قادیانیت        عدلیہ کی نظر میں

فتنہ قادیانیت کے بارے میں عدلیہ کے ایمان افروز مشاہدات و تاثرات اور انکشافات درج کئے جاتے ہیں۔

وفاقی شرعی عدالت پاکستان:(مسٹر جسٹس فخر عالم چیف جسٹس، مسٹر جسٹس چوہدری محمد صدیق،مسٹر جسٹس مولانا ملک غلام علی، مسٹر جسٹس مولانا عبدالقدوس قاسمی)

وفاقی شرعی عدالت نے 222صفحات پر مشتمل ایک فیصلے میں قادیانیوں کی دائرکردہ درخواست مسترد کردی ہے اور قرار دیا ہے کہ قادیانی آرڈیننس کسی بھی طرح قرآن وسنت کے احکام کے منافی نہیں ہے۔ قادیانیوں سے تعلق رکھنے والے بعض افراد نے وفاقی شرعی عدالت سے استدعا کی تھی کہ قادیانی گروپ، لاہوری گروپ اور احمدیوں کی اسلام دشمن سرگرمیوں پر پابندی اور تقریر سے متعلق آرڈیننس مجریہ 1984ء میں شامل دفعات کو قرآن وسنت کے خلاف قرار دیاجائے۔ وفاقی شرعی عدالت نے درخواست کی تفصیل سے سماعت کی۔ عدالت میں دوسری باتوں کے علاوہ جو نکات اٹھائے گئے تھے۔ ان میں یہ سوال بھی شامل تھا کہ کیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعدنبوت کا سلسلہ قطعی طور پر ختم ہوگیا ہے؟ کیا وہ آخری پیغمبر تھے اور ان کے بعد اب کسی قسم کا کوئی نبی نہیں آسکتا؟ عدالت نے قرآن وسنت اور سنی اور شیعہ دونوں فرقوں کے متفقہ اور نامور مفسرین کی تشریحات اور آراء کو پیش کرتے ہوئے یہ فیصلہ دیا ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت کا سلسلہ قطعی طور پر ختم ہوچکا ہے اور یہ کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی تھے۔ ان کے بعد کسی قسم کا کوئی نبی نہیں آسکتا۔ عدالت سماعت کے بعد جن نتائج پر پہنچی ہے ان کو قلم بند کرتے ہوئے اس نے کہا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس دنیا میں امت مسلمہ کے ایک فرد اور اسلامی شریعت کے پیروکار کے طور پر ظاہر ہوں گے اور یہ کہ مرزا غلام احمد نہ مسیح موعود تھے اور نہ ہی مہدی، جو لوگ قرآن پاک کی واضح اور عمومی آیات کو ان تحریف اور تخصیص کے ذریعے غلط معافی پہناتے ہیں، مومن نہیں ہیں اور چونکہ مرزا غلام احمد نے بھی خود کو نبی کہا تھا لہٰذا وہ کافر تھا۔ مرزا غلام احمد کی زندگی کے حالات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ دھوکہ باز اور بے ایمان آدمی تھا۔ جس نے درجہ بدرجہ اور منصوبے کے ساتھ اپنی تحریروں اور تقریروں کے ذریعے خود کو محدث اور بعد میں ظلی اور بروزی نبی اور رسول اور مسیح منوانے کی کوشش کی۔ اس کی تمام پیش گوئیاں اور الہامی پیش گوئیاں غلط پائی گئیں لیکن اپنے مخالفین کے تمسخر سے بچنے کے لئے اس نے بعض اوقات اپنی تحریروں کی اس طرح تعبیر کی ہے کہ اس میں نبوت یا رسالت کا دعویٰ ہی نہیں کیا۔ مرزا غلام احمد نے خود اس بات کااعلان کیا کہ خدا نے اس پر وحی بھیجی ہے جس شخض تک میرا یعنی غلام احمد کا پیغام پہنچے اور وہ مجھے نبی قبول نہ کرے ، وہ مسلمان نہیں ہے۔ مرزا غلام احمد کے اسی اعلان کی تائید چوہدری ظفراللہ خان نے کی تھی جنہوں نے قائدِ اعظمؒ کے نماز جنازہ میںشریک ہونے سے انکار کردیا تھا۔ خود قادیان میں مرزا غلام احمد کے ماننے والے مسلمانوں کو اذان دینے کی اجازت نہیں دیتے تھے۔ عدالت کے اخذ کردہ نتائج کے مطابق قائدِ اعظمؒ یا پاکستان کا قادیانیوں کے ساتھ کوئی معاہدہ یا عہدوپیمان نہیں تھا کہ ان کو مسلمان سمجھا جائے گا یا ان کو اسلام کے نام سے اپنے عقیدے کی تبلیغ کرنے دی جائے گی اور یہ کہ مسلمانوں کے طور پر عمل کرنے کی اجازت دینے سے انکار کرنے کے یہ معنی نہیںہیں کہ ان کے اپنے مذہب کے حق عبادت میں مداخلت کی گئی ہے۔ وہ ایسا کرسکتے ہیں جب تک کہ وہ خود کو مسلمان ظاہر نہ کریں یا لوگوں کو اپنے عقیدے پر لانے کے لئے اس عقیدے کے بارے میں غلط بیانی سے کام نہ لیں۔

ام المومنین، امیر المومنین، خلیفۃ المومنین کے کلمات کے استعمال سے لوگوں کو دھوکہ ہوسکتا ہے کہ ایسے ناموں کے حامل مسلمان ہیں۔اسی طرح رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا کلمہ قرآن پاک میں رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے لئے بطور فضل و رحمت استعمال ہوا ہے۔ اسی طرح مسلمان صحابی اور اہل بیت کے کلمات علی الترتیب رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ اور ان کے خاندان کے افراد کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ قادیانیوں کی طرف سے خود کو مسلمان ظاہر کرنے ، مسلمانوں کی طرح عمل کرنے اور مسلمانوں کی مقدس شخصیات ، مقامات، خطابات، القابات اور ناموں کا استعمال کرنے پر اصرار کی وجہ سے مسلمانوں کو ہمیشہ ایذا اور تکلیف پہنچی ہے اور امن عامہ کے مسائل پیدا ہوئے ہیں جس کی وجہ سے مملکت کے لئے قانون نافذ کرنا ضروری ہوگیا۔ عدالت نے کہا کہ قادیانیوںاورلاہوریوں کی طرف سے مسلمانوں کی مقدس شخصیات اور مقامات کے خطابات اور القابات کے استعمال یا خود کو مسلمان اور اپنے مذہب کو اسلام قرار دینے اور مسلمانوں کی طرح اذان دینے پر، 1984ء کے آرڈیننس نمبر20کے تحت جو سزا یا جرمانہ مقرر کیا گیا ہے، وہ ایک جائز قانون ہے۔