قادیانیت علمائے کرام کی نظر میں

علمائے کرام نے فتنہ قادیانیت کے خلاف بھرپور کام کیا ۔ اس فتنہ کے بارے میں علمائے کرام کے ایمان افروز مشاہدات و تاثرات اور انکشافات درج کئے جاتے ہیں۔
مولانا ابوداؤد محمد صادق گوجرانوالہ:نبی آخر الزمان علیہ الصلوة والسلام نے فرمایا ''اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا'' اور حضرت علی مرتضی شیر خدا رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھی سرور عالم علیہ الصلوة واسلام نے فرمایا''اے علی تو میری نیابت میں ایسا ہے جیسا موسیٰ کے لئے ہارون مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں''۔
ابی اوفی رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں اگر مقدر ہوتا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی ہو تو حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ابراہیم زندہ رہتے مگر حضورۖ کے بعد نبی نہیں۔ اہل ایمان غور فرمائیں کہ جب سیدنا فاروق اعظم وسید نا مولانا علی و سید ابراہیم فرزند نبی کریمۖ نبی نہیں ہوئے اور ان کے علاوہ دیگر صحابہ تابعین اور ان کے بعد والے اکابرین امت مثلاً حضرت امام اعظم و حضرت غوث اعظم وغیر ہما رحمھم اللہ مقام نبوت تک نہیں پہنچ سکے تو بھلا مرزائے قادیانی جو کہ اپنی زبانی کرم خاکی اور بشر کی جائے نفرت ہے اور اپنے آدم زاد ہونے کا ہی انکار کرتا ہے اور کبھی حائضہ و حاملہ ہونا بیان کرتا ہے۔ غرضیکہ جسے سو سو دفعہ پیشاب آئے۔ دن رات پیشاب کرنے میں گزریں۔ جس کی کوئی بات بھی ٹھکانے کی نہ ہو اور اس سے نہ صرف خلاف منصب نبوت بلکہ خلاف انسانیت حرکات سرزد ہوں۔ وہ نبوت کا اہل کیسے ہوسکتا ہے؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں امت کا اجماعی اور اتفاقی مسئلہ ہے کہ سرور عالم علیہ الصلوة والسلام کے بعد مدعی نبوت دجل، کذاب، مرتد اور خارج از اسلام ہے ۔وہ اوراسکے ماننے والے جہنم کا ایندھن ہیں بلکہ نبوت کا دعویٰ کرنا تو الگ رہا۔ حضور ۖ کے بعد نبوت کی تمنا کرنا بھی کفر ہے۔
امام ابوحنیفہ رحمة اللہ علیہ کے بقول مدعی نبوت سے معجزہ طلب کرنا بھی کفر ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دوسرانبی ممکن نہیں۔ اب خود ہی خیال فرمائیے کہ مسئلہ ختم نبوت کس قدر نازک ہے اور مرزا قادیانی سے متعلق یاد رکھئیے کہ وہ صرف ختم نبوت کے انکار کی وجہ سے ہی مرتد نہیں بلکہ اسکے علاوہ بھی بیسیوں کفریات ہیں جنکی وجہ سے مرزا قادیانی کو مدعی نبوت، مسیح موعود، مجدد، امام و پیشوا جاننا تودرکنار ادنیٰ مسلمان سمجھنا بھی اسلام سے خارج کردیتاہے''۔
خدا محفوظ رکھے ہر بلا سے
خصوصاً آج کل کے انبیاء سے
علامہ علی غضنفر کراروی (علامہ ع غ کراروی)
''قادیانیت ایک ناسور ہے جب تک اس ناسورکو جڑ سے اکھاڑ کر نہ پھینکا جائے گا ۔ ملک میں امن قائم نہیں ہوسکتا''۔''قادیانیت کے خلاف سنت صدیق پر عمل کیا جائے ۔ یہ اس مسئلے کا واحد حل ہے اور یہی وقت کا تقاضا ہے''۔
سید مظفر علی شمسی ناظم اعلیٰ ادارہ تحفظ شیعہ:
''مسئلہ ختم نبوت پر مسلمانان پاکستان متحد و متفق ہیں۔ اب ہم مرزائیت کو اسلام کے مقدس نقشہ سے مٹا کردم لیں گے۔ حکومت پاکستان سے ہمارا پرزورمطالبہ ہے کہ وہ مرزائیوں کو کلیدی آسامیوں سے علیحدہ کرے''۔
مولانا مظہرعلی اظہر ایڈووکیٹ:
'' تیرہ سو برس سے ملت اسلامیہ اس مسئلہ پر متفق تھی کہ جناب محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی دعویدار نبوت پیدا نہیں ہوسکتا اور اسی عقیدہ کے بار بار اظہار کے بعد مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ قادیانی امت ہر اس شخص کو جو مرزا غلام احمد کو نبی نہیں مانتا اپنے مزعومہ اسلام کے دائرہ سے خارج سمجھتی ہے اور اس قرآن کریم کے اس حکم کے ماتحت کہ ترجمہ:'' اور نماز نہ پڑھ ان میں سے کسی پر جو مرجاوے کبھی اور نہ کھڑا ہو اس کی قبر پر وہ منکرہوئے اللہ سے اور اس کے رسول سے اور مرے ہیں بے حکم''۔ قادیانی دنیائے اسلام کے کسی فرد کا جنازہ پڑھنے کے لئے تیار نہیں ۔ جس طرح چوہدری سر ظفر اللہ قادیانی نے سر فضل حسین مرحوم اور قائداعظم مرحوم کے جنازہ کے ہمرا ہونے کے باوجود ان کی نماز جنازہ میں شامل ہونے سے انکار کیا''۔
علامہ مرزا یوسف حسین صاحب سربراہ مجلس عمل علماء شیعہ، پاکستان:
''قادیانی مسلمان نہیں ہیں بلکہ مرتد ہیں اور صرف شخصی طور پر چندافراد مرتد نہیں ہوئے بلکہ پوری جماعت ارتداد پر متفق ہوکر ایک سازش کے ساتھ اس لئے مرتد ہوئی ہے کہ اسلام کی بیخ کنی کرے۔ ان کا وجود ، ان کا ہر قول، ان کا جماعتی درس، ان کا ہر اقدام ملت اسلامیہ کے لئے خطرہ کاپیغام ہے۔ ان کا کام ہی اسلام کے خلاف سازش ہے۔ یہ اسلام کے پاکیزہ عقائد، مستحکم قوانین اور مقدس اعمال کی بیخ کنی کیلئے اسلام کا نام رکھ کر اپنی سازشوں میں اس طرح مصروف رہتے ہیں کہ ناواقف انہیں مشکل سے پہچان سکتے ہیں۔ یہ اسلام کے مقدس بدن کا ناسورہیں جس سے نجات حاصل کرنا ہر مسلمان کا فرض ہے''۔
علامہ سید افتخار حسین نقوی نائب صدر تحریک نفاذ فقہ جعفریہ:
''امت مسلمہ کا اس پر اجماع ہے کہ قادیانی غیر مسلم ہیں کیونکہ وہ ختم نبوت کے منکر ہیں۔ توحید پر ایمان رکھنا اور اسلام کے دوسرے احکامات بجالانے والا اس وقت تک مسلمان نہیں جب تک وہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہ رکھتا ہے۔ حضورۖ کو آخری نبی اور حضورۖ کے بعدمرزا غلام احمد قادیانی سمیت ہر مدعی نبوت کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں''۔
مولانا محمد حسین اکبر( جامع المنتظر لاہور)
''اسلام کے خلاف جو حربے استعمال کئے گئے، ان میں نبوت سازی کا حربہ بھی شامل تھا جس کے نتیجے میں ہندوستان میںمرزا غلام احمدقادیانی اور ایران میں بہائیوں نے ختم نبوت کا انکار کر کے خود ساختہ نبوت کا ڈول ڈالا۔ یہ دونوں ٹولے یہودیوں کے آلہ کار ہیں اور یہ یہودیوں کی سازش ہے جسے ناکام بنانے کے لئے تمام اہل اسلام کو اپنے فروعی اختلافات چھوڑ کر متحدہو جانا چاہئے''۔
علمائے کرام نے فتنہ قادیانیت کے خلاف بھرپور کام کیا ۔ اس فتنہ کے بارے میں علمائے کرام کے ایمان افروز مشاہدات و تاثرات اور انکشافات درج کئے جاتے ہیں۔
علامہ عارف الحسینی، علامہ احمد حسن، شیخ محسن علی نجفی،
آغا مرتضیٰ پویا، شیخ مظفر حسین جعفری، شیخ علی ولایتی:
''ختم نبوت کے بارے میں ہم اہلسنت کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔ ہم فتنہ مرزائیت کو عالمی سامراج، صیہونیت اور نصاریٰ کا ایجنٹ سمجھتے ہیں۔ مرزائیت کوئی مذہبی فرقہ نہیں ، یہ ایک سیاسی ٹولہ ہے جو عالم اسلام کے خلاف مذہب کی آڑ میں اسلام کا لبادہ اوڑھ کر سامراج کی خدمت کررہا ہے جس کا تل ابیب میں اڈہ موجود ہے جبکہ پاکستان اور کسی اسلامی ملک کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔ مرزائیت اور بہائیت جو دونوں استعمار کے پیدا کردہ جڑواں بھائی ہیں، کے مقابلے کے لئے مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے مشترکہ پلیٹ فارم سے جو پروگرام مرتب ہوگا ، ہم اسے پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے۔ ہم مرزائیت و بہائیت کے سرپرست امریکی استعمار ، یہودی سامراج اور روسی استعمار کی پرزور مذمت کرتے ہیں جو عالم اسلام کے خلاف اپنے ان پروردہ دلالوں کے ذیعے ریشہ دوانیاں کرتے ہیں اور عالمی امن کو تباہ کرنے میں پیش ہیں۔ ایسے عناصر کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جائے اور عوام ایسے عناصر کو بے نقاب کرکے ان کا محاسبہ کریں''۔