استعمار نے مرزا کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کیا

ڈاکٹر علی اصغر چشتی  علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی

الحمدللہ وکفی ، والصلاہ والسلام علی من لا نبی بعدہ۔ اما بعد۔

قال اللہ تبارک وتعالیٰ: یایھا الذین امنوا من یرتد منکم عن دینہ فسوف یاتی اللہ بقوم یحبھم ویحبونہ اذلہ علی المومنین اعزہ علی الکافرین، یجاھدون فی سبیل اللہ ولا یخافون لومہ لائم، ذلک فضل اللہ یوتیہ من یشاء واللہ واسع علیم (المائدہ:54)

اے ایمان والو! جو شخص تم میں اپنے دین سے پھر جائے تو اللہ تعالیٰ بہت جلد ایسی قوم پیدا کردے گا جن سے اللہ تعالیٰ کو بہت محبت ہوگی اور ان کو اللہ تعالیٰ سے محبت ہوگی۔ مہربان ہوں گے وہ مسلمانوں پر، تیز ہوں گے کافروں پر۔ جہاد کرتے ہوں گے اللہ تعالیٰ کی راہ  میں، اور وہ لوگ کسی ملامت کرنے والی کی ملامت کا اندیشہ نہ کریں گے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جس کو چاہے عطا فرمائے اور اللہ تعالیٰ بڑی وسعت والے ہیں بڑے علم والے ہیں۔

اس وقت دنیا کے نقشہ پر پاکستان ایک ایسی مملکت ہے جس کے باشندوں کی غالب اکثریت مسلمان ہے۔ آج سے52 برس قبل جب اس مملکت کا قیام عمل میں آیا تو برصغیر کے مسلمانوں نے خاص طور پر اور دنیا کے دیگر خطوں میں رہنے والے مسلمانوںنے عام طور پر انتہائی قلبی مسرت کا اظہار کیا۔ اس لیے کہ اس کے وجود میں لا الہ الا اللہ اور محمد رسول اللہکا نعرہ تھا۔ اس کے قیام کے اور وجودکے لیے جن حضرات نے قربانیاں دیں جو لوگ جیلوں کی تاریک کوٹھڑیوں میں ہرقسم کی صعوبتیں برداشت کرتے رہے، جنہوں نے گھر بار کو خیرباد کہا اور زندگی بھر سفر اور تلقین کے کٹھن مراحل سے گزرے۔ ان کی سوچ اور خواہش تھی کہ پاکستان عالم وجود میں آئے گا تو یہ امت مسلمہ کے لئے ایک مرکز اور بیس کیمپ (Base Camp) کی حیثیت اختیار کرے گا۔ ان حضرات نے تحریک آزادی کے دوران جو خواب دیکھا تھا اور وہ حسین تھا، جو پلاننگ اور منصوبہ بندی کی تھی وہ بہت عمدہ تھی۔ جو قربانی دی تھی وہ اخلاص سے بھرپور تھی لیکن کیا کیجئے ان حضرات کا حسین خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا۔

اے بسا آرزو کہ خاک شدہ

آزادی اور استقلال کے بعد ان حضرات کی سوچ اور تحفیظ عملی جامہ نہیں پہن سکی۔ ان کے مجروح جذبات آج عالم مثال میں ہم سے پوچھ رہے ہیں اور بار بار پوچھ رہے ہیں کہ وہ تو زندگی بھروفا کے پیکر بنے رہے۔ آج ہم اتنے بے وفا کیوں ہیں؟ آج کا مورخ اور تجزیہ نگار جب اس بیتی ہوئی صدی کے اول وآخرکا تجزیہ کرتا ہے تو وہ بے اختیار کہ اٹھتا ہے کہ ہمارا معاشرہ روبہ زوال اور روبہ انحطاط ہے۔ اسے یہ کہنے میں ذرہ برابر جھجک محسوس نہیں ہوتی کہ آزادی کے بعد اس خطہ میں جونسل تیار ہوئی اور ہورہی ہے وہ اپنی ذات اور ذاتی مفادات تک  محدود ہے اسے ملی اور قومی تشخص کے ساتھ نہ کوئی علاقہ ہے، نہ دلچسپی ہے اور نہ احساس ہے۔ اس وقت ہماری صورت حال یہ ہے کہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر ہم اعتماد کھوچکے ہیں۔ پوری دنیا میں پاکستانی پاسپورٹ کے حامل کو شک و شبہ کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ کرپشن میں ہم دنیا کی تمام اقوام کو مات دے چکے ہیں اور سب سے بڑا اعزاز حاصل کرچکے ہیں۔ اس زوال اور انحطاط کی داستان بڑی طویل اور تلخ ہے۔ اس کے بہت سارے عوامل اور ڈھیر سارے اسباب ہیں۔ لیکن اس کا ایک سبب اوراہم سبب یہ بھی ہے کہ ہم نے اپنی نئی نسل کو اپنی اصل تاریخ سے بالکل بیگانہ اور لاعلم رکھا ہے۔ ہماری نئی نسل کو اپنے اسلاف اور محسنین کی خدمات، احسانات اور جدوجہد کا کوئی علم نہیں۔ ہم اپنے طلبہ کو بادشاہوں اور حکمرانوں کی تاریخ اور وہ بھی مسخ شدہ تاریخ پڑھانے میں مصروف ہیں۔ یہ ملک جہاں تعلیم کی نام نہاد شرح تیس فیصد ہے ان تیس فیصد میں اگر دیکھا جائے تو ایسے افراد کتنے ہوں گے جو تاریخ کی شدبد رکھتے ہوں گے۔ علاوہ ازیں تو دیکھنا یہ بھی چاہیے کہ یہ لوگ کونسی تاریخ پڑھتے ہیں۔ آج سے غالباً چھ سال پہلے کی بات ہے میں ایک بہت معروف ومشہور سکالر کے دفتر میں ان کے ساتھ محفو گفتگو تھا۔ ان کے ساتھ ارادت اور تعلق کی بنا پر میں ان کی باتیں بڑی توجہ اور انہماک سے سن رہا تھا۔ دورانِ گفتگو وہ مجھ سے کہنے لگے: چشتی صاحب! آپ جب بھی جمعہ کے دن بیان کرتے ہیں تو شیخ الہند مولانا محمودالحسنؒ، مولانا حسین احمد مدنیؒ، مولانا انورشاہ کشمیریؒ، مولانا عطاء اللہ شاہ بخاریؒ، مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ، مولانا محمد علی جالندھریؒ اور مولانا محمد یوسف بنوریؒ کا تذکرہ ضرورکرتے ہیں۔

میں ان حضرات کے نام آپ جیسے لوگوں سے سنتا ضرور ہوں لیکن مجھے اس بارے میں کوئی علم نہیں کہ امت مسلمہ کے لیے انہوں نے کیا خدمات سر انجام دی ہیں۔پھر کہنے لگے:آپ لوگ مرزا غلام احمد قادیانی، حکیم نورالدین، مرزا بشیر الدین محمود اور سرظفراللہ خان کو بہت کوستے رہتے ہیں اس کی وجہ سے آج تک میری سمجھ میں نہیں آئی۔مجھے ان کے اس سوال پر بڑی حیرت ہوئی لیکن بعد میں، میں نےRealiseکیا کہ ان کی بات ٹھیک ہے۔ انہیں ان اسلاف اور اکابر کی حیات اور خدمات کے بارے میں آگاہی ہو تو کیسے ہو۔ ہمارے ملک میں ایک عام پڑھے لکھے شخص کی رسائی جس لٹریچر تک ہے۔ اس میں تو علماء کرام کا تذکرہ شجر ممنوعہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ دو سال پہلے مولانا منظور نعمانی رحمۃ اللہ کا انتقال ہوا تو مجھے یہ دیکھ کر بہت ہی صدمہ ہوا کہ اخبارات میں محض دو سطر کی خبر لگی ہوئی ہے۔ حال ہی میں مولانا ابوالحسن علی ندویؒ انتقال کرگئے تو ہمارے قومی اخبارات نے اس خبر کوجوکوریج دی وہ ہمارے سامنے ہے۔ ہمارا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم اپنے آس پاس سے بے خبر ہیں، اپنی تاریخ سے بے خبر ہیں، اپنے اسلاف سے بے خبر ہیں اور اپنی اقدار سے بے خبر ہیں۔مستقبل کی تخلیط ماضی کو دیکھ کر کی جاتی ہے لیکن جس قوم کو اپنے ماضی کا شعور نہ ہو وہ مستقبل کی تخلیط کرے گی تو کیا؟

1981ء کے اواخر کی بات ہے مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے اکابرین نے جب راقم الحروف کو ہفت روزہ ختم نبوت کاڈیکلریشن لینے کا Taskدیا۔ تو اس ضمن میں اس وقت انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر کے ساتھ ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ اس وقت کے ڈائریکٹرصاحب کے ساتھ اس حوالہ سے چھیالیس انٹرویوز ہوئے۔ ہر انٹرویو میں وہ ہمارے اسلاف کے بارے میں جو شکوک و شبہات اور منفی پروپیگنڈہ کیا گیا ہے اس پر بحث کرتا تھا۔ میرے ساتھ بعض مرتبہ مفتی محمد اسلم صاحب (حال امیر جمعیۃ العلماء برطانیہ)ہوا کرتے تھے۔ سینتالیسویں دن جب میں انٹرویو کے لیے ان کے فتر میں داخل ہوا تو اس نے اٹھ کر میرا استقبال کیا۔ تھوڑی دیر کے بعد کہنے لگا: آج شام چھ بجے میرے پاس آجائیں دونوں بیٹھ کر مشورہ کریں گے، چائے پئیں گے اور تفصیلاً بات چیت کریں گے۔ میں نے اس دن مغرب کی نماز مسجد استقلال میں ادا کی اور ٹھیک چھ بجے اُن کے پاس پہنچ گیا۔ ہم نے مل کر چائے پی لی اور گفتگو شروع ہوئی۔ میں دل میں بہت خوش تھا کہ اللہ تعالیٰ نے کرما فرمایا ہے۔ ڈائریکٹر صاحب نے کہا: آپ کی فائل جب سے میرے پاس آئی ہے اور آپ سے ملاقاتیں شروع ہوئی ہیں اس وقت سے مجھے آپ کے اکابرین اور اس موضوع سے دلچسپی پیدا ہوگئی ہے۔ میں نے ان دو مہینوں میں اس موضوع پر اچھا خاصا مطالعہ کیا اور آپ سے زبانی معلومات حاصل کیں۔

میں اب ریٹائرمنٹ کے قریب ہوں۔ میرا جی چاہتا ہے کہ اس نیک کام میں آپ کے ساتھ تعاون کرو۔ اس کے بعد انہوں نے جوSummaryتیار کی تھی مجھے دکھائی اور کہنے لگے: میں نے آپ لوگوں کے بارے میں بہت ہی اچھی رپورٹ دی ہے۔ ان شاء اللہ آپ کو ڈیکلریشن مل جائے گا آپ کوئی فکر نہ کریں۔ یہ واقعہ بیان کرنے کا مقصد یہ تھا کہ اس وقت ہمارے اکابرین اور اسلاف کی خدمات سے ملک کا خاص اور عام طبقہ بالکل لاعلم ہے صرف وہ حضرات جو دینی مدارس میں پہنچتے ہیں اور وہاں سے استفادہ کرتے ہیں وہ ان کے نام سنتے ہیں۔ ان میں بھی ان افراد کی شرح آٹے میں نمک کے برابر ہوتی ہے جو اپنے اسلاف اور مشائخ کی تاریخ اور خدمات سے واقف ہوتے ہیں۔

مرزا غلام احمد قادیانی نے جب مجددیت، مسیحیت اور آخر میں نبوت کا دعویٰ کیا اور اس پورے عرصہ میں مکڑی کی طرح اپنے تئیں مضبوط جال بنتا گیا۔ تو اس کے مقابلہ میں امت مسلمہ کے علمائ، خواص اور --- سب نے اپنی اپنی استعداد اور سطح کے مطابق اپنی صلاحیتوں کو استعمال کیا۔ مرزا غلام احمد قادیانی کو Back پر استعمار کی قوت تھی۔ اس کو ہر طرف اور ہر نوع کی Projection اورProtection دی جارہی تھی۔مرزا سمجھتا تھا کہ حکومت وقت کی حمایت کے بل بوتے پر وہ اپنی ہر چال میں کامیاب و کامران ہوجائے گا۔ ظاہری وسائل، مناصب اور مفادات کی خاطر کئی لوگ اس کے دام تزویر میں آگئے۔ استعمار نے مرزا کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کیا۔ مرزا نے حرص و لالچ کے جال میں پھنسے ہوئے اپنے مریدین کو اپنی تشہیر کا ذریعہ بنایا ور اس طرح جھوٹی نبوت کا گھروندہ قائم ہوگیا۔ مرزا قادیانی نے امت مسلمہ کے بنیادی عقائد پر بڑی بے دردی سے وار کیے۔ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام خصوصیات کو اپنے اوپر چسپاں کردیا۔ اپنے مریدوں کو صحابہ کا درجہ دیا، اپنی بیوی کو ام المومنین کا لقب دیا اور اپنے اوہام کو الہام وحی کا درجہ دیا۔

اس فتنہ کی سرکوبی کے لیے بہت بڑی قربانی اور عظیم جدوجہد کی ضرورت تھی۔ علماء امت نے اس کی بیخ کنی کے لیے اپنی زبان، اپنا ذہن اور اپنا قلم استعمال کیا اور امت مسلمہ کے افراد نے اپنی جان و مال اور اولاد کی قربانی دی۔ اس پورے عرصہ میں جن جن حضرات نے اس فتنہ کو بیخ و بن سے اکھیڑنے کی تحریک میں حصہ لیا ، ان کی جدوجہد قابل تقلید اور ان کے مساعی ناقابل فراموش ہیں۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ ان مثالی ہستیوں کی تاریخ پوری تفصیل کے ساتھ بہت عمدہ انداز میں مرتب کی جائے تاکہ موجودہ اور آئندہ ادوار کی نسلیں اس سےمستفیدہوسکیں۔