے۔''

(کشتی نوح ص 7 روحانی خزائن ج 19 ص 95 از مرزا قادیانی)