سلطان القلم مرزا قادیانی کے قلم سے'' سائنسی تحریریں''
(1)مرزا قادیانی لکھتا ہے: ''اِس وقت جو ضرورت ہے۔ وہ یقینا سمجھ لو۔ سیف کی نہیں بلکہ قلم کی ہے۔ ہمارے مخالفین نے اسلام پر جو شبہات وارد کئے ہیں اور مختلف سائنسوں اور مکائد کی رُو سے اللہ تعالیٰ کے سچے مذہب پر حملہ کرنا چاہا ہے۔ اس نے مجھے متوجہ کیا ہے کہ میں قلمی اسلحہ پہن کر اس سائنس اور علمی ترقی کے میدانِ کارزار میں اُتروں اور اسلام کی روحانی شجاعت اور باطنی قوت کا کرشمہ بھی دکھلائوں۔ میں کب اس میدان کے قابل ہوسکتا تھا۔ یہ تو صرف اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اور اس کی بے حد عنایت ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ میرے جیسے عاجز انسان کے ہاتھ سے اُس کے دین کی عزت ظاہر ہو۔'' (ملفوظات جلد اوّل صفحہ 38، طبع جدید از مرزا قادیانی)
مرزا کے قلمی اسلحے سے فائر ہونے والی چند سائنسی تحریریں
(2) ''اور اس مادہ کے لیے ضروری نہیں کہ ساگ پات کی کسی قسم پر رُوح، شبنم کی طرح گرے اور اس سے رُوح کا نطفہ پیدا ہو۔ بلکہ وہ مادہ گوشت سے بھی پیدا ہوسکتا ہے خواہ وہ گوشت بکرہ کا ہو۔ یا مچھلی کا۔ یا ایسی مٹی ہو جو زمین کی نہایت عمیق تہہ کے نیچے ہوتی ہے جس سے مینڈکیں وغیرہ کیڑے مکوڑے پیدا ہوتے ہیں۔''
(چشمہ معرفت صفحہ 116 مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 124 از مرزا قادیانی)
(3) ''اگر تم مثلاً دودھ کو جو باسی ہو کر سڑنے کو ہے، ہاتھ میں لو اور خوب اس دودھ میں نظر لگائے رکھو تو تمہارے دیکھتے دیکھتے ہزارہا کیڑے بن جائیں گے۔''
(چشمہ معرفت صفحہ 117 مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 125 از مرزا قادیانی)
(4) ''مثلاً زمین کے نیچے کا طبقہ جو ستر اسی ہاتھ تک کھود کر پھر دکھائی دیتا ہے، اس میں جاندار پائے جاتے ہیں۔''
(چشمہ معرفت صفحہ 122 مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 130 از مرزا قادیانی)
(5) ''دُنیا میں ہزاروں چیزیں نیست سے ہست ہو رہی ہیں مثلاً ایک دھات جو بالکل نیست ہوجاتی اور مرجاتی ہے وہ شہد اور سہاگہ اور گھی میں جوش دینے سے پھر زندہ ہوجاتی ہے کسی نے پنجابی میں کہا ہے شہد سہاگہ گھی، موئی دھات دا ایہو جی۔ یعنی شہد، سہاگہ اور گھی جو ہے، مری ہوئی دھات کی یہی جان ہے۔''
(چشمہ معرفت صفحہ 163 مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 171 از مرزا قادیانی)
(6) ''یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جب ایک گلہری کو پتھر یا سوٹے سے مارا جائے اور وہ بظاہر بالکل مرجائے مگر ابھی تازہ ہو تو اگر اس کے سر کو گوبر میں دبایا جائے تو چند منٹ میں وہ زندہ ہوکر بھاگ جاتی ہے، مکھی بھی اگر پانی میں مرجائے تو وہ بھی زندہ ہوکر پرواز کرجاتی ہے اور بعض جانور جیسے زنبور اور دوسرے حشرات الارض سخت سردی کے ایام میں مرجاتے ہیں اور زمین میں یا دیواروں کے سُوراخوں میں چمٹے رہتے ہیں اور جب گرمی کا موسم آتا ہے تو پھر زندہ ہوجاتے ہیں۔''
(چشمہ معرفت صفحہ 163 مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 171، 172 از مرزا قادیانی)
جو بات کی خدا کی قسم لاجواب کی
(7) ''اور بعض درخت ایسے ہیں کہ ان کے پتوں میں سے بڑے بڑے پرندے پیدا ہوجاتے ہیں۔ ان میں سے ایک آک کا درخت بھی ہے اور اس کی نظیریں ہزارہا ہیں نہ صرف ایک دو۔'' (چشمہ معرفت صفحہ 269 مندرجہ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 282 از مرزا قادیانی)
 

سلطان القلم مرزا قادیانی کے قلم سے'' نادر معلومات'' دودھ دینے والا بکرا


(8) ''تھوڑا عرصہ گزرا ہے کہ مظفر گڑھ میں ایک ایسا بکرا پیدا ہوا کہ جو بکریوں کی طرح دودھ دیتا تھا۔ جب اس کا شہر میں بہت چرچا پھیلا تو میکالف صاحب ڈپٹی کمشنر مظفر گڑھ کو بھی اطلاع ہوئی تو انھوں نے یہ ایک عجیب امر قانونِ قدرت کے برخلاف سمجھ کر وہ بکرا اپنے رُوبرو منگوایا۔ چنانچہ وہ بکرا جب ان کے رُوبرو دوہا گیا تو شاید قریب ڈیڑھ سیر دودھ کے اس نے دیا اور پھر وہ بکرا بحکم صاحب ڈپٹی کمشنر عجائب خانہ لاہور میں بھیجا گیا۔ تب ایک شاعر نے اس پر ایک شعر بھی بنایا اور وہ یہ ہے۔
مظفر گڑھ جہاں پر ہے مکالف صاحب عالی یہاں تک فضلِ باری ہے کہ بکرا دُودھ دیتا ہے
اس کے بعد تین معتبر اور ثقہ اور معزز آدمی نے میرے پاس بیان کیا کہ ہم نے بچشم خود چند مَردوں کو عورتوں کی طرح دودھ دیتے دیکھا ہے بلکہ ایک نے ان میں سے کہا کہ امیر علی نام ایک سید کا لڑکا ہمارے گائوں میں اپنے باپ کے دودھ سے ہی پرورش پایا تھا کیونکہ اس کی ماں مر گئی تھی۔ ایسا ہی بعض لوگوں کا تجربہ ہے کہ کبھی ریشم کے کیڑے کی مادہ بے نر کے انڈے دے دیتی ہیں اور ان میں سے بچے نکلتے ہیں۔ بعض نے یہ بھی دیکھا کہ چوہا مٹی خشک سے پیدا ہوا جس کا آدھا دھڑ تو مٹی تھی اور آدھا چوہا بن گیا۔ حکیم فاضل قرشی یا شاید علامہ نے ایک جگہ لکھا ہے کہ ایک بیمار ہم نے دیکھا جس کا کان مائوف ہو کر بہرہ ہو گیا تھا پھر کان کے نیچے ایک ناسور سا پیدا ہو گیا جو آخر وہ سوراخ سے ہو گئے اس سوراخ کی راہ سے وہ برابر سن لیتا تھا گویا خدا نے اس کے لیے دوسرا کان عطا کیا۔ ان دونوں طبیبوں میں سے ایک نے اور غالباً قرشی نے خود اپنی اَڈی میں سوراخ ہو کر اور پھر اس راہ سے مدت تک براز یعنی پاخانہ آتے رہنا تحریر کیا ہے۔''(سرمہ چشم آریہ صفحہ 51 مندرجہ روحانی خزائن جلد 2 صفحہ 99 از مرزا قادیانی)