عقیدہ ختم نبوت کی حفاظت ،اسلام کی حفاظت ہے

ڈاکٹر وحید عشرت

کی محمدؐ سے وفاتو نے تو ہم تیرے ہیں

یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں

قرآن، توحید اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت پر اعمال کے لحاظ سے بدترین اور گنہگار مسلمان نے بھی کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ تارک نماز، تارک روزہ اور فسق وفجور میں مبتلا مسلمان کی جب بھی حمیت دینی کو ٹھیس پہنچی اس نے قرآن حکیم اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے ناموس کی اپنے لہو سے حفاظت کی۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ہر مسلمان کے رگ و ریشہ میں سرایت کیے ہوئے ہے اور وہ مسلمان ہی نہیں جو اپنے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم پر درود نہ بھیجے اور لاکھوں بارزندگی ملنے پر اسے لاکھوں باران پر قربان نہ کردے۔

عقیدہ ختم نبوت کہ حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے آخری نبی ہیں۔ ان کے بعد دعویٰ نبوت کرنے والے مسیلمہ کذاب سے لے کر قادیانی کذاب تک تمام جھوٹے، کافراور اقبال کے بقول شرک فی النبوت کے مرتکب اور واجب القتل ہیں(جس پر عمل درآمد حکومت کاکام ہے) ۔ اسلام کا یہ بنیادی عقیدہ کئی پہلو رکھتا ہے کیونکہ اگر کوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے بعد کسی کی نبوت کا قائل ہے تو اس سے قرآن کی آخری کتاب ہونے پر زد پڑتی ہے پھر جس طرح نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے پرانی شریعتیں منسوخ ہوگئیں تو کل کوئی بدبخت یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ میری آمد سے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت بھی منسوخ ہوگئی ہے۔ اس طرح قیامت تک آپ کی رسالت پر حرف آسکتا ہے۔ پھر کوئی کم بخت کہہ سکتا ہے کہ ان کی شریعت صرف عرب تک تھی اور اس کے آنے تک تھی۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ عقیدہ ختم نبوت بہت دور رس عمرانی، سیاسی، تمدنی اور دینی اثرات رکھتاہے۔ اگر اس عقیدے سے روگردانی کی اجازت دے دی جائے تو اسلام کی عالمگیریت اور آفاقی حیثیت ختم ہو کر رہ جائے گی۔ لہٰذا عقیدہ ختم نبوت کی حفاظت خود اسلام کی حفاظت ہے۔ یہ محض قادیان کے ایک بدبخت تک محدود امر نہیں ہے۔ ان ملحدوں کو کیا معلوم کہ انہوں نے کتنا خوفناک جرم کیا ہے؟

برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کی یہ بدنصیبی بھی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک گستاخ، سارق ختم نبوت برصغیر بالخصوص پنجاب میں پیدا ہوا اور یہ خوش نصیبی بھی ہے کہ انہوں نے پوری عزیمت، طاقت، قوت اور سرفروشی سے اس فتنہ کا تعاقب کیا۔ علماء کرام، صوفیاء عظام، سیاست دانوں، رضا کاروں اور فدائین اسلام اور اہل قلم نے ہر طرح سے اس کا گھیرائو کیا اور بالآخر اسے کافر اور پاکستان میں اقلیت قرار دلوا کر دم لیا۔ اور اس عقیدے کے تحفظ میں کوئی نرمی نہیں دکھائی۔ اس کے لئے پھانسیاں، جیل کی کال کوٹھڑیاں، بھوک، پیاس، عدالتوں کی اکتا دینے والی پیشیاں، سفر کی صعوبتیں اور مال و دولت سب کچھ قربان کیا اور انگریز کے کاشتہ اس برگ حشیش اور ہندو کے پروردہ اس فتنہ کو قبول نہ کیا۔

اس جہاد کے راہ نورد اور غازی ہزاروں ہیں۔ حضرت علامہ انور شاہ کاشمیریؒ، علامہ اقبالؒ، حضرت عطاء اللہ شاہ بخاریؒ، مولانا عبدالقادر رائے پوریؒ، پیر مہر علی شاہؒ گولڑوی، مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ، سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ، مولانا الیاس برنی، علامہ  یوسف لدھیانویؒ، مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ، قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ جانباز مرزا ،شورش کاشمیری، مولانا لال حسین اخترؒ، سید امین گیلانیؒ، حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ، مولانا عبدالستار نیازیؒ، ماسٹر تاج الدین انصاریؒ، مولانا محمد علی جالندھریؒ، مولاناغلام غوث ہزارویؒ، مولانا مفتی عبدالقیوم پوپلزئیؒ، مولانا محمد حیاتؒ، مفتی محمد شفیعؒ اور حضرت مولانا ادریس کاندھلویؒ۔ غرض اس قافلے کے شرکاء کی ایک لمبی قطار ہے۔ جنہوں نے  اس جادہ راہ میں ہر قربانی کو خندہ پیشانی سے قبول کیا اورختم نبوت کے عقیدے کی دل وجان سے حفاظت کی۔

ہماری تاریخ کے بعض بڑے دردناک عبرت ناک واقعات بھی ہیں۔ مثلاً یہ کہ1965ء کی جنگ صدر جنرل ایوب خان کے گرد گھیرا ڈالے ہوئے قادیانیوں نے کروائی۔ جس کو آپریشن جبر الٹر کا نام دیا گیا۔ اس جنگ کے ذمہ دار پاک فوج کے میجر جنرل اختر حسین ملک (قادیانی) ایم۔ ایم ۔ احمد سیکرٹری مالیات(قادیانی) سیکرٹری خارجہ عزیز احمد (قادیانی) اور نذیر احمد ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن(قادیانی) تھے۔ قدرت اللہ شہاب مرحوم نے اپنی معروف کتاب شہاب نامہ میں متعدد ایسے واقعات کا ذکر کیا ہے، جن میں قادیانیوں کی ریشہ دوانیوں اور پاکستان دشمنی کو بے نقاب کیا گیا ہے۔ سرکاری اداروں میں فوج میں بھرتی کے پیچھے چوہدری ظفراللہ کا ہاتھ رہاہے۔اب بھی ملک کے مالیاتی اداروں خواہ وہ پاکستانی ہیں یا غیر ملکی قادیانی یہودیوں کی طرح گھسے ہوئے ہیں۔