حالِ دل

پروفیسر ڈاکٹر مغیث الدین شیخ

قادیانی لابی پاکستان کے اندرخاموش جارحیت کی مرتکب ہو رہی ہے۔ اسی طرح جیسے امریکہ میں یہودی لابی ۔ امریکہ کی خارجہ امور کی کمیٹی ہو یا دفاعی امور کونسل، اخبارات ہوں یا ٹیلی وژن، ہالی وڈ کی فلم انڈسٹری ہو یام ہم جنس پرستوں کی تحریک ہر جگہ ان کی تہہ میں یہودی لابی کا عمل دخل دیکھا جا سکتا ہے۔ یہودیوں کیلئے امریکہ ایک دوسرا اسرائیل ہے۔ یہ کہنا بیجانہ ہو گا کہ قادیانی لابی کے بھی یہودی لابی کے ساتھ کچھ رشتے ناطے ہیں۔ اسرائیل میں حیفہ کے مقام پر قادیانیوں کو مرکز قائم کرنے کی اجازت دینا اس تاثر کو اور بھی مستحکم کر دیتا ہے۔ دوسری طرف پاکستان کے اندر پاکستان کی مسلح افواج بیوروکریسی، ذرائع ابلاغ اور تعلیمی اداروں میں ان کا عمل دخل کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ علاوہ ازیں مختلف سیکولر سیاسی جماعتوں کی پالیسیوں اور سرگرمیوں پر بھی ان کا مضبوط کنٹرول محسوس کیا جا سکتا ہے۔ یہ بات بھی مبالغہ نہ ہو گی کہ پاکستان جیسے اسلامی نظریاتی ملک کے اہم اداروں پر اس سازشی اقلیتی گروپ کی حکمرانی ہے۔

میرے نزدیک یہ کوئی مذہبی گروہ نہیں ہے بلکہ برطانوی سامراج کا پیدا کردہ سیاسی اور سازشی گروہ ہے۔ سابق ایئر مارشل ظفر چودھری ہوں یا پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خاں اقتصادی پالیسی ساز ایم ایم احمد ہوں یا ڈاکٹر عبدالسلام موجودہ اہم حکومتی عہدے پر فائز فرنیٹئر پوسٹ سے وابستہ صحافی فرحت اللہ بابر ہوں(جنہیں ڈاکٹر عبدالسلام نے ایٹمی توانائی کے اہم شعبے میں سینئر سائینٹفک آفیسر تعینات کیا تھا) یا پنجاب کے تعلقات عامہ کے کرتا دھرتا کرنل اکرم اللہ، ٹیکسٹ بک بورڈ ایسے اہم ادارے کے غالب احمد ہوں یا سابق سیکرٹری انفارمیشن نسیم احمداور نہ جانے کتنے اور اہم اداروں کی پالیسی مرتب کرنے والے لوگوں کا تعلق اسی گروہ کے ساتھ ہے۔ دوسری طرف ہماری بے بسی کا یہ عالم کہ ہم مسلمان ہوتے ہوئے بھی اس فتنے سے بے خبر اور بے تعلق اور اپنی منزل سے ناآشنا ہیں۔

 

پروفیسر ڈاکٹر مغیث الدین شیخ

                                                                                  شعبہ ابلاغیات ، پنجاب یونیورسٹی ، لاہور