بیوی کے ایّام نے عزت رکھ لی


(1) ''مکرم مولوی عبدالرحمن صاحب جٹ، حافظ صاحب سے روایت کرتے ہیں: حضرت مسیح موعود نے (گویا نومبر 1884ء میں) ایک روز مجھے فرمایا: میاں حامد علی! سفر پر جانا ہے۔ چنانچہ یکہ کرایہ پر لیا۔ جب خاکروبوں کے محلہ کے قریب پہنچے تو مرزا اسمٰعیل بیگ صاحب سے فرمایا کہ میں دہلی شادی کرنے کے لیے جا رہا ہوں۔ وہیں رخصتانہ اور ولیمہ ہوگا۔ یہ بات کسی کو نہ بتائیں۔ میں جا کر خط لکھوں گا۔ اس وقت سلطان احمد کی والدہ کو بتا دینا تاکہ میری واپسی تک وہ رو دھو بیٹھے۔ میں حضور کی یہ بات سن کر سخت حیرت زدہ ہو گیا، کیونکہ مجھے بخوبی معلوم تھا کہ حضور اس وقت ازدواجی زندگی کے قابل نہ تھے۔ اور عرصہ سے میں مختلف حکیموں اور طبیبوں سے نسخے معلوم کر کے نوٹ کیا کرتا تھا (اور حضور کو کھلاتا تھا لیکن کسی کا بھی اثر نہ ہوتا تھا) مرزا اسمٰعیل بیگ صاحب کی موجودگی میں تو میں نے اپنے تئیں بمشکل ضبط کیا لیکن نہر کے پل پر پہنچے تو عرض کیا: آپ کی حالت آپ پر اور نہ مجھ پر مخفی ہے۔ پھر آپ نے شادی کا کیوں ارادہ فرمایا ہے؟ فرمایا کہ آپ کی بات درست ہے۔ لیکن میں کیا کروں۔ اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ چل تو میں چلتا ہوں۔ اس جواب پر میں کیا عرض کرتا۔ سو میں خاموش ہو گیا۔
دہلی میں حضرت میر ناصر نواب صاحب کے ہاں پہنچے تو بیٹھک میں مجھے ٹھہرایا گیا۔ چند روز قبل ہی بیوی صاحبہ (حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ) ایام سے پاک ہوئی تھیں۔ گھر پر ہی رخصتانہ عمل میں آیا۔ رخصتانہ کی رات میں نہایت بیقرار تھا کہ کیا ہوگا۔ چنانچہ شدتِ اضطراب کی وجہ سے میری نیند کافور ہو گئی۔ اور میں رات بھر حضور کے لیے نہایت تضرع سے دعا میں مصروف رہا۔ صبح کی اذان ہوئی تو حضور میرے پاس تشریف لائے اور ہم نے نماز فجر ادا کی، جس کے بعد فرمایا۔ آئو! لال قلعہ کی طرف سیر کر آئیں۔ چنانچہ راستہ میں خود ہی فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کتنی پردہ پوش اور باوفا ہے کہ رات بیوی صاحبہ کو پھر ایام شروع ہو گئے اور ہمیں چھٹی ہو گئی۔ چنانچہ اسی حالت میں حضور حضرت ام المومنین کو لے کر قادیان تشریف لے آئے۔
کچھ عرصہ بعد حضرت میر صاحب نے حضور کو لکھا کہ آپ لڑکی کو چھوڑ جائیں۔ حضور نے ایک سو روپیہ بھجوا کر لکھا کہ مجھے تصنیف کے کام کی وجہ سے فرصت نہیں، آپ آ کر لے جائیں۔ چنانچہ میر صاحب آ کر لے گئے۔ پھر دو تین ماہ بعد حضور کو لکھا کہ آپ آ کر بچی کو لے جائیں۔ حضور نے ایک سو روپیہ بھیج دیا اور لکھا کہ آپ آ کر چھوڑ جائیں۔ چنانچہ میر صاحب آ کر چھوڑ گئے۔ حضرت ام المومنین کے اخلاقِ عالیہ قابل تعریف ہیں کہ آپ نے اپنے والدین کے ہاں اور سہیلیوں سے اس بارہ میں کوئی شکوہ نہیں کیا۔
میں حضور کے علاج میں پہلے ہی مصروف تھا۔ بیوی صاحبہ کی واپسی پر آٹھ دس ماہ گزر گئے لیکن علاج بے اثر رہا۔ ایک روز سیر میں حضور نے ہمیں فرمایا کہ تم لوگ دعویٰ محبت کرتے ہو، میں تمہارا امتحان کرنا چاہتا ہوں۔ ہم حیران ہوئے کہ نہ معلوم کیا امتحان ہوگا۔ تو فرمایا: میرے دل میں ایک بات ہے اس کے متعلق دعا کرو۔ اور جو پتہ لگے بتائو۔ چنانچہ حضور روزانہ ہم سے دریافت کرتے تھے کہ کیا خواب آئی ہے۔ دیگر احباب اپنی خوابیں سناتے تو حضور فرماتے کہ یہ اس امر کے متعلق نہیں۔ مجھے کوئی خواب نہ آئی تھی۔ ایک روز موضع تھہ غلام نبی اپنے اہل و عیال کے پاس جانے کی میں نے اجازت لی اور ابھی قادیان سے نکلا ہی تھا کہ غیر اختیاری طور پر میری زبان پر درُود شریف جاری ہو گیا اور میں گائوں تک درود شریف ہی پڑھتا گیا اور گھر پہنچا اور بچوں سے ملا، کھانا کھایا۔ لیکن میری یہ خاص کیفیت اسی طرح قائم تھی۔ تھکا ماندہ تھا، سو گیا۔ رات خواب میں حضرت ابراہیم علیہ السلام ملے اور فرمایا۔ حامد علی! تمہاری کاپی میں جو فلاں نسخہ ہے وہ مرزا صاحب کو کیوں نہیں دیتے؟ اس پر میں بیدار ہو گیا۔ اور صحن میں نکل کر دیکھا تو رات چاندنی ہونے کی وجہ سے یہ سمجھا کہ صبح ہو گئی ہے۔ اور میں قادیان کو روانہ ہو گیا۔ جب میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب والے مکان کی بیٹھک والی جگہ پر پہنچا تو حضور بیت الفکر میں ٹہل رہے تھے اور اس وقت فجر کی اذان کا وقت ہو گیا تھا۔ میں نے کوچہ سے السلام علیکم عرض کیا، تو حضور نے جواب دے کر پوچھا۔ کون ہے؟ عرض کیا: حامد علی۔ فرمایا۔ خیر ہے؟ عرض کیا کہ خیر ہے۔ اور حضور کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنی خواب بیان کی۔ فرمایا۔ یہی بات تھی جس کے لیے میں نے آپ دوستوں کو دعا کے لیے کہا تھا۔ چنانچہ میں نے اپنی کاپی میں تحریر کردہ وہ دو اڑھائی پیسے کا معمولی نسخہ بنا کر حضور کو استعمال کروایا تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایسا مفید ثابت ہوا کہ کچھ عرصہ تک حضور ہر نماز غسل کر کے پڑھتے رہے۔ اللہ تعالیٰ نے بعد میں ایک اور نسخہ بھی بتا دیا جو بے حد مفید ثابت ہوا۔ چنانچہ حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب کی روایت ہے:
''حافظ حامد علی صاحب مرحوم خادم مسیح موعود بیان کرتے تھے کہ جب حضرت صاحب نے دوسری شادی کی تو ایک عمر تک تجرد میں رہنے اور مجاہدات کرنے کی وجہ سے آپ نے اپنے قویٰ میں ضعف محسوس کیا۔ اس پر وہ الہامی نسخہ جو ''زدجام عشق'' کے نام سے مشہور ہے بنوا کر استعمال کیا۔ چنانچہ وہ نسخہ نہایت ہی بابرکت ثابت ہوا۔ حضرت خلیفہ اوّل بھی فرماتے تھے کہ میں نے یہ نسخہ ایک بے اولاد امیر کو کھلایا تو خدا کے فضل سے اس کے ہاں بیٹا پیدا ہوا جس پر اس نے ہیرے کے کڑے ہمیں نذر دیے۔''
یہ ساری تفصیل فضلِ الٰہی کے نشان کی خاطر دی گئی ہے۔ حضور تحریر فرماتے ہیں:
''اس وقت میرا دل و دماغ اور جسم نہایت کمزور تھا اور علاوہ ذیابیطس اور دورانِ سر اور تشنجِ قلب کے دق کی بیماری کا اثر ابھی بکلی دور نہیں ہوا تھا۔ اس نہایت درجہ کے ضعف میں جب نکاح ہوا تو بعض لوگوں نے افسوس کیا کیونکہ میری حالتِ مردمی کالعدم تھی۔ اور پیرانہ سالی کے رنگ میں میری زندگی تھی۔ چنانچہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے مجھے خط لکھا تھا کہ آپ کو شادی نہیں کرنی چاہیے تھی۔ ایسا نہ ہو کہ کوئی ابتلاء پیش آوے۔ مگر باوجود ان کمزوریوں کے خدا نے مجھے پوری قوت، صحت اور طاقت بخشی اور چار لڑکے عطا کیے۔'' (اصحابِ احمد جلد سیزدہم صفحہ 31 تا 33از ملک صلاح الدین قادیانی)
قربان جائیں قادیانی لٹریچر پر، کوئی حجاب نہیں، کوئی پردہ نہیں۔ صدائے عام ہے!!!
ڈھیٹ اور بے شرم بھی عالم میں ہوتے ہیں         مگر سب پہ سبقت لے گئی بے حیائی آپ کی