مجیب الرحمن شامی کی باتیں

 

قادیانی حضرات کے لئے مناسب یہی ہے کہ وہ جو کچھ ہیں، اس کو مان بھی لیں۔ انہیں اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ وہ ایک (نام نہاد) نبی کی امت ہیں۔ ایک طرح سے یوں کہا جاتا ہے کہ قادیانیوں اور مسلمانوں کے درمیان وہی فرق ہے جو مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان ہے۔ مسلمان محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام لیوا اور پیروکار ہیں۔ عیسائی ان پر ایمان نہیں لاتے۔ اس بات نے اُن کے اور مسلمانوں کے درمیان دیوار چین سے بھی بڑی دیوار قائم کردی ہے۔ قادیانی صاحبان جس شخص کو نبی قرار دیتے ہیںمسلمان اس کو سراپا جھوٹ سمجھتے اور اس سے اظہار نفرت کو، اپنے ایمان کا حصہ جانتے ہیں۔ اگر قادیانیوں کا دعویٰ ایمان تسلیم کرلیا جائے تو پھر مسلمان کافر قرار پاتے ہیں۔ بات کو جس طرح بھی کہا جائے حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں اور قادیانیوں کے درمیان ہمالہ سے بھی بڑا پہاڑ حائل ہے۔ دونوں ایک دوسرے سے الگ الگ ہیں۔ قادیانیوں کی طرف سے اگر اسلام کا نقاب اوڑھنے کی کوشش نہ کی جائے۔ وہ اپنے علیحدہ امت ہونے کو برملا تسلیم کرلیں تو اُن کے خلاف مسلمانوں کے غم و غصے کا رُخ بدل سکتا ہے۔ وہ ان کے جھوٹ کی قلعی علمی انداز میں کھولنے پر سارا زور صرف کرسکتے ہیں۔ لیکن جب یہ نقاب پوش ڈاکو امت مسلمہ پر ڈاکہ ڈالتے ہیں اور اصلی کو نقلی قرار دے کر نقلی کو اصلی قرار دینے لگتے ہیں۔ اندھیرے کو اجالا اور اجالے کو اندھیرا کہنے پر اصرار کرتے ہیں تو جذبات مشتعل ہوتے ہیں اور ان کے ساتھ وہ سلوک کرنے کے لئے قدم بڑھ جاتے ہیں جو ڈاکوئوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

قائدِ اعظم سے لے کر میاں نوازشریف تک، مولانا احمد رضاخان بریلویؒ سے لے کر مفتی محمد حسین نعیمی ؒ تک، پیر مہر علی شاہ  ؒ سے لے کر حضرت خواجہ خان محمد ؒ تک، مولانا انور شاہ کشمیریؒ سے لے کر مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ تک، بھٹو مرحوم سے لے کر نوابزادہ نصر اللہ خاں تک، شاہ فہد سے لے کر احمد شاہ مسعود تک، حافظ کفایت حسین (مرحوم) سے لے کر حق نواز جھنگوی(مرحوم) تک سب ہم آواز ہیں کہ قادیانیت اسلام سے الگ کوئی چیز ہے۔۔۔ اور اس کی بنیاد جھوٹ، جھوٹ اور صرف جھوٹ ہے۔

قادیانیت، مسلمانوں کے کسی ایک گروہ یا کسی ایک شخص کا نہیں، تمام مسلمانوں کا مسئلہ ہے۔ ہر مسلمان اسے ایک ہی نظر سے دیکھتا ہے۔ اسے اپنے آپ سے، اور اپنے آپ کو، اس سے الگ رکھتا ہے اور الگ رکھنا چاہتا ہے۔ قادیانی حضرات کو کبھی مسلمانوںنے اپنا حصہ نہیں سمجھا، اور یہ خود بھی ان سے علیحدہ تشخص پرزور دیتے رہے ہیں۔ ان کے نزدیک ہر وہ شخص جو مرزا غلام احمد قادیانی پر ایمان نہیں لایا، کافر ہے۔ اسی لیے سرظفراللہ خان قادیانی نے وزیرِ خارجہ ہونے کے باوجود قائد اعظم کی نماز جنازہ ادا نہیں کی تھی۔ وہ غیر قادیانی کے لئے دعائے مغفرت کو جائز نہیں سمجھتے تھے۔ اگر قادیانی منطق کو مان لیا جائے، تو پورا عالم اسلام کافر ہے۔ اور یوں اُن سے الگ ہے۔ ۔۔پاکستان بننے کے کچھ عرصہ بعد قادیانی گروہ نے اپنے اس چہرے کو چھپانا شروع کردیا اور خود کو ملت اسلامیہ کا حصہ قراردے کر فوائد بٹورنا شروع کیے۔۔۔مسلمانوں نے اس پر انہیں آئینی اور قانونی طور پر اپنے سے علیحدہ کرنے کا فیصلہ کیا اور ذوالفقار علی بھٹو (مرحوم) کے عہد کو یہ شرف حاصل ہوا کہ اس فیصلے کو کتاب آئین میں لکھ دیا گیا۔

اب قادیانی گروہ دستور کو تسلیم نہیں کررہا، اور اپنے آپ کو مظلوم قرار دینے کی کوششوں میں لگا ہواہے۔۔۔ اس کا دعویٰ ہے کہ پاکستان میں اس سے ناروا سلوک ہورہا ہے۔ اس کے حقوق مجروح کیے جارہے ہیں۔۔۔ اگر یہ صاحبان دستور میں متعین کردہ اپنی حیثیت کو مان لیں، خود کو غیر مسلم اقلیت قراردیں تو پھر اُن کو وہ تمام حقوق اور تحفظات حاصل رہیں گے جو اقلیتوں کا حق ہیں۔۔۔ اور ان کے ساتھ اکا دکا جھڑپوں کا بھی خاتمہ ہوجائے گا۔۔۔ یہ کیونکر دستور اور قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے پر تلے ہوئے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

 

ختم نبوت کا عقیدہ مسلمانوں کے لئے انتہائی اہم اور بنیادی نوعیت کا حامل ہے۔ اسے ان کے لئے زندگی اور موت کا معاملہ کہا جائے تو اس میں ذرہ بھر مبالغہ نہ ہوگا۔ یہی بنیادہے جس پراسلامی معاشرے کی عظیم الشان عمارت اٹھائی جاتی ہے اور اللہ کی زمین پر اللہ کی حکمرانی کا خواب شرمندہ تعبیر ہوتا ہے۔ ہر مسلمان کے نزدیک ہر معاملے میں فائنل اتھارٹی اللہ تعالیٰ ہے اور اللہ کے احکامات کی تشریح  و تعبیر کی فائنل اتھارٹی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس ہے۔ رسولِ خداؐ کے بعد کسی اور شخص کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ دین مبین میں کوئی ترمیم، تنسیخ، اضافے یا کمی کی خبر دے سکے۔ مسلمانوں میں بے شمار فرقے اور گروہ موجود ہیں لیکن ان کے درمیان اختلافات کی نوعیت یہ نہیں کہ ہر ایک ایسا الگ الگ پیشوا رکھتا ہے جسے رسالت کے اختیارات میں سے کوئی اختیار حاصل ہے۔ سب اس امر پر متفق ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات آخری اور حتمی ہیں۔ ان میں جو کچھ اختلاف بھی ہے وہ ان کو سمجھنے اور ان کے معافی اخذ کرنے تک ہے۔ ان کی نوعیت یہی ہے جو تعزیراتِ پاکستان کی کسی دفعہ کی تشریح و تعبیر کی حد تک مختلف وکلاء یا جج صاحبان میں ہوتی ہے۔ لیکن قادیانیوں کے نام سے جس گروہ نے انگریزی دور میں برصغیر میں کام کا آغاز کیا، اُس نے اپنا ایک نبی بنالیا۔ ختم نبوت کے عقیدے کی وضاحت اس طرح کہ اس میں ختم نبوت کے علاوہ سب کچھ داخل کردیا۔ اس نبی کے خیالات اور ارشادات مستقل طور پر ماخذ قانون قرار پائے اوراس نے دین میں ردّ وبدل کے اختیارات حاصل کرلئے۔ اس صورتِ حال کو مسلمانوں نے چودہ سو سال میں کبھی برداشت نہ کیا تھا۔ ہماری تاریخ کا ایک ایک دن گواہ ہے کہ ملت اسلامیہ نے کسی شخص کے دعویٰ نبوت کو تسلیم نہیں کیااور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہر ایسے داعی کو اتفاق رائے سے کاذب قراردیا۔ امام ابوحنیفہؒ کے بقول نبوت کے کسی دعویدار سے ثبوت طلب کرنا بھی خلافِ اسلام ہے۔جب نبی آہی نہیں سکتا، نبوت کا اعلان ہی کسی شخص کے جھوٹا ہونے کے لئے کافی ہےتو پھر کسی دوسرے ثبوت کو طلب کرنے کی کیا حاجت اور کیا ضرورت ؟

مرزا غلام احمد اگر آج زندہ ہوتااور دعویٰ رسالت کرتا تو اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اسے فاترالعقل قرار دے کر حوالۂ زنداں کردیا جاتا ، کیونکہ اُس کی رسالت کی پرورش برطانوی سامراج کے تحت ہوئی، اس لیے اس کے دعویٰ سے وہ سلوک نہ کیا جاسکا جس کا یہ مستحق تھا۔ خاص اسباب اور حالات کی وجہ سے اس کے گروہ نے ایک خاص اہمیت اختیار کر لی اور پاکستان بننے کے بعد بھی اثرورسوخ کا دائرہ بڑھانے کی کوشش کامیابی سے جاری رکھی۔

مسلمان عوام کے لیے یہ بات ناقابلِ برداشت تھی، اس لئے گذشتہ37 سال کے دوران بار بار اس گروہ کی سرگرمیوں کی نشاندہی کی جاتی رہی۔ بار بار احتجاج کیا گیا۔ الحمدللہ معاملہ یہاں تک پہنچ گیا ہے کہ اسے غیر مسلم اقلیت قرار دیاجاچکا ہے۔ مسلمانوں سے الگ کرنے کے لئے کئی دوسرے قانونی اقدامات بھی کر لئے گئے ہیں۔

مصیبت یہ ہے کہ اپنا ایک نبی ایجاد کرنے کے باوجود اور مسلمانوں سے الگ تشخص کا دعویٰ رکھنے کے باوجود، یہ گروہ اپنے آپ کو غیر مسلم کہلوانے سے انکاری ہے۔ اس کے بہت سے مبلغ بڑی معصومیت کے ساتھ مرزا غلام احمد کی ان تصانیف سے اقتباسات شائع کر کے لوگوں کو ورغلاتے ہیں جو ان کے دعویٰ نبوت سے پہلے کی لکھی ہوئی ہیں۔قادیانی حضرات اپنے آپ کو مظلوم اور ستم رسیدہ قرار دینے کی کوشش میں بھی لگے ہوئے ہیں۔ ہمارے جدید تعلیم یافتہ طبقوں کو خاص طور پر نشانہ بنا کر رواداری اورفراخدلی کے نام پر ان کی ہمدردیاں حاصل کرنے کی مہم چلائی جارہی ہے۔

قادیانی حضرات سے گزارش ہے کہ وہ کھلے دل کے ساتھ اپنے بزرگوںکا مطالعہ کریں ،اور پھر دیکھیں کہ وہ خود کہاںکھڑے ہیں؟۔  قادیانی مسئلہ مولویوں کا کھڑا کیا ہوا نہیں ہے۔ یہ خود قادیانیوں کا پیدا کردہ ہے۔ قادیانیوں کی جان، مال اور عزت کی دستوری ذمہ د اری اپنی جگہ اہم ہے۔ اُن کے خلاف قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کا حق کسی شخص کو حاصل نہیں ہے لیکن یہ بات بہرحال سمجھ لینے کی ہے کہ مسلمان انہیں اپنے آپ سے الگ سمجھنے اور الگ تھلگ قرار دینے کے جو مطالبے کرتے رہے ہیں اور کررہے ہیں، وہ اُن کے خلاف تعصب اور تنگ نظری کی بنیاد پر نہیں ہیں بلکہ اللہ اور اللہ کے رسولؐ سے محبت اور اُن پر ایمان کا اولین تقاضا ہیں۔