ہماری قبریں ہمارا انتظا رکررہی ہیں!

مسلمانو! ذرا! اپنے جسم پر اللہ کی نعمتوں پر نظر ڈالو تو

دیکھنے کے لئے دو آنکھیں ہیں۔ سننے کے لیے دو کان ہیں۔بولنے کے لئے ایک زبان ہے۔دھڑکنے کے لیے ایک دل ہے۔سوچنے کے لیے ایک دماغ ہے۔کام کاج کرنے کے لئے دو ہاتھ ہیں۔چلنے کے لئے دو پائوں ہیں۔ یہ اللہ کی ایسی نعمتیں ہیں جن کی صحیح قدروقیمت وہی جان سکتا ہے جو ان میں سے کسی بھی نعمت سے محروم ہے آخرت میں ان نعمتوں کے بارے میں سوال ہوگا!!!

            آئیے دیکھتے ہیں کہ منعم حقیقی کی طرف سے ہمیں یہ ملی ہوئی نعمتیں اللہ کے پیارے نبی حضرت محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت اور عزت و ناموس کے تحفظ کے لیے بھی کبھی کام آئیں

O          کیا کبھی غم رسول صلی اللہ علیہ وسلم میںہماری آنکھوں سے آنسو ٹپکے؟

O          کیا کبھی ہمارے کان تحفظ ختم نبوت اور رد قادیانیت کی باتیں سننے کے لیے استعمال ہوئے؟

O          کیا کبھی ہماری زبان ختم نبوت کے ڈاکوئوں کے خلاف حرکت میں آئی؟ 

O          کیا کبھی ہمارا دل تخت ختم نبوت پر ڈاکہ زنی ہوتے دیکھ کر تڑپا اور پھڑکا؟

O          کیا کبھی ہمارے دماغ نے تحفظ ختم نبوت اور قادیانیوں کی گوشمالی کے بارے میں سوچا؟

O          کیا کبھی ہمارے ہاتھ تحفظ ختم نبوت میں مستعمل ہوئے؟

O          کیا کبھی ہمارے پائوں تحفظ ختم نبوت کے لیے بھاگ دوڑ کرتے رہے؟

بولو، ورنہ کل ہر عضو بولے گا۔

            مسلمانو! ایک وقت وہ تھا کہ ہم اس دنیا میں نہیں تھے اور پھر ایک وقت آئے گاہم اس دنیا میں نہیں ہوں گےہم سے پہلے آنے والے اپنی معینہ زندگیاں بسرکر کے عدم آباد کے مسافر ہوئے اور ہمارے لئے یہ دنیا خالی کرگئے اب ہمیں بھی اپنی مقررہ عمریں پوری کر کے یہ نشستیں خالی کر کے آخرت کے سفر پر روانہ ہونا ہے ہماری قبریں ہمارا انتظار کررہی ہیں عمیق و گہری قبریں تاریک اور اندھی قبریں ہولناک اور المناک قبریں

            آئو! ان اندھیری قبروں میں عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے چراغ جلائیں ۔ یہ چراغ کیسے روشن ہوں گے؟ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمارا عشق ووفا کا رشتہ ہوگا ۔ یہ رشتہ کیسے قائم ہوگا؟

            رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کا تحفظ کرنے سے۔

            رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت وناموس کی حفاظت کرنے سے۔

            سارقان ختم نبوت قادیانیوں سے برسرپیکار ہونے سے۔

            شاتمان رسول، قادیانیوں کی سرکوبی کرنے سے۔

            آئیے! ہم آج ہی اس عظیم مشن کا آغاز کرتے ہیں۔ کیونکہ یہی عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پکار ہے۔ یہی محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی صدا ہے۔ اور یہی ایک مومن کی پہچان ہے۔

شہید عشق نبی ہوں، میری لحد پہ شمع قمر جلے گی

اٹھا کے لائیں گے خود فرشتے چراغ خورشید کے جلا کر

لحد میں عشق رخ شاہؐ کا داغ لے کر چلے

اندھیری رات سنی تھی چراغ لے کر چلے