اللہ تعالیٰ قادیانیوں کو رشدوہدایت سے نوازے

حضرت مولانا عبدالحفیظ مکی صاحب دامت برکاتہم

الحمدللہ وحدہ والصلاۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ و علی آلہ واصحابہ اجمعین:  اما بعد کہ جب سے نبی اکرم رسول خاتم سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم دین برحق اسلام کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مبعوث ہوئے ہیںتب ہی سے تمام کفار کی یہ کوشش رہی ہے کہ اسلام کا یہ نور پھیلنے نہ پائے اور اس سلسلہ میں مختلف انداز سے انہوں نے ہمیشہ سازشیں کیں اور پلان بنائے۔اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا ارشاد مبارک ہے (یریدون لیطفؤا نوراللہ بأفواھم واللہ متم نورہ ولو کرہ الکافرون)یعنی کہ یہ کفار چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منہ سے بجھا دیں حالانکہ اللہ نے پوری کرنی ہے، اپنی روشنی چاہے کافروں کو یہ برا لگے۔یہ معرکہ حق و باطل شروع دن سے ہی برپا ہے اور یہ سلسلہ چلتا رہے گا حتیٰ کہ ایک دن پورے عالم کے ایک ایک گھر میں اسلام کا نور داخل ہوگا جیسے کہ حضرت خاتم النبیین الصادق المصدوق صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح طور پر ارشاد فرمایا ہے۔کفار نے ہرزمانہ میں اس نور اسلام کو بجھانے کیلئے مختلف طریقوں سے سعی کی اور خطرناک چالیں چلیں مگر بحمداللہ وفضلہ باحمیت وغیور مسلمانوں نے ہمیشہ ہمت و عزیمت سے ان کا مقابلہ کیا اور ان کے فتنوں کی سرکوبی کی اور اسلام کی سربلندی کے لئے کسی قربانی سے گریز نہ کیا۔

نور خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن                        پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا

سینکڑوں سالوں سے برصغیر (پاک و ہندو بنگلہ دیش) میں مسلمانوں کی حکمرانی قائم تھی آج سے تقریباً اڑھائی سو 250 سال پہلے انگریز تجارت کے لبادہ میں آیا اور اپنے اثرات بڑھانا شروع کیے حتیٰ کہ1857ء میں مسلمانوں کی حکمرانی ختم کر کے پورے برصغیر پر قابض ہوگیا۔انگریز نے چونکہ حکومت مسلمانوں سے لی تھی اس لیے اسے زیادہ خطرہ انہی سے تھا کہ بقیہ آدیان والے (ہندو، سکھ، آتش پرست، بدھ مت وغیرہ) تو پہلے ہی محکوم تھے لہٰذا برطانوی سامراج نے پلان تیار کیا کہ مسلمانوں کا رشتہ سیدالکونین ، خاتم النبیین ، حبیب رب العالمین صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی طریقہ سے ختم کیا جائے یا کمزور تر کیا جائے اور اس مقصد کے لئے ایسا شخص تیار کیا جائے جس سے جھوٹی نبوت کا دعویٰ کرایا جائے اور مختلف چالوں اور طریقوں سے اس کی عظمت اور تقدس کو مسلمانوں کے دلوں میں بٹھایا جائے۔ پھر اس سے بحیثیت نبی ہونے کے اعلان کروایا جائے کہ جہاد منسوخ ہے تاکہ مسلمان انگریزی حکومت کے خلاف بغاوت اور جہاد نہ کرسکیں اور برطانوی استعمار اطمینان سے پورے برصغیر میں بغیر کسی خطرے کے حکمرانی کرتا رہے۔اس پلان کو پورا کرنے کیلئے انہیں مرزا غلام احمد قادیانی مل گیا اور اس سے انہوں نے اپنے مذکورہ مقاصد کے لئے بڑے مکرو دجل کے ساتھ کام کیا۔مرزا قادیانی نے تدریجی طور پر پہلے مجدد پھر مہدی پھر مسیح موعود ہونے کے دعویٰ کیے پھر ظلی و بروزی نبوت کا دعویٰ کیا اور اس کے بعد صاف صاف تشریعی نبی ہونے کا دعویٰ کیا اور پھر اتنا بڑھا کہ ملعون نے آخر میں اپنی نبوت کو سید الرسل والانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے افضل قرار دیا۔

حالانکہ ختم نبوت کا عقیدہ قرآن مجید کے نصوص قطعیہ اور متواتر احادیث نبویہ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے لے کر ہر دور کے اجماع سے ثابت ہے۔ جس کا منکر قطعاً کافر، مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج ہے اور اس قادیانی معلون نے یہ سب کچھ برطانوی سامراج اور اپنے آقا انگریز کے کہنے پر کیا۔ مرزا قادیانی خود اس حقیقت کا اقرار کرتا ہے کہ میں انگریزوں کا خودکاشتہ پودا ہوں اور اس کی تصنیفات اور تحریرات میں جگہ جگہ برطانوی حکومت کی تعریفیں ملیں گی اور جہاد وقتال فی سبیل اللہ کی منسوخی کا مختلف اندازسے اعلان کرتا ہے حالانکہ پانچ سو (500) سے زیادہ آیات قرآنیہ اور ہزاروں احادیث نبویہ سے جو جہاد مشروع اور ثابت ہو وہ کیسے اس ملعون و کذاب کے کہنے سے منسوخ ہوسکتا ہے ہاں البتہ تمام علماء سلف وخلف کے نزدیک اس وجہ سے بھی وہ خود کافر و مرتد ہوا کہ ضروریات دین کا منکر سبھی کے نزدیک کافر ہوتا ہے۔

اس کے علاوہ بھی کئی کفریات اس قادیانی ملعون سے صادر ہوئیں جس کی بناء پر تمام علماء اسلام نے اس کے اوراس کے ماننے والوں کے کفروارتداد کا متفقہ فتویٰ دیا ۔جس دن سے یہ قادیانی فتنہ شروع ہوا ہے،شروع دن سے ہی علماء اسلام نے اس کی بھرپور تردید کی اور ہر طرح سے تعاقب کیا اور ہر میدان میں ہر نوع کی جدوجہد جاری رکھی اور اس راہ میں ہر طرح کی قربانیاں پیش کیں۔ مقدمات، اذیتیں جیلیں، ہتھکڑیاں مختلف انداز کی تکلیفیں اور مصائب برداشت کئے مگر اس فتنہ خبیثہ کی سرکوبی میں کہیں کسی حال میں کمزوری نہیں دکھائی۔

 نبی اکرم شفیع اعظم سیدالکونین صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں جتنی بھی جنگیں کفار کے ساتھ دین کے لئے ہوئیں ان سب میں 259صحابہ کرام شہید ہوئے جبکہ759کافر قتل ہوئے۔ختم نبوت کے تحفظ کے لئے ایک جنگ یمامہ میں جو جھوٹے نبی مسیلمہ کذاب اور اس کے لشکر کے ساتھ خلیفہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے حکم سے سیف اللہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی قیاد ت میں ہوئی۔ تقریباً بارہ سو(1200)صحابہ کرام رضی اللہ عنہم شہید ہوئے جن میں تقریباً سات سو (700) حفاظ و قراء کرام تھے۔دیکھیئے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اور حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے نزدیک ختم نبوت کا تحفظ کتنا اہم تھا کتنی بڑی قربانی اس کے لئے پیش کی فجزاھم اللّٰہ عنا خیر الجزائ۔

اللہ تعالیٰ ہم میں سے ہر ایک کو ختم نبوت کے اس مبارک کاز میں اپنا بھرپور حصہ ڈالنے کی توفیق عطا فرمائے اور اس سے اپنے فضل و کرم سے کسی کو محروم نہ فرمادے، آمین ۔نیز دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و رحمت سے قادیانیوں کو رشدوہدایت سے نوازے اور کفروارتداد سے توبہ کرنے اور ظلمات مرزائیہ سے نکل کر انوار محمدیہ علی صاحب الصلاۃ والسلام میں آنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔