مقام اہلبیتؓ اور انکے خلاف مرزا قادیانی کی گستاخیاں

حضور نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی خوشنودی آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے اہل بیت کی خدمت اور محبت میںپوشیدہ ہے ۔ اہل بیت سے محبت خود حضور نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم سے محبت اور ایمان پر خاتمہ کابہترین اور آسان ذریعہ ہے۔آل نبی صلی اﷲ علیہ وسلم سے محبت ،ان کا احترام و اکرام اور ان کی حد درجہ تعظیم و تکریم واجبات دین میں سے ہے ۔حضرت علی رضی اﷲ عنہ اور ان کے گھرانے کی عظمت کے بارے میںچند احادیث مبارکہ ملاحظہ فرمائیں ۔ نبی اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا یاد رکھو کہ تمہارے درمیان میرے اہل بیت کی وہی اہمیت ہے جو نوح علیہ السلام کی کشتی کی ،جو اس میں سوار ہو گیا اس نے نجات پالی اور جو شخص اس کشتی میں سوار ہونے سے رہ گیا وہ ہلاک ہوا۔ (مسند احمد ) ۔            رسول مقبول صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایاچار شخص وہ ہیں کہ جن کی میں قیامت کے دن خاص طور پر سفارش کروں گا،ا ول وہ شخص جو میری ا ولاد کی تعظیم کرنے والا ہو، دوسرا وہ جو اُنکی حاجتیں پوری کرتا ہو،تیسرا وہ جو اُنکے کاموں میں کوشش کرتا ہو کہ جس وقت وہ لوگ اُس کی طرف مضطر ہوں،چوتھا وہ کہ اُن سے محبت رکھنے والا ہو اپنے دل سے اور اپنی زبان سے۔(الطائف الاحمدیہ فی المناقب الفاطمیہ)      رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وسلمنے فرمایا ایسے شخص پر خدا کا سخت عذاب اور غصہ نازل ہو جو میرے  اہلِ بیت کو دُکھ اور رنج پہنچائے اور پھراس کی وجہ سے مجھے دُکھ اوررنج پہنچے۔(سیوطی،دیلمی)

شیرخدا سیّدناحضرت علیؓ کا مقام   رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاکہ علی رضی اﷲ عنہ سے منافق کو محبت نہ ہوگی اور مومن کو بغض نہ ہو گا ، اور جس نے علیؓ کو گالیاں دیں اس نے دراصل مجھے گالیاں دیں ۔  رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وسلم حجتہ الوداع سے واپس ہوتے ہوئے مقام عذیر خم پرپہنچے تو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرات صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم  کے سامنے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کاہاتھ پکڑکر یہ ارشاد فرمایا .....اے اللہ! میں جس کا مولیٰ بن جاؤں ،علی بھی اْس کے مولیٰ ہوں ،اے اللہ محبت کیجئے اس شخص سے ،جوعلی سے محبت کرے اور دشمن رکھیے اس شخص کو جو علی سے دشمنی رکھے۔ (رواہ احمد)

 سیّدۃ النّساء حضرت فاطمۃ الزّہرٰہ ؓ  کا مقام           رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:فاطمہ رضی اﷲ عنہا میرے جسم کا ٹکڑا ہے جس نے اس کو ناراض (غضب ناک)کیا،اْس نے مجھے ناراض (غضب ناک)کیا اور جس نے اس کو ناخوش کیا ، اْس نے مجھ کوناخوش کیا اور جس نے اس کو اذیت پہنچائی اس نے مجھ کو اذیت پہنچائی ۔  (بخاری ومسلم) وفات سے چند روز پہلے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے ارشاد فرمایا اے فاطمہ تمہارے لئے بہت خوشی کامقام ہے کہ تجھے جنتی عورتوں کی سردار بنایا جائے گا۔ (بخاری ومسلم)

حضرات حسنین کریمین رضی اﷲ عنہما کا مقام    حضور نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایاحسن اور حسین جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں(مسنداحمد،ترمذی)۔   حضور نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایاحسن اورحسین یہ دونوں میرے بیٹے ہیں اور میری بیٹی کے بیٹے ہیں یا اللہ! میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں تو بھی اِن سے محبت فرما اور جو اِن سے محبت کرے تو اُن سے بھی محبت فرما ( مشکوٰۃ،ترمذی )۔    حضور نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایاجس نے حسن اور حسین سے محبت کی اُس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے اِن سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا(سنن ابن ما جہ) ۔ رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا حسن وحسین یہ دونوںمیری دنیاکی بہار ہیں۔ (بخاری )

اہل بیت کی محبت کو ایمان کی حفاظت اور حسن خاتمہ میں بڑا دخل ہے ۔ اہل بیت کی عظمت کیلئے یہ بات کافی ہے کہ ہرشخص جب  نماز پڑھتا ہے تو ان پر درود بھیجتا ہے۔ شیخ سعدی  ؒ کے کلیات بوستان سعدی میں شعر ہے کہ 

الہی بحق بنی فاطمہ                  کہ برقول ایماں کنی خاتمہ

  ترجمہ :  اے پروردگارِعالم!اولادِفاطمہ کے طفیل میرا خاتمہ ایمان پر فرمانا۔

اہلبیت رضی اللّٰہ عنہم کے متعلق  مرزا قادیانی کی گستاخیاں

اہل بیتؓکا نسب نہایت پاکیزہ و عالی ہے۔ ان کے حق میں قرآن کریم کی کئی آیات نازل ہوئیں اور کئی احادیث نبویہ ان کی شان میں وارد ہوئیں۔ وہ سب مسلمانوں کے احترام، توقیر اور ان کی محبت کے لائق اور مستحق ہیں۔ ہر مسلمان اہل بیتؓ سے محبت اپنے لیے سرمایۂ حیات سمجھتا ہے۔ حضور نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے اہل بیتؓ پر طعن و تشنیع کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت کا مستحق قرار دیا۔ لیکن اس دنیا میں ایسے بدبختوں اور نامرادوں کی کمی نہیں جو ان کے خلاف اپنی گز گز بھر لمبی زبانیں کھولتے ہیں۔ ایسے ہی نامرادوں میں ایک آنجہانی مرزا غلام قادیانی ہے۔مرزا قادیانی نےسیدنا علی مرتضی رضی اللہ عنہ، سیدنا حسین ابن علی رضی اللہ عنہ، اہل بیت رضی اللہ عنہم کی شان میں گستاخیاں کیں اور اپنے آپ کو ان سب سے برتر اور افضل ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی۔قادیانیوں کے نزدیک اب سید صرف وہ کہلوائے گا جو مرزا قادیانی کی اتباع میں داخل ہوگا اور اس کے خاندان سے تعلق رکھتا ہوگا۔قادیانیوں کے نزدیک حضور خاتم النبیین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پرانا رشتہ کام نہ آئے گا (نعوذباللہ) ۔مرزا قادیانی کا بیٹا اور قادیانی جماعت کا خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود لفظ سید کی تعریف کرتے ہوئے لکھتا ہے: اب جو سید کہلاتا ہے اس کی یہ سیادت باطل ہو جائے گی۔ اب وہی سید ہوگا جو حضرت مسیح موعود (مرزا) کی اتباع میں داخل ہوگا۔ اب پرانا رشتہ کام نہیں آئے گا۔ (قول الحق صفحہ 32 مندرجہ انوارالعلوم جلد 8 صفحہ 80 از مرزا بشیرالدین محمود)

قادیانیوں کی توہین آمیز عبارتیں  اور پاکستان کا آئین و قانون

قادیانیوںکی خلافِ اسلام سرگرمیوں کو روکنے کے لیے صدر مملکت نے 26 اپریل 1984ء کو امتناع قادیانیت آرڈینینس نافذ کیا اورتعزیراتِ پاکستان میں دفعہ 298۔ بی کا اضافہ کیا گیا ہے جس کی رو سے قادیانی گروپ لاہوری گروپ کے کسی بھی ایسے شخص کو جو زبانی یا تحریری طور پریا کسی فعل کے ذریعے مرزا قادیانی کے جانشینوں یا ساتھیوں کو امیر المومنین یا صحابہ یا اس کی بیوی کو ام المومنین یا اس کے خاندان کے افراد کو اہلِ بیت کے الفاظ سے پکارے یا اپنی عبادت گاہ کو مسجد کہے تین سال کی سزا اور جرمانہ کیا جا سکتا ہے۔

مگر افسوس صد افسوس کہ قادیانی اس قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مرزا قادیانی اور اس کی آل پر درود وسلام بھیجتے ، مرزا قادیانی کی بیوی کو ام المومنین،اس کی بیٹی کو سید ۃ النساء اور اس کے گھرانے کو اہل بیت کہتے ہیں۔ قادیانیوں کی کتابوں اور اخباروں میں شعائر اسلامی کو مرزا قادیانی کے گھرانے کے لوگوں کے لئے استعمال کیا جاتا ہے ۔دوسری طرف قادیانیوں اور لاہوری مرزائیوں نے اس آرڈینینس کو وفاقی شرعی عدالت میں چیلنج بھی کر دیا کہ یہ آرڈینینس قرآن و سنت کے منافی ہے ۔

وفاقی شرعی عدالت کے پانچ رکنی بینچ نے اس کیس کی سماعت کی ۔ قادیانیوں کی طرف سے مجیب الرحمن ایڈووکیٹ قادیانی اور لاہوری مرزائیوںکی طرف سے عبدالواجد لاہوری مرزائی پیش ہوئے ۔ 25 جولائی 1984 ء سے 12 اگست 1984 ء تک اس کی سماعت جاری رہی ۔ 29  اکتوبر 1984 ء کواس کیس کے  247 صفحات پرمشتمل تفصیلی فیصلہ میں اس آرڈینینس کو قرآن و سنت کے مطابق قرار دیا گیا ۔ اس فیصلہ میں اہل بیت کی اصطلاح مرزا قادیانی کے خاندان والوں کے لئے استعمال کرنے سے متعلق عدالت نے فیصلہ میں لکھا کہ اہل بیت کی اصطلاح بھی جیسا کہ کئی احادیث سے واضح ہوتا ہے حضرت رسول اللہ  کے خاندان کے افراد کے لیے مخصوص ہے۔ایسے اشخاص جو مسلمان نہیں ہیں یا جو مسلمان نہیں تھے ان کو اس نام سے نہیں پکارا جا سکتا۔ قادیانیوں کی طرف سے مرزا قادیانی کے افراد خاندان کے لیے ایسے نام کا استعمال زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ وہ اوصاف جن سے رسول اللہ  کے افرادِ خاندان متصف تھے وہ کسی اور شخص میں موجود نہیں ہو سکتے اس لیے یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ مسلمانوں نے اس توہین کا برا منایا۔ اس اصطلاح کے استعمال سے امن و امان کا مسئلہ خراب ہوتا ہے۔ لہٰذا یہی امت کے مفاد میں تھا کہ اس کے استعمال کو فوجداری جرم قرار دے کر قادیانیوں کو اس کے استعمال سے منع کر دیا جائے۔                     

  (فیصلہ وفاقی شرعی عدالت مورخہ29اکتوبر 1984ئ)  (PLD 1985 FSC 8)

لاہور ہائی کورٹ نے فوجداری مقدمہ بعنوان ناصر احمد بنام سرکار میں مرزا قادیانی کی کتابوں کا جائزہ لیا اور اپنے فیصلہ مورخہ 2  اگست1992 ء میں لکھا کہ مرزا قادیانی نے دعویٰ کیا کہ وہ مقام اور مرتبے کے لحاظ سے حضرت امام حسنؓ اور حضرت امام حسینؓ سے بڑھ کر تھا۔ اپنی تحریر کردہ کتب دافع البلائ نزولِ مسیح اور درثمین میں انؓ کی تذلیل و اہانت کی ہے ...حضور نبی کریم حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کی احادیث مبارکہ سے ثابت ہے کہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم حضرت امام حسن رضی اﷲ عنہ اور حضرت امام حسین رضی اﷲ عنہ سے شدیدمحبت رکھتے تھے ۔ مگر مرزا قادیانی نے حسنین رضی اﷲ عنہما کے لئے توہین اور نفرت کا اظہار کیا ہے ۔اس مقدمہ میںقادیانی وکیل مبشر لطیف احمد نے قادیانی ملزم کی پیروی کی اور مرزا قادیانی کی کتابوں میں درج ان گستاخیوں کا بھر پور دفاع کیا ۔عدالت عالیہ میں مرزا قادیانی کی کتابوں سے لئے گئے اہل بیت کے بارے میں توہین آمیز حوالہ جات اس فیصلہ کے آخر میں درج ہیں اورپاکستان کریمنل لاء جرنل 1992 ء کے صفحہ 2359  پر ریکارڈ کا حصہ ہیں،اس کا عکس ملاحظہ فرمائیں۔ 

P. Cr. L. J 1992                         ضمیمہ ۔ ا ے                    Nasir Ahmad V. State

کربلائے است سیر ہر آنم           صد حسین است در گریبانم

(ترجمہ) کربلا ہر وقت میری سیرگاہ ہے اور سو حسین میرے گریبان میں ہیں

(نزول المسیح صفحہ نمبر 99 روحانی خزائن جلد نمبر 18 صفحہ نمبر 477)

-2 وقالوا اعلی الحسنین فضل نفسہ اقول نعم واللہ ربی سیظھر۔(ترجمہ) اور انہوںنے کہا کہ اس شخص نے امام حسن اور امام حسین سے اپنے تئیں اچھا سمجھا۔ میں کہتا ہوں کہ ہاں اور میرا خدا عنقریب ظاہر کر دے گا۔

 (اعجاز احمدی ص52 روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 164)

-3نسیتم جلال اللہ والمجد والعلی وما وردکم الا حسین اتنکر فھذا علی الاسلام احدی المصائب         لدی نفحات المسک قذر مقنطر

(ترجمہ) تم نے خدا کے جلال اور مجد کو بھلا دیا اور تمہارا ورد صرف حسین ہے۔ کیا توُ انکار کرتا ہے پس یہ اسلام پر ایک مصیبت ہے۔ کستوری کی خوشبو کے پاس گوہ کا ڈھیر ہے۔

(اعجاز احمدی ص 82 ضمیمہ نزول المسیح روحانی خزائن جلد نمبر 19 صفحہ 194 )

-4اے قوم شیعہ: اس پر اصرار مت کرو کہ حسین تمہارا منتجی ہے کیونکہ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ آج تم میں ایک ہے کہ اس حسینؓ سے بڑھ کرہے۔                                                                                         (دافع البلاء صفحہ 13 روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 233)

-5 افسوس: یہ لوگ نہیں سمجھتے کہ قرآن نے تو امام حسین کو ابنیت کا درجہ بھی نہیں دیا بلکہ نام تک مذکور نہیں ان سے تو زید ہی اچھا رہا جس کا نام قرآن میں موجود ہے میں مسیحِ موعود نبی اور رسول ہوں۔ اب سوچنے کے لائق ہے کہ امام حسین کو مجھ سے کیا نسبت ہے؟  

(نزول المسیح صفحہ نمبر 45 مندرجہ روحانی خزائن ج 18 ص 424 از مرزا قادیانی)

-6 تم نے مشرکوں کی طرح حسین کی قبر کا طواف کیا پس وہ تمہیں نہ چھڑا سکا اور نہ مدد کر سکا تم نے کشتہ سے نجات چاہی جو نو میدی سے مر گیا اور بخدا اس کی شان مجھ سے کچھ زیادہ نہیں۔ میرے پاس خدا کی گواہیاں ہیں پس تم دیکھ لو اور میں خدا کا کشتہ ہوں۔ لیکن تمہارا حسین دشمنوں کا کشتہ ہے۔

   (اعجاز احمدی صفحہ 8081 مندرجہ روحانی خزائن ج 19 ص192 193درثمین عربی صفحہ 240 241)

-7 امام حسین نے جو بھاری نیکی کا کام دنیامیں آکر کیا وہ صرف اس قدر ہے کہ ایک دنیادار کے ہاتھ پر انہوں نے بیعت نہ کی اور اس کشاکش کی وجہ سے شہید ہو گئے اگر ہم امام حسین کی خدمات کو لکھنا چاہیں تو کیا ان دو تین فقروں کے سوا کہ وہ انکار بیعت کی وجہ سے کربلا میں روکے گئے اور شہید کیے گئے۔ کچھ اور بھی لکھ سکتے ہیں؟ (رسالہ تشحیذ الاذہان نمبر 2 جلد نمبر 1 مرتبہ مرزا محمود)      

(1992  P. Cr. L. J. 2351 to 2360)

ہم شہادت حسین ؓ کتنے جوش و خروش سے بیان کرتے ہیں کہ نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ناناجان صلی اﷲ علیہ وسلم کے دین کے تحفظ کی خاطر ، حق کی سر بلندی کی خاطر میدان کربلا کو اپنے خاندان کے خون سے رنگین ہوتے دیکھا. اپنے جگر کے ٹکڑوں کو ٹکڑے ٹکڑے کرا دیا بالاخر اپنا سر بھی قلم کرادیا ، لیکن اپنے نانا جان صلی اﷲ علیہ وسلم کے دین پر آنچ نہ آنے دی ۔دعویٰ ہمارا یہ ہے کہ ہم اسلام کے سپاہی ہیں ۔ہم اسلام کے کیسے سپاہی ہیں ؟ اسلام پر تو قادیانی حملہ آور ہیں اورہم آنکھیں بند کئے بیٹھے ہیں ۔ حضرات اہل بیت کرام ؓ کی شان میں ایسی توہین کرنے والوں کے ساتھ ہماری دوستیاں یارانے کیا مطلب رکھتے ہیں ؟ان کے ساتھ اقتصادی ومعاشی و معاشرتی ا ور سیاسی تعلقات استوار کرکے ہم کس طرح اہل بیت ؓ سے محبت اور وفاداری کا دعویٰ کر سکتے ہیں ؟اور اگر ہم ان تمام باتوں کا علم ہو جانے کے بعد بھی اپنے تعلقات ان قادیانیوں سے رکھ رہے ہیں تو کیا ہم بے حس نہیں ہیں تو اور کیا ہیں ؟  کیا سرکار دو عالم صلی اﷲ علیہ وسلم کے احسانات کا بدلہ یہی ہے ؟  کیا شہید کربلا کی غلامی کا حق یہی ہے ؟  اے مسلمان تیری غیرت کہاں سو گئی ؟