جب بارہ سو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ختم نبوت پر نچھاور ہوگئے

یہ صدیق اکبرؓ کا عہد خلافت ہے۔ یمامہ کے میدان میں بارہ سو صحابہؓ کرام کی لاشیں بکھری پڑی ہیں۔ کسی کا سرتن سے جدا ہے۔ کسی کا سینہ چرا ہوا ہے۔ کسی کا پیٹ چاک ہے۔ کسی کی آنکھیں نکلی ہوئی ہیں۔ کسی کی ٹانگ نہیں ہے۔ کسی کا ہاتھ نہیں ہے۔ کسی کا بازو کندھوں سے جدا ہے۔ کسی کی ٹانگ جسم سے الگ پڑی ہے اور کسی کا جسد ٹکڑوں میں تقسیم ہوگیا ہے۔ یہ بارہ سو صحابہؓ اپنے خون میں نہا کر یمامہ کے میدان میں اس شان سے چمک رہے ہیںکہ چرخ نیلوفری پہ چمکنے والے ستارے انہیں دیکھ کر رشک کررہے ہیں۔ یوں محسوس ہورہا ہے کہ آسمانی ہدایت سے ایک کہکشاں زمین پر اتر آئی ہے۔یہ کون لوگ ہیں؟

اہل دنیا! یہ وہ لوگ ہیں ۔ جنہیں اللہ کے نبی جناب محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آغوش نبوت لے کر پروان چڑھایا۔ جو مکتب نبوت محمدیہؐ کے فارغ التحصیل تھے۔ جن کے سینوں میں ایمان اور قرآن خود رسول خاتم صلی اللہ علیہ وسلم نے اتارا تھا۔ جنہیں اس دنیامیں ہی رب العزت نے جنت کے سرٹیفکیٹ جاری کردئیے تھے۔ جو اس مرتبے کے مالک ہیں کہ آج کی پوری امت مل کر بھی ان میں سے کسی ایک کے برابر نہیں ہوسکتی ۔!!!

یہ شہداء جو شہادت کی سرخ قبا پہنے استراحت فرما رہے ہیں۔ ان میں سے سات سو حفاظ قرآن ہیں۔ ستر بدری صحابہ ؓ ہیں جو کفرواسلام کے پہلے معرکہ غزوئہ بدر میں اپنی جانیں ہتھیلیوں پر لے کر رسولؐ کے پرچم تلے میدان بدر میں اترے تھے۔ اہل دنیا! یہ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن کے پھول تھے جو یمامہ کے میدان میں مسلے گئے یہ رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی جھولی کے موتی تھے جو یمامہ کے میدان میں رل گئے۔ یہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی پچھلی راتوں کے آنسو تھے جو خاک یمامہ میں جذب ہوگئے۔

اے افراد ملت اسلامیہ! ان عظیم ہستیوںنے کس مسئلہ کے لیے پردیس میں جا کر اپنی جانیں نچھاور کیں؟

کس مسئلہ کے لئے انہوں نے اپنی شمشیروں کو بے نیام کیا اور گھوڑوں پر بیٹھ کر بجلی کی سرعت سے یمامہ کی طرف لپک گئے؟

ہائے افسوس! صد افسوس۔ وہ مسئلہ جسے آج ہم نے منبر و محراب سے نکال دیا ہے۔ جو ہمارے دینی مدارس کے نصاب میں شامل نہیں ہے۔ جو سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں پڑھایا نہیں جاتا۔

یعنی مسئلہ ختم نبوت

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دعویٰ نبوت سے لے کر وصال نبویؐ تک تیس سال کے لگ بھگ جو عرصہ بنتا ہے، اس میں جتنے غزوات ہوئے۔ جتنی جنگیں ہوئیں۔ جتنے تبلیغی وفود دھوکہ سے شہید کیے گئے۔ اور کفار کے مظالم سے جو صحابہ کرامؓ شہید ہوتے رہے ان کی کل تعداد259ہے یعنی پورے دور نبوی میں پورے اسلام کے لیے جو کل صحابہ شہید ہوئے ان کی تعداد259 اور صرف مسئلہ ختم نبوت کے لیے جو صحابہؓ شہید ہوئے ان کی تعداد بارہ سو ہے۔ جن میں سے سات سو حفاظ قرآن ہیں۔!!!

جھوٹے مدعی نبوت مسیلمہ کذاب کے پاس چالیس ہزار جنگجوئوں کا لشکر تھا۔ مال و دولت کے بھی ڈھیر تھے۔ ادھر مسلمان وصال نبویؐ کے غم سے نڈھال تھے۔ طرح طرح کے فتنے کھڑے ہوگئے تھے۔ حالات انتہائی نامساعد تھے۔ مدینہ منورہ کی نوزائیدہ ریاست کو ہر طرف سے خطرہ تھا۔ لیکن سیدنا صدیق اکبرؓ نے تخت ختم نبوت اور تاج ختم نبوت پر ڈاکہ زنی کو برداشت نہ کیا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ صدیقؓتو زندہ ہو اور اس کے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی مسند نبوت پر کوئی بدطینت بیٹھنے کی ناپاک جسارت کرے۔!!!

یارؓ غار نے خطرناک حالات کی بالکل پروا نہ کی اور مسلیمہ کذاب کی سرکوبی کے لیے پہلا لشکر حضرت شرجیل ؓ کی قیادت میں روانہ کیا لیکن مسیلمہ کذاب نے اس لشکر کو شکست دی۔ دوسرا لشکر حضرت عکرمہؓ بن ابی جہل کی قیادت میں روانہ کیا لیکن مسیلمہ کذاب کی فوج نے اس لشکر کو بھی شکست دی۔ فولادی عزم کے مالک جناب صدیق اکبرؓ نے ہمت نہ ہاری۔ حضرت شرجیلؓ اور حضرت عکرمہؓ دونوں کو ہدایت جاری کی کہ مدینہ لوٹ کر مت آنا۔ تمہارے آنے سے بد دلی پھیلے گی۔ تم دونوں وہیں پر انتظار کرو۔ میں تمہاری مدد کے لئے سیف اللہ خالدؓ بن ولید کے لشکر کو روانہ کررہا ہوں۔ سیدنا خالدؓ بن ولید یمامہ پہنچتے ہیں اور مسلمانوں کا لشکر مسیلمہ کے لشکر کے سامنے صف آراء ہوتا ہے۔اہل یمامہ بڑی بہادری سے جم کر لڑتے ہیں۔

دونوں طرف سے گھمسان کی جنگ ہوتی ہے اور انسانی جسم گاجر مولی کی طرح کٹ کٹ کر زمین پر گرتے ہیں۔ مسلمان بڑی جانثاری سے لڑتے ہیں لیکن مسیلمی لشکر سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑا ہے۔ آخر حضرت خالد بن ولیدؓ میدان جنگ میں کھڑے مسیلمہ کذاب کو دیکھ کر عقاب کی طرح اس کی طرف لپکتے ہیں اور ساتھیوں کے ساتھ یکبارگی زبردست حملہ کرتے ہیں جس سے مسیلمیوں کے قدم اکھڑ جاتے ہیں۔ مسلمان شیروں کی طرح دھاڑتے ہوئے مسیلمہ کذاب کی فوج پر پل پڑتے ہیں اور انہیں تیزی سے قتل کرنے لگتے ہیں۔ اللہ پاک مسلمانوں کو فتح عطا کرتے ہیں۔ مسیلمہ کذاب کے چالیس ہزار لشکر میں سے ستائیس ہزار سپاہی میدان جنگ میں مارے جاتے ہیں اوران کے ساتھ ہی مسیلمہ کذاب بھی جہنم واصل ہوجاتا ہے اور اس کی جھوٹی نبوت بھی مجاہدین ختم نبوت کے ہاتھوں میدان یمامہ میں ہمیشہ کے لئے دفن ہوجاتی ہے لیکن اس جنگ میں مسلمانوں کا بھی ایسا نقصان ہوتا ہے جو اس سے قبل اسلامی تاریخ میں کبھی نہ ہوا تھا۔ بارہ سو صحابہ کرامؓ نے خود کو خاک و خون میں تڑپادیا لیکن جھوٹی نبوت کے وجود کو برداشت نہ کیا۔ انہوں نے اپنی بیویوں کو بیوہ کر لیا، اپنے لاڈلے بچوں کو داغ یتیمی دے دیا۔ بوڑھے والدین کے بڑھاپے کی لاٹھیوں کو توڑ دیا۔ اپنے  پیارے وطن مدینہ منورہ کو خیر باد کہہ دیا۔ مسجد نبویؐ اور روضہ رسولؐ سے جدائی برداشت کر لی لیکن ان کی غیرت جھوٹی نبوت کو برداشت نہ کرسکی۔

مسلمانو! صحابہؓ کے عہدکا جھوٹا مدعی نبوت مسیلمہ کذاب تھا اور ہمارے عہد کا جھوٹا مدعی نبوت مرزا قادیانی ہے۔ جتنے خطرناک مسیلمہ کے پیروکار تھے، اس سے کہیں زیادہ خطرناک مرزا قادیانی کے پیروکار ہیں۔مرزا قادیانی اور اس کی شیطانی جماعت کا کفروارتداد مسیلمہ کذاب اور اس کی ابلیسی پارٹی سے زیادہ موذی ہے۔

آج جب میں کسی مسلمان کو قادیانی سے ہاتھ ملاتے دیکھتا ہوں۔ تو مجھے صحابہؓکے کٹے ہوئے ہاتھ یاد آجاتے ہیں۔ جب میں کسی مسلمان کو قادیانی سے بغلگیر ہوتے اور قادیانی کے گلے میں بازو حمائل کیے دیکھتے ہوں تو مجھے صحابہؓ کے کٹے ہوئے بازو تڑپانے لگتے ہیں۔ جب میں کسی مسلمان کو پائوں گھسیٹتے ہوئے کسی قادیانی کے گھر میں داخل ہوتے ہوئے دیکھتا ہوں تو مجھے صحابہؓ کے کٹے ہوئے پائوں رلانے لگتے ہیں۔ جب میں کسی مسلمان کو قادیانی سے ٹھنڈی میٹھی باتیں کرتا سنتا ہوں تو میرے کانوں میں میدان یمامہ میں مرتدین کے خلاف لڑتے ہوئے صحابہؓ کی زبان سے تکبیر کی ولولہ انگیز صداگونجنے لگتی ہیں۔ جب میں کسی مسلمان کو قادیانیوں کی شادیوں میں ہنس ہنس کر شامل ہوتے دیکھتا ہوں تو مجھے صحابہؓ کے یتیم بچے یاد آجاتے ہیں۔

صحابہ کرامؓ بھی کلمہ طیبہ پڑھتے تھے۔ یہ مسلمان بھی کلمہ طیبہ پڑھتے ہیں۔ صحابہ کرامؓ بھی رسول اللہؐ کے امتی تھے۔ یہ مسلمان بھی رسولؐ اللہ کے امتی ہونے کا اقرار کرتے ہیں۔ صحابہ کرامؓ بھی عقیدہ ختم نبوت پر پکا یقین رکھتے تھے۔ یہ مسلمان بھی عقیدہ ختم نبوت پر ایمان رکھنے کے پرزور دعوے دار ہیں۔ لیکن صحابہؓ کی ختم نبوت کے ڈاکوئوں سے جنگ۔ مگر اس مسلمان کی ختم نبوت کے ڈاکوئوں سے دوستی۔ صحابہ ؓ  کا عقیدہ ختم نبوت پر سب کچھ قربان۔ مگر اس مسلمان کا ختم نبوت کے باغیوں سے کاروبار۔ انہوںؓ نے نبی کریمؐ کی عزت وناموس پر اپنا گوشت اور لہو قربان کردیا۔ اور یہ قادیانیوں کا سوشل بائیکاٹ کرنے کو بھی تیار نہیں۔ یہ تفاوت کیوں: قول وفعل میں اتنا خوفناک تضاد کیوں؟

            کہیں ایسا تو نہیں کہ اس نے کلمہ طیبہ صرف حلق سے اوپر اوپر پڑھا ہے؟

            کیا رسول اللہؐ کے امتی ہونے کا اعلان صرف نوک زبان تک ہے؟

            کیا عقیدہ ختم نبوت پر ایمان ہونے کااعلان صرف فضا میں الفاظ باری تو نہیں؟

            کیا عشق رسولؐ کا دعویٰ محض سخن  طرازی تو نہیں؟

            کیونکہ اس مسلمان کا کردار ان کے دعویٰ کی نفی کررہا ہے۔

            مسلمانو! جس جسم کے رگ و ریشہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ہوتی ہے

            وہ جسم قادیانیوں سے ہاتھ نہیں ملایا کرتے۔

            وہ جسم قادیانیوں سے بغل گیریاں نہیں کرتا۔

            وہ جسم قادیانی کی تقریب میں شامل نہیں ہوسکتا۔

            آئیے! اپنے اپنے جسم میں محبت رسولؐ کو دیکھتے ہیں۔ کیونکہ اللہ سب کچھ دیکھ رہا ہے۔ اور موت کا فرشتہ گھات لگائے بیٹھا اللہ کے حکم کا انتظار کررہا ہے۔ اور پھر موت کا پوسٹ مارٹم ہوا ہمارا سب کچھ ہمارے سامنے رکھ دے گا۔ !!!