شناخت

ارشاد احمد عارف   نوائے وقت

قادیانیت اور کچھ ہو نہ ہو لیکن فساد کی جڑ ضرور ہے۔ ایک ایسا فتنہ جس نے امت میں تفرقہ، نفاق ا ور انتشار کا بیج بویا اور فرمان الہیٰ کے مطابق فتنہ قتل سے زیادہ قبیح فعل ہے۔ جعلی نبوت، جعلی امہ اور جعلی خلافت جس نے ازاول تا آخر صرف اور صرف مسلمانوں کے اتحاد یکجہتی کو نقصان پہنچایا۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت علامہ اقبال ؒ نے انہیں اسلام اور ہندوستان کا غدار قرار دیا تھا۔ غدار خواہ ملت کا ہو یا ملک و وطن کا اس کی سرشت میں فتنہ و فساد ہوتا ہے۔ وہ سازش اور تخریب کا پیکر ہوتا ہے۔  آپ دیکھتے جائیں مرزا غلام احمد قادیانی سے لیکر مرزا طاہر احمد تک کسی نے بھی مسلمانوں کے دین و ایمان اور عقیدہ و مسلک ہی نہیں بلکہ جمعیت و سیاست کو بھی نقصان پہنچانے سے گریز نہیں کیا۔ مرزا غلام احمد قادیانی تھے تو انگریز کے خلاف مسلمانوں کی جدوجہد کو سبوتاژ کرتے رہے۔ اسلام کا ایک ایسا ایڈیشن پیش کرتے رہے جو خوشامد چاپلوسی اور مفاد پرستی کا مرقع تھا۔ جہاد اور عشق رسول ؐ ، جو اسلام کی روح اور ایمان کی اساس ہے، اس نام نہاد مذہب کا حصہ ہی نہیں تھے۔ ان کے جانشین مرزا بشیر الدین محمود نے جہاد کشمیر پر سبوتاژ کیا اور قیام پاکستان کے وقت قادیانی گروہ نے قادیان کی خاطر مشرقی پنجاب کیلئے کئی اضلاع کو بھارت میں شامل رکھنے کی سازش کر کے اسلامیان کشمیر کی منزل کھوٹی کی۔ قیام پاکستان کے بعد یہ قادیانی ہی تھے جنہوں نے اپنے سیاسی انتظامی اور فوجی سپوتوں کے ذریعے دستور پاکستان مدون نہیں ہونے دیا۔ اپنی سازشوں سے مسلم لیگ کو کمزور کیا اور پاکستان کی بانی جماعت کو دینی جماعتوں سے لڑا کر جمہوریت کو عدم استحکام سے دو چار کیا ۔ ۱۹۶۵ء ، ۱۹۷۱ء کی جنگوں میں قادیانی جرنیلوں اور بیوروکریٹس نے بالواسطہ طور پر تقسیم پاکستان کی راہ ہموار کی اور اب بھی بیرون ملک بیٹھ کر پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔ ملک میں دہشت گردی ،تخریب کاری اور فکری انتشار کی موجودہ فضاء اس امر کی متقاضی ہے کہ ہم قادیانیت کو سمجھنے کی کوشش کریں۔