قادیانیت صحافیوں کی نظر میں
فتنہ قادیانیت کے بارے میں صحافیوں کے ایمان افروز مشاہدات و تاثرات اور انکشافات درج کئے جاتے ہیں۔
مسعود شورش (ایڈیٹر ہفت روزہ ''چٹان''):''قادیانیت ملت کا ناسور اور بقول شور ش مرحوم'' عجم کا اسرائیل ہے''۔ علماء کی مساعی، امت کے اتفاق، ملت کی وحدت اور اہل اسلام کی زبردست قربانی کے صدقے، باری تعالیٰ نے پاکستان میں ان کی قانونی حیثیت غیر مسلم بنادی ہے۔ اسلامی تعلیمات کی رو سے اسلام چھوڑ کر قادیانیت قبول کرنے والا دائرہ اسلام سے خارج اور مرتد ہے۔ قادیانیت ، یہودی لابی کا کھلونا اور ملت اسلامیہ کا ناسور ہے۔ اس کا ہر قدم اسلام کے خلاف، اس کا ہرسفر قرآن سے بغاوت اور انکی ہر تدبیر شیطینیت کی تزویرہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ یہ حقیقتیں حکومت بھی جانتی ہے اور رعایا بھی ، مگر اس کے باوجود قادیانیت کو ملک کے خلاف دشمن سے ساز باز اور تبلیغ کے عنوان سے، تخریب کی کھلی اجازت اور سفری مراعات بھی دی جاتی ہیں''۔
آغا مرتضیٰ پویا، (چیف ایڈیٹر ''دی مسلم'' اسلام آباد):''قادیانی جماعت انگریزی سامراج کی یادگار ہے۔ یہ ایک ایسی خطرناک سیاسی جماعت ہے جو اپنے آقائوں کے مخصوص مفادات کے لئے کام کرتی ہے۔ قادیانی جماعت کے ساتھ پاکستان میں وہی سلوک ہونا چاہئے جو ایران میںبہائی جماعت کے ساتھ کیا گیا ہے۔ حکومت بہائی تحریک کی سرگرمیوں پر بھی نظر رکھے ورنہ تحریک ، قادیانی تحریک کی طرح خطرناک ثابت ہوگی۔
مولانا محمود مقصودا حمد چشتی قادری (خطیب جامع مسجد دربار حضرت داتا گنج بخش رحمة اللہ علیہ):قادیانیوں کی ملک دشمن سرگرمیاں، دہشت گردانہ کردار، مغربی استعمار کی سرپرستی اور امت مسلمہ کے خلاف گٹھ جوڑ انتہائی قابل نفرت ہے۔ا سلامی کانفرنس کو چاہئیے کہ اس بارے میں کوئی مئوثر اقدام کرے اور مسلمانان عالم پر بھی لازم ہے کہ اس کار خیر میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ساتھ بھرپور تعاون کریں تاکہ عالمی سطح پر قادیانیت کے خلاف اور تحفظ ختم نبوت کے لئے مئوثر اور باوقار کام ہوسکے، اللہ تعالیٰ آپ کو اپنے مقدس مشن میں کامیابی بخشے۔آمین''۔
زاہد ملک (چیف ایڈیٹر : روزنامہ''پاکستان آبزور'' ہفت روزہ ''حرمت''):''پہلی صدی سے لے کر ہر زمانے اور پوری اسلامی امہ کے علماء کرام اس عقیدے پر متفق ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی شخص نبی نہیں ہوسکتا اور یہ بھی ہیںکہ جو آپۖ کے بعد اس منصب کا دعویٰ کرے یا اس کو مانے، وہ کافر ہے اور خارج از ملت اسلام ہے اور ویسے بھی جب میں عقلی لحاظ سے دیکھتا ہوں تو اس نتیجہ پر پہنچتا ہوں کہ اب کسی نئے نبی کی ضرورت بھی نہیں رہی۔ لہٰذا پاکستان میں اور اسی طرح دوسرے اسلامی ممالک میں بھی ہر اس شخص کو کافر قرار دینا، جو محمد رسول اللہۖ کے بعد کسی کو بھی نبی مانتا ہے۔ بالکل جائز ہے اور سرکاری سطح پر ایسی جماعت کو کافر قراردیاجانا ضروری تھا۔ پاکستان میں یہ فتنہ اس لئے بھی ختم ہوگیا کہ الحمداللہ عوام نے نہ صرف سرکاری فیصلے کو قبول کیا بلکہ خود بھی اپنے طور پر ، یعنی ذہنی طور پر ، ایسے تمام لوگوںکو اپنے دائرے سے خارج کردیا ہے''۔
عطاء الحق قاسمی( معروف شاعر، ادیب، کالم نگار''روزن دیوار سے''): ''احمدی اور مسلمانوں میں جو چیز وجہ نزاع بنی، وہ مرزا غلام احمد قادیانی کی جعلی ''نبوت'' کے علاوہ اس نومولود مذہب کی طرف سے مسلمانوں کی اس تمام ''ٹرمانالوجی'' پر قبضہ تھا جو بزرگان دین اور مقامات مقدسہ کے لئے مخصوص تھی، اپنے اصل مقاصد پر پردہ ڈالنے کے لئے مرزا غلام احمد قادیانی نے خود کو ایسا ''نبی'' قرار دیا جواپنی شریعت نہیں لایا تھا بلکہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم ہی کی شریعت کو نافذ کرنے کا دعویدار تھا۔ چنانچہ موصوف نے ظلی، بروز ی کی بحث بھی چھیڑی، خود کو احمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کا غلام ہی قرار دیا لیکن ان کے ''صحابی'' اس قسم کے شعر بھی کہتے رہے۔
 

محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیان میں


اسی طرح ''جنت البقیع'' کے مقابلے میں ''جنت البقیع'' کے نام سے ایک قبرستان آباد کیا گیا۔ ''مسجد اقصیٰ'' تعمیر کی گئی۔ مرزا صاحب کے جانشینوں کو خلیفہ اول اور خلیفہ دوئم وغیرہ کے نام دئیے گئے۔ مرزا صاحب کی بیگمات کو ''امہات المئومنین'' قرار دیا گیا۔ مرزا صاحب کے حواریوں کو صحابی'' کہا گیا گیا، غرضیکہ مسلمانوں کے ساتھ ''ہم آہنگی'' کا مظاہرہ کیا گیا۔ چنانچہ میرے نزدیک یہ بہت بڑا مغالطہ ہے کہ مسلمانوں نے ''احمدیوں'' کو غیر مسلم قرار دیا، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ غیر مسلم قرار دئے جانے سے بہت عرصہ قبل ''احمدی'' مسلمانوں کو غیر مسلم قرار دے چکے تھے۔ ثبوت کے طور پر صرف دو مثالیں ملاحظہ فرمائیں۔ مرزا بشیر الدین محمود سے ان کے ایک مرید نے سوال کیا کہ کسی غیر احمدی کا اگر کوئی بچہ انتقال کر جائے تو کیا اس کی نمازجنازہ پڑھنا جائز ہے؟ اس کے جواب میں مرزا بشیر الدین محمود نے کہا '' میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ اگر کسی عیسائی یا ہندو کا بچہ فوت ہوجائے تو کیا اس کی نماز جنازہ پڑھیں گے'' اس ضمن میں دوسری مثال پاکستان کے سابق وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خاں کی ہے، جب حضرت قائدِ اعظم کی نمازہ جنازہ پڑھی جار ہی تھی، سر ظفر اللہ خاں ایک کونے میں الگ ٹانگیں پسارے بیٹھے رہے، کسی صحافی نے ان سے پوچھا کہ آپ نماز جنازہ میں شریک کیوں نہیں ہوئے؟ سر ظفر اللہ خاں نے جواب دیا۔ ''آپ مجھے ایک مسلم ریاست کا غیر مسلم شہری یا ایک غیر مسلم ریاست کا مسلم شہری سمجھ لیں'' کہنا میں یہ چاہتا ہوں کہ جب کسی قوم کو اس کے مرکز سے ہٹانا مقصود ہوتو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں ڈمی کھڑی کردی جاتی ہے، مکے اور مدینے کے مقابلے میں قادیان اور ربوہ تعمیر کئے جاتے ہیں اور صدیق اکبر کے مقابلے میں حکیم نورالدین کو آگے لایا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں خود کو خادم قرار دینے والے رفتہ رفتہ سردار کے بہروپ میں سامنے آنے کی کوشش کرتے ہیں اور یوں اس مذہب کے ماننے والے ، اصلی مرکزی شخصیت اور اس مرکزی شخصیت سے وابستہ علامتوں سے کٹ کر رہ جاتے ہیں''۔
لالہ صحرائی (معروف صحافی):''قرآن مجید میں کلمہ حق کو ایسے شجر طیبہ سے تشبیہ دی گئی ہے جو زمین سے لے کر آسمان تک بلند ہے اور اسی اعتبار سے اس کی جڑیں بھی زمین میں دور دور تک گہری پیوست ہیں لہٰذا اسے صفحہ ہستی سے مٹانا ممکن نہیں۔ اس کے برعکس کلمہ باطل کو قرآنی زبان میں ایک ایسے شجر خبیثہ سے موسوم کیا گیا ہے جو زہریلے جھاڑ جھنکار کی مانند سطح زمین پر معمولی سے ابھار کے ساتھ پھیلا ہوا ہے اور جس کو صاف کرنے کے لئے اہل حق کی ادنیٰ سی کوشش درکار ہے۔ گویا دبانے سے نہ دبنا عین اسلام کے دین حق کی فطرت ہے،اس کے مقابلے میں باطل کی فطرت یہ ہے کہ وہ اپنی کمزور بنیاد کے سبب دبانے پر اور پچک جاتا ہے اور دست حق کی قہرمانی کی ذرا تاب نہیں لاسکتا۔
اس تلمیح سے قطع نظر، قادیانیت کے متعلق کچھ واقعاتی حقائق ایسے ہیں جو اس کی باطل حیثیت کو بالکل بے نقاب کردیتے ہیں، اس ضمن میں وہ واقعہ خاص طور پر قابل ذکر ہے جو قادیانیت کے بانی مرزا غلام احمد کو اپنی زندگی کے دوران پیش آیا، ظاہر ہے وہ زمانہ قادیانیت کے عروج کا زمانہ تھا، مرزا غلام احمد نے اپنی امت کے انہی ایام عروج میں اپنے دو مبلغین کو اپنے مذہب کی تبلیغ کی غرض سے بادشاہ افغانستان کے پاس کابل بھیجا۔ جب یہ مبلغین ، شاہ کابل کے دربار میں حاضر ہوئے اور وہاں انہوں نے اپنے مذہب کی دعوت مرزا غلام احمد کی نبوت پر ایمان لانے کی صورت میں پیش کی تو بادشاہ نے ان سے پوچھا کہ ''مرزا غلام احمد کی نبوت پر ایمان لانے سے پہلے تمہارا مذہب کیا تھا؟'' قادیانی مبلغین نے فوراً جواب دیا ''اسلام بادشاہ اس پر مفتی دربارسے مخاطب ہوا اور بطور استفتاء دریافت کیا''فرمائیے مفتی صاحب! شریعت نے مرتد کے لئے کیا سزا تجویز کی ہے؟'' مفتی صاحب نے بلاتامل جواب دیا کہ ''شریعت کی رو سے مرتد کی سزا قتل ہے لہٰذا میں جلاد کو حکم دیتا ہوں کہ وہ فوراً تمہیں کیفر کردار تک پہنچا دے'' اس کے بعد بادشاہ نے دربار کے جلاد کواشارہ کیا اور اس نے بڑھ کر فی الفور دونوں مبلغین کے سر تن سے جدا کر دئیے۔
وہ دن اور آج کا دن ، نہ قادیانیت کے بانی مرزا غلام احمد کو اور نہ اس کے بعد اس کے خلیفہ اور چیلے چانٹے کو کبھی یہ ہمت ہوئی کہ وہ افغانستان میں اپنے مبلغ دوبارہ بھیج کر وہاں اپنا دام ترویز پھیلائیں۔ یہ لوگ دنیا کے دور دراز خطوں مثلاً افریقہ اوریورپ کے ممالک میں تو اپنے تبلیغی وفود آئے دن بھیجتے رہتے ہیں لیکن انہیں پاکستان کے اس قریب ترین ہمسایہ ملک افغانستان میں اپنا سابقہ حشر دیکھ کر وہاں پھر قدم رکھنے کی جرات نہیںہوئی۔ اس کی وجہ صاف ہے کہ افغانستان میں اپنا سابقہ حشردیکھ کر وہاں پھر قدم رکھنے کی جرات نہیں ہوئی۔اس کی وجہ صاف ہے افغانستان کے باہمت مسلمان حکمران نے ''گربہ کشتن روز اول'' کے مصداق ان کووہاں پنپنے کا موقعہ ہی نہیں دیا اور قادیانیت کے اولین مبلغین کی گردنیں قطع کرنے کے ساتھ ہی اس نے گویا اپنے ہاں اس باطل مذہب کا رشتہ حیات بھی کاٹ کر رکھ دیا۔ اس کے برعکس افریقہ میں انگریزوں کی نو آبادیاں اور صیہونیوں کے وطن، اسرائیل میں ، ان کو نفوذ کرنے کے لئے، چونکہ مسلمان دشمن حکمران ہر طرح کی سہولت دے رہے ہیں۔ لہٰذا وہاں اپنا دھندہ پھیلانے میں کامیاب نظر آتے ہیں۔
یہ حقائق اس امر کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ فتنہ قادیانیت کے علمبردار ، حقیقی دبائو کی ذرا سی تاب بھی نہیں لاسکتے۔ گملے کی مصنوعی زمین سے ابھرنے والا یہ پودا حکمرانوں کے تحفظ کی چھتری کے سائے تلے ہی پل بڑھ سکتا ہے۔ یہ چھتری سر سے ہٹتے ہی یہ پودا مخالفت کی تیز دھوپ میں جھلس کر رہ جاتا ہے حالانکہ حق بذات خود ایک قوت ہوتا ہے جو خود اپنے زور سے ابھرتا ہے۔ مخالفت کی دستبرد سے وہ لچک تو جاتا ہے پچک نہیں سکتا۔ لہٰذا کلیہ کی رو سے بھی قادیانیت بالیقین ایک باطل گروہ ہے۔ جائالحق وزھق الباطل ان الباطل کان زھوقا
پروفیسر ڈاکٹر مسکین علی حجازی (چیئرمین شعبہ ابلاغیات پنجاب یونیورسٹی لاہور):''جہاں تک قادیانیت کا تعلق ہے۔ اس نے مسلمانوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچایا بلکہ اس سے امت میں انتشار اور افتراق کے باب وا ہوئے۔ ایک گروہ قادیانیت کے پرچار میں مصروف رہا وہ جو کچھ کہتا رہا اسے نہ صرف علمائے کرام، بلکہ عامة المسلمین نے بھی کبھی تسلیم نہیں کیا۔ ختم نبوت ہر مسلمان کے ایمان کا جزوہے۔ عقیدہ ختم نبوت کو کمزور یا ختم کرنے کی کوئی سعی اسلام اور مسلمانوں کے لئے کبھی مفید نہیں ہوسکتی۔ اسی طرح اور کوئی نظریہ جو مسلمانوں میں انتشار اور افتراق پیدا کرنے کا باعث بنا، ہمیشہ نقصان دہ ثابت ہوا۔مسلمانوں کی جتنی مساعی اور وسائل قادیانیت کے ارتداد پر صرف ہوئی ہیں۔ وہ کسی اور سمت میں کام آتیں تو بہت کچھ حاصل ہوسکتا ہے لیکن عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ بھی بہت ضروری تھا۔ جن لوگوں نے یہ کام کیا اور کر رہے ہیں ان کی جزا اللہ تعالیٰ کے ہاں ہے''۔