مرزا قادیانی کا عبرتناک انجام
جھوٹے مدعی نبوت آنجہانی مرزا قادیانی کو درجنوں بیماریاں لاحق تھیں اور یہ بیماریاں ساری زندگی اس کے ساتھ چمٹی رہیں۔ بالآخر اس کی زندگی کا عبرتناک انجام قریب آگیا۔ روزنامہ الفضل قادیان، مرزا قادیانی کی اہم تحریروں میں سے درج ذیل اقتباس نقل کرتا ہے جو ہر قادیانی کے لیے دعوتِ فکر ہے:۔
بہت بری موت
q ''اور جو شخص کہے کہ میں خدا کی طرف سے ہوں اور اس کے الہام اور کلام سے مشرف ہوں حالانکہ وہ نہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے نہ اس کے الہام اور کلام سے مشرف ہے، وہ بہت بری موت مرتا ہے اور اس کا انجام نہایت ہی بد اور قابل عبرت ہوتا ہے۔''

(روزنامہ الفضل قادیان جلد28، نمبر50، صفحہ 1مورخہ 2مارچ 1940ئ)

اب اس معیار پر مرزا قادیانی کو جانچ لیتے ہیں۔ یعنی اگر مرزا قادیانی اپنے دعوئوں میں سچا تھا تو اس کا انجام اچھا ہونا چاہیے تھا، اوراگر اپنے دعوئوں میں جھوٹا تھا تو ''نہایت ہی بد اور قابل عبرت انجام'' ہونا چاہیے تھا۔ مزید براں خود مرزا قادیانی کا کہنا ہے:
(1) ''واضح ہو کہ ہمارا صدق یا کذب جانچنے کے لیے ہماری پیش گوئی سے بڑھ کر اور کوئی محک امتحان نہیں ہوسکتا۔''
 

(آئینہ کمالاتِ اسلام صفحہ 288، مندرجہ روحانی خزائن، جلد5 صفحہ 288از مرزا قادیانی)

(2) ''مولوی ثناء اللہ سے آخری فیصلہ '' میں اللہ تعالیٰ نے مرزا قادیانی سے لکھوایا تھا:
''بخدمت مولوی ثناء اللہ صاحب۔ السلام علی من اتبع الھدیٰ! مدت سے آپ کے پرچہ اہلحدیث میں میری تکذیب اور تفسیق کا سلسلہ جاری ہے۔ ہمیشہ مجھے آپ اپنے اس پرچہ میں مردود، کذاب، دجال، مفسد کے نام سے منسوب کرتے ہیں اور دنیا میں میری نسبت شہرت دیتے ہیں کہ یہ شخص مفتری اور دجال اور کذاب ہے اور اس شخص کا دعویٰ مسیح موعود ہونے کا سراسر افترا ہے۔ میں نے آپ سے بہت دکھ اٹھایا اور صبر کرتا رہا مگر چونکہ میں دیکھتا ہوں کہ میں حق کے پھیلانے کے لیے مامور ہوں اور آپ بہت سے افترا میرے پر کرکے دنیا کو میری طرف آنے سے روکتے ہیں اگر میں ایسا ہی کذاب اور مفتری ہوں جیسا کہ اکثر اوقات آپ اپنے ہر ایک پرچہ میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی میں ہی ہلاک ہو جائوں گا ۔۔۔۔۔۔ اور اگر میں کذاب اور مفتری نہیں ہوں اور خدا کے مکالمہ اور مخاطبہ سے مشرف ہوں اور مسیح موعود ہوں تو میں خدا کے فضل سے امید رکھتا ہوں کہ سنت اللہ کے موافق آپ مکذبین کی سزا سے نہیں بچیں گے۔ پس اگر وہ سزا جو انسان کے ہاتھوں سے نہیں بلکہ محض خدا کے ہاتھوں سے ہے جیسے طاعون، ہیضہ وغیرہ مہلک بیماریاں، آپ پر میری زندگی میں ہی وارد نہ ہوئی تو میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں۔
یہ کسی الہام یا وحی کی بنا پر پیش گوئی نہیں محض دعا کے طور پر میں نے خدا سے فیصلہ چاہا ہے اور میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ اے میرے مالک! اگر یہ دعویٰ مسیح موعود ہونے کا محض میرے نفس کا افترا ہے اور میں تیری نظر میں مفسد اور کذاب ہوں اور دن رات افترا کرنا میرا کام ہے، تو اے میرے پیارے مالک! میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کی زندگی میں مجھے ہلاک کر اور میری موت سے ان کو اور ان کی جماعت کو خوش کر دے۔ آمین! مگر اے میرے کامل اور صادق خدا! اگر مولوی ثناء اللہ ان تہمتوں میں جو مجھ پر لگاتا ہے حق پر نہیں تو میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ میری زندگی ہی میں ان کو نابود کر۔ مگر نہ انسانی ہاتھوں سے بلکہ طاعون و ہیضہ وغیرہ امراض مہلکہ سے۔ بجز اس صورت کے کہ وہ کھلے کھلے طور پر میرے روبرو اور میری جماعت کے سامنے ان تمام گالیوں اور بدزبانیوں سے توبہ کرے جن کو وہ فرض منصبی سمجھ کر ہمیشہ مجھے دکھ دیتا ہے۔ آمین یا رب العالمین!۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔! ربنا افتح بیننا و بین قومنا بالحق وانت خیر الفاتحین۔
بالآخر مولوی صاحب سے التماس ہے کہ وہ میرے اس تمام مضمون کو اپنے پرچہ میں چھاپ دیں اور جو چاہیں اس کے نیچے لکھ دیں۔ اب فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔
 

(مرزا غلام احمد قادیانی کا اشتہار مورخہ 5اپریل 1907ء مجموعہ اشتہارات، جلد دوم، صفحہ 705، 706 طبع جدید)


اس اشتہار کی اشاعت کے ہفتہ عشرہ بعد ہی 25اپریل 1907ء کو اخبار بدر قادیان میں مرزا قادیانی کی روزانہ ڈائری میں شائع ہوا کہ:
یہ خدا کی طرف سے ہے
(3) ''ثناء اللہ کے متعلق جو کچھ لکھا گیا یہ دراصل ہماری (یعنی مرزا قادیانی کی) طرف سے نہیں بلکہ خدا ہی کی طرف سے اس کی بنیاد رکھی گئی ہے۔''
 

(ملفوظات جلد پنجم صفحہ 206 طبع جدید، از مرزا قادیانی)

اس پیش گوئی کے تقریباً ایک سال بعد مرزا قادیانی کی موت نے ''آخری فیصلہ'' کر دیا کہ وہ خدا کی طرف سے نہیں تھا کیونکہ اس کی موت مولانا ثناء اللہ امرتسری کی زندگی میں بقول اس کے ''خدائی ہاتھوں کی سزا'' سے ہوئی۔ ہر شخص دم بخود رہ گیا کہ خود مرزا قادیانی کی دعا پر قدرتِ حق نے عجب فیصلہ کیا۔
25مئی 1908ء کو شام کھانے کے بعد اس کی حالت اچانک بگڑنے لگی۔ اسے مسلسل اسہال شروع ہوگئے۔ ایک دو دفعہ رفع حاجت کے لیے لیٹرین گیا، بعد ازاں ضعف کی وجہ سے نڈھال ہوگیا۔ اس کے جسم کا پانی اور نمک ختم ہوگیا تھا۔ بلڈپریشر کم ہونے سے ٹھنڈے پسینے آنے لگے۔ آنکھیں اندر کو دھنس گئیں اور نبض اتنی کمزور ہوگئی کہ محسوس کرنا مشکل ہوگئی۔ مرزا بشیر احمد ایم، اے ابن مرزا غلام احمد قادیانی لکھتا ہے:
حالت دگر گوں
(4) ''حضرت مسیح موعود کی وفات کا ذکر آیا تو والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ حضرت مسیح موعود کو پہلا دست کھانا کھانے کے وقت آیا تھا۔ مگر اس کے بعد تھوڑی دیر تک ہم لوگ آپ کے پائوں دباتے رہے اور آپ آرام سے لیٹ کر سو گئے اور میں بھی سو گئی۔ لیکن کچھ دیر کے بعد آپ کو پھر حاجت محسوس ہوئی اور غالباً ایک یا دو دفعہ رفع حاجت کے لیے آپ پاخانہ تشریف لے گئے۔ اس کے بعد آپ نے زیادہ ضعف محسوس کیا، تو اپنے ہاتھ سے مجھے جگایا۔ میں اٹھی تو آپ کو اتنا ضعف تھا کہ آپ میری چارپائی پر ہی لیٹ گئے، اور میں آپ کے پائوں دبانے کے لیے بیٹھ گئی۔ تھوڑی دیر کے بعد حضرت صاحب نے فرمایا: تم اب سو جائو۔ میں نے کہا۔ نہیں میں دباتی ہوں۔ اتنے میں آپ کو ایک اور دست آیا۔ مگر اب اس قدر ضعف تھا کہ آپ پاخانہ نہ جاسکتے تھے۔ اس لیے میں نے چارپائی کے پاس ہی انتظام کر دیا۔ اور آپ وہیں بیٹھ کر فارغ ہوئے۔ پھر اٹھ کر لیٹ گئے اور میں پائوں دباتی رہی۔ مگر ضعف بہت ہوگیا تھا۔ اس کے بعد ایک اور دست آیا اور پھر آپ کو ایک قے آئی۔ جب آپ قے سے فارغ ہو کر لیٹنے لگے تو اتنا ضعف تھا کہ آپ لیٹتے لیٹتے پشت کے بل چارپائی پر گر گئے۔ اور آپ کا سر چارپائی کی لکڑی سے ٹکرایا اور حالت دگرگوں ہوگئی۔''

(سیرت المہدی حصہ اوّل صفحہ 11 از مرزا بشیر احمد ایم اے)


q بقول حکیم نورالدین '' ہیضہ کی صورت میں جب آنتیں متاثر ہوتی ہیں تو قے کے ساتھ اسہال ہوتے ہیں۔ قے کا آنا بذاتِ خود کوئی بیماری نہیں بلکہ یہ متعدد بیماریوں کی علامت ہے۔ آنتوں کے فالج اور رکاوٹ میں غذا ہی قے کا باعث بنتی ہے۔ کھانے کے فوراً بعد شراب یا افیون کے استعمال سے بھی قے ہوتی ہے۔ اگر اسہال کے ساتھ قے بھی شامل ہو تو مرض اسہال کے بجائے ہیضہ بن جاتا ہے۔'' (بیاض نورالدین ص(209)


q مسلسل اسہال اور قے کی وجہ سے مرزا قادیانی کے جسم، بستر اور کمرے میں سخت بدبو اور تعفن پھیل گیا تھا۔ اس کی حالت دگرگوں ہوگئی اور نورالدین کو بلانے کے لیے کہا۔ حکیم نورالدین آیا تو مرزا قادیانی نے اسے کہا ''مجھے اسہال کا دورہ ہوگیا ہے۔ آپ کوئی دوائی تجویز کریں۔'' (ضمیمہ الحکم 28مئی 1908ئ)
حکیم نورالدین نے چند مقوی ادویات کھانے کو دیں مگر مرزا قادیانی نے قے کر دیں۔ اس کے بعد اس کی نبض ڈوبنے لگی۔ تھوڑی دیر بعد ایک انگریز ڈاکٹر آیا مگر وہ نہایت عبرتناک حالت دیکھتے ہی چلا گیا۔ ایسی ہی بھیانک حالت میں مرزا قادیانی 26مئی 1908ء کو صبح ساڑھے دس بجے جہنم واصل ہوگیا۔
قادیانی کہتے ہیں کہ: مرزا قادیانی کی موت ہیضہ سے نہیں ہوئی۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کی موت کس عارضہ سے ہوئی؟ اس کے لیے کسی ڈاکٹری رپورٹ کی احتیاج نہیں، بلکہ مرزا قادیانی کے ''نام نہاد صحابی'' اور خسر میر ناصر نواب کی ثقہ روایت سے خود مرزا قادیانی کا اپنا ''اقرارِ صالح'' موجود ہے:
میر صاحب! مجھے وبائی ہیضہ ہوگیا ہے
(5) ''حضرت (مرزا) صاحب جس رات کو بیمار ہوئے اس رات کو میں اپنے مقام پر جا کر سو چکا تھا، جب آپ کو سخت تکلیف ہوئی تو مجھے جگایا گیا، جب میں حضرت صاحب کے پاس پہنچا اور آپ کا حال دیکھا تو مجھے مخاطب کرکے فرمایا: ''میر صاحب! مجھے وبائی ہیضہ ہوگیا ہے۔'' اس کے بعد کوئی ایسی صاف بات میرے خیال میں آپ نے نہیں فرمائی، یہاں تک کہ دوسرے روز دس بجے کے بعد آپ کا انتقال ہوگیا۔''           (حیاتِ ناصر صفحہ 14، از شیخ یعقوب علی عرفانی قادیانی)
لیجیے! بہت ''بری موت'' کے تینوں مرحلے اللہ تعالیٰ نے خود مرزا قادیانی کی زبان و قلم سے طے کرا دیئے، یعنی پہلے اس سے لکھوایا کہ مفتری بہت ہی بری موت مرتا ہے، پھر اس کی تعیین و تشخیص بھی اسی کے قلم سے کرا دی کہ طاعون اور ہیضہ کی موت ہی وہ ''بری موت'' ہے، جو بطور سزا ''خدا تعالیٰ کے ہاتھوں'' سے کسی سرکش مفتری کو دی جاتی ہے، اور پھر خود اسی کی زبان سے یہ اقرار بھی کرا دیا کہ وہ ''وبائی ہیضہ'' سے ''بہت بری موت'' مر رہا ہے، اور یہ اقرار ریکارڈ پر موجود ہے۔
قادیانیوں کی نفسیات بھی بڑی دلچسپ ہے کہ وہ مرزا قادیانی کو ''مسیح موعود'' مانتے ہیں مگر اس کی کوئی بات ماننے کو تیار نہیں ہیں۔ ان کا ''مسیحا'' کہتا ہے ''مجھے وبائی ہیضہ ہوگیا ہے۔'' مگر قادیانی مصر ہیں کہ حضرت صاحب کا کہنا درست نہیں ہے۔
مرزا قادیانی کہتا ہے
خدا جھوٹوں کو ہلاک کرتا ہے
(6) ''اے بدقسمت بدگمانو! کیا ممکن ہے کہ کوئی خدا پر جھوٹ باندھے اور پھر اس کے دست قہر سے بچ رہے۔ خدا جھوٹوں کو ہلاک کرے گا اور وہ جو اپنے دل سے باتیں بناتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ یہ خدا کا الہام ہے، وہ ہلاک کیے جائیں گے کیونکہ انہوں نے دلیری کرکے خدا پر بہتان باندھا۔''
 

(ایام الصلح صفحہ 115 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 341 از مرزا قادیانی)

مرزاقادیانی یہ بات سو فیصد خود اس پر ثابت ہوئی اور سچا(مولانا امرتسری)زندہ رہا اور جھوٹا(مرزا قادیانی ) ہیضہ کی بری موت مر گیا۔کسی زندہ دل شاعر نے مرزا قادیانی آنجہانی کی تاریخ وفات لکھی ہے
 

                                یوں کہا کرتا تھا مر جائیں گے اور                 اور تو زندہ ہیں خود ہی مر گیا
                                 اس کے بیماروں کا ہو گا کیا علاج                 کالرہ سے خود مسیحا مر گیا


مرزا قادیانی کی تاریخ وفات ہے: لَقَدْ دَخَلَ فِیْ قَعَرِ جَہَنَّمْ۔ ١٣٢٦ھ ، 26 مئی 1908 ئ