رواداری کے نا م پر آئین کی خلاف ورزی

جسٹس (ر) محمد رفیق تارڑ صاحب

آج کل لاہور ہائیکورٹ میں نئے ججوں کی تقرری کے سلسلہ میں اخبارات کے ذریعے منظر عام پر آنے والی خبروں میں بتایا جارہا ہے کہ جن قادیانی سیشن ججوں کی بطور رہائی کورٹ جج تقرری کی سفارش سابق چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ جناب خلیل الرحمن خان نے نہیں کی تھی ان کا معاملہ دوبارہ زیرِ غور لایا گیا ہے۔ وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ اگر عیسائی یا پارسی حضرات اعلیٰ عدالتوں کے جج بن سکتے ہیں تو قادیانی کیوں نہیں؟ اور آئین میں کسی قادیانی کے جج بننے پر کوئی پابندی بھی نہیں۔

بادی النظر میں یہ بات عام آدمی کو اپیل کرتی ہے مگر قادیانی عقائد کا علم رکھنے والے جانتے ہیں کہ اس دلیل میں قطعاً کوئی وزن نہیں۔ قادیانیوں کو چھوڑ کر دنیا بھر کے غیر مسلم، عیسائی ہوں یا پارسی، ہندو ہوں یا سکھ، بدھ مت کے پیروکار ہوں یا دہریے، سب کے سب دنیا کے ایک ارب سے زیادہ مسلمانوں کو مسلمان سمجھتے، مسلمان مانتے اور مسلمان کہتے ہیں۔ یہ صرف قادیانی اور لاہوری فرقہ کے مرزائی غیر مسلم ہیں جو ایک ارب سے زیادہ مسلمانوں کو کافر قرار دیتے اور صرف خود کو مسلمان سمجھتے ہیں۔

اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کا آرٹیکل  260قادیانیوں اور لاہوری مرزائیوں کو غیر مسلم قرار دیتا ہے۔ جسے یہ لوگ تسلیم نہیں کرتے۔ اس کا حتمی ثبوت یہ ہے کہ کسی قادیانی سرکاری ملازم یا کسی قادیانی چھوٹے یا بڑے جج( بشمول لاہورہائیکورٹ) کے قادیانی جج کے ، جسے انتہائی اہم بینچ کا رکن مقرر کیا گیا ہے) کا پاکستان میں کسی انتخابی حلقہ میں ووٹ درج نہیں ہے۔ چونکہ ان کا ووٹ صرف غیر مسلموںکی فہرست میں درج ہوسکتا ہے۔ اس لیے وہ اپنا ووٹ نہیںبنواتے اور آئین کے آرٹیکل 260کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے آپ کو غیر مسلم تسلیم نہیں کرتے۔ چیف جسٹس صاحبان پتہ کروالیں کہ جن قادیانیوں کو وہ ہائیکورٹ کا جج بنانا چاہتے ہیں کیا ان کے ووٹ غیر مسلم ووٹروں کی فہرست میں پاکستان کے کسی انتخابی حلقہ میں درج ہیں؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو پھر چیف جسٹس صاحبان اس بات پر غور فرمائیں کہ جو لوگ آئین کے آرٹیکل 260و تسلیم ہی نہیں کرتے وہ اعلیٰ عدالتوں کے جج بن جانے کی صورت میں کون سے آئین کا تحفظ اور دفاع کرنے کا حلف اٹھائیں گے؟ ان کا حلف اٹھانا تو ایسے ہی ہوگا جیسے کوئی خدا کا منکر دھوکہ باز خدا کی قسم اٹھا کر کسی معاملہ میں چالاکی اور عیاری سے دھوکہ بازی کرجائے۔ کیا کسی ایسے شخص سے آئین پاکستان کا تحفظ اور دفاع کا حلف لینا جو آئین پاکستان یا اس کے کسی حصے کو تسلیم ہی نہ کرتا ہو خود حلف دینے والے کے حلف کو مشکوک یا متنازع نہیں بنادے گا؟ فاضل چیف جسٹس صاحبان ان قادیانی اُمیدواروں سے جنہیں وہ اعلیٰ عدالت کا جج بنانا چاہتے ہیں۔ خود بالمشافہ دریافت فرمالیں کہ کیا وہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 260کی  رُو سے اپنے آپ کو غیر مسلم تسلیم کرتے ہیں۔ ساری حقیقت کھل جائے گی۔

صوبہ پنجاب میں قادیانی ووٹروں کی تعداد 4088ہے۔ ان میں کسی اعلیٰ یا ماتحت عدالت کے کسی قادیانی جج کا ووٹ درج نہیں ہے۔4088ہء ووٹوں پر وہ پنجاب میں اعلیٰ عدالت کے جج کی ایک اسامی حاصل کرچکے ہیں۔ اس صوبہ میں مسلمان ووٹروں کی تعداد تین کروڑ اکیس لاکھ سے زیادہ ہے۔ اگر مسلمانوں کو 4088ہووٹروں پر ایک اسامی دی جائے تو لاہورہائیکورٹ میں مسلمان ججوں کی تعداد  سات ہزار آٹھ سے زیادہ ہونا چاہیے جبکہ یہاں کل منظور شدہ اسامیوں کی تعداد صرف پچاس ہے۔ گذشتہ دنوں اخباری خبروں سے یہ معلوم ہوتا تھا کہ ایک اہم شخصیت قادیانیوں کو ہر صورت ہائیکورٹ کا جج بنانا چاہتی ہے اور اسی کے اشارہ پر جسٹس خلیل الرحمن خان کو سپریم کورٹ بھیجا گیا تھا۔ اگر آج پھر اس اہم شخصیت نے اس معاملے میں کسی قسم کا دبائو ڈالا توانشاء اللہ عامۃ المسلمین اس معاملے کو اپنے ہاتھ میں لیں گے اور پھر ہرچہ باداباد دنیا کے ایک ارب سے زیادہ مسلمان حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے انتہائی جذباتی وابستگی رکھتے ہیں۔ آپ کے ناموس کا معاملہ ہو تو پھر یہ نہیں دیکھا جاتا کہ نام نہاد اہم شخصیتوں کا حدوداربعہ کیا ہے۔

وہ کتنی طاقتور ہیں اور کیا چاہتی ہیں۔ پھر مسلمان اپنے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی جان، اولاد، مال، والدین غرض کہ ہر قیمتی متاع قربان کرنے کیلئے میدان میں سربکف آتے ہیں۔ 1935ء اور 1974ء کی تحریکیں اس بات کا کھلا ثبوت ہیں کہ مملکت خداداد میں مسلمانوں کی گردنوں پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے باغی جعلی نبی کے پیروکاروں کو مسلط نہیں کیا جاسکتا۔ مرزائیوں اور ان کی مہربان، اہم شخصیت کو سرظفراللہ آنجہانی کی ذلت اور رسوائی کے ساتھ وزارتِ خارجہ سے علیحدگی سے سبق سیکھنا چاہیے اور قادیانیوں کو عدلیہ میں پلانٹ کرنے سے باز رہنا چاہیے۔ اہم شخصیت ہوش کے ناخن لے۔ اس کے اقتدار کے اپنے دن اب کتنے ہیں۔ کیا اسے معلوم کے چھ سات ماہ پہلے کی اس سے زیادہ بااختیار کئی اہم شخصیتیں آج پابجولاں ہیں۔ ان میں ایک ایسی شخصیت بھی شامل ہے جس نے اہم شخصیت کی سرپرستی کر کے اسے موجودہ حیثیت دلوانے میں اہم کردار اداکیا تھا۔ رہے نام اللہ کااہم شخصیت کی طرح کی کئی لوٹا برانڈ اہم شخصیتیں اقتدار کا زمانہ ختم ہونے پر گمنامی کی اتھاہ گہرائیوں میں پھرتے ہیں میر خوار کوئی پوچھتا نہیں کی تصویر بنی زبان حال سے کہ رہی ہیں:دیکھوہمیں جو دیدہ عبرت نگاہ ہو