مرزا قادیانی کے قلم سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی توہین


حضور خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو آسمانِ ہدایت کے ستارے قرار دیا اور اس گروہ پر طعن و تشنیع کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ ، اس کے فرشتوںاور تمام انسانوں کی لعنت کا مستحق قرار دیا ہے۔مرزا قادیانی ایسا بدبخت اور نامراد ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بھی نہ چھوڑا اس کی بدبختی کے چند نمونے پیش نظر ہیں۔
1) " بعض نادان صحابی جن کودرایت سے کچھ حصہ نہ تھا"

( ضمیہ براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ285 مندرجہ روحانی خزائن جلد 21صفحہ285از مرزا قادیانی)

2) " جو شخص قرآن شریف پر ایمان لاتا ہے اس کو چاہیے کہ ابوہریرہ کے قول کو ایک ردی متاع کی طرح پھینک دے۔"
                                                       (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ410 ۔ مندرجہ روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 410 از مرزا قادیانی)
3) " ابوبکر و عمر کیا تھے وہ تو حضرت غلام احمد (قادیانی) کی جوتیوں کے تسمہ کھولنے کے بھی لائق نہ تھے۔"
                                                                                (ماہنامہ المہدی بابت جنوری ، فروری 1915ء 3/2صفحہ57احمدیہ انجمن اشاعتِ اسلام)
4) "پرانی خلافت کا جھگڑا چھوڑو اب نئی خلافت لو۔ ایک زندہ علی تم میں موجود ہے۔ اس کو چھوڑتے ہو ١ور مردہ علی کی تلاش کرتے ہو۔"
                                                                                                               (ملفوظات احمدیہ جلد اول صفحہ400 از مرزا غلام احمد قادیانی)
5) " کربلا است سیر ہر آنم صد حسین است در گریبانم"
ترجمہ: میری سیر ہر وقت کربلا میں ہے۔ سو (100) حسین میری جیب میں ہیں۔

(نزول المسیح صفحہ99، مندرجہ روحانی خزائن جلد 18صفحہ477از مرزا قادیانی)

6) " اے عیسائی مشنریو! اب ربنا المسیح مت کہو۔ اور دیکھو کہ آج تم میں ایک ہے جو اس مسیح سے بڑھ کر ہے۔ اور اے قوم شیعہ اس پر اصرار مت کرو کہ حسین تمہارامنجی ہے کیونکہ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ آج تم میں ایک ہے کہ اس حسین سے بڑھ کر ہے۔"

(دافع البلاء صفحہ17مندرجہ روحانی خزائن جلد 18صفحہ233از مرزا قادیانی)

7) ''امام حسین کی شہادت سے بڑھ کر حضرت مولوی عبداللطیف صاحب (قادیانی) کی شہادت ہے جنھوں نے صدق اور وفا کا نہایت اعلیٰ نمونہ دکھایا اور جن کا تعلق شدید بوجہ استقامت سبقت لے گیا تھا۔''                                    (ملفوظات جلد چہارم صفحہ 364، طبع جدید، از مرزا قادیانی)
(8 ''صاحبزادہ عبداللطیف صاحب کی نسبت حضرت اقدس نے فرمایا کہ وہ ایک اسوۂ حسنہ چھوڑ گئے ہیں اور اگر غور سے دیکھا جائے تو ان کا واقعہ حضرت امام حسین علیہ السلام کے واقعہ سے کہیں بڑھ چڑھ کر ہے۔''                  (ملفوظات جلد سوم صفحہ 496، طبع جدید، از مرزا قادیانی)
(9 ''اور مجھ میں اور تمہارے حسین میں بہت فرق ہے، کیونکہ مجھے تو ہر ایک وقت خدا کی تائید اور مدد مل رہی ہے۔''
                                                                                   (اعجاز احمدی صفحہ70 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 181 از مرزا قادیانی)
(10حضرت بی بی فاطمة الزہرا کی ذات کے بارے میں مرزا قادیانی نے جو بکواس کی ہے اسے قلم لکھنے سے قاصر ہے۔ اگر کسی نے یہ بکواس دیکھنی ہو تو ملعون مرزا قادیانی کی کتاب کا حوالہ درج ہے۔

(ایک غلطی کا ازالہ حاشیہ صفحہ11مندرجہ روحانی خزئن جلد 18 حاشیہ صفحہ213 از مرزا قادیانی)

(11مرزا قادیانی اپنی اولاد کو سید اور پنج تن لکھتے ہوئے کہتا ہے ۔
            میری اولاد سب تیری عطا ہے ہر اک تیری بشارت سے ہوا ہے
                            یہ پانچوں جو کہ نسلِ سیّدہ ہے یہی ہیں پنج تن جن پر بنا ہے                                   (در ثمین اُردو صفحہ49 از مرزا قادیانی)
(12بعض کم تدبرکرنے والے صحابی جن کی درایت اچھی نہیں تھی (جیسے ابوہریرہ) اکثر باتوں میں ابوہریرہ بوجہ اپنی سادگی اور کمی درایت کے ایسے دھوکوں میں پڑ جایا کرتا تھا۔ چنانچہ ایک صحابی کے آگ میں پڑ جانے کی پیشگوئی میں بھی اس کو یہی دھوکہ لگا تھا اور آیت و ان من اھل الکتب الا لیومنن بہ قبل موتہ کے ایسے الٹے معنی کرتا تھا جس سے سننے والے
کو ہنسی آتی تھی۔''                                                             (حقیقة الوحی صفحہ 34 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 36 از مرزا قادیانی)