حضرت مریم علیہا السلام کی توہین
قارئین کرام! قرآن و حدیث نے بہت سے مقامات پر حضرت مریم علیہا السلام کی شان اور عظمت بیان کی ہے ۔ قرآن نے ان کو صدیقہ کا لقب دیا اور کئی مقامات پر ان کی پا ک دامنی ، عفت اور عظمت کا ذکر کیا ، ان کو زمانہ کی عورتوں پر فضیلت دی ۔ وہ کس قدر اعلیٰ خوبیوں اور روشن سیرت سے آراستہ تھیںقرآن کی آیات اور احادیث مبارکہ کھل کر اس کا اعلان کرتی ہیں ۔ مگر آنجہانی مرزا قادیانی نے اپنی کتابوںمیں اس عظیم روحانی شخصیت کا ذکر جس بازاری زبان میں کیا، اسے پڑھ کر ہر مسلمان کا دل خون کے آنسو روتا ہے۔ آئیے دل پر ہاتھ رکھ کر دیکھتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے حضرت مریم علیہا السلام کے بارے میں کیا ہرزہ سرائی کی؟
(1)حضرت مریم علیہا السلام کی صدیقیت؟؟؟: ''مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا: ایک دفعہ میں نے حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ کی اللہ تعالیٰ نے صدیقہ کے لفظ سے تعریف فرمائی ہے۔ اس پر حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے اس جگہ حضرت عیسیٰ کی الوہیت توڑنے کے لیے ماں کا ذکر کیا ہے اور صدیقہ کا لفظ اس جگہ اس طرح آیا ہے، جس طرح ہماری زبان میں کہتے ہیں ''بھرجائی کا نیے سلام آکھناں واں!'' جس سے مقصود کانا ثابت کرنا ہوتا ہے نہ کہ سلام کہنا۔ اسی طرح اس آیت میں اصل مقصود حضرت مسیح کی والدہ ثابت کرنا ہے جو منافی الوہیت ہے نہ کہ مریم کی صدیقیت کا اظہار۔''
(سیرت المہدی جلد سوم صفحہ 220 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی)
(2)حضرت مریم کی اولاد؟: ''یسوع مسیح کے چار بھائی اور دو بہنیں تھیں۔ یہ سب یسوع کے حقیقی بھائی اور حقیقی بہنیں تھیں یعنی سب یوسف اور مریم کی اولاد تھی۔''
(کشتی نوح صفحہ 20 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 18 (حاشیہ) از مرزا قادیانی)
(3)حضرت مریم علیہا السلام کے ساتھ دوسرا نکاح؟: ''اور مریم کی وہ شان ہے جس نے ایک مدت تک اپنے تئیں نکاح سے روکا، پھر بزرگانِ قوم کے نہایت اصرار سے بوجہ حمل کے نکاح کر لیا۔ گو لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ برخلاف تعلیم توریت عین حمل میں کیونکر نکاح کیا گیا اور بتول ہونے کے عہد کو کیوں ناحق توڑا گیا اور تعدد ازواج کی کیوں بنیاد ڈالی گئی۔ یعنی باوجود یوسف نجار کی پہلی بیوی کے ہونے کے پھر مریم کیوں راضی ہوئی کہ یوسف نجار کے نکاح میں آوے۔ مگر میں کہتا ہوں کہ یہ سب مجبوریاں تھیں جو پیش آ گئیں۔ اس صورت میں وہ لوگ قابل رحم تھے نہ قابل اعتراض۔'' (کشتی نوح صفحہ 20 مندرجہ روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 18 از مرزا قادیانی)
(4)حضرت مریم صدیقہ کا اپنے منسوب سے نکاح سے پہلے تعلق: ''پانچواں قرینہ ان کے وہ رسوم ہیں جو یہودیوں سے بہت ملتے ہیں۔ مثلاً ان کے بعض قبائل ناطہ اور نکاح میں کچھ چنداں فرق نہیں سمجھتے اور عورتیں اپنے منسوب سے بلاتکلف ملتی ہیں اور باتیں کرتی ہیں۔ حضرت مریم صدیقہ کا اپنے منسوب یوسف کے ساتھ قبل نکاح کے پھرنا اس اسرائیلی رسم پر پختہ شہادت ہے مگر خوانین سرحدی کے بعض قبائل میں یہ مماثلت عورتوں کی اپنے منسوبوں سے حد سے زیادہ ہوتی ہے حتیٰ کہ بعض اوقات نکاح سے پہلے حمل بھی ہو جاتا ہے جس کو برا نہیں مانتے بلکہ ہنسی ٹھٹھے میں بات کو ٹال دیتے ہیں کیونکہ یہود کی طرح یہ لوگ ناطہ کو ایک قسم کا نکاح ہی جانتے ہیں جس میں پہلے مہر بھی مقرر ہو جاتا ہے۔'' (ایام الصلح صفحہ 74 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 300 از مرزا قادیانی)
(5) نکاح سے دو ماہ بعد (نعوذ باللہ): ''مریم کو ہیکل کی نذر کر دیا گیا تا وہ ہمیشہ بیت المقدس کی خادمہ ہو۔ اور تمام عمر خاوند نہ کرے لیکن جب چھ سات مہینے کا حمل نمایاں ہو گیا۔ تب حمل کی حالت میں ہی قوم کے بزرگوں نے مریم کا یوسف نام ایک نجار سے نکاح کر دیا اور اس کے گھر جاتے ہی ایک دو ماہ کے بعد مریم کو بیٹا پیدا ہوا۔ وہی عیسیٰ یا یسوع کے نام سے موسوم ہوا۔'' (چشمہ مسیحی صفحہ 24 مندرجہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 355، 356 از مرزا قادیانی)
قارئین کرام: مرزا قادیانی نے حضرت مریم صدیقہ علیہا السلام کی پاکباز شخصیت پر جو بہتان ترازی کی ہے، وہ سراسر جھوٹ ہے۔ جھوٹ کے بارے مرزا قادیانی کا کہنا ہے:
(6) ''وہ کنجر جو ولدالزنا کہلاتے ہیں، وہ بھی جھوٹ بولتے ہوئے شرماتے ہیں۔'' (شحنۂ حق صفحہ 60 مندرجہ روحانی خزائن جلد 2 صفحہ 386 از مرزا قادیانی)
(7) ''جھوٹ بولنا اور گوہ کھانا ایک برابر ہے۔'' (حقیقة الوحی صفحہ 206 مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 215 از مرزا قادیانی)
مرزا قادیانی کی مذکورہ بالا تحریروں سے ثابت ہوا:-1مرزا قادیانی کنجر اور ولدالزنا سے بھی بدتر ہے کیونکہ (بقول مرزا قادیانی) ایسے لوگ جھوٹ بولنے سے شرماتے ہیںمگر مرزا قادیانی نہیں شرماتا۔-2مرزا قادیانی نے جھوٹ بول کر گوہ کھایا۔