•  قادیانیوں کے قلم سی حرمین شریفین کی توہین
    مرزا قادیانی جیسے شاطر فریبی اور سلطنت برطانیہ کے ایجنٹ نے پاک اور مقدس شہروں کی نہ صرف توہین کی بلکہ اپنی جنم بھومی کو ان مقدس شہروں سے بہتر اور افضل قرار دے کر قادیان کی زیارت کو حج سے تعبیر کر کے بیت اللہ اور مناسک حج کی توہین کی ہے ۔اس ضمن میں مرزا قادیانی کی چند تحریریں ملاحظہ کیجئے
    1) اپنا ایک کشف بیان کرتے ہوئے مرزا قادیانی لکھتا ہے "۔۔قرآن شریف کے دائیں صفحہ میں شاید قریب نصف کے موقع پر یہی الہامی عبارت (انا انزلنہ قریبا من القادیان)لکھی ہوئی موجود ہے۔ تب میںنے اپنے دل میں کہا کہ ہاں واقعی طور پر قادیان کا نام قرآن شریف میں درج ہے اور میں نے کہا کہ تین شہروں کا نام اعزاز کے ساتھ قرآن شریف میں درج کیا گیا ہے۔ مکہ اور مدینہ اور قادیان"

    (ازالہ اوہام حاشیہ حصہ اول صفحہ40 مندرجہ روحانی خزائن جلد 3صفحہ140 از مرزا قادیانی)

    2) "مسجد اقصیٰ سے مراد مسیح موعود کی مسجد ہے جو قادیان میں واقع ہے پس کچھ شک نہیں جو قرآن شریف میں قادیان کا ذکر ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ سبحان الذی اسری بعبدہ لیلا من المسجد الحرام الی المسجد الاقصا الذی برکنا حولہ"

    (خطبہ الہامیہ ص21، روحانی خزائن ج 16ص21از مرزا قادیانی)

    3)''معراج میں جو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم مسجد الحرام سے مسجد اقصےٰ تک سیر فرما ہوئے وہ مسجد اقصیٰ یہی ہے جو قادیان میں بجانب مشرق واقع ہے جس کا نام خدا کے کلام نے مبارک رکھا ہے۔''

    (خطبہ الہامیہ صفحہ 22 مندرجہ روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 22 از مرزا قادیانی)

    4) "لوگ معمولی اور نفلی طور پر حج کرنے کو بھی جاتے ہیں مگر اِس جگہ (قادیان میں آنا، ناقل) نفلی حج سے ثواب زیادہ ہے اور غافل رہنے میں نقصان اور خطر۔ کیونکہ سلسلہ آسمانی ہے اور حکم ربانی۔"

    (آئینہ کمالات اسلام صفحہ352ـمندرجہ روحانی خزائن جلد5، صفحہ352 ازمرزاقادیانی )

    5) " حضرت مسیح موعودنے اس کے متعلق بڑا زور دیا ہے۔ اور فرمایا ہے کہ جو بار بار یہاں نہیں آتے۔ مجھے ان کے ایمان کا خطرہ ہے۔ پس جو قادیان سے تعلق نہیں رکھے گا۔ وہ کاٹا جائے گا۔ تم ڈرو۔ کہ تم میں سے نہ کوئی کاٹا جائے۔ پھر یہ تازہ دودھ کب تک رہے گا۔ آخر مائوں کا دودھ بھی سوکھ جایا کرتا ہے۔ کیا مکہ اور مدینہ کی چھاتیوں سے یہ دودھ سوکھ گیا کہ نہیں۔

    (حقیقة الرویاء صفحہ 46، از مرزا بشیر الدین محمود ابن مرزا قادیانی)

    6) قادیان کی عبادت گاہ کے بارے میں مرزا قادیانی کو الہام ہوا:
    ''وَمَنْ دَخَلَہ کَانَ اٰمِنًا۔''                                                                    (تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 82، طبع چہارم از مرزا قادیانی)


    یہ قرآن مجید کی آیت ہے (آل عمران:97) جو اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ جو اس میں داخل ہو گیا، اسے امن مل گیا۔ لیکن مرزا قادیانی اسے قادیان کی اپنی عبادت گاہ پر منطبق کر رہا ہے۔
    (7 ''آج جلسہ کا پہلا دن ہے اور ہمارا جلسہ بھی حج کی طرح ہے۔ حج خدا تعالیٰ نے مومنوں کی ترقی کے لیے مقرر کیا تھا، آج احمدیوں کے لیے دینی لحاظ سے حج تو مفید ہے مگر اس سے جو اصل غرض یعنی قوم کی ترقی تھی، وہ انھیں حاصل نہیں ہو سکتی کیونکہ حج کا مقام ایسے لوگوں کے قبضہ میں ہے، جو احمدیوں کو قتل کر دینا بھی جائز سمجھتے ہیں۔ اس لیے خدا تعالیٰ نے قادیان کو اس کام کے لیے مقرر کیا ہے۔ ہمارے آدمیوں میں سے جن کو خدا تعالیٰ توفیق دیتا ہے، حج کرتے ہیں مگر وہ فائدہ جو حج سے مقصود ہے، وہ سالانہ جلسہ پر ہی آ کر اٹھاتے ہیں۔''

    (برکات خلافت، صفحہ 5، خطبات محمود، جلد 4، صفحہ 254)

    (8 اس زمانہ میں خدا تعالیٰ نے قادیان کو تمام دنیا کی بستیوں کی اُم قرار دیا ہے۔ اس لیے اب وہی بستی پورے طور پر روحانی زندگی پائے گی جو اس کی چھاتیوں سے دودھ پیئے گی۔                                                                 (حقیقة الرویاء صفحہ 45 از مرزا بشیر الدین محمود)
    (9 مرزا قادیا نی نے قا دیان کو حرم کی زمین قرار دیتے ہوئے اپنی شاعری کے مجموعہ میں لکھا۔
    ''زمینِ قادیاں اب محترم ہے ہجوم خلق سے ارض حرم ہے''

    (در ثمین صفحہ56 از مرزا قادیانی)


    اہم نکات
    مرزا قادیانی کی مذکورہ بالا تحریروں سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے:-1قرآن شریف میں قادیان (ضلع گورداسپور، بھارت) کا نام موجود ہے۔-2مسجد اقصیٰ سے مراد مرزا قادیانی کی عبادت گاہ ہے جو قادیان میں واقع ہے۔-3یہی وہ مسجد ہے کہ سفر معراج میں پہلے حضور نبی کریمصلی اﷲ علیہ وسلم مسجد الحرام سے مسجد اقصیٰ تک گئے۔-4قادیان کی عبادت گاہ کو بیت اللہ شریف کا درجہ حاصل ہے۔-5قادیان میں جانا نفلی حج سے زیادہ ثواب کا باعث ہے۔-6مکہ اور مدینہ کی چھاتیوں کا دودھ خشک ہو گیا ہے، اب ہدایت و فیض صرف قادیان سے ملے گا۔-7قادیان کا جلسہ حج کی طرح ہے۔-8قادیان روحانی طور پر تمام بستیوں کی ماں ہے۔