اگر قادیانی نہ ہوتے تو

O          اسلام کے مقابلہ میں ایک جعلی اسلام جنم نہ لینا۔

O          دنیا میں انگریزی نبوت کا جال نہ بچھایا جاتا۔

O          اسلام کو ارتدادی لباس نہ پہنایا جاتا۔

O          قرآن میں تحریف و تبدل کے طوفان نہ اٹھائے جاتے۔

O          احادیث رسول کو مسخ کر کے ان کے معانی و مفاہیم کو بدلا نہ جاتا۔

O          مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے مقابلہ میں قادیان و ربوہ آباد نہ کیے جاتے۔

O          رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت وناموس پر خاک نہ اڑائی جاتی۔

O          حریم نبوت پہ ارتدادی کتے نہ بھونکتے۔

O          انگریز کو ہندوستان میں استحکام نہ ملتا۔ تحریک آزادی بہت جلد اپنی منزل پر پہنچ جاتی۔

O          انگریز کا جاسوسی کا نظام بہت کمزور ہوتا۔

O          بیرونی دنیا میں ہزاروں بدقسمت قادیانیت کو اسلام سمجھ کر قبول نہ کرتے۔

O          ہندوستان میں ہندوئوں اور عیسائوں کو توہین رسالت کی جرات نہ ہوتی۔

O          امہات المومنین اور رنگیلا رسول ایسی غلیظ اور متعفن کتابیں نہ لکھی جاتیں۔

O          تقسیم ہندوستان میں ضلع گورداسپور پاکستان میں شامل ہوتا۔ گورداسپور کے ہزاروں مسلمان موت کے گھاٹ نہ اترتے۔ مسلمان عورتیں ہندوئوں اور

            سکھوں کی بربریت کی نذر نہ ہوتیں۔ ان کے بچے اور گھر بار جلائے نہ جاتے۔

O          مسئلہ کشمیر پیدا نہ ہوتا۔ سارا کشمیر پاکستان میں شامل ہوتاکیونکہ کشمیر جانے کے لیے بھارت کے پاس صرف گورداسپور ہی ایک زمینی راستہ ہے

O          بھار ت کے ساتھ پانی کا تنازعہ نہ ہوتا۔ کیونکہ پاکستان کے تقریبا تمام بڑے دریائوں کا منبع کشمیر ہے۔

O          پاکستانی فوج میںموجود قادیانی جرنیل قادیان پہنچنے کے لئے بار بار کشمیر کے محاذ پر جنگیں شروع نہ کراتے۔

O          لاکھوں کشمیری مجاہدین کو شہید نہ کیا جاتا۔ جیلوں میں اذیتیں نہ دی جاتیں۔

O          بین الاقوامی سازشوں کا اڈہ ربوہ معروض وجود میں نہ آتا۔

O          جی ایچ کیو کے دفاعی راز اسلام دشمن طاقتوں کے پاس نہ پہنچتے۔

O          سرظفرا للہ پاکستان کا وزیر خارجہ نہ بنتا۔ اور خارجی تعلقات میں پاکستان تباہ نہ ہوتا۔ بیرون ممالک ہمارے سفارت خانے قادیانیت کی تبلیغ کے

            اڈے نہ بنتے۔ اور کئی اسلامی ممالک سے پاکستان کے تعلقات خراب نہ ہوتے۔

O          ہزاروں مسلمان نوجوان نوکری اور چھوکری کے لالچ میں بے ایمان اور مرتد نہ بنتے۔

O          پاکستان کو قادیانی ریاست بنانے کے لئے فوج میں ہولناک سازشیں جنم نہ لیتیں۔

O          لیاقت علی خان کو قتل کر کے ملک میں دہشت گردی کی بنیاد نہ رکھی جاتی۔ یاد رہے کہ لیاقت علی خان کا جرمن نژدا قاتل کنزلے سرظفراللہ کا لے پالک بیٹا تھا۔

O          پاکستان کو 1965ء کی جنگ میں جھونک کر ملک کی زرعی اور صنعتی ترقی کو تباہ نہ کیا جاتا اور سترہ دن کی جنگ سے ملک کا خزانہ خالی نہ ہوتا۔

O          بیرون ممالک کفر(قادیانیت) کی تبلیغ کے لئے حکومت پاکستان کے خزانے کے اربوں روپے ہڑپ نہ ہوتے۔

O          سقوط ڈھاکہ کا سانحہ نہ ہوتا۔ نوے لاکھ اسلامی فوج قید نہ ہوتی۔ مسلمان فوج کی پوری دنیا میں رسوائی نہ ہوتی ایم ایم احمد قادیانی بنگالی مسلمانوں میں احساس

            محرومی پیدا نہ کرسکتا انہیں علیحدگی کی بغاوت پر آمادہ نہ کرسکتا، علیحدگی پسند مسلمان بنگالی مسلمان دوسرے مسلمانوں کے خون سے ہاتھ نہ رنگتے

O          ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کے ذریعہ کہوٹہ ایٹمی پلانٹ کا ماڈل اسرائیل نہ پہنچتا۔ اسرائیل کہوٹہ ایٹمی پلانٹ پر حملہ آور نہ ہوتا۔ کیونکہ اسرائیل کی فوج میں چھ سو

            قادیانی بھرتی ہیں۔ اگر چند منٹ قبل اس سازش کا پتہ نہ چلتا۔ تونعوذبااللہ کہوٹہ ایٹمی پلانٹ تباہ ہوجاتا۔

O          ڈاکٹر منیر احمد قادیانی پاکستان اٹامک انرجی کمشن کے اربوں روپے ہضم نہ کرسکتا اور پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے ڈھانچے کو تباہ نہ کرسکتا

O          اعلیٰ عہدوں پر بیٹھے قادیانی مختلف محکموں میں اپنی قادیانی لابی کی کھیپ بھرتی نہ کرسکتے۔

O          ہندوستان میں تردید جہاد کی تبلیغ نہ ہوتی۔

O          مسئلہ سندھ پیدا نہ ہوتا۔ سندھ میں قتل و غارت کے بازار گرم نہ ہوتے۔ پاکستان میں علاقائی اور لسانی تنظیمیں نہ بنتیں۔

O          وطن عزیز میں دہشت گردی اور مذہبی منافرت پیدا نہ ہوتی۔

O          حکومتوں کی بار بار ٹوٹ پھوٹ سے عدم استحکام اور بے یقینی کی فضا پیدا نہ ہوتی۔

O          پاکستان توڑ نے کی سازشیں کبھی سر نہ اٹھاتیں۔

O          پاکستان کو بدنام کرکے لاکھوں قادیانی بیرونی ممالک میں سیاسی پناہ حاصل کر کے اربوں ڈالر کما کر قادیانی جماعت کا پیٹ نہ بھرتے۔

O          آج ہمارے معاشرے میں عریانی اور فحاشی نے پنجے نہ گاڑے ہوتے۔

O          مرزا قادیانی ملعون کے جھوٹی نبوت کا دروازہ کھولنے کے بعد ہندوستان میں مزید جھوٹے نبی پیدا نہ ہوتے اور وہ اسلام پر پخ پخ نہ کرتے۔

O          پاکستان میں قرآن پاک کو جلانے کے واقعات نہ ہوتے۔ قرآن پاک کے نسخوں کو گندے نالوں میں نہ پھینکا جاتا۔

O          کپڑوں پر اللہ اور نبی اکرمؐ کے نام نہ چھاپے جاتے۔ جوتوں کے تلووں پر لفظ اللہ نہ لکھا جاتا۔ بندر کے ہاتھوں میں سعودی عرب کا کلمہ طیبہ والا پرچم نہ         تھمایاجاتا ۔

O          پاکستان میں نفاذ اسلام کی تحریکیں ناکام نہ ہوتیں۔

O          پاکستان میں تحفظ ختم بنوت کی تحریکیں نہ چلتیں جن میں دس ہزار مسلمان شہید ہوئے دو لاکھ مسلمان قید ہوئے دس لاکھ متاثر ہوئے

O          ہندوستان کے بہترین علمائ، بہترین خطیب، بہترین ادیب، بہترین صحافی، بہترین شاعر، بہترین دانشورقادیانی فتنے کی سرکوبی میں کھپ گئے۔ ان بہترین

            لوگوں نے جتنی جدوجہد اور محنت اس فتنہ کے خلاف کی۔ اتنی جدوجہد اور محنت سے ایک براعظم مسلمان ہوسکتا ہے۔

O          امت کے سربراہ افراد قادیانی فتنہ کی گوشمالی میں اتنے مصروف رہے کہ ہندوستان میں کئی اور فتنوں کو سراٹھانے کا موقع مل گیا۔

اے ملت اسلامیہ!

اسلام پر قادیانیوں کی پے در پے یلغاریں                      تخت ختم نبوت پہ قادیانیوں کی مسلسل ڈاکہ زنی قدم قدم پہ ارتداد کے یہ بچھے ہوئے کانٹے

نگر نگر میں لگے ہوئے نبوت کے ڈاکوئوں کے پھندے   گائوں گائوں میں ایمان سوزبارودی سرنگیں      شہر شہرگھاتیں اور ارتدادی وارداتیں

اور پورے ملک میں پھلائے گئے قادیانی جال   

لیکن یہ سب کچھ دیکھ کر ہماری خاموشی، مسلسل خاموشی، کیا یہ خاموشی، ہمارے ایمان کی موت کا اعلان تو نہیں ؟ کیا یہ خاموشی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بے تعلقی کا اعلان تو نہیں؟   علمائے کرام !یہ خاموشی کیوں؟         مشائخ عظام! یہ چپ کیوں؟   پیران کرام! لبوں پر یہ سکوت کیوں؟     دانشورو! یہ زبان بندی کیوں؟

ملی راہنمائو! ہونٹوں پر تالے کیوں؟    اے خطیبو! کچھ تو بولو                  اے ادیبو! کچھ تو لکھو        اے شاعرو! کچھ تو کہو

اے دانشورو! کچھ تو اظہار کرو۔                    دیکھو وقت تمہاری ایمانی غیرت اور تمہارے عشق رسولؐ پر نوحہ خوانی کرتے ہوئے کہہ رہا ہے۔

نعرہ زن ہے وحشت تاتار ہم خاموش ہیں      لٹ رہا ہے مصر کا بازار ہم خاموش ہیں

نیل کے ساحل پہ اترے رہزنوںکے قافلے    دیدہ اسلام ہے خونبار ہم خاموش ہیں

آج کیونکر مصلحت نے روک دی تیری زباں      آج کیوں اے جرات اظہار ہم خاموش ہیں

اک ہمیں تھے جن کو توفیق سخن تھی بزم میں      ہم تھے مشرق کے لب گفتار ہم خاموش ہیں

بول اے مسلمان خاموشی کی یہ ساعت نہیں      طعنہ زن ہیں ہر طرف اغیار ہم خاموش ہیں