ڈاکٹر عبدالسلام کو نوبل انعام کیوں دیا گیا؟

حصہ اول :قادیانی مفادات کا حصول(قادیانیوں کو مسلمان ثابت کرنا)

1979ء میں دو امریکن سائنس دانوں کے ساتھ ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کو بھی فزکس کے شعبہ میں مسٹر نوبل کے وصیت کردہ سودی انعام کا مستحق قرار دیا گیا۔ (اور اس شعبہ کا حصہ ان تینوں میں تقسیم ہوا) ۔یہودی قادیانی مفادات متحد ہیں، قادیانیت، یہودیت و صیہونیت کی سب سے بڑی حلیف ہے، اور عالمی سطح پر پروپیگنڈا کرنے اور مسلمانوں کے خلاف زہرا گلنے میں دونوں ایک دوسرے سے تعاون کر رہے ہیں اب ذرا جائزہ لیجئے کہ قادیانیوں نے ڈاکٹر عبدالسلا م قادیانی کو ملنے والے نوبل سودی انعام سے کیا مفادات حاصل کئے۔

1۔ سب سے پہلے اس انعام کی ایسے غیر معمولی طریقے پر تشہیر کی گئی اور ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کو ایک مافوق الفطرت شخصیت ثابت کرنے کا بے پناہ پروپیگنڈا کیا گیا ۔ اور اس انعام کو ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی نے اپنے ر وحانی پیشوا مرزا غلام قادیانی کی نبوت کا معجزہ ثابت کرنے کی کوشش کی۔ چنانچہ قادیانی اخبار روز نامہ الفضل نے 13 نومبر1979ء کی اشاعت میں لکھا:نوبل انعام ملنے سے ایک دن پہلے لندن ، جماعت احمدیہ برطانیہ کے زیر اہتمام لندن مسجد کے محمود ہال میں سنڈے اسکول کے طلباء سے پروفیسر ڈاکٹر عبدالسلام نے جو خطاب فرمایا اس کے بارے میں ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ اس خطاب میں محترم ڈاکٹر صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلا م کا یہ ارشاد سنایا میرے فرقہ کے لوگ اس قدر علم و معرفت میں کمال حاصل کریں گے کہ اپنی سچائی کے نور اور اپنے دلائل اور نشانوں کی رو سے سب کامنہ بند کردیں گے۔

اور اسی موقع پر مکرم شیخ مبارک احمد صاحب نے بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس پیش گوئی کی طرف توجہ دلائی کہ حضور علیہ السلام نے اپنے ماننے والوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ بشارت دی ہے کہ وہ علم و عقل میں اس قدر ترقی کریں گے کہ دنیا ان کا مقابلہ نہ کر سکے گی۔ یہ تقریب 14 اکتوبر 1979ء کو ہوئی اور اس سے اگلے ہی دن 15اکتوبر 1979ء کو پروفیسر ڈاکٹر عبدالسلام کو نوبل انعام دینے کا اعلان کردیا گیا۔ الحمد للہ ثم الحمد للہ علیٰ ذالک

محمود مجیب قادیانی نے اپنے کتا بچہ ڈاکٹر عبدالسلام میں لکھا ہے۔ ان کے وجود سے بانی جماعت احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کی ایک عظیم پیش گوئی پوری ہوئی تھی جیسا کہ اس واقعہ سے اسی (80) سال پہلے آپ نے خدا سے خبر پاکر اعلان کیا تھا کہ : میرے فرقہ کے لوگ اس قدر علم و معرفت میں کمال حاصل کریں گے کہ اپنی سچائی کے نور اور اپنے دلائل اور نشانوں کے اثر سے سب کا منہ بند کردیں گے۔ (صفحہ 7)

ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی نے قادیانیوں کے سالانہ جلسہ 1979 ء میں تقریر کرتے ہوئے کہا: میں اس پاک ذات کی حمد و ستائش سے لبریز ہوں کہ اس نے امام وقت، میرے والدین کی اور جماعت کے دوستوں کی مسلسل اور متواتر دعاؤں کو شرف قبولیت سے نوازا اور عالم اسلام اور پاکستان کے لئے خوشی کا سامان پیدا کردیا۔

                                                                                         (قادیانی اخبار الفضل ربوہ۔ 31 دسمبر 1979ء )

اس طرح قادیانیوں نے ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کو دئیے گئے سودی انعام کا مسلسل پروپیگنڈا کیا، اس ایک معجزہ اور انسانی تاریخ کے ایک مافوق الفطرت واقعہ کے رنگ میں پیش کیا اور یہ باور کرانے کی ناکام کوشش کی کہ ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کا یہ انعام حاصل کرنا گویا مرزا غلام قادیانی کی صداقت کا ایک معجزہ ہے۔ حالانکہ اہل نظر جانتے ہیں کہ ان چیزوں سے، جن کو قادیانی ملاحدہ مابہ الافتخار سمجھتے ہیں حضرات انبیاء کرام علیہ السلام کو کوئی مناسبت نہیں، جو ایک یہودی کو، ایک عیسائی کو، ایک ہندو کو ایک بدھ مت کو اور ایک چوہڑے چمار کو بھی میسر آسکتی ہے، وہ کسی نبی یا اس کے امتی کے لئے مایئہ افتخار کیسے ہوسکتی ہے؟ بلکہ نوبل انعام سودی رقم سے دیا جاتا ہے اس لئے اس کے برعکس اگر یہ کہا جائے تو بے جانہ ہوگا کہ سود جیسی ملعون چیز کے ملنے پر فخر کرنا قادیانیوں اور ان کے متنبی کذاب مرزا غلام قادیانی کے جھوٹا ہونے کی ایک مزید دلیل ہے۔

2۔          قادیانیوں کے اسلام کش نظریات اور کفریہ عقائد کی بناء پر پوری امت اسلامیہ قادیانیوںکو مسیلمہ کذاب کے ماننے والوں کی طرح مرتد اور خارج از اسلام سمجھتی تھی۔ 7 ستمبر1974ء کو پاکستان قومی اسمبلی نے آئینی طور پر بھی انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دیکر ان کا نام غیر مسلم باشند گان مملکت کی فہرست میں درج کردیا تھا۔ عالم اسلام اور پاکستان پارلیمینٹ کا یہ فیصلہ قادیانیت پر ایک کاری ضرب کی حیثیت رکھتا تھا، جس سے قادیانیت کے اتدادی جراثیم کے پھیلنے اور پھولنے کے راستے ایک حد تک بند ہوگئے تھے۔ مگر اب قادیانیوں نے اٹھتے بیٹھتے ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کے پہلا مسلمان سائنس دان ہونے کا وظیفہ رٹنا شروع کردیا۔ اس پروپیگنڈا کا مقصد ظاہر تھا کہ اگر ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی مسلمان ہے تو باقی قادیانی بھی اسی کے ہم مذہب ہونے کے ناطے پکے سچے مسلمان ہیں۔

اس پروپیگنڈا کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہمارے عرب بھائی اور دوسرے ممالک کے حضرات، جو ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کے مذہب و عقیدے سے واقف نہیں تھے، اس کو واقعتا مسلمان سمجھنے لگے۔ چنانچہ مراکش کے شاہ حسن ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کے نام ایک طویل شاہی فرمان جاری کیا جس کے ذریعہ ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے لکھا کہ: آپ کی کامیابی سے اسلامی تہذیب و فکر جگمگا اٹھے ہیں۔                                          

(روز نامہ الفضل 29/ جون 1980)

جنوری 1986ء میں مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے ترجمان پندرہ روزہ تہذیب الاخلاق نے عبدالسلام نمبر نکالا، جس میں اسلام اور سائنس کے عنوان سے ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کے ایک انگریزی مضمون کا ترجمہ پروفیسر نسیم انصاری کے قلم سے شائع کیا گیا۔ جس کی ابتدا ان الفاظ سے ہوتی ہے:

  ابتدا اس اقرار سے کرتا ہوں کہ میرا عقیدہ اور عمل اسلام پر ہے۔ اورمیں اس وجہ سے مسلمان ہوں کہ قرآن کریم پر میرا ایمان ہے (صفحہ 11)

اسی شمارے میں ایک مضمون عبدالسلام ۔ ایک مجاہد سائنس دان کے عنوان سے پروفیسر آئی احمد (جو غالباً خود بھی قادیانی ہیں) کا ہے ، جس میں وہ لکھتے ہیں

            وہ (ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی ) اپنے دین اسلام کی حقانیت پرکامل یقین رکھتے ہیں۔ اور اس کی ہدایات پر سختی سے عمل بھی کرتے ہیں۔ (صفحہ 35)

اسی پرچہ میں پروفیسر جان نرمیان (یہ صاحب غالباً یہودی ہیں) کی ایک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تقریر کا ترجمہ ڈاکٹر عالم حسین کے قلم سے ہے جس میں کہا گیا ہے۔

            عبدالسلام (قادیانی) دین اسلام پر ایمان رکھتے ہیں اور انہوں نے اپنی زندگی کو نظریہ وحدت کے لئے وقف کردیا ہے۔ (صفحہ 37)

یہ چند مثالیں ذکر کی ہیں۔ ورنہ اس قسم کی بے شمار تحریریں موجود ہیں جن میں مسلمانوں کو دھوکا دینے کے لئے ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کو اسلام کی سند عطا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ گویا نوبل انعام کے حوالے سے قادیانی یہودی لابی کی طرف سے قادیانیت کو اسلام اور اسلام کو قادیانیت باور کرانے کی گہری سازش کی گئی، جس کے ذریعہ اچھے اچھے سمجھدار حضرات کو فریب دیا گیا ہے۔

(3) مسٹر نوبل کے وصیت کردہ سودی انعام کے ذریعہ اسلام کی سند حاصل کرنے کے بعدڈ اکٹر عبدالسلام قادیانی نے خرد جال کی طرح اسلامی ممالک کا دورہ کیا ہے اور جگہ جگہ اسلامی سائنس فاؤنڈیشن قائم کرنے کا نعرہ بلند کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جس سے یہ ثابت کرنا مقصود تھا کہ اس زمانہ میں مسلمانوں کا سب سے بڑا خیر خواہ اور ہمدرد عبدالسلام قادیانی ہے۔ چنانچہ اسلامی ممالک نے اسلامی سائنس فاؤنڈیشن کے نعرے سے مسحور ہوکر اس کی منظوری دے دی، روزنامہ نوائے وقت لکھتا ہے۔

            نوبل پرائز حاصل کرنے والے پاکستانی سائنس دان ڈاکٹر عبدالسلام نے 1973ء میں ایک تجویز پیش کی تھی کہ مسلمان ممالک کو مل کر ایک اسلامی سائنس فاؤنڈیشن قائم کرنی چاہئے۔ گزشتہ ہفتہ جدہ میں ایک کانفرنس ہوئی جس میں اس ادارے کے قیام کا حتمی فیصلہ کر لیا گیا۔ یوں تو اسلامی سربراہ کانفرنس نے فروری ۷۴ء میں ہی ڈاکٹر عبدالسلام کی تجویز کی منظوری دے دی تھی۔ مگر اس پر عملدر آمد کرنے کا فیصلہ اب ہوا ہے۔ جدہ کی جس کانفرس نے فاؤنڈیشن کے قیام کو عملی صورت دینے کا فیصلہ کیا ہے اس میںد وسرے اسلامی ملکوں کے سائنس دانوں کے علاوہ ڈاکٹر عبدالسلام کو نوبل پرائز حاصل کرنے پر مبارکباد دی اور اسے اسلامی دنیا کے لئے قابل فخر کارنامہ قراردیا۔           

            (روزنامہ نوائے وقت اداریہ مورخہ 18/ نومبر 1979 ء )

            سعودی عرب میں قادیانیوں کا داخلہ ممنوع ہے۔ لیکن اسلامی سائنس فاؤنڈیشن کی فسوں کاری دیکھئے کہ جدہ میں ڈاکٹر عہدالسلام کی پذیرائی کی جاتی ہے۔ اسے سائنسی برات کا دولہا بنایا جاتا ہے۔ اور اس کو اسلامی دنیا کے لئے قابل فخر قرار دیا جاتا ہے۔

            مسلمانوں کی خود فراموشی اور دشمنان اسلام کی عیاری و مکاری کا کمال ہے کہ حجاز مقدس کی برگزیدہ سر زمین کے شہر جدہ میں یہ باضابطہ تسلیم شدہ کافرو مرتد قادیانی مسلم سائنس فاؤنڈیشن کا اجلاس منعقد کروا کر اور اس کے دولہا کی حیثیت سے اس میں شرکت کرکے المملکہ السعودیۃ العربیہکے اس قانون کا کس طرح منہ چڑا تا ہے۔ جس کی رو سے سعودی عرب میں قادنیوں کے لئے داخلہ اور ویزا ممنوع ہے۔یہ تو شکر ہوا کہ اس نے یہ کانفرنس حرمین شریفین میں منعقد نہ ہوئی ورنہ اس کے نجس قدم حرمین شریفین کو گندہ کرتے اور وہ دنیائے اسلام کے اس فیصلہ پر طمانچہ لگاتا کہ قادیانی دائرہ اسلام سے خارج ہیں اس لئے حرمین شریفین میںا ن کے داخلہ پر پابندی ہے۔ اندازہ کیجئے کہ قادیانی یہودی سازشوں کے جال کہاں کہاں تک پھیلے ہوئے ہیں۔ اور وہ مسلمانوں کو دھوکہ دے کر اپنے مفادات کس طرح حاصل کرتے ہیں۔