فتنہ قادیانیت کو ختم کرنے کیلئے ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنا ہوگا    

حامد میر

قادیانیت ایک ا یسا فتنہ ہے جسے ختم کرنے کیلئے ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنا ہوگا۔ یہ فتنہ پاکستان کی سلامتی کے علاوہ جہاد کشمیر کے لیے بھی ا یک بڑا خطرہ بنتا جارہا ہے۔ کشمیر میں قادیانیوں کی دن بدن بڑھتی ہودلچسپی قابل غور ہے۔ حال ہی میں قادیانی پس منظر رکھنے والے ایک امریکی دانشور منصور اعجاز کی حزب المجاہدین کے سپریم کمانڈر سید صلاح الدین سے ملاقات نے کئے سوالات پیدا کیے۔ منصور اعجاز نے سید صلاح الدین سے قبل سری نگر میں فاروق عبداللہ سے بھی ملاقات کی۔ سید صلاح الدین نے اعتراف کیا کہ منصور اعجاز نے کلنٹن کے نام ان سے ایک ایسا خط لکھالکھوانے کی کوشش کی جس میں اٹل بہاری واجپائی کے لئے اظہارِ عقیدت شامل تھا۔ لیکن سید صلاح الدین نے اس خط پر دستخط کرنے کی بجائے خود ایک نیا خط تیار کیا۔ یہ پہلو قابل غور ہے کہ سری نگر میں منصور اعجاز کے قادیانی رشتہ دار بھی رہائش پذیر ہیں۔ یقینا منصور اعجاز تقسیم کشمیر کے امریکی منصوبے پر عمل پیرا ہے۔ منصور اعجاز کی شان میں قلمی گستاخیاں کرنے پر پاکستان کی قادیانی لابی میرے خلاف بھی سرگرم عمل ہے۔ قادیانیوں کی مخالفت کے منفرد اور اچھوتے انداز نے مجھے انہیں مزید سمجھنے کا موقع دیا۔ قادیانی حضرات اپنے جعلی عقیدے میں موجود کمزوریوں اور خرابیوں پر پردہ ڈالنے کا جھوٹ کا بے دریغ استعمال کرتے ہیں اور اپنے مخالفین کے خلاف بھی جھوٹ سے مدد لیتے ہیں۔ پاکستان کے اخبارات میں اگر کوئی کالم نگار قادیانیوں پر تنقید کرے تو یہ اخبار کے ایڈیٹر کو کالم نگار کے خلاف جعلی ناموں سے خطوط لکھتے ہیں اور اگر ایڈیٹر ان کے خلاف اداریہ لکھ دے تو چیف ایڈیٹر کے سامنے دُہائی دیتے ہیں کہ ہم آپ کے اخبار کو اشتہار دیتے ہیں لیکن آپ ہمارے ساتھ زیادتی کرتے ہیں۔ قادیانی مختلف حیلے بہانوں اور طریقوں سے اخبارات کو دباتے ہیں اور کوئی نہ دبے تو پھر اس پر طرح طرح کے الزامات کی بارش کردیتے ہیں۔ مادیت پرستی کے اس دور میں قادیانی لالچ اور طمع کے ذریعے سادہ لوح مسلمانوں کو بے وقوف بناتے ہیں اور اگر کوئی لالچ میں نہ آئے تو پھر مکاری، دھونس، دھاندلی سے کام لیتے ہیں۔

کرہ ارض کی ہر عنوان سے تذلیل ہے

قادیان! مابین ہندوپاک اسرائیل ہے

میرا یہ لکھنا کہ ربوہ کی خلافت ہے فراڈ

خواجہ کونینؐ کے ارشاد کی تعمیل ہے